Sunan An Nasai 2766

میقاتوں سے متعلق احادیث

2766Sunan An Nasai

اگر کسی خاتون نے عمرہ ادا کرنے کے واسطے تلبیہ پڑھا اور اس کو حیض کا سلسلہ شروع ہوجائے جس کی وجہ سے حج فوت ہونے کا اندیشہ ہوجائے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ، قَالَ: هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ، فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، تو ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس ہدی ہو وہ حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارے، پھر احرام نہ کھولے جب تک کہ ان دونوں سے فارغ نہ ہوجائے ، تو میں مکہ آئی، اور میں حائضہ تھی تو میں نہ بیت اللہ کا طواف کرسکی اور نہ ہی صفا ومروہ کی سعی کرسکی، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی، تو آپ نے فرمایا: اپنا سر کھول دو، کنگھی کرلو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ کو جانے دو ، تو میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب میں حج کرچکی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیجا، تو میں نے عمرہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تیرے عمرہ کی جگہ میں ہے ، تو جن لوگوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا ومروہ کی سعی کی، پھر وہ حلال ہوگئے (پھر منیٰ سے لوٹنے کے بعد انہوں نے ایک دوسرا طواف ١ ؎ اپنے حج کا کیا، اور جن لوگوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا (یعنی قران کیا تھا) تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “We set out with the Messenger of Allah ﷺ for the Farewell Pilgrimage and we entered Ihram for ‘Umrah, then the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever has a Hadi with him, let him enter Ihram for both Hajj and ‘Umrah, then do not exit Ihram until he exits Ihram for them both.’ I came to Makkah and I had my menses, so I did not circumambulate the House or (perform Sa‘i) between As-Safa and Al-Marwah. I complained about that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘Undo your hair, and comb it, and enter Ihram for Hajj, and leave ‘Umrah.’ When I had completed Hajj, the Messenger of Allah ﷺ sent me with ‘Abdur Rahman bin Abi Bakr to At-Tan’im, and I performed ‘Umrah. He said: ‘This is the place of your ‘Umrah.’ Then those who had entered Ihram for ‘Umrah circumambulated the House and (performed Sa’i) between As-Safa and Al-Marwah. Then they exited Ihram, Then they performed Tawaf again, after they came back from Mina for their Hajj. As for those who combined Hajj and ‘Umrah, they only performed one Tawaf.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2764
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں طواف سے مراد صفا ومروہ کی سعی ہے مطلب یہ ہے کہ قارن پر ایک ہی سعی ہے عمرہ اور حج دونوں میں سے کسی ایک کی سعی کرلے کافی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٤٣ (صحیح )