عمار رضی الله عنہ کہتے ہیں ایک بچہ اور ایک عورت کا جنازہ آیا، تو بچہ لوگوں سے متصل رکھا گیا، اور عورت اس کے پیچھے (قبلہ کی طرف) رکھی گئی، پھر ان دونوں کی نماز جنازہ پڑھی گئی، لوگوں میں ابو سعید خدری، ابن عباس، ابوقتادہ اور ابوہریرہ ؓ (بھی) تھے، تو میں نے ان (لوگوں) سے اس کے متعلق سوال کیا، تو سبھوں نے کہا: یہی سنت (نبی کا طریقہ) ہے۔
It was narrated that Ammar said: "The Janazah of a boy and a woman were brought. The boy was placed closer to the people and the woman was placed beyond him, and the funeral prayer was offered for them. Among the people were Abu Saeed Al-Khudri, Ibn Abbas, Abu Qatadah and Abu Hurairah. I asked them about that and they said: (It is) Sunnah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1977
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے نو جنازوں کی ایک ساتھ نماز پڑھی، تو مرد امام سے قریب رکھے گئے، اور عورتیں قبلہ سے قریب، ان سب عورتوں کی ایک صف بنائی، اور علی ؓ کی بیٹی اور عمر بن خطاب ؓ کی بیوی ام کلثوم، اور ان کے بیٹے زید دونوں کا جنازہ ایک ساتھ رکھا گیا، امام اس دن سعید بن العاص تھے، اور لوگوں میں ابن عمر، ابوہریرہ، ابوسعید اور ابوقتادہ ؓ (بھی موجود) تھے، بچہ امام سے قریب رکھا گیا، تو ایک شخص نے کہا: مجھے یہ چیز ناگوار لگی، تو میں نے ابن عباس، ابوہریرہ، ابوسعید اور ابوقتادہ ؓ کی طرف (حیرت سے) دیکھا، اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہی سنت (نبی کا طریقہ) ہے۔
Ibn Juraij said: "I heard Naji, claim that Ibn Umar offered the funeral prayer for nine together. He put the men closer to the Imam and the women closer to the Qiblah, and he placed them (the women) in one row. And the body of Umm Kulthum bint Ali the wife of Umar bin Al-Khattab, and a son of hers called Zaid were placed together. The Imam that day was Saeed bin Al-As and among the people were Ibn Umar, Abu Hurairah, Abu Saeed and Abu Qatadah. The boy was placed closer to the Imam. A man said something objecting to that, so I looked at Ibn Abbas, Abu Hurairah, Abu Saeed and Abu Qatadah and said: What is this? They said: It is the Sunnah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1978
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں کی ماں کی نماز جنازہ پڑھی جو اپنی زچگی میں مرگئیں تھیں، تو آپ ان کے بیچ میں یعنی کمر کے پاس کھڑے ہوئے۔
It was narrated from Samurah bin Jundab: That the Messenger of Allah offered the funeral prayer for a mother who had died in childbirth, and he stood in line with her middle.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1979
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر دی، اور آپ ان کے ساتھ نکلے تو ان کی صف بندی کی، (اور) چار تکبیریں کہیں۔
It was narrated from Abu Hurairah: That the Messenger of Allah announced the death of An-Najashi to the people, and he led thme out and arranged them in rows, and said the Takbir four times.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1980
ابوامامہ بن سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عوالی والوں ١ ؎ میں سے ایک عورت بیمار ہوئی، اور نبی اکرم ﷺ بیمار کی بیمار پرسی سب سے زیادہ کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: جب یہ مرجائے تو مجھے خبر کرنا تو وہ رات میں مرگئی، اور لوگوں نے اسے دفنا دیا اور نبی اکرم ﷺ کو خبر نہیں کیا، جب آپ نے صبح کی تو اس کے بارے میں پوچھا، تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا، آپ اس کی قبر پر آئے، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور (اس میں) چار تکبیریں کہیں۔
It was narrated that Abu Umamah bin Sahi said: "A woman from among the people of Al-Awali fell sick and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was the best in visiting the sick. He said: When she dies, inform me. She died at night and they buried her without telling the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). The following morning he asked about her and they said: we did not like to wake you, O Messenger of Allah. So he went to her grave and offered the funeral prayer for her and said Takbir four times."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1981
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ زید بن ارقم ؓ نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی تو (اس میں) پانچ تکبیریں کہیں، اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے بھی اتنی ہی تکبیریں کہیں تھیں۔
It was narrated from Abu Laila: That Zaid bin Arqam (RA) offered the funeral prayer and said the Takbir five times, and said that the Messenger of Allah had said the Takbir like this.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1982
عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ ایک جنازے کی نماز میں کہہ رہے تھے: اللہم اغفر له وارحمه واعف عنه وعافه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بماء وثلج وبرد ونقه من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس وأبدله دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وزوجا خيرا من زوجه وقه عذاب القبر و عذاب النار اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اس پر رحم کر، اسے معاف کر دے، اسے عافیت دے، اس کی (بہترین) مہمان نوازی فرما، اس کی (قبر) کشادہ کر دے، اسے پانی برف اور اولے سے دھو دے، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اس کو بدلے میں اس کے گھر سے اچھا گھر، اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے، اور اس کی بیوی سے اچھی بیوی عطا کر، اور اسے عذاب قبر اور عذاب جہنم سے بچا ۔ عوف ؓ کہتے ہیں کہ اس میت کے لیے رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا (سن کر) میں نے آرزو کی: کاش! اس کی جگہ میں ہوتا۔
It was narrated that Awf bin Malik said: "I heard the Messenger of Allah offer the funeral prayer and say: Allahumma ighfir lahu warhamhu wa`fu `anhu wa `afihi, wa akrim nuzulahu wa wassi` mudkhalahu waghsilhu bi-main wa thaljin wa-barad, wa naqqihi min al-khataya kama yunaqqa ath-thawb al-abyad min ad-danas. Wa abdilhu daran khairan min darihi wa ahlan khayran min ahlihi, wa zawjan khayran min zawjihi, wa qihi adhab al-qabri wa adhab an-nar Awf said: "I wished that I was that deceased person because of the supplication that the Messenger of Allah said for that deceased person."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1983
عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک میت پر صلاۃ پڑھتے سنا، تو میں نے سنا کہ آپ اس کے لیے دعا میں یہ کہہ رہے تھے: اللہم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس وأبدله دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وزوجا خيرا من زوجه وأدخله الجنة ونجه من النار - أو قال - وأعذه من عذاب القبر اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اس پر رحم کر، اسے عافیت دے، اسے معاف کر دے، اس کی (بہترین) مہمان نوازی فرما، اس کی (قبر) کشادہ کر دے، اسے پانی، برف اور اولے سے دھو دے، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اس کو بدلے میں اس کے گھر سے اچھا گھر، اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے، اور اس کی بیوی سے اچھی بیوی عطا کر، اور اسے جنت میں داخل کر، اور جہنم کے عذاب سے نجات دے، یا فرمایا اسے عذاب قبر سے بچا ۔
It was narrated that Jubair bin Nufair Al-Hadrami said: "I heard Awf bin Malik say: "I heard the Messenger of Allah offering the funeral prayer for one who had died, and I heard him say in his supplication: Allahummaghfir lahu warhamhu wa afihi, wa afu anhu, wa akrim nuzulahu wa wassi mudkhalahu waghsilhu bil-ma wath-thalji wal-barad, wa naqqihi min al-khataya kama naqqaita-thawb al-abyad min ad-danas. Wa abdilhu daran khairan min darihi, wa ahlan khayran min ahlihi, wa zawjan khayran min zawjihi. Wa adkhilahul-jannah wa najjihi min an-nar".
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1984
عبید بن خالد سلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو آدمیوں کے درمیان بھائی چارہ کرایا، ان میں سے ایک قتل کردیا گیا، اور دوسرا (بھی) اس کے بعد مرگیا، ہم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، تو نبی اکرم ﷺ نے پوچھا: تم لوگوں نے کیا دعا کی؟ ، تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اس کے لیے یہ دعا کی: اللہم اغفر له اللہم ارحمه اللہم ألحقه بصاحبه اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اے اللہ اس پر رحم فرما، اے اللہ! اسے اپنے ساتھی سے ملا دے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کی صلاۃ اس کی صلاۃ کے بعد کہاں جائے گی؟ اور اس کا عمل اس کے عمل کے بعد کہاں جائے گا؟ ان دونوں کے درمیان وہی دوری ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے ۔ عمرو بن میمون کہتے ہیں: مجھے خوشی ہوئی کیونکہ عبداللہ بن ربیعہ سلمی ؓ نے (اس حدیث کو) میرے لیے مسند کردیا۔
It was narrated from Amr bin Maimun from "Abdullah bin Rubayyah As-Sulami, who was also one of the Companions of Allahs Messenger from Ubaid bin Khalid As-Sulami, that: the Messenger of Allah established the bond of brotherhood between two men. One of them was killed and the other died after him. We offered the funeral prayer for him, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "What did you say?" They said: "O Allah, forgive him; O Allah, have mercy on him; O Allah, join him with his companion." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Where is his Salah in comparison to his companions Salah? Where are his deeds in comparison to his companions deeds? Indeed the difference between heaven and Earth." (One of narrators) Amr bin Maimun Said: "I was happy with that because he raised it for me."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1985
ابوابراہیم انصاری اشہلی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو میت پر نماز جنازہ میں کہتے سنا: اللہم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وذکرنا وأنثانا وصغيرنا وكبيرنا اے اللہ! ہمارے زندہ اور مردہ کو، ہمارے حاضر اور غائب، ہمارے نر اور مادہ، ہمارے چھوٹے اور بڑے سب کو بخش دے ۔
It was narrated from Abu Ibrahim Al-Ansari, from his father, that: he heard the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) say, when offering the funeral prayer for one who had died: Allahummighfir lihayyina wa mayyitina wa shahidina wa ghaibina wadhakarina wa unthana wa saghirina wa kabirina (O Allah, forgive our living and our dead, those who are present among us and those who are absent, our males and our females, our young and our old).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1986
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٣٨ (١٠٢٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٣ (١٤٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٦٨٧)، مسند احمد ٤/١٧٠، ٥/٤١٢ (صحیح) (حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: أحکام الجنائز للألبانی: ١٥٧ )
طلحہ بن عبداللہ بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کے پیچھے جنازہ کی نماز پڑھی، تو انہوں نے سورة فاتحہ اور کوئی ایک سورت پڑھی، اور جہر کیا یہاں تک کہ آپ نے ہمیں سنا دیا، جب فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور پوچھا: (یہ کیا؟ ) تو انہوں نے کہا: (یہی) سنت (نبی کا طریقہ) ہے، اور (یہی) حق ہے۔
It was narrated that Talhah bin Abdullah bin Awf said: "I offered the funeral prayer behind Ibn Abbas. He recited Fatihat Al-Kitab and a Surah, which he recited loudly, such that we could hear him. When he finished I took him by the hand and asked him. He said: (It is) Sunnah and the truth."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1987
طلحہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ کے پیچھے ایک جنازے کی نماز پڑھی، تو میں نے انہیں سورة فاتحہ پڑھتے سنا، تو جب وہ سلام پھیر چکے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا، اور پوچھا: آپ (نماز جنازہ میں) قرآن پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، (یہی) حق اور سنت ہے۔
It was narrated that Talhah bin Abdullah said: "I offered the funeral prayer behind Ibn Abbas and I heard him reciting Fatihat Al-Kitab. When he finished I took him by the hand and asked him. Did you recite? He said: Yes, it is the truth and the Sunnah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1988
ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں نماز جنازہ میں سنت یہ ہے کہ پہلی تکبیر کے بعد سورة فاتحہ آہستہ پڑھی جائے، پھر تین تکبیریں کہی جائیں، اور آخر میں سلام پھیرا جائے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Umamah said: "The Sunnah, when offering the funeral prayer, is to recite Umm Al-Quran) the Exxence of the Quran) quietly in the first Takbir, Then to say three (more) Takbir and to say the Taslim after the last one.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1989
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوامامہ یہ کنیت سے مشہور ہیں، ان کا نام اسعد یا سعد ہے، ابن سعد بن حنیف الانصاری، ان کا شمار صحابہ مںْ ہے، انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھنے کا شرف حاصل کیا ہے، لیکن آپ سے احادیث نہیں سنی ہیں، اس لیے یہ حدیث مراسیل صحابہ میں سے ہے، اور یہ قابل استناد ہے، اس لیے کہ صحابی نے صحابی سے سنا ہے، اور دوسرے صحابی نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، بیچ کا واسطہ ثقہ راوی یعنی صحابی ہے، اس لیے کوئی حرج نہیں، دوسرے طرق میں واسطہ کا ذکر ثابت ہے، جیسا کہ آگے کی حدیث میں یہ روایت ضحاک بن قیس رضی الله عنہ سے آرہی ہے (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: أحکام الجنائز للألبانی: فقرہ نمبر ٧٤ ، حدیث نمبر ٥ ) امام زہری نے اس حدیث کی روایت ابوامامہ سے کی جس کی تصحیح أئمہ نے کی ہے امام طحاوی نے اس حدیث کی تخریج میں یہ اضافہ کیا ہے کہ زہری نے محمد بن سوید فہری سے ابوامامہ کی اس حدیث کا تذکرہ کیا، تو اس پر ابن سوید نے کہا کہ میں نے اسے ضحاک بن قیس رضی الله عنہ سے سنا ہے، جسے وہ حبیب بن مسلمہ سے نماز جنازہ کے بارے روایت کرتے ہیں، اور یہ اسی حدیث کی طرح ہے جسے ابوامامہ نے تم سے روایت کی ہے۔ (طحاوی ١ /٢٨٨) آگے صحیح سند سے نسائی نے اسے مرفوعاً ضحاک سے روایت کی ہے، اور طحاوی کے یہاں ضحاک نے اسے حبیب بن مسلمہ سے روایت کی ہے، واضح رہے کہ یہ دونوں کمسن صحابہ میں ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس میت پر بھی مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھے (جن کی تعداد) سو تک پہنچتی ہو، (اور) وہ (اللہ کے پاس) شفاعت (سفارش) کریں تو اس کے حق میں (ان کی) شفاعت قبول کی جائے گی ۔ سلام کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو شعیب بن حبحاب سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا ہے، وہ اسے نبی اکرم ﷺ سے روایت کر رہے تھے۔
It was narrated from Aishah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no deceased person for whom a group of Muslims whose number reaches one hundred, offers the funeral prayer, interceding for him; but their intercession for him will be accepted." (One of the narrators) Sallam said: "I narrated it to Shuaib bin Al-Habhab and he said: Anas bin Malik (RA) narrated it to me from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1991
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں میں سے جو بھی اس طرح مرتا ہو کہ لوگوں کی ایک ایسی جماعت اس کی نماز جنازہ پڑھتی ہو، جو سو تک پہنچ جاتی ہو، تو وہ شفاعت کرتے ہیں، تو ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے ۔
It was narrated from Aishah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "No Muslim dies and a group of people whose number reaches one hundred offers the funeral prayer for him, interceding from him, but their intercession for him will be accepted."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1992
ابوبکار حکم بن فروخ کہتے ہیں ہمیں ابوملیح نے ایک جنازے کی نماز پڑھائی تو ہم نے سمجھا کہ وہ تکبیر (تکبیر اولیٰ ) کہہ چکے (پھر کیا دیکھتا ہوں کہ) وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور کہا: تم اپنی صفیں درست کرو تاکہ تمہاری سفارش کارگر ہو۔ ابوملیح کہتے ہیں: مجھ سے عبداللہ بن سلیط نے بیان کیا، انہوں نے امہات المؤمنین میں سے ایک سے روایت کی، اور وہ ام المؤمنین میمونہ ؓ ہیں، وہ کہتی ہیں: مجھے نبی اکرم ﷺ نے خبر دی، آپ نے فرمایا: جس میت کی بھی لوگوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھتی ہے تو اس کے حق میں (ان کی) شفاعت قبول کرلی جاتی ہے ، تو میں نے ابوملیح سے جماعت (کی تعداد) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: چالیس افراد پر مشتمل گروہ امت (جماعت) ہے۔
Abu Bakkar Al-Hakam bin Farrukh said: "Abu Al-Malih led us in offering the funeral prayer and we thought that he had said the Takbir, but he turned to us and said: Make you rows straight and intercede properly. Abu Al-Malih said: Abdullah - meaning Ibn Salit-narrated to me that one of the Mothers of the believes, Maimunah the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told me: There is no deceased person for whom a group of people offers the funeral prayer, but their intercession for him will be accepted. I asked Abu Al-Malih about the (number of that) group and he said: Forty.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1993
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی، تو اسے ایک قیراط ملے گا، اور جس نے اسے قبر میں رکھے جانے تک انتظار کیا، تو اسے دو قیراط ملے گا، اور دو قیراط دو بڑے پہاڑوں کے مثل ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: Whoever offers the funeral prayer will have one Qirat and whoever stays until )the body) is placed in the Lahd will have two Qirats, and the two Qirats are like two great mountains.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1994
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی جنازے میں شریک رہے یہاں تک کہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے، تو اسے ایک قیراط ثواب ملے گا، اور جو دفنائے جانے تک رہے تو اسے دو قیراط ملے گا ، پوچھا گیا: اللہ کے رسول! یہ دو قیراط کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ دو بڑے پہاڑوں کے برابر ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah Said: "The Messenger of Allah said: Whoever attends a funeral until the prayer is offered will have one Qirat and whoever attends until (the body) is buried will have two Qirats." It was said: "What are the two Qirats, O Messenger of Allah?" He said: "Like two great mountains."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1995
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص طلب ثواب کے لیے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے، اور اس کی نماز جنازہ پڑھے، اور اسے دفنائے تو اس کے لیے دو قیراط (کا ثواب) ہے، اور جو (صرف) نماز جنازہ پڑھے اور دفنانے جانے سے پہلے لوٹ آئے، تو وہ ایک قیراط (ثواب) لے کر لوٹتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "Whoever follows the funeral of a Muslim man, seeking reward, and offers the prayer and buries him, will have two Qirats. And whoever offers the funeral prayer then goes back before the burial, then he returns with one Qirat of reward."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1996
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٥ (٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٤٨١)، مسند احمد ٢/٤٣٠، ٤٩٣، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٠٣٥ (صحیح )