عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے محرم کے بارے میں فرمایا: جب اس کے سر میں درد ہو یا آنکھیں دکھیں تو ایلوا کا لیپ کرلے ١ ؎۔
It was narrated from Aban bin ‘Uthman that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said concerning a Muhrim whose head or eyes hurt: ‘Let him smudge them with aloes.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2711
محمد الباقر کہتے ہیں کہ ہم جابر (جابر بن عبداللہ ؓ) کے پاس آئے، اور ان سے نبی اکرم ﷺ کے حج کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر مجھے پہلے معلوم ہوگیا ہوتا جو اب معلوم ہوا تو میں ہدی (کا جانور) لے کر نہ آتا اور اسے عمرہ میں تبدیل کردیتا (اور طواف و سعی کر کے احرام کھول دیتا) تو جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے، اور اسے عمرہ قرار دے لے (اسی موقع پر) علی ؓ یمن سے ہدی (کے اونٹ) لے کر آئے اور رسول اللہ ﷺ مدینہ سے لے کر گئے۔ اور فاطمہ ؓ نے جب رنگین کپڑے پہن لیے اور سرمہ لگا لیا علی ؓ کہتے ہیں کہ میں تو غصہ میں رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھنے گیا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! فاطمہ نے تو رنگین کپڑے پہن رکھے ہیں اور سرمہ لگا رکھا ہے اور کہتی ہیں: میرے ابا جان ﷺ نے مجھے اس کا حکم دیا ہے؟، آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا، اس نے، سچ کہا، میں نے ہی اسے حکم دیا ہے ۔
It was narrated that Ja’far bin Muhammad said: “My father said: ‘We came to Jabir and asked him about the Hajj of the Prophet ﷺ. He told us that the Messenger of Allah ﷺ said: “Had I known when I set out what I know now, I would have brought the Hadi (sacrificial animal) with me and I would not have made it ‘Umrah. Whoever does not have a Hadi with him, let him exit Ihram and make it ‘Umrah.” ‘Ali (RA), came from Yemen with a Hadi, and the Messenger of Allah ﷺ brought a Hadi from Al-Madinah. Fatimah had put on a dyed garment and applied kohl to her eyes, and he (‘Ali) said: “I went to the Prophet ﷺ to complain about that and find out whether she could do that. I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, Fatimah has put on a dyed garment and applied kohl to her eyes, and she said, the Messenger of Allah ﷺ told me to do that.’ He said: ‘She is telling the truth, she is telling the truth, she is telling the truth. I told her to do that.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2712
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی سواری سے گرپڑا تو سواری نے اسے کچل کر ہلاک کردیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دو، اور اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ کھلا رکھا جائے کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that a man fell from his mount and it trampled him. The Messenger of Allah ﷺ said: “Wash him with water and lotus leaves, and he should be shrouded in two cloths, leaving his head and face bare, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2713
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص (حالت احرام میں) مرگیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے کپڑوں ہی میں کفنا دو، اور اس کے سر اور چہرے کونہ ڈھانپو کیونکہ قیامت کے دن وہ لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “A man died, and the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in his cloths, but do not cover his head and face, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2714
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج افراد کیا ١ ؎۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ performed Hajj only (Ifrad). (Sahih)
ضعيف شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2715
Notes · وضاحت
١ ؎: حج کی تین قسمیں ہیں: افراد، قران اور تمتع، حج افراد: یہ ہے کہ صرف حج کی نیت سے احرام باندھے اور حج قران یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کی ایک ساتھ نیت کرے اور ساتھ میں ہدی کا جانور بھی لے اور حج تمتع یہ ہے کہ حج کے مہینے میں میقات سے صرف عمرے کی نیت کرے پھر مکہ میں جا کر عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام کھول دے اور پھر آٹھویں تاریخ کو مکہ سے نئے سرے سے حج کا احرام باندھے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس حال میں نکلے کہ (چند دنوں کے بعد) ہم ذی الحجہ کا چاند دیکھنے ہی والے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو حج کا احرام باندھنا چاہے حج کا احرام باندھ لے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے عمرہ کا احرام باندھ لے ١ ؎۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “We went out with the Messenger of Allah ﷺ around the time of the new moon of Dhul Hijjah, and the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever wishes to enter Ihram for Hajj, let him do so, and whoever wishes to enter Ihram for Umrah, let him do so.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2717
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ سے یہ روانگی ذی قعدہ کی پچیسویں تاریخ کو ہوئی تھی۔
صبی بن معبد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک نصرانی بدوی تھا تو میں مسلمان ہوگیا اور جہاد کا حریص تھا، مجھے پتہ لگا کہ حج و عمرہ دونوں مجھ پر فرض ہیں، تو میں اپنے خاندان کے ایک شخص کے پاس آیا جسے ھریم بن عبداللہ کہا جاتا تھا، میں نے اس سے پوچھا (کیا کریں) تو اس نے کہا: دونوں ایک ساتھ کرلو۔ پھر جو ہدی (قربانی) بھی تمہیں میسر ہو اسے ذبح کر ڈالو، تو میں نے (حج و عمرہ) دونوں کا احرام باندھ لیا، پھر جب میں عذیب ١ ؎ پہنچا، تو وہاں مجھے سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان ملے، میں اس وقت حج و عمرہ دونوں کے نام سے لبیک پکار رہا تھا ٢ ؎ ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: یہ شخص اپنے اونٹ سے زیادہ سمجھدار نہیں، (یہ سن کر) میں عمر ؓ کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا: امیر المؤمنین! میں مسلمان ہوگیا ہوں، اور میں جہاد کا حریص ہوں، اور میں نے حج و عمرہ دونوں کو اپنے اوپر فرض پایا، تو میں ہریم بن عبداللہ کے پاس آیا، اور میں نے ان سے کہا: حج و عمرہ دونوں مجھ پر فرض ہیں، انہوں نے کہا: دونوں ایک ساتھ کر ڈالو، اور جو جانور تمہیں میسر ہو اس کی قربانی کرلو، تو میں نے دونوں کا احرام باندھ لیا، جب میں عذیب پہنچا تو مجھے سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان ملے، تو ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا: یہ اپنے اونٹ سے زیادہ سمجھ دار نہیں ہے، اس پر عمر ؓ نے کہا: تمہیں اپنے نبی کی سنت کی توفیق ملی ہے ٣ ؎۔
It was narrated that Abu Wail said: "As-Subai bin Mabad said: I was a Christian Bedouin, then I became Muslim. I was keen to go for Jihad but I learned that Hajj and Umrah had been enjoined on me, I went to a man of my clan who was called Huraim bin Abdullah and asked him, and he said: "Put them together, then slaughter whatever you can of the Hadi, so I entered Ihram for both together, and when I came to al-Udhaib, I was met by Salman bin Rabiah and Zaid bin Suhan, while I was uttering the Talbiyah for both. One of them said to the other: "He does not understand more than his camel!: I came to Umar and said: "O Commander of the Believers! I have become Muslim and I am keen to go for Jihad, but I learned that Hajj and Umrah were enjoined on me, so I went to Huraim bin Abdullah and said: "Hey you! I have learned that Hajj and Umrah have been enjoined on me. He said: Put them together then slaughter whatever you can of the Hadi so I entered Ihram for both together, and when I came to Al-Udhaib I was met by Salman bin Rabiah and Zaid bin Suhan, and one of them said to the other: He does not understand more than his camel, Umar said: "You have been guided to the Sunnah of your Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) صلی اللہ علیہ وسلم.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2719
Notes · وضاحت
١ ؎: عذیب بنی تمیم کے ایک چشمہ کا نام ہے جو کوفہ سے ایک مرحلہ کی وادی پر ہے۔ ٢ ؎: یعنی لبیک بحج ۃ وعمر ۃ کہہ رہا تھا۔ ٣ ؎: یعنی جو تم نے کیا ہے یہی تمہارے نبی کی سنت ہے۔
ابو وائل شقیق کہتے ہیں کہ ہمیں صبی بن معبد ؓ مجھ نے خبر دی پھر راوی نے اسی کے مثل بیان کی اس میں ہے کہ میں عمر ؓ کے پاس آیا، اور میں نے انہیں پورا واقعہ سنایا، مگر ان میں اس کے قول یا ھناہ کا ذکر نہیں ہے۔
(Another chain) that Shaqiq said: “As-Subai told us something similar, and he said: ‘I came to ‘Umar and told him the story,’ apart from the words: ‘Hey you!” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2720
شقیق بن سلمہ ابو وائل نامی ایک عراقی سے روایت ہے کہ بنی تغلب کا ایک شخص جسے صبی بن معبد کہا جاتا تھا اور وہ نصرانی تھا مسلمان ہوگیا، تو وہ اپنے حج کے شروع ہی میں حج اور عمرے دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے چلا تو وہ اسی طرح کا تلبیہ پکارتا سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے پاس سے گزرا، تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا: تم تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، صبی نے کہا: تو برابر یہ بات میرے دل میں رہی یہاں تک میری ملاقات عمر بن خطاب ؓ سے ہوئی تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: تمہیں اپنے نبی اکرم ﷺ کی سنت کی ہدایت و توفیق ملی ہے۔ شقیق (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: میں اور مسروق بن اجدع دونوں صبی بن معبد ؓ کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور ان سے تبادلہ خیالات کرتے رہتے تھے تو میں اور مسروق بن اجدع دونوں متعدد بار ان کے پاس گئے۔
It was narrated from Mujahid and others, from a man from the people of Al-’Iraq who was called Shaqiq bin Salamah Abu Wa’il, that there was a man from Banu Taghlib, who was called As Subai bin Ma’bad, who had been a Christian, then became a Muslim. The first time he went for Hajj, he recited the Talbiyah for Hajj and Umrah together, and he continued to recite the Talbiyah for them together. He passed by Salman bin Rabi’ah and Zaid bin Suban, and one of them said: “You are more lost than this camel of yours.” As Subai’ said: “This upset me until I met ‘Umar bin Al-Khattab (RA), and I mentioned that to him. He said: ‘You have been guided to the Sunnah of your Prophet ﷺ. Shaqiq said: “Masruq bin Al-Ajda’ and I often used to visit As-Subai bin Ma’bad and talk with him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2721
مروان بن حکم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں عثمان کے پاس بیٹھا تھا کہ انہوں نے علی کو عمرہ و حج دونوں کا تلبیہ پکارتے ہوئے سنا تو کہا: کیا ہم اس سے روکے نہیں جاتے تھے۔ انہوں نے کہا: کیونکہ نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان دونوں (حج و عمرہ) کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ہے، تو میں رسول اللہ ﷺ کے قول کو آپ کے قول کے لیے نہیں چھوڑ سکتا۔
It was narrated that Marwan bin Al-Hakam said: “I was sitting with ‘Uthman and he heard ‘Ali reciting the Talbiyah for Umrah and Hajj (together). He said: ‘Were you not forbidden to do this?’ He said: ‘Yes, but I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting the Talbiyah for them together, and I will not ignore what the Messenger of Allah ﷺ said in favor of what you say.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2722
مروان سے روایت ہے کہ عثمان ؓ عنہ نے متعہ سے اور اس بات سے کہ آدمی حج و عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کرے منع کیا تو علی نے حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارا، عثمان ؓ عنہ نے کہا: کیا تم اسے کر رہے ہو؟ اور حال یہ ہے کہ میں اس سے منع کر رہا ہوں، اس پر علی ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کو کسی بھی شخص کے کہنے سے نہیں چھوڑ سکتا۔
It was narrated that Al Hakam said: “I heard ‘Ali bin Hussain narrating from Marwan, that ‘Uthman forbade Mutah and joining Hajj and Umrah. ‘Ali said: (O Allah for Hajj and Umrah together).’ ‘Uthman said: ‘Are you doing this when I have forbidden it?’ ‘Ali said: ‘I will not give up the Sunnah of the Messenger of Allah ﷺ for any of the people.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2723
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب ؓ کے ساتھ تھا جس وقت رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن کا حاکم بنایا، پھر جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، علی ؓ نے کہا: تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے مجھ سے پوچھا: تم نے کیسے کیا ہے؟ یعنی کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے، میں نے کہا: میں نے آپ کا تلبیہ پکارا ہے (یعنی آپ کے احرام کے مطابق احرام باندھا ہے) ، آپ نے فرمایا: میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں، اور میں نے قران کیا ہے ، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا: اگر مجھے پہلے وہ باتیں معلوم ہوئی ہوتیں جواب معلوم ہوئی ہیں تو میں بھی ویسے ہی کرتا جیسے تم نے کیا ہے ١ ؎ لیکن میں ہدی ساتھ لایا ہوں، اور میں نے حج قران کا احرام باندھ رکھا ہے ۔
It was narrated that Al-Bara’ said: “I was with ‘Ali Ibn Abi Talib (RA) when the Messenger of Allah ﷺ appointed him as goveror of Yemen. When he came to the Messenger of Allah ﷺ ‘Ali said: ‘I came to the Messenger of Allah ﷺ and the Messenger of Allah ﷺ said: “What did you do?” I said: “I entered Ihram for that for which you entered Ihram.” He said: “I have brought the Hadi and am performing Qirn” And he said to his companions: “If I had known what I know now, I would have done what you have done, but brought the Hadi and I am performing Qirn.” (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2725
مطرف کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے حج و عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سے پہلے کہ آپ اس سے منع فرماتے یا اس کے حرام ہونے کے سلسلے میں آپ پر کوئی آیت اترتی آپ کی وفات ہوگئی۔
‘Imran bin Husain said: “The Messenger of Allah ﷺ combined Hajj and Umrah, then he passed away before he could forbid that, and before Qur’an was revealed forbidding it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2726
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٢٣ (١٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٤٦)، صحیح البخاری/الحج ٣٦ (١٥٧١)، و تفسیر البقرة ٣٣ (٤٥١٨)، سنن ابن ماجہ/الحج ٤٠ (٢٩٧٨)، مسند احمد (٤/٤٢٧ (صحیح )
عمران رضی الله عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سلسلے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی ان دونوں کو جمع کرنے سے نبی اکرم ﷺ نے روکا، لیکن ایک شخص نے ان دونوں کے بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا ١ ؎۔
It was narrated from ‘Imran that the Messenger of Allah ﷺ combined Hajj and Umrah, then no Qur’an was revealed concerning that, and the Prophet ﷺ did not forbid it, regardless of what one man may say. (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2727
Notes · وضاحت
١ ؎: اشارہ عمر رضی الله عنہ کی طرف سے، کیونکہ وہ حج و عمرہ دونوں کو جمع کرنے سے روکتے تھے، جیسے عثمان رضی الله عنہ روکتے تھے جیسا کہ امام مسلم نے اپنی صحیح ٢ /٨٩٨ میں اس کی تصریح کی ہے۔
مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین ؓ نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (حج) تمتع کیا، ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں کہ اسماعیل بن مسلم نام کے تین لوگ ہیں، یہ اسماعیل بن مسلم (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) انہیں تینوں میں سے ایک ہیں، ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور (دوسرے) اسماعیل بن مسلم ایک شیخ ہیں جو ابوالطفیل سے روایت کرتے ہیں ان سے بھی حدیث لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور تیسرے اسماعیل بن مسلم ہیں جو زہری اور حسن سے روایت کرتے ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔
It was narrated that Mutarrif bin ‘Abdullah said: “Imran bin Hussain said to me: ‘We performed Tamattu’ with the Messenger of Allah ﷺ .“ (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: There are three (named) Isma’il bin Muslim; this is one of them, and there is no harm in him. And Shaikh Isma’il bin Muslim who reports from Abd Tufail, there is no harm in him. And Isma’ibin Muslim who reports from Az-Zuhri and Al-Hasan; he is abandoned in Hadith.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2728
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا کہتے سنا ہے۔
It was narrated that Anas (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Labbaika ‘Umratan wa Hajjan ma’àn, (Here I am (Allah) for Umrah and Hajj together).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2729