Sunan An Nasai 2810

میقاتوں سے متعلق احادیث

2810Sunan An Nasai

جو آدمی ساتھ میں ہدی نہیں لے گیا ہو تو وہ شخص احرام حج توڑ کر احرام کھول سکتا ہے اس سے متعلقہ حدیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَفَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ: بَلْ لَنَا خَاصَّةً.

بلال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج کو عمرہ میں تبدیل کردینا صرف ہمارے ساتھ خاص ہے یا سب لوگوں کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ ہم لوگوں کے لیے خاص ہے ١ ؎۔

It was narrated from Al Harith bin Bilal (RA) that his father said: “I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, is this annulment of Hajj just for us or is it for all the people?’ He said: ‘No, it is just for us.” (Da’if)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2808
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حج کو عمرہ کے ذریعہ فسخ کرنا خاص ہے، نہ کہ تمتع کیونکہ اس کا حکم عام ہے جیسا کہ اوپر کی روایت میں گزرا اور جو لوگ فسخ کو بھی عام کہتے ہیں وہ اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ روایت قابل استدلال نہیں ہے، کیونکہ اس میں ایک راوی حارث ہیں جو ضعیف ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٢٥ (١٨٠٨)، سنن ابن ماجہ/الحج ٤٢ (٢٩٨٤)، (تحفة الأشراف: ٢٠٢٧)، مسند احمد (٣/٤٦٩)، سنن الدارمی/المناسک ٣٧ (١٨٩٧) (ضعیف منکر) (اس کے راوی ” حارث “ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث دیگر صحیح حدیثوں کے مخالف ہے )