Sunan An Nasai 2759

میقاتوں سے متعلق احادیث

2759Sunan An Nasai

وقت تلبیہ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ.

سالم سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن عمر ؓ کو کہتے سنا: تمہارا یہ بیداء وہی ہے جس کے تعلق سے تم لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف غلط بات منسوب کرتے ہو ١ ؎ رسول اللہ ﷺ نے (بیداء سے نہیں) ذوالحلیفہ کی مسجد ہی سے تلبیہ پکارا ہے ٢ ؎۔

It was narrated from Salim that he heard his father say: “This Baida’ of yours where you are telling lies about the Messenger of Allah ﷺ. The Messenger of Allah ﷺ never began the Talbiyah except from the Masjid at Dhul Hulaifah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2757
Notes · وضاحت
١ ؎: واقع کے خلاف خبر دینے کو جھوٹ کہتے ہیں، خواہ یہ عمداً ہو یا کسی غلط فہمی اور سہو کی وجہ سے ہو، ابن عمر رضی الله عنہما نے انہیں جھوٹا اس اعتبار سے کہا ہے کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے نہ اس اعتبار سے کہ انہوں نے عمداً جھوٹ کہا ہے۔ ٢ ؎: اس مسئلہ میں صحابہ میں اختلاف ہے بعض کا کہنا ہے کہ آپ نے احرام ذو الحلیفہ میں احرام کی دونوں رکعتوں کے پڑھنے کے بعد مسجد میں ہی تلبیہ پکارنا شروع کیا تھا اور بعض کا کہنا ہے کہ جس وقت آپ سواری پر سیدھے بیٹھے اس وقت آپ نے تلبیہ پکارا، اور بعض کا کہنا ہے کہ سواری جس وقت آپ کو لے کر کھڑی ہوئی اس وقت آپ نے تلبیہ پکارنا شروع کیا، اس اختلاف کی وجہ ہے کہ لوگ مختلف وقتوں میں الگ الگ مختلف ٹکڑوں میں آپ کے پاس آ رہے تھے تو لوگوں نے جہاں آپ کو تلبیہ پکارتے سنا یہی سمجھا کہ آپ نے یہیں سے تلبیہ شروع کیا ہے، حالانکہ آپ نے تلبیہ پکارنے کی شروعات وہیں کردی تھی جہاں آپ نے احرام کی دونوں رکعتیں پڑھی تھیں، پھر جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے تلبیہ پکارا، پھر بیداء کی اونچائی پر چڑھتے وقت آپ نے تلبیہ پکارا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٢٠ (١٥٤١)، صحیح مسلم/الحج ٤ (١١٨٦)، سنن ابی داود/الحج ٢١ (١٧٧١)، سنن الترمذی/الحج ٨ (٨١٨)، (تحفة الأشراف: ٧٠٢٠)، موطا امام مالک/الحج ٩ (٣٠)، مسند احمد (٢/١٠، ٢٨، ٦٦، ٨٥، ١١١، ١٥٤) (صحیح )