مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے زیادہ صحابہ کے ساتھ (عمرہ کے لیے) نکلے، یہاں تک کہ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے ہدی کے جانور کو قلادۃ پہنایا اور اس کا اشعار ١ ؎ کیا اور عمرے کا احرام باندھا، یہ حدیث بڑی حدیث سے مختصر کی ہوئی ہے۔
It was narrated that Al Miswar bin Makhramah and Marwan bin Al-Hakam said: “The Messenger of Allah ﷺ went out during the time of Al-Hudabiyah with between one-thousand and three-hundred, or one-thousand and five-hundred of his Companions. Then, when they were in Dhul-Hulaifah, he garlanded and marked the Hadi and began the Talbiyah for ‘Umrah (Abridged). (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2771
Notes · وضاحت
١ ؎: تقلید اور اشعار کی تفسیر کے لیے دیکھئیے حدیث رقم ٢٦٨٣ کا حاشیہ نمبر ٢ ۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اونٹ کا دائیں جانب سے اشعار کیا، اور خون کو اپنی انگلی سے صاف کیا، اور اس کا اشعار کیا۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ marked his Budn on the right side and the blood flowed down and marked it. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2773
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب ذوالحلیفہ میں تھے تو آپ نے اپنے (قربانی کے) اونٹ کے متعلق حکم دیا تو اس کے کوہان کے دائیں جانب اشعار کیا گیا پھر آپ نے اس کا خون صاف کیا اور اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکائیں تو جب بیداء میں آپ کو لے کر وہ پورے طور پر کھڑی ہوگئی تو آپ نے لبیک پکارا۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that when the Prophet ﷺ was in Dhul-Hulaifah he ordered that his Budn be marked on the right side of its hump, then he wiped the blood on it and he garlanded it with two shoes, then when it stood up with him in Al Baida’; he began the Talbiyah. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2774
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ سے ہدی (قربانی کے جانور) بھیجتے تھے تو میں آپ کی ہدی کے ہار بٹتی تھی پھر آپ ان چیزوں میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ کرتے تھے جن چیزوں سے محرم اجتناب کرتا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to send the Hadi from Al-Madinah, and I would twist the garlands for his Hadi, then he did not avoid anything that the person in Ihram avoids.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2775
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے کہ محض ہدی بھیجنے سے آدمی محرم نہیں ہوتا جب تک کہ وہ خود ہدی کے ساتھ نہ جائے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہدی کے ہار (قلادے) بٹا کرتی تھی، آپ انہیں پہنا کر بھیجتے پھر آپ وہ سب کرتے جو غیر محرم کرتا ہے اس سے پہلے کہ ہدی اپنے مقام پر (یعنی قربان گاہ پر) پہنچے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands for the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ, then he would send them, then he would do whatever the non-Muhram does before the Hadi reached its place (of sacrifice).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2776
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے ہار (قلادے) بٹتی تھی، پھر آپ مقیم ہوتے اور احرام نہیں باندھتے تھے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands of the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ then he would stay with his family and not enter Ihram . (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2777
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ خود احرام کو نہیں بلکہ حج مرجانے والے کسی حاجی کے ساتھ ہدی بھیج دیتے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہدی کے ہار (قلادے) بٹتی تھی، آپ اسے اپنے ہدی کے جانور کو پہناتے تھے پھر اسے روانہ فرماتے تھے۔ اور آپ خود مقیم رہتے، اور جن چیزوں سے محرم بچتا ہے ان چیزوں سے آپ نہیں بچتے تھے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands of the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ, then he would garland his Hadi, then send it, then stay (with his family) and not avoid anything that the Muhrim avoids.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2778
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کی بکریوں کے ہار (قلادے) بٹا کرتی تھی پھر آپ حلال (غیر محرم) ہی رہتے تھے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I remember twisting the garlands for the sheep, the Hadi of the Messenger of Allah ﷺ, then he stayed as a non-Muhrim.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2779
ام المؤمنین (عائشہ رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے ان ہاروں (قلادوں) کو اس رنگین اون سے بٹا جو ہمارے پاس تھے پھر ہم میں موجود رہ کر آپ نے صبح کی اور وہ سب کام کرتے رہے جو غیر محرم اپنی بیوی سے کرتا ہے اور جو عام آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔
It was narrated from Al Qasim that the Mother of the Believers said: “I twisted those garlands from wool that we had, then the following morning he did what any non-Muhrim does with his wife, what any man does with his wife.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2780
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا: بات ہے لوگ عمرہ کر کے حلال ہوگئے اور آپ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے، آپ نے فرمایا: میں نے اپنے سر کی تلبید، اور اپنی ہدی کو قلادۃ پہنا دیا ہے، تو جب تک میں قربانی نہ کرلوں حلال نہیں ہوں گا ۔
It was narrated from Hafsah (RA), the wife of the Prophet ﷺ, that she said: “Messenger of Allah ﷺ, why is it that the people have exited Ihram for ‘Umrah but you have not exited your Ihram for ‘Umrah?” He said: “I have matted my hair and garlanded my Hadi, so I will not exit Ihram until I have offered the sacrifice.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2781
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے ہدی کے دائیں کوہان کی جانب اشعار کیا پھر اس سے خون صاف کیا، اور اس کے گلے میں دو جوتیاں لٹکائیں، پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے، اور جب وہ آپ کو کو لے کر سیدھی کھڑی ہوگئی تو آپ نے تلبیہ پکارا اور ظہر کے وقت احرام باندھا، اور حج کا تلبیہ پکارا۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that when the Prophet of Allah ﷺ came to Dhul-Hulaifah he marked the Hadi on the right side of its hump, then he removed the blood and garlanded it with two shoes, then he mounted his she-camel and when it stood up with him in Al-Baida’, he recited the Talbiyah and entered Ihram at noon, and entered Ihram for Hajj. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2782
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی قربانی کے اونٹوں کے ہار میں نے اپنے ہاتھوں سے بٹے، پھر آپ نے اسے ان کے گلوں میں لٹکایا، اور ان کا اشعار کیا، اور بیت اللہ کی طرف ان کا رخ کر کے روانہ فرمایا، اور خود آپ مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I twisted the garlands of the Budn of the Messenger of Allah ﷺ with my own hands, then he garlanded it and marked it, and directed it toward the House and sent it. But he stayed with his family, and nothing became forbidden for him that was allowed.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2783
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی قربانی کے اونٹوں کے ہار بٹے (جو آپ نے پہنائے) پھر آپ محرم نہیں ہوئے، اور نہ آپ نے کپڑوں میں سے کوئی چیز پہننی چھوڑی۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I twisted the garlands for the Budn of the Messenger of Allah ﷺ then he did not enter a state of Ihram or abandon any kind of regular clothing.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2784
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بار بکریوں کی ہدی بھیجی اور آپ نے ان کے گلوں میں ہار لٹکایا۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands of the sacrificial sheep of the Messenger of Allah ﷺ . Then he did not enter a state of Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2787
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کی بکریوں کے ہار بٹتی تھی (اور آپ انہیں مکہ بھیجتے) پھر بھی آپ (حلال ہی رہتے تھے) محرم نہیں ہوتے تھے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I used to twist the garlands of sacrificial sheep of the Messenger of Allah ﷺ Then he did not enter a state of Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2788
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہدی کی بکریوں کے قلادے (ہار) بٹا کرتی تھی، آپ ﷺ احرام نہیں باندھتے تھے (یعنی حلال رہتے تھے) ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "I used to twist the garlands of sacrificial sheep of the Messenger of Allah ﷺ. Then he did not enter a state of Ihram.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2789
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم بکری کے گلے میں ہار ڈالتے تھے پھر رسول اللہ ﷺ اسے (مکہ) بھیجتے تھے، اس حال میں کہ آپ حلال رہتے تھے، کسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہیں کرتے تھے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “We used to garland the sheep, then the Messenger of Allah ﷺ, would send it, and he would not enter a state of Ihram.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2790