میقاتوں سے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 23 · 435 hadiths · Page 5 of 22

2733Sunan An Nasai

حج قران سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ جَمِيعًا، فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ، فَلَقِيتُ أَنَسًا فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ أَنَسٌ: مَا تَعُدُّونَا إِلَّا صِبْيَانًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا مَعًا.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ہے تو میں نے اسے ابن عمر ؓ سے بیان کیا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف حج کا تلبیہ پکارا تھا، پھر میری ملاقات انس سے ہوئی تو میں نے ان سے ابن عمر ؓ کی بات بیان کی، اس پر انس ؓ نے کہا: تم لوگ ہمیں بچہ ہی سمجھتے ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک ساتھ لبيك عمرة وحجا کہتے ہوئے سنا ہے۔

Bakr bin ‘Abdullah Al Muzani said: “Anas said: ‘I heard the Prophet ﷺ reciting the Talbiyah for Umrah and Hajj together. I told Ibn ‘Umar about that and he said: “He recited the Talbiyah for Hajj only.” I met Anas and told him what Ibn ‘Umar had said, and Anas said: “Do you think of us as no more than children? I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Labbaika ‘Umratan wa Hajjan ma’an (Here I am (Allah) for ‘Umrah and Hajj together).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2731
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازی ٦١ (٤٣٥٣)، صحیح مسلم/الحج ٢٧ (١٢٣٢)، (تحفة الأشراف: ٦٦٥٧)، مسند احمد (٢/٤١، ٥٣، ٧٩، ٣/٩٩، سنن الدارمی/المناسک ٧٨ (١٩٦٦) (صحیح )
2734Sunan An Nasai

حج تمتع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَأَهْدَى، وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، وَتَمَتَّعَ النَّاسُ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى، فَسَاقَ الْهَدْيَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْد، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَالَ لِلنَّاسِ: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلْيُقَصِّرْ، وَلْيَحْلِلْ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ ثُمَّ لِيُهْدِ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا، فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْع، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ، فَصَلَّى عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَانْصَرَفَ، فَأَتَى الصَّفَا، فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں تمتع کیا ١ ؎ یعنی پہلے عمرہ کیا پھر حج کیا اور ہدی بھیجی، بلکہ اپنے ساتھ ذوالحلیفہ سے ہدی لے گئے (وہاں) رسول اللہ ﷺ نے پہلے عمرہ کا تلبیہ پکارا پھر حج کا تلبیہ پکارا اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لوگوں نے بھی تمتع کیا، یعنی عمرے کا احرام باندھا پھر حج کا۔ البتہ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے ہدی بھیجی اور اپنے ساتھ بھی لیے گئے، اور کچھ لوگ ایسے تھے جو ہدی نہیں لے گئے تھے۔ تو جب رسول اللہ ﷺ مکہ پہنچ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: جو لوگ اپنے ساتھ ہدی لے کر آئے ہیں وہ جب تک حج پورا نہ کرلیں کسی بھی چیز سے جو ان پر حرام ہیں حلال نہ ہو) اور جو ہدی ساتھ لے کر نہیں آئے ہیں تو وہ خانہ کعبہ کا طواف کریں اور صفا ومروہ کی سعی کریں، اور بال کتروائیں اور احرام کھول ڈالیں۔ پھر (اٹھویں ذی الحجہ کو) حج کا احرام باندھے پھر ہدی دے اور جسے ہدی میسر نہ ہو تو وہ حج میں تین دن روزے رکھے، اور سات دن اپنے گھر واپس پہنچ جائیں تب رکھیں ، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ پہنچ کر طواف کیا، اور سب سے پہلے حجر اسود کا بوسہ لیا پھر سات پھیروں میں سے پہلے تین پھیروں میں دوڑ کر چلے ٢ ؎، باقی چار پھیرے عام رفتار سے چلے۔ پھر جس وقت بیت اللہ کا طواف پورا کرلیا، تو مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا۔ اور نماز سے فارغ ہو کر صفا آئے اور صفا اور مروہ کے درمیان سات پھیرے کیے۔ پھر جو چیزیں حرام ہوگئی تھیں ان میں سے کسی چیز سے بھی حلال نہیں ہوئے یہاں تک کہ اپنے حج کو مکمل کیا اور یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو اپنے ہدی کی نحر کی (جانور ذبح کئے) اور منیٰ سے لوٹ کر مکہ آئے، پھر خانہ کعبہ کا طواف کیا پھر جو چیزیں حرام ہوگئی تھیں ان سب سے حلال ہوگئے، اور لوگوں میں سے جو ہدی (کا جانور) لے کر گئے تھے، انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا۔

It was narrated from Salim bin ‘Abdullah that ‘Abdullah bin ‘Umar said: “During the Farewell Pilgrimage, the Messenger of Allah ﷺ benefited from performing ‘Umrah and then Hajj, and he brought a Hadi (sacrificial animal) with him from Dhul-Hulaifah. The Messenger of Allah ﷺ entered Ihram for ‘Umrah first, then for Hajj, and the people also benefited by entering Ihram for ‘Umrah first, then for Hajj. Some of the people brought the Hadi and carried it along with them, and others did not. When the Messenger of Allah ﷺ came to Makkah, he said to the people: ‘Whoever among you has brought a Hadi, nothing is permissible for him that became forbidden when he entered ihram, until he has finished his Hajj. Whoever did not find a Hadi, let him fast for three days during the Hajj, and for seven when he returns to his family.’ The Messenger of Allah ﷺ performed Tawaf when he came to Makkah and touched the corner (where the Black Stone is) first of all, then he walked rapidly during the first three of the seven circles, and walked during the last four. After he finished circumambulating the House he prayed two Rak’ahs at Maqam Ibrahim. Then he went to As-Safa and walked seven rounds between As-Safa and Al-Marwah. And he did not do any action that was forbidden because of Ihram until he had completed his Hajj and slaughtered his Hadi on the Day of Sacrifice. Then he hastened onward (toward Makkah) and circumambulated the House. Then everything that had been forbidden because of Ihram became permissible. And those who had brought the Hadi with them did the same as the Messenger of Allah ﷺ did.” (Sahih)

صحيح ق لکن قوله وبدأ رسول الله صلى الله عليه وسلم فأهل بالعمرة ثم أهل بالحج شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2732
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حج و عمرہ دونوں کو ایک ساتھ کرنے کا فائدہ اٹھایا یہاں تمتع سے لغوی تمتع مراد ہے نہ کہ اصطلاحی کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع میں قارن تھے۔ ٢ ؎: یعنی مونڈھے ہلاتے ہوئے تیز چال سے چلے اسے رمل کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٠٤ (١٦٩١)، صحیح مسلم/الحج ٢٤ (١٢٢٧)، سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٨٠٥)، (تحفة الأشراف: ٦٨٧٨)، مسند احمد (٢/١٣٩) (صحیح )
2735Sunan An Nasai

حج تمتع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: حَجَّ عَلِيٌّ، وَعُثْمَانُ فَلَمَّا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِنَهَى عُثْمَانُ عَنِ التَّمَتُّعِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدِ ارْتَحَلَ فَارْتَحِلُوا فَلَبَّى عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ بِالْعُمْرَةِ، فَلَمْ يَنْهَهُمْ عُثْمَانُ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَنْهَى عَنِ التَّمَتُّعِ ؟قَالَ: بَلَىقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَتَّعَ ؟قَالَ: بَلَى.

سعید بن مسیب کہتے ہیں: علی اور عثمان ؓ عنہما نے حج کیا تو جب ہم راستے میں تھے تو عثمان ؓ عنہ نے تمتع سے منع کیا، علی ؓ نے کہا: جب تم لوگ انہیں دیکھو کہ وہ (عثمان) کوچ کر گئے ہیں تو تم لوگ بھی کوچ کرو، علی ؓ اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا (یعنی تمتع کیا) تو عثمان ؓ عنہ نے انہیں منع نہیں کیا، علی ؓ نے کہا: کیا مجھے یہ اطلاع نہیں دی گئی ہے کہ آپ تمتع سے روکتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں (صحیح اطلاع دی ہے) تو علی ؓ نے ان سے کہا: کیا آپ نے سنا نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تمتع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور سنا ہے ١ ؎۔

Saeed bin Al-Musayyab said: Ali and ‘Uthman performed Hajj, and when we were partway there, ‘Uthman forbade Tamattu’. ‘Ali said: ‘When you see him setting out, set out with him (saying the Talbiyah for ‘Umrah).’ So ‘All and his Companions recited the Talbiyah for ‘Umrah, and ‘Uthman did not forbid them. ‘Ali said: ‘Have I not been told that you forbade Tamattu’?’ He said: ‘Yes, I did.’ ‘Ali said to him: ‘Did you not hear that the Messenger of Allah ﷺ l did Tamattu?’ He said: ‘Of course.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2733
Notes · وضاحت
١ ؎: اس بات چیت کا خلاصہ یہ ہے کہ عمر اور عثمان رضی الله عنہما دونوں کی رائے یہ تھی کہ نبی اکرم ﷺ کے وقت میں لوگوں نے جو تمتع کیا اس کی کوئی خاص وجہ تھی، اور اب اس کا نہ کرنا افضل ہے، اس کے برخلاف علی رضی الله عنہ کی رائے یہ تھی کہ یہی سنت اور افضل ہے (واللہ تعالیٰ اعلم)۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٣٤ (١٥٦٩)، صحیح مسلم/الحج ٢٣ (١٢٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٠١١٤)، مسند احمد (١/٥٧، ١٣٦) (صحیح )
2736Sunan An Nasai

حج تمتع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ: لَا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ سَعْدٌ: بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي، قَالَ الضَّحَّاكُ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، قَالَ سَعْدٌ: قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ.

محمد بن عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس ؓ کو جس سال معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے حج کیا تمتع کا یعنی عمر ؓ کے بعد حج کرنے کا ذکر کرتے سنا، ضحاک ؓ نے کہا: اسے وہی کرے گا، جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہوگا، اس پر سعد ؓ نے کہا: میرے بھتیجے! بری بات ہے، جو تم نے کہی، تو ضحاک ؓ نے کہا: عمر بن خطاب ؓ نے تو اس سے روکا ہے اس پر سعد ؓ نے کہا: اسے رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے اور آپ کے ساتھ ہم لوگوں نے بھی کیا ہے۔

It was narrated from Muhammad bin ‘Abdullah bin Al Harith bin Nawfal bin Al-Harith bin ‘Abdul-Muttalib that during the year that Muawiyah bin Abi Sufyan performed Hajj, he heard Sad bin Abi Waqqas and Ad Dahhak bin Qais talking about joining ‘Umrah to Hajj (Tamattu’). Ad-Dahhak said: “None does that but one who is igorant of the ruling of Allah.” Sad said: “What a bad thing to say, son of my brother!” Ad-Dahhak said: “Umar bin Al Khattab forbade that.” Sad said: “The Messenger of Allah ﷺ did that and we did it with him.” (Hasan)

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2734
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١٢ (٨٢٣)، (تحفة الأشراف: ٣٩٢٨)، موطا امام مالک/الحج ١٩ (٦٠)، مسند احمد (١/١٧٤)، سنن الدارمی/المناسک ١٨ (١٨٥٥) (ضعیف الإسناد )
2737Sunan An Nasai

حج تمتع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْعُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ، حَتَّى لَقِيتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ عُمَرُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ، وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعَرِّسِينَ بِهِنَّ فِي الْأَرَاكِ، ثُمَّ يَرُوحُوا بِالْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ.

ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ تمتع کا فتویٰ دیتے تھے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: آپ اپنے بعض فتاوے کو ملتوی رکھیں ١ ؎ آپ کو امیر المؤمنین (عمر بن خطاب ؓ) نے اس کے بعد حج کے سلسلے میں جو نیا حکم جاری کیا ہے وہ معلوم نہیں، یہاں تک کہ میں ان سے ملا، اور میں نے ان سے پوچھا، تو عمر ؓ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا کیا ہے، لیکن میں یہ اچھا نہیں سمجھتا کہ لوگ اراک میں اپنی بیویوں سے ہمبستر ہوں، پھر وہ صبح ہی حج کے لیے اس حال میں نکلیں کہ ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔

It was narrated that Abu Musa (RA) said that he used to issue Fatwas concerning Tamattu’. Then a man said to him: “Withhold some of your Fatwas, for you do not know what the Commander of the Believers introduced into the rites subsequently.” Then when I met him, I asked him. ‘Umar said: “I know that the Messenger of Allah ﷺ and his Companions did it, but I did not like that people should lay with their wives in the shade of the Arak trees, and then go out for Hajj with their heads dripping.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2735
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کا یہ فتویٰ امیر المؤمنین کے جاری کردہ حکم کے خلاف ہو اور وہ تم پر ناراض ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٢٢ (١٢٢٢)، سنن ابن ماجہ/الحج ٤٠ (٢٩٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٨٤)، مسند احمد (١/٤٩)، سنن الدارمی/المناسک ١٨ (١٨٥٦) (صحیح )
2738Sunan An Nasai

حج تمتع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبِي، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُتْعَةِ، وَإِنَّهَا لَفِي كِتَابِ اللَّهِ، وَلَقَدْ فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي: الْعُمْرَةَ فِي الْحَجِّ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر ؓ کو کہتے ہوئے سنا: قسم اللہ کی! میں تمہیں متعہ سے یعنی حج میں عمرہ کرنے سے روک رہا ہوں، حالانکہ وہ کتاب اللہ میں موجود ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے اسے کیا ہے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “I heard ‘Umar say: ‘By Allah, I forbid you to perform Tamattu’, but it is mentioned in the Book of Allah and the Messenger of Allah ﷺ did it” - meaning, ‘Umrah with Hajj. (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2736
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٥٠٢) (صحیح الإسناد )
2739Sunan An Nasai

حج تمتع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَعَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَرْوَةِ ؟قَالَ: لَا. يَقُولُابْنُ عَبَّاسٍ: هَذَا مُعَاوِيَةُ، يَنْهَى النَّاسَ عَنِ الْمُتْعَةِ وَقَدْ تَمَتَّعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

طاؤس کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ نے ابن عباس ؓ سے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ مروہ کے پاس میں نے رسول اللہ ﷺ کے بال کترے تھے (میں یہ اس لیے بیان کر رہا ہوں تاکہ) ابن عباس ؓ یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ معاویہ ہیں جو لوگوں کو تمتع سے روکتے ہیں حالانکہ نبی اکرم ﷺ نے تمتع کیا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Tawus said: “Muawiyah said to Ibn ‘Abbas (RA): “Do you know that I cut the hair of the Messenger of Allah ﷺ at Al-Marwah?” He said: “No.” Ibn ‘Abbas said: “This Muawiyah forbids the people to perform Tamattu‘ but the Prophet ﷺ performed Tamattu’.” (Sahih)

صحيح ق دون قول ابن عباس هذا معاويةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2737
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں روایت میں ایک اشکال ہے اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ متمتع تھے حالانکہ صحیح یہ ہے کہ آپ قارن تھے، آپ نے اپنے بال میں سے کوئی چیز نہیں کتروائی اور نہ کوئی چیز اپنے لیے حلال کی یہاں تک کہ یوم النحر کو منیٰ میں آپ نے حلق کرائی اس لیے اس کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ شاید حج سے معاویہ کی مراد عمرہ جعرانہ ہو کیونکہ اسی موقع پر وہ اسلام لائے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٢٧ (١٧٣٠)، صحیح مسلم/الحج ٣٣ (١٢٤٦)، سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٨٠٢)، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٢، ١١٤٢٣)، مسند احمد (٤/٩٦، ٩٧، ٩٨) (صحیح )
2740Sunan An Nasai

حج تمتع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسٍ وَهُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ: بِمَا أَهْلَلْتَ ؟قُلْتُ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هَلْ سُقْتَ مِنْ هَدْيٍ ؟قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حِلَّ، فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَمَشَطَتْنِي، وَغَسَلَتْ رَأْسِي، فَكُنْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ فِي إِمَارَةِ أَبِي بَكْرٍ، وَإِمَارَةِ عُمَرَ، وَإِنِّي لَقَائِمٌ بِالْمَوْسِمِ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ قُلْتُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ بِشَيْءٍ فَلْيَتَّئِدْ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَأْتَمُّوا بِهِ، فَلَمَّا قَدِمَ قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا هَذَا الَّذِي أَحْدَثْتَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ قَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ سورة البقرة آية 196، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَحِلَّ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ.

ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ بطحاء میں تھے۔ آپ نے فرمایا: تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے نبی اکرم ﷺ کے تلبیہ پر تلبیہ پکارا ہے، پوچھا: کیا تم کوئی ہدی لے کر آئے ہو ، میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: خانہ کعبہ کا طواف کرو اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کرو پھر احرام کھول کر حلال ہو جاؤ، تو میں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، پھر میں اپنے خاندان کی ایک عورت کے پاس آیا تو اس نے میرے بالوں میں کنگھی کی اور میرا سر دھویا۔ چناچہ میں ابوبکر اور عمر ؓ کی خلافت میں لوگوں کو اسی کا فتویٰ دیتا رہا۔ (ایک بار ایسا ہوا کہ) میں حج کے موسم میں کھڑا تھا کہ یکایک ایک شخص میرے پاس آ کر کہنے لگا: آپ اس چیز کو نہیں جانتے جو امیر المؤمنین نے حج کے سلسلے میں نیا حکم دیا ہے؟ تو میں نے کہا: لوگو! میں نے جس کسی کو بھی کوئی فتویٰ دیا ہو وہ اس پر عمل کرنے میں ذرا توقف کرے، کیونکہ امیر المؤمنین تمہارے پاس آنے والے ہیں، تو وہ جو فرمائیں اس کی پیروی کرو۔ تو جب وہ آئے تو میں نے کہا: امیر المؤمنین! یہ کیا ہے جو حج کے سلسلے میں آپ نے نئی بدعت نکالی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر ہم کتاب اللہ پر عمل کریں تو اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: وأتموا الحج والعمرة لله اور اگر ہم اپنے نبی اکرم ﷺ کی سنت کی پیروی کریں، تو آپ حلال نہیں ہوئے جب تک کہ آپ نے ہدی کی قربانی نہیں کرلی۔

It was narrated that Abu Musa (RA) said: “I came to the Messenger of Allah ﷺ when he was in Al-Batha’, and he said: ‘For what have you entered ihram?’ I said: ‘I have entered Ihram for that for which the Prophet ﷺ had entered Ihram. He said: ‘Have you brought a Hadi (sacrificial animal)?’ I said: ‘No.’ He said: ‘Then circumambulate the House and (perform Sa’i) between As Safa and Al-Marwah, then exit Ihram.’ So I circumambulated the House and (performed Sa’i) between As-Safa and Al-Marwah, then went to a woman of my people and she combed and washed my hair. I used to issue Fatwas to the people based on that, during the Khilafah of Abu Bakr (RA) and ‘Umar. Then one day during Hajj season a man came to me and said: ‘You do not know what the Commander of the Believers has introduced concerning the rites. I said: people, whoever heard our Fatwa, let him not rush to follow it, for the Commander of the Believers is coming to you, and you should follow him. When he came, I said: Commander of the Believers! What is this that you have introduced concerning the rites? He said: If we follow the Book of Allah, then Allah, the Mighty and Sublime, says: ‘And complete the Hajj and ‘Umrah for Allah.’ And if we follow the Sunnah of our Prophet ﷺ, then our Prophet ﷺ did not exit Ihram until he had slaughtered the Hadi (sacrificial animal).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2738
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٣٢ (١٥٥٩)، ١٢٥ (١٧٢٤)، العمرة ١١ (١٧٩٥)، المغازی ٦٠ (٤٣٤٦) مختصراً، ٧٧ (٤٣٩٧) مختصراً، صحیح مسلم/الحج ٢٢ (١٢٢١)، (تحفة الأشراف: ٩٠٠٨)، مسند احمد (١/٣٩، ٤/٣٩٣، ٣٩٥، ٣٩٧، ٤١٠، سنن الدارمی/المناسک ١٨ (١٨٥٦)، ویأتی عند المؤلف فی باب ٥٢ (برقم ٢٧٤٣) (صحیح )
2741Sunan An Nasai

حج تمتع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَمَتَّعَ، وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ، قَالَ فِيهَا قَائِلٌ بِرَأْيِهِ.

مطرف کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے (حج) تمتع کیا، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ (حج) تمتع کیا (لیکن) کہنے والے نے اس سلسلے میں اپنی رائے سے کہا ١ ؎۔

It was narrated that Mutarrif said: “Imran bin Husain said to me: ‘The Messenger of Allah ﷺ performed ‘Umrah and Hajj together, and we performed ‘Umrah and Hajj together with him. And whoever says anything different, that is his own personal opinion.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2739
Notes · وضاحت
١ ؎: لہٰذا صریح سنت کے مقابلہ میں قائل کی رائے کا کوئی اعتبار نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٢٩ (صحیح )
2742Sunan An Nasai

لبیک کہنے کے وقت حج یا عمرہ کے نام نے لینے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَال: أَتَيْنَاجَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَحَدَّثَنَا،أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ حِجَجٍ، ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجِّ هَذَا الْعَامِ فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ، كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَفْعَلُ مَا يَفْعَلُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ، وَخَرَجْنَا مَعَهُ، قَالَ جَابِرٌ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا عَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا فَخَرَجْنَا لَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ.

ابو جعفر محمد بن علی باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے نبی اکرم ﷺ کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نو سال تک مدینہ میں رہے پھر لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ امسال رسول اللہ ﷺ حج کو جانے والے ہیں، تو بہت سارے لوگ مدینہ آگئے، سب یہ چاہتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اقتداء کریں اور وہی کریں جو آپ کرتے ہیں۔ تو جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تو رسول اللہ ﷺ حج کے لیے نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تھے آپ پر قرآن اتر رہا تھا اور آپ اس کی تاویل (تفسیر) جانتے تھے اور جو چیز بھی آپ نے کی ہم نے بھی کی۔ چناچہ ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔

Ja’far (RA) bin Muhammad said: “My father told me: ‘We came to Jabir bin ‘Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet ﷺ. He told us: The Messenger of Allah ﷺ stayed in Al-Madinah for nine years of Hajj then it was announced to the people that the Messenger of Allah ﷺ was going to perform Hajj this year. Many people came to Al-Madinah, all of them hoping to learn from the Messenger of Allah ﷺ and to do as he did. The Messenger of Allah ﷺ set out when there were five days left of Dhul-Qa’dah, and we set out with him.” Jabir said: “And the Messenger of Allah ﷺ was among us; the Qur’an was being revealed to him, and he knew what it meant. Whatever he did based on it (the Qur’an), we did, and we set out with no intention other than Hajj.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2740
Takhrij · تخریج
انظر رقم: ٢٧١٣ (صحیح )
2743Sunan An Nasai

لبیک کہنے کے وقت حج یا عمرہ کے نام نے لینے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَاسُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا لَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ، حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: أَحِضْتِقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْمُحْرِمُ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔ جب ہم سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہوگئی، تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: کیا تجھے حیض آگیا ہے میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں (عورتوں) پر لکھ دی ہے، تم وہ سب کام کرو جو احرام باندھنے والے کرتے ہیں، البتہ بیت اللہ طواف نہ کرنا ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “We set out with no intention other than Hajj. And when we were in Sarf, my menses came. The Messenger of Allah ﷺ entered upon me while I was weeping, and he said: ‘Have your menses come?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘That is something that Allah, the Mighty and Sublime, has decreed for the daughters of Adam. Do everything that the pilgrim in Ihram does, but do not circumambulate the House.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2741
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩١ (صحیح )
2744Sunan An Nasai

دوسرے کسی شخص کی نیت کے موافق حج کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُطَارِقَ بْنَ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلْتُ مِنْ الْيَمَنِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ حَيْثُ حَجَّ، فَقَالَ: أَحَجَجْتَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: كَيْفَ ؟ قُلْتَ: قَالَ: قُلْتُ لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَحِلَّ، فَفَعَلْت، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً فَفَلَتْ رَأْسِي، فَجَعَلْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ، حَتَّى كَانَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا مُوسَى، رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ، قَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فَلْيَتَّئِدْ، فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ، فَأْتَمُّوا بِهِ، وَقَالَ عُمَرُ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ.

ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں یمن سے آیا، اور نبی اکرم ﷺ بطحاء میں جہاں کہ آپ نے حج کیا تھا اونٹ بٹھائے ہوئے تھے، آپ نے (مجھ سے) پوچھا: کیا تم نے حج کا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: تم نے کیسے کہا؟ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا: لبيك بإهلال كإهلال النبي صلى اللہ عليه وسلم میں حاضر ہوں اس تلبیہ کے ساتھ جو نبی اکرم ﷺ کا تلبیہ ہے آپ نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف کرلو، اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کرلو، پھر احرام کھول کر حلال ہو جاؤ، میں نے ایسے ہی کیا، پھر میں ایک عورت کے پاس آیا، اس نے میرے سر سے جوئیں نکالیں۔ تو میں اسی کے مطابق لوگوں کو فتویٰ دینے لگا یہاں تک کہ عمر ؓ کے دور خلافت میں مجھ سے ایک شخص کہنے لگا: ابوموسیٰ! تم اپنے بعض فتوے دینے بند کر دو، کیونکہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ تمہارے بعد امیر المؤمنین نے حج کے سلسلے میں کیا نیا حکم جاری کیا ہے۔ (یہ سن کر) ابوموسیٰ اشعری ؓ نے کہا: لوگو! جس کو بھی میں نے فتویٰ دیا ہو وہ توقف کرے کیونکہ امیر المؤمنین تمہارے پاس آنے والے ہیں (وہ جیسا بتائیں) ان کی پیروی کرو۔ (اور جب عمر ؓ کے سامنے یہ بات آئی تو) انہوں نے کہا: اگر ہم اللہ کی کتاب (قرآن) کو لیں تو وہ (حج اور عمرہ کو) پورا کرنے کا حکم دے رہی ہے اور اگر ہم نبی اکرم ﷺ کی سنت کو لیں تو آپ کی سنت یہ رہی ہے کہ آپ نے اپنا احرام نہیں کھولا جب تک کہ ہدی اپنے ٹھکانے پر نہیں پہنچ گئی۔

Abu Musa (RA) said: “I came from Yemen and the Prophet ﷺ had stopped in Al-Batha’ at the time of Hajj. He asked: ‘Have you performed Hajj?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘What did you say?’ I said: ‘ (Here I am (O Allah, entering Ihram for that for which the Prophet ﷺ entered Ihram).’ He said: Circumambulate the House and (perform Sa’i) between As-Safa and Al-Marwah, and exit Ihram.’ Then I went to a woman who combed my hair. I started to issue Fatwas to the people based on that. Then during the Khilafah of ‘Umar, a man said to me: ‘Abu Musa, withhold some of your Fatwas from us, for you do not know what the Commander of the Believers has introduced into the rites after you.” Abu Musa said: “people, people, whoever heard our Fatwa, let him not rush to follow it, for the Commander of the Believers is coming to you and you should follow him.” ‘Umar said: “If we follow the Book of Allah, then indeed He commands us to complete Hajj and ‘Umrah, and the Messenger of Allah ﷺ did not exit Ihram until the Hadi had reached its place.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2742
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٣٩ (صحیح )
2745Sunan An Nasai

دوسرے کسی شخص کی نیت کے موافق حج کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَحَدَّثَنَا، أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنْ الْيَمَنِ بِهَدْيٍ وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ هَدْيًا، قَالَ لِعَلِيٍّ: بِمَا أَهْلَلْتَ ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِيَ الْهَدْيُ، قَالَ: فَلَا تَحِلَّ.

جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آئے اور ان سے نبی اکرم ﷺ کے حج کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ علی ؓ یمن سے ہدی لے کر آئے اور رسول اللہ ﷺ مدینہ سے ہدی لے کر گئے۔ آپ نے علی ؓ سے پوچھا: تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے یوں کہا ہے: اے اللہ! میں اسی چیز کا تلبیہ پکارتا ہوں جس کا تلبیہ رسول اللہ ﷺ نے پکارا ہے۔ اور میرے ساتھ ہدی بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: تو تم احرام نہ کھولو (جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہوجاؤ) ۔

It was narrated that Ja’far bin Muhammad said: “My father told us: ‘We came to Jabir bin ‘Abdullah and asked him about the Hajj of the Prophet ﷺ He told us: “All came from Yemen with a Hadi, and the Messenger of Allah ﷺ brought a Hadi from Al Madinah. He said to ‘All: ‘For what have you entered Ihram?’ He said: ‘I said: “O Allah, I am entering Ihram for that for which the Messenger of Allah ﷺ entered Ihram,” and I have the Hadi with me.’ He said: ‘Do not exit Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2743
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧١٣ (صحیح )
2746Sunan An Nasai

دوسرے کسی شخص کی نیت کے موافق حج کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ عَطَاءٌ، قَالَ جَابِرٌ: قَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِمَا أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ ؟ قَالَ: بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَاهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَقَالَ: وَأَهْدَى عَلِيٌّ لَهُ هَدْيًا.

جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی ؓ زکاۃ کی وصولی کا کام کر کے آئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے پوچھا: علی! تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟ انہوں نے کہا: جس چیز کا رسول ﷺ نے پکارا ہے، تو آپ نے فرمایا: ہدی دو اور احرام باندھے رہو جیسا کہ تم اس وقت باندھے ہو ، جابر ؓ کہتے ہیں: علی ؓ بھی اپنے لیے ہدی لے کر آئے تھے۔

Jabir said: “All came from collecting Zakah and the Prophet ﷺ said to him: ‘For what have you entered Ihram, O ‘Ali?’ he said: ‘For that for which the Messenger of Allah ﷺ entered Ihram.’ He said: ‘Then offer the Hadi and remain in Ihram as you are.’ So ‘All offered a Hadi.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2744
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٣٢ (١٥٥٧)، (تحفة الأشراف: ٢٤٥٧)، مسند احمد (٣/٣٠٥، ٣١٧، ٣٦٦) (صحیح )
2747Sunan An Nasai

دوسرے کسی شخص کی نیت کے موافق حج کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ أَمَّرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَمَنِ فَأَصَبْتُ مَعَهُ أَوَاقِي، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَلِيٌّ: وَجَدْتُ فَاطِمَةَ قَدْ نَضَحَتْ الْبَيْتَ بِنَضُوحٍ، قَالَ: فَتَخَطَّيْتُهُ، فَقَالَتْ لِي: مَا لَكَ ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَحَلُّوا، قَالَ: قُلْتُ إِنِّي أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: كَيْفَ صَنَعْتَ ؟قُلْتُ: إِنِّي أَهْلَلْتُ بِمَا أَهْلَلْتَ، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ.

براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں علی ؓ کے ساتھ تھا جس وقت رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن کا گورنر (امیر) بنایا تو مجھے ان کے ساتھ کئی اوقیے ملے جب علی ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، میں نے تو فاطمہ ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے گھر میں خوشبو پھیلا رکھی ہے، تو میں گھر سے نکل کر باہر آگیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اپنے احرام کھول دیا، میں نے کہا: میں نے تو نبی اکرم ﷺ کے تلبیہ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ نے مجھ سے پوچھا: تو تم نے کیسے کیا ہے؟ میں نے کہا: میں نے آپ کی طرح تلبیہ پکارا ہے، آپ نے فرمایا: میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قران کیا ہے ۔

It was narrated that Al-Bara’ said: “I was with ‘Ali when the Messenger of Allah ﷺ appointed him as goveror of Yemen. When ‘Ali came to the Messenger of Allah ﷺ, ‘Ali said: ‘I found that Fatimah had perfumed the house with perfume.’ He said: ‘I tried to avoid it, and she said to me: What is the matter with you? The Messenger of Allah ﷺ told his Companions to exit Ihram.’ He said: ‘I said: I have entered Ihram for that for which the Prophet ﷺ entered Ihram.” He said: ‘So I went to the Prophet ﷺ and he said to me: “What did you do?” I said: “I entered Ihram for that for which you entered Ihram.” He said: “I have brought the Hadi and am performing Qirn.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2745
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٢٦ (صحیح )
2748Sunan An Nasai

اگر عمرہ کا احرام باندھ لیا ہو تو وہ ساتھ میں حج کرسکتا ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ وَأَنَا أَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، قَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21، إِذًا أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ ؟ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي، وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ ثُمَّ انْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْحَرْ، وَلَمْ يَحْلِقْ، وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ، وَحَلَقَ، فَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

نافع سے روایت ہے کہ جس سال حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر ؓ پر چڑھائی کی، ابن عمر ؓ نے حج کا ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ ان کے درمیان جنگ ہونے والی ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ آپ کو (حج سے) روک دیں گے تو انہوں نے کہا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ اگر ایسی صورت حال پیش آئی تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا ١ ؎ میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ واجب کرلیا ہے پھر چلے، جب بیداء کے پاس پہنچے تو کہا: حج و عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں، میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کرلیا ہے، اور ہدی بھی ساتھ لے لی جسے قدید میں خریدا تھا پھر کچھ راستے دونوں (حج و عمرہ) کا تلبیہ پکارتے ہوئے چلے یہاں تک کہ مکہ آگئے، تو بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کی سعی کی اس سے زیادہ کچھ نہ کیا، نہ قربانی کی، نہ سر منڈایا، نہ بال کتروائے، اور نہ ان چیزوں سے حلال ہوئے جو اس کی وجہ سے ان پر حرام ہوئی تھیں یہاں تک کہ جب ذی الحجہ کی دسویں تاریخ آئی تو انہوں نے نحر کیا (قربانی کیا) سر منڈوایا اور یہ خیال کیا کہ پہلے ہی طواف سے حج و عمرہ دونوں کا طواف ہوگیا ہے۔ اور ابن عمر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا۔

It was narrated from Nafi’ that Ibn ‘Umar wanted to perform Hajj in the year when Al-Hajjaj was besieging Ibn Az-Zubair, and it was said to him: “It seems that there will be fighting between them, and I am afraid that you will be prevented from performing Hajj.” He said: “In the Messenger of Allah ﷺ you have a good example. I am going to do what the Messenger of Allah ﷺ did. I bear witness to you that I have resolved to perform ‘Umrah.” Then he set out, and when he was in Zahir Al Baida’, he said: “Hajj and ‘Umrah are the same thing; I bear witness to you that I have resolved to perform Hajj with my ‘Umrah.” And he brought along a Hadi (sacrificial animal) that he had bought in Qudaid. Then he set out and entered Ihram for them both. When he came to Makkah he circumambulated the House and (did Sa’i) between As-Safa and Al-Marwah. Then he did not do any thing more than that, and he did not offer a sacrifice, or shave his head, or cut his hair; he remained in Ihram until the Day of Sacrifice. Then he slaughtered his Hadi and shaved his head, and he thought that he had completed the Tawaf of Hajj and ‘Umrah in the first Tawaf. Ibn ‘Umar said: “That is what the Messenger of Allah ﷺ did.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2746
Notes · وضاحت
١ ؎: صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کافروں نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا تو آپ نے وہیں قربانی کر ڈالی تھی، بال منڈوا لیا تھا اور احرام کھول دیا تھا پھر دوسرے سال آپ نے عمرہ کی قضاء کی تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٧٧ (١٦٤٠)، صحیح مسلم/الحج ٢٦ (١٢٣٠)، (تحفة الأشراف: ٨٢٧٩) (صحیح )
2749Sunan An Nasai

کیفیت تلبیہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: إِنَّ سَالِمًا أَخْبَرَنِي، أَنَّأَبَاهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ يَقُولُ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ، وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ، أَهَلَّ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تلبیہ پکارتے سنا، آپ کہہ رہے تھے: لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك حاضر ہوں تیری خدمت میں اے رب! حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک و ساجھی دار نہیں، حاضر ہوں میں، تمام تعریفیں تجھی کو سزاوار ہیں اور تمام نعمتیں تیری ہی عطا کردہ ہیں، تیری ہی سلطنت ہے، تیرا کوئی ساجھی و شریک نہیں عبداللہ بن عمر ؓ کہتے تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر جب اونٹنی آپ کو مسجد ذوالحلیفہ کے پاس لے کر پوری طرح کھڑی ہوئی تو آپ نے ان کلمات کو بلند آواز سے کہا۔

It was narrated that Ibn Shihab said: “Salim told me that his father said: ‘I heard the Messenger of Allah ﷺ say the Talbiyah: “Labbaika Allahumma labbaik, labbaika la Sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni ‘mata laka wal mulk, Ia Sharika lak (Here I am, Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praises and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner).” ‘Abdullah bin ‘Umar used to say: “The Messenger of Allah ﷺ used to pray two Rak’ahs in Dhul-Hulaifah, then when his she-camel stood up straight with him at the Masjid of Dhul Hulaifah, he would enter Ihram saying these words.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2747
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٨٤ (صحیح )
2750Sunan An Nasai

کیفیت تلبیہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدًا، وَأَبَا بَكْرٍ ابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا نَافِعًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ تلبیہ یوں کہتے لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Prophet ﷺ used to say: “Labbaika Allahumma labbaik, labbaika la Sharika laka labbaik. Innal-hamda wan-ni’mata laka wal-mulk, la Sharika lak (Here I am, Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2748
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٦٦٥)، مسند احمد (٢/٤٣) (صحیح )
2751Sunan An Nasai

کیفیت تلبیہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك۔

It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said: “The Talbiyah of the Messenger of Allah ﷺ was: ‘Labbaika Allahumma labbaik, labbaika la Sharika laka labbaik Innal-hamda wan-ni’mata laka wal-mulk, la Sharika lak (Here I am, Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2749
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٢٦ (١٥٤٩)، صحیح مسلم/الحج ٣ (١١٨٤)، سنن ابی داود/الحج ٢٧ (١٨١٢)، (تحفة الأشراف: ٨٣٤٤)، موطا امام مالک/الحج ٩ (٢٨)، مسند احمد (٢/٣٤) (صحیح )
2752Sunan An Nasai

کیفیت تلبیہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ، وَزَادَ فِيهِ ابْنُ عُمَرَ: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یوں تھا: لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك اور اس میں ابن عمر ؓ نے اتنا اضافہ کیا ہے: لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك والرغباء إليك والعمل یعنی میں حاضر ہوں، تیری خدمت میں، میری سعادت ہے تیرے پاس آنے میں، بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، رغبت تیری ہی طرف ہے، اور عمل بھی تیرے ہی لیے ہے ۔

It was narrated from ‘Ubaidullah bin ‘Abdullah bin ‘Umar that his father said: “The Talbiyah of the Messenger of Allah ﷺ was: ‘Labbaika Allahumma labbaik, labbaika la Sharika laka labbaik Innal-hamda wan-ni ‘mata laka wal-mulk, la Sharika lak (Here I am, Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner).” And Ibn ‘Umar added: “(Here I am, here I am, and at Your service; all good is in Your hands, seeking Your pleasure and striving for Your sake).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2750
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٣١٣) (صحیح )