Sunan An Nasai 2737

میقاتوں سے متعلق احادیث

2737Sunan An Nasai

حج تمتع کے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْعُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ، حَتَّى لَقِيتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ عُمَرُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ، وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعَرِّسِينَ بِهِنَّ فِي الْأَرَاكِ، ثُمَّ يَرُوحُوا بِالْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ.

ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ تمتع کا فتویٰ دیتے تھے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: آپ اپنے بعض فتاوے کو ملتوی رکھیں ١ ؎ آپ کو امیر المؤمنین (عمر بن خطاب ؓ) نے اس کے بعد حج کے سلسلے میں جو نیا حکم جاری کیا ہے وہ معلوم نہیں، یہاں تک کہ میں ان سے ملا، اور میں نے ان سے پوچھا، تو عمر ؓ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا کیا ہے، لیکن میں یہ اچھا نہیں سمجھتا کہ لوگ اراک میں اپنی بیویوں سے ہمبستر ہوں، پھر وہ صبح ہی حج کے لیے اس حال میں نکلیں کہ ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔

It was narrated that Abu Musa (RA) said that he used to issue Fatwas concerning Tamattu’. Then a man said to him: “Withhold some of your Fatwas, for you do not know what the Commander of the Believers introduced into the rites subsequently.” Then when I met him, I asked him. ‘Umar said: “I know that the Messenger of Allah ﷺ and his Companions did it, but I did not like that people should lay with their wives in the shade of the Arak trees, and then go out for Hajj with their heads dripping.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2735
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کا یہ فتویٰ امیر المؤمنین کے جاری کردہ حکم کے خلاف ہو اور وہ تم پر ناراض ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٢٢ (١٢٢٢)، سنن ابن ماجہ/الحج ٤٠ (٢٩٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٨٤)، مسند احمد (١/٤٩)، سنن الدارمی/المناسک ١٨ (١٨٥٦) (صحیح )