عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا تلبیہ یوں تھا: لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لك۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud said: “Part of the Talbiyah of the Messenger of Allah ﷺ was ‘Labbaika Allahumma labbaik, labbaika la Sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni’mata laka wal-mulk, (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours.).” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2751
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٣٩٨)، مسند احمد (١/٤١٠) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے تلبیہ میں لبيك إله الحق بھی تھا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ عبدالعزیز کے علاوہ اس حدیث کو کسی نے بواسطہ عبداللہ بن فضل مسند قرار دیا ہے، اسماعیل بن امیہ نے اسے عبداللہ بن فضل سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “Part of the Talbiyah of the Messenger of Allah ﷺ was: ‘Labbaika ilahal-haqq (Here I am, God of truth).” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: I do not know of anyone who narrated a chain for this from ‘Abdullah bin Al-Fadal except for ‘Abdul Aziz (رحمۃ اللہ علیہ). Isma’il bin Umayyah reported it from him in Mursal form.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2752
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ١٥ (٢٩٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٤١)، مسند احمد (٢/٣٤١، ٣٥٢، ٤٧٦) (صحیح )
سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا: محمد! آپ اپنے اصحاب کو حکم دیجئیے کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں ۔
It was narrated from Khallád bin As-Sa’ib, from his father that the Messenger of Allah ﷺ said: “Jibril came to me and said: ‘ Muhammad ﷺ! Tell your Companions to raise their voices when reciting the Talbiyah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2753
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیداء میں ظہر کی نماز پڑھی پھر سوار ہوئے اور بیداء کے پہاڑ پر چڑھے، اور حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا جس وقت ظہر پڑھ لی۔
It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ prayed Zuhr in Al-Baida’, then he mounted and rode up the mountain of Al-Baida’, and he began the Talbiyah for Hajj and ‘Umrah when he had prayed Zuhr. (Sahih)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2755
نبی اکرم ﷺ کے حج کے سلسلے میں جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے (ظہر کی) نماز پڑھی، اور آپ خاموش رہے یہاں تک کہ بیداء آئے۔
It was narrated from Jabir concerning the Hajj of the Prophet ﷺ, that when he came to Dhul Hulaifah, he prayed and then he remained silent until he came to Al-Baida’. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2756
سالم سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن عمر ؓ کو کہتے سنا: تمہارا یہ بیداء وہی ہے جس کے تعلق سے تم لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف غلط بات منسوب کرتے ہو ١ ؎ رسول اللہ ﷺ نے (بیداء سے نہیں) ذوالحلیفہ کی مسجد ہی سے تلبیہ پکارا ہے ٢ ؎۔
It was narrated from Salim that he heard his father say: “This Baida’ of yours where you are telling lies about the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ never began the Talbiyah except from the Masjid at Dhul Hulaifah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2757
Notes · وضاحت
١ ؎: واقع کے خلاف خبر دینے کو جھوٹ کہتے ہیں، خواہ یہ عمداً ہو یا کسی غلط فہمی اور سہو کی وجہ سے ہو، ابن عمر رضی الله عنہما نے انہیں جھوٹا اس اعتبار سے کہا ہے کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے نہ اس اعتبار سے کہ انہوں نے عمداً جھوٹ کہا ہے۔ ٢ ؎: اس مسئلہ میں صحابہ میں اختلاف ہے بعض کا کہنا ہے کہ آپ نے احرام ذو الحلیفہ میں احرام کی دونوں رکعتوں کے پڑھنے کے بعد مسجد میں ہی تلبیہ پکارنا شروع کیا تھا اور بعض کا کہنا ہے کہ جس وقت آپ سواری پر سیدھے بیٹھے اس وقت آپ نے تلبیہ پکارا، اور بعض کا کہنا ہے کہ سواری جس وقت آپ کو لے کر کھڑی ہوئی اس وقت آپ نے تلبیہ پکارنا شروع کیا، اس اختلاف کی وجہ ہے کہ لوگ مختلف وقتوں میں الگ الگ مختلف ٹکڑوں میں آپ کے پاس آ رہے تھے تو لوگوں نے جہاں آپ کو تلبیہ پکارتے سنا یہی سمجھا کہ آپ نے یہیں سے تلبیہ شروع کیا ہے، حالانکہ آپ نے تلبیہ پکارنے کی شروعات وہیں کردی تھی جہاں آپ نے احرام کی دونوں رکعتیں پڑھی تھیں، پھر جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے تلبیہ پکارا، پھر بیداء کی اونچائی پر چڑھتے وقت آپ نے تلبیہ پکارا۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وہ ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوتے دیکھا، پھر جب اونٹنی (آپ کو لے کر) پورے طور پر کھڑی ہوگئی تو آپ نے تلبیہ پکارا۔
It was narrated from Ibn Shihab that Salim bin ‘Abdulláh told him that ‘Abdullah bin ‘Umar said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ riding his mount in Dhul Hulaifah, then he began the Talbiyah when it stood up with him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2758
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٢ (١٥١٤)، ٢٨ (١٥٥٢)، ٢٩ (١٥٥٣)، صحیح مسلم/الحج ٣ (١١٨٤)، (تحفة الأشراف: ٦٩٨٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج ١٤ (٢٩١٦)، موطا امام مالک/الحج ٩ (٣٢) (موقوفاً )، مسند احمد (٢/١٧، ١٨، ٢٩، ٣٦، ٣٧) (صحیح )
عبید بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے کہا کہ میں آپ کو دیکھا کہ جب اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی ہے تو آپ نے اس وقت تلبیہ پکارا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اسی وقت تلبیہ پکارا تھا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تھی۔
It was narrated that ‘Ubaid bin Juraij said: “I said to Ibn ‘Umar (RA): ‘I saw you begin the Talbiyah when your she-camel stood up with you. He said: “The Messenger of Allah ﷺ used to begin the Talbiyah when his she-camel stood up with him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2760
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٠ (١٦٦)، اللباس ٣٧ (٥٨٥١)، صحیح مسلم/الحج ٥ (١١٨٧)، دالحج ٢١ (١٧٧٢)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٤ (٣٦٢٦)، (تحفة الأشراف: ٧٣١٦)، سنن الترمذی/الشمائل ١٠ (٧٤)، موطا امام مالک/الحج ٩ (٣١)، مسند احمد (٢/، ١٧)، وراجع رقم ١١٧، وما یأتي برقم: ٢٩٥٣، ٥٢٤٥) (صحیح )
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نو برس تک مدینہ میں رہے، اور حج نہیں کرسکے، پھر (دسویں سال) آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا تو کوئی بھی جو سواری سے یا پیدل آسکتا تھا ایسا بچا ہو جو نہ آیا ہو، لوگ آپ کے ساتھ حج کو جانے کے لیے آتے گئے یہاں تک کہ آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں اسماء بنت عمیس ؓ نے محمد بن ابی بکر کو جنا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس اطلاع بھیجی کہ وہ کیا کریں۔ تو آپ نے فرمایا: تم غسل کرلو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو، پھر لبیک پکارو ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ یہ حدیث ایک بڑی حدیث کا اختصار ہے۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah ﷺ stayed for nine years during which he did not perform Hajj. Then it was announced among the people that he was going for Hajj. No one who was able to come riding or on foot stayed behind, and the people rushed to go out with him until he came to Dhul-Hulaifah. Asma’ bint ‘Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr and she sent word to the Messenger of Allah ﷺ (asking what she should do). He said: ‘Perform Ghusl and wrap a cloth around your private parts, then begin the Talbiyah.’ So she did that.” An abridgment .(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2761
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس ؓ نے محمد بن ابی بکر کو جنا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ تو آپ نے انہیں غسل کرنے، کپڑے کا لنگوٹ باندھنے، اور تلبیہ پکارنے کا حکم دیا۔
It was narrated that Jabir said: “Asma’ bint ‘Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr and she sent word to the Messenger of Allah ﷺ asking him what she should do. He told her to perform Ghusl and wrap her private parts in a cloth, and to begin the Talbiyah. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2762
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے اور عائشہ ؓ عمرہ کا تلبیہ پکارتی ہوئی آئیں۔ یہاں تک کہ جب ہم سرف ١ ؎ پہنچے، تو وہ حائضہ ہوگئیں۔ اور اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ جب ہم (مکہ) پہنچ گئے اور ہم نے خانہ کعبہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرلی، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے۔ تو ہم نے پوچھا: کیا چیزیں ہم پر حلال ہوئیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: ساری چیزیں حلال ہوگئی (یہ سن کر) ہم نے اپنی عورتوں سے جماع کیا، خوشبو لگائی، اور اپنے (سلے) کپڑے پہنے، اس وقت ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں باقی رہ گئیں تھیں، پھر ہم نے یوم الترویہ (آٹھ ذی الحجہ) کو حج کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ ﷺ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آئے تو انہیں روتا ہوا پایا۔ آپ نے پوچھا: کیا بات ہے ؟ انہوں نے کہا: بات یہ ہے کہ مجھے حیض آگیا ہے، اور لوگ حلال ہوگئے ہیں اور میں حلال نہیں ہوئی اور (ابھی تک) میں نے خانہ کعبہ کا طواف نہیں کیا ہے ٢ ؎ اور لوگ اب حج کو جا رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں (عورتوں) کے لیے مقدر فرما دیا ہے، تم غسل کرلو، اور حج کا احرام باندھ لو تو انہوں نے ایسا ہی کیا ، اور وقوف کی جگ ہوں (یعنی منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کیا یہاں تک کہ جب وہ حیض سے پاک ہوگئیں تو انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کی سعی کی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اب تم حج و عمرہ دونوں سے حلال ہوگئیں ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دل میں یہ بات کھٹک رہی ہے کہ میں نے حج سے پہلے عمرے کا طواف نہیں کیا ہے؟ (پھر عمرہ کیسے ہوا) تو آپ ﷺ نے (عائشہ ؓ کے بھائی) سے فرمایا: عبدالرحمٰن! تم انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کروا لاؤ، یہ واقعہ محصب میں ٹھہرنے والی رات کا ہے ٣ ؎۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said: “We came in Ihram with the Messenger of Allah ﷺ for Hajj alone (Mufrad), and Aishah (RA) came in Ihram for ‘Umrah. Then, when we were in Sarf her menses started. When we came, we circumambulated the Ka’bah and (performed Sai) between As-Safa and Al-Marwah Then, the Messenger of Allah ﷺ commanded those of us who did not have a Hadi to exit lhram, We said: Exit Ihram to what degree?’ He said: ‘Completely’.’ So we had intercourse with our wives and put on perfume, and wore our regular clothes, and there were only four nights away from Arafat. Then, we entered Ihram on the day of At-Tarwiyah. The Messenger of Allah ﷺ entered upon ‘Aishah and found her weeping. He said: ‘What is the matter with you’?’ She said: ‘I have got my menses and the people exited Ihram, but I did not exit Ihram or did I circumambulate the House, and the people are going for Hajj now.’ He said: ‘This is something that Allah has decreed for the daughters of Adam. Perform Ghusl, then begin the Talbiyah for Hajj.’ So she did that and did all the rituals. Then, when she became pure, she circumambulated the House and (performed Sa‘i) between As-Safa and Al-Marwah. Then, he said: ‘You have exited Ihram from your Hajj and your ‘Umrah at the same time.’ She said: ‘Messenger of Allah ﷺ, I feel upset because I only circumambulated the House during my Jajj.’ He said: ‘Take her, ‘Abdullah, to perform ‘Umrah from At-Tan’eem.’ And that was on the night of Al-Hasbah (the twelfth night of Dhul-Hajjah).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2763
Notes · وضاحت
١ ؎: سرف مکہ سے دس میل کی دوری پر ایک جگہ کا نام ہے۔ ٢ ؎: یعنی حیض کی وجہ سے میں ابھی عمرے سے فارغ نہیں ہوسکی ہوں۔ ٣ ؎: یعنی منیٰ سے بارہویں یا تیرہویں تاریخ کو روانگی کے بعد محصب میں ٹھہرنے والی رات ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، تو ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس ہدی ہو وہ حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارے، پھر احرام نہ کھولے جب تک کہ ان دونوں سے فارغ نہ ہوجائے ، تو میں مکہ آئی، اور میں حائضہ تھی تو میں نہ بیت اللہ کا طواف کرسکی اور نہ ہی صفا ومروہ کی سعی کرسکی، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی، تو آپ نے فرمایا: اپنا سر کھول دو، کنگھی کرلو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ کو جانے دو ، تو میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب میں حج کرچکی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیجا، تو میں نے عمرہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تیرے عمرہ کی جگہ میں ہے ، تو جن لوگوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا ومروہ کی سعی کی، پھر وہ حلال ہوگئے (پھر منیٰ سے لوٹنے کے بعد انہوں نے ایک دوسرا طواف ١ ؎ اپنے حج کا کیا، اور جن لوگوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا (یعنی قران کیا تھا) تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “We set out with the Messenger of Allah ﷺ for the Farewell Pilgrimage and we entered Ihram for ‘Umrah, then the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever has a Hadi with him, let him enter Ihram for both Hajj and ‘Umrah, then do not exit Ihram until he exits Ihram for them both.’ I came to Makkah and I had my menses, so I did not circumambulate the House or (perform Sa‘i) between As-Safa and Al-Marwah. I complained about that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘Undo your hair, and comb it, and enter Ihram for Hajj, and leave ‘Umrah.’ When I had completed Hajj, the Messenger of Allah ﷺ sent me with ‘Abdur Rahman bin Abi Bakr to At-Tan’im, and I performed ‘Umrah. He said: ‘This is the place of your ‘Umrah.’ Then those who had entered Ihram for ‘Umrah circumambulated the House and (performed Sa’i) between As-Safa and Al-Marwah. Then they exited Ihram, Then they performed Tawaf again, after they came back from Mina for their Hajj. As for those who combined Hajj and ‘Umrah, they only performed one Tawaf.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2764
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں طواف سے مراد صفا ومروہ کی سعی ہے مطلب یہ ہے کہ قارن پر ایک ہی سعی ہے عمرہ اور حج دونوں میں سے کسی ایک کی سعی کرلے کافی ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ ؓ نے حج کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ شرط کرلیں ١ ؎ تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ایسا ہی کیا۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that Duba’ah wanted to perform Hajj, so the Prophet ﷺ told her to stipulate a condition, and she acted upon the command of the Messenger of Allah ﷺ .(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2765
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تلبیہ پکارے وقت اس بات کی شرط کرلیں کہ اگر میں کسی وجہ سے مکہ تک نہیں پہنچ سکی تو جہاں تک پہنچ سکوں گی وہیں احرام کھول ڈالوں گی۔
ہلال بن خباب کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو مشروط حج کر رہا ہو تو انہوں نے کہا: یہ شرط بھی اس طرح ہے جیسے لوگوں کے درمیان اور شرطیں ہوتی ہیں ٢ ؎ تو میں نے ان سے ان کی یعنی عکرمہ کی حدیث بیان کی، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حج کرنا چاہتی ہوں، تو کیسے کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: لبيك اللہم لبيك ومحلي من الأرض حيث تحبسني حاضر ہوں، اے اللہ! حاضر ہوں، جہاں تو مجھے روک دے، وہیں میں حلال ہوجاؤں گی ، کیونکہ تو نے جو شرط کی ہے وہ تیرے رب کے اوپر ہے۔
Hilal bin Khabbab said: “I asked Saeed bin Jubair about a man who performs Hajj and stipulates a condition. He said: ‘Conditions are something that people do among themselves.’ I narrated the Hadith of ‘Ikrimah to him, and he narrated to me from Ibn ‘Abbas, that Duba’ah bint Az-Zubair bin ‘Abdul-Muttalib came to the Prophet ﷺ , and said: ‘O Messenger of Allah ﷺ, I want to perform Hajj, so what should I say? He said: ‘Say: (Here I am, O Allah, Here I am, and I shall exit Ihram at any place where You decree that I cannot proceed.)” And whatever condition you stipulate will be accepted by your Lord.” (Hasan)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2766
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس طرح اور شرطیں جائز ہیں اسی طرح یہ شرط بھی جائز ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں، آپ مجھے بتائیے، میں کس طرح تلبیہ پکاروں؟ آپ نے فرمایا: تم تلبیہ پکارو اور شرط لگا لو کہ (اے اللہ) تو جہاں مجھے روک دے گا وہیں حلال ہوجاؤں گی ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “Duba’ah bint Az Zubair bin ‘Abdul-Muttalib came to the Messenger of Allah ﷺ and said: ‘I am a heavy woman and I want to go for Hajj. How do I begin the Ihram?’ He said: ‘Enter Ihram and stipulate the condition that you will exit Ihram from the point where you are prevented (from continuing, if some problem should arise).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2767
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٥ (١٢٠٨)، سنن ابن ماجہ/الحج ٢٤ (٢٩٣٨)، (تحفة الأشراف: ٥٧٥٤)، مسند احمد (١/٣٣٧) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ضباعہ ؓ کے پاس آئے، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بیمار ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں؟، آپ نے فرمایا: حج کرو اور شرط لگا لو کہ (اے اللہ) تو جہاں مجھے روک دے گا میں وہیں حلال ہوجاؤں گی ۔ اسحاق کہتے ہیں: میں نے (اپنے استاد) عبدالرزاق سے کہا: ہشام اور زہری دونوں عائشہ ہی سے روایت کرتے ہیں: انہوں نے کہا: ہاں (ایسا ہی ہے) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو معمر کے سوا کسی اور نے بھی زہری سے مسنداً روایت کیا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “Duba’ah bint Az-Zubair bin ‘Abdul-Muttalib came to the Messenger of Allah ﷺ and said: ‘I am a heavy woman and I want to go for Hajj. How do I begin the Ihram?’ He said: ‘Enter Ihram and stipulate the condition that you will exit Ihram from the point where you are prevented (from continuing, if some problem should arise).” (Sahih) Ishaq said: I said to ‘Abdur-Razzaq: Both from Aishah (RA), Hisham and Az Zuhri? He said: “Yes.” Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: I do not know of anyone who narrated this chain from Az-Zuhri except Ma’mar.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2768
سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ حج میں شرط لگانا پسند نہیں کرتے تھے، اور کہتے تھے: کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ کی یہ سنت کافی نہیں؟ اگر تم میں سے کوئی حج سے روک دیا گیا ہو تو (اگر ممکن ہو تو) کعبے کا طواف، اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کرلے، پھر ہر چیز سے حلال ہوجائے، یہاں تک کہ آنے والے سال میں حج کرے اور ہدی دے، اور اگر ہدی میسر نہ ہو تو روزہ رکھے۔
It was narrated that Salim said: “Ibn ‘Umar used to denounce stipulating conditions in Hajj, and said: ‘Is not the Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ sufficient for you? If one of you is prevented from performing (finishing) Hajj let him circumambulate the House and (perform Sa’i) between As-Safa and Al-Marwah, then exit Ihram completely until he performs Hajj the following year. And let him offer a Hadi or fast if he cannot find a Hadi. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2769
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ حج میں شرط لگانا ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے: کیا تمہارے لیے تمہارے نبی کریم ﷺ کی سنت کافی نہیں ہے کہ آپ نے (کبھی) شرط نہیں لگائی۔ اگر تم میں سے کسی کو کوئی روکنے والی چیز روک دے تو اگر ممکن ہو سکے تو بیت اللہ کا طواف کرے، اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرے، پھر سر منڈوائے یا کتروائے پھر احرام کھول دے اور اس پر آئیندہ سال کا حج ہوگا۔
It was narrated from Salim, from his father, that he used to denounce stipulating conditions in Hajj and said: “Is not the Sunnah of your Prophet ﷺ sufficient for you? If one of you is prevented (from completing Hajj) by anything, let him come to the House and circumambulate it, and (perform Sa‘i) between As-Safa and Al-Marwah, then let him shave his head or cut his hair, then exit Ihram; and he has to perform Hajj the next year.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2770