Sunan An Nasai 2769

میقاتوں سے متعلق احادیث

2769Sunan An Nasai

شرط لگاتے وقت کس طرح کہا جائے؟

أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا،وَعِكْرِمَةَ يُخْبِرَانِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أُهِلَّ ؟ قَالَ: أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي، إِنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں، آپ مجھے بتائیے، میں کس طرح تلبیہ پکاروں؟ آپ نے فرمایا: تم تلبیہ پکارو اور شرط لگا لو کہ (اے اللہ) تو جہاں مجھے روک دے گا وہیں حلال ہوجاؤں گی ۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “Duba’ah bint Az Zubair bin ‘Abdul-Muttalib came to the Messenger of Allah ﷺ and said: ‘I am a heavy woman and I want to go for Hajj. How do I begin the Ihram?’ He said: ‘Enter Ihram and stipulate the condition that you will exit Ihram from the point where you are prevented (from continuing, if some problem should arise).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2767
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ١٥ (١٢٠٨)، سنن ابن ماجہ/الحج ٢٤ (٢٩٣٨)، (تحفة الأشراف: ٥٧٥٤)، مسند احمد (١/٣٣٧) (صحیح )