Sunan An Nasai 2739

میقاتوں سے متعلق احادیث

2739Sunan An Nasai

حج تمتع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَعَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَرْوَةِ ؟قَالَ: لَا. يَقُولُابْنُ عَبَّاسٍ: هَذَا مُعَاوِيَةُ، يَنْهَى النَّاسَ عَنِ الْمُتْعَةِ وَقَدْ تَمَتَّعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

طاؤس کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ نے ابن عباس ؓ سے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ مروہ کے پاس میں نے رسول اللہ ﷺ کے بال کترے تھے (میں یہ اس لیے بیان کر رہا ہوں تاکہ) ابن عباس ؓ یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ معاویہ ہیں جو لوگوں کو تمتع سے روکتے ہیں حالانکہ نبی اکرم ﷺ نے تمتع کیا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Tawus said: “Muawiyah said to Ibn ‘Abbas (RA): “Do you know that I cut the hair of the Messenger of Allah ﷺ at Al-Marwah?” He said: “No.” Ibn ‘Abbas said: “This Muawiyah forbids the people to perform Tamattu‘ but the Prophet ﷺ performed Tamattu’.” (Sahih)

صحيح ق دون قول ابن عباس هذا معاويةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2737
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں روایت میں ایک اشکال ہے اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ متمتع تھے حالانکہ صحیح یہ ہے کہ آپ قارن تھے، آپ نے اپنے بال میں سے کوئی چیز نہیں کتروائی اور نہ کوئی چیز اپنے لیے حلال کی یہاں تک کہ یوم النحر کو منیٰ میں آپ نے حلق کرائی اس لیے اس کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ شاید حج سے معاویہ کی مراد عمرہ جعرانہ ہو کیونکہ اسی موقع پر وہ اسلام لائے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٢٧ (١٧٣٠)، صحیح مسلم/الحج ٣٣ (١٢٤٦)، سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٨٠٢)، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٢، ١١٤٢٣)، مسند احمد (٤/٩٦، ٩٧، ٩٨) (صحیح )