جنائز کے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 19 · 273 hadiths · Page 10 of 14

1999Sunan An Nasai

جو کوئی نماز جنازہ ادا کرے تو اس کو کیا ثواب ہوگا؟

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قال: حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ تَبِعَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الْأَجْرِ، كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی جنازے کے ساتھ جائے (اور) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر لوٹ آئے، تو اسے ایک قیراط کا ثواب ہے، اور جو (جنازہ میں) شریک ہو، (اور) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر بیٹھا رہے یہاں تک کہ اسے دفنا کر فارغ ہو لیا جائے، تو اس کا اجر دو قیراط ہے، ان میں سے ہر ایک قیراط احد (پہاڑ) سے زیادہ بڑا ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: Whoever follows a funeral and offers the funeral prayer then leaves, will have one Qirat reward. And whoever follows it and offers the funeral prayer then stays until the burial is completed will have two Qirat of reward, both of which are greater than Uhud."

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1997
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٣٥٤٣) (صحیح )
2000Sunan An Nasai

جنازہ رکھنے سے قبل بیٹھنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ هِشَامٍ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، وَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدَنَّ حَتَّى تُوضَعَ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ، اور جو اس کے ساتھ جائے وہ بھی کھڑا رہے یہاں تک کہ اسے رکھ دیا جائے ۔

It was narrated that Abu Saeed said: "The Messenger of Allah said: If you see a funeral, then stand up, and whoever follows it, then let him not sit down until (the body) is placed in the grave."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1998
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٩١٥ (صحیح )
2001Sunan An Nasai

جنازہ کے واسطے کھڑے ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ وَاقِدٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ الْقِيَامُ عَلَى الْجَنَازَةِ حَتَّى تُوضَعَ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ.

علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے جنازے کے لیے جب تک رکھ نہ دیا جائے کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا، تو علی ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ (پہلے) کھڑے رہتے تھے پھر بیٹھنے لگے۔

It was narrated from Ali bin Abi Talib that: mention was made of standing at the funeral until the body is placed in the grave. Ali bin Abi Talib said: "The Messenger of Allah stood, then he sat down."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1999
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٢٥ (٩٦٢)، سنن ابی داود/الجنائز ٤٧ (٣١٧٥)، سنن الترمذی/الجنائز ٥٢ (١٠٤٤)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٥ (١٥٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٧٦)، موطا امام مالک/الجنائز ١١ (٣٣)، حصحیح مسلم/٨٢، ٨٣، ١٣١، ١٣٨ (صحیح )
2002Sunan An Nasai

جنازہ کے واسطے کھڑے ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا وَرَأَيْنَاهُ قَعَدَ فَقَعَدْنَا.

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے دیکھا آپ کھڑے ہوئے تو ہم (بھی) کھڑے ہوئے، اور بیٹھتے دیکھا تو ہم (بھی) بیٹھنے لگے۔

It was narrated from Ali bin Abi Talib that: mention was made of standing at the funeral until the body is placed in the grave. Ali bin Abi Talib said: "The Messenger of Allah ﷺ stood, then he sat down."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2000
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
2003Sunan An Nasai

جنازہ کے واسطے کھڑے ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمْ يُلْحَدْ فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ.

براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو وہ تیار نہیں ہوئی تھی، چناچہ آپ بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، گویا ہمارے سر پر پرندے بیٹھے ہوئے تھے۔

It was narrated that Al-Bark said: "We went out with the Messenger of Allah for a funeral, and when we reached the grave the Lahd had not yet been prepared. He sat, and we sat around him, as if there were birds on our heads."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2001
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٦٨ (٣٢١١، ٣٢١٢)، والسنة ٢٧ (٤٧٥٣، ٤٧٥٤)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٧ (١٥٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٨)، مسند احمد ٤/٢٨٧، ٢٨٨، ٢٩٧، ٢٩٥ (صحیح )
2004Sunan An Nasai

شہید کو خون میں لت پت دفن کرنا

أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَتْلَى أُحُدٍ: زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ كَلْمٌ يُكْلَمُ فِي اللَّهِ إِلَّا يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمَى لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ.

عبداللہ بن ثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شہدائے احد کے بارے میں فرمایا: انہیں ان کے خون کے ساتھ کپڑوں میں لپیٹ دو کیونکہ جو بھی زخم اللہ کی راہ میں لگا ہوگا وہ قیامت کے روز بہتا ہوا آئے گا، اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا، اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی ۔

It was narrated that Abdullah bin Thalabah said: "The Messenger of Allah said, concerning those who had been slain at Uhud: Wrap them up on their clothes that are stained with blood, for there is no wound that is sustained for the sake of Allah, but it will come bleeding on the Day of Resurrection: its color will be the color of blood, but its fragrance will be the fragrance of musk."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2002
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٢١٠)، مسند احمد ٥/٤٣١ (صحیح )
2005Sunan An Nasai

شہید کو کس جگہ دفن کیا جائے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ رَجُلٍ، يُقَالُ لَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَيَّةَ، قال: أُصِيبَ رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الطَّائِفِ فَحُمِلَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَمَرَ أَنْ يُدْفَنَا حَيْثُ أُصِيبَا، وَكَانَ ابْنُ مُعَيَّةَ وُلِدَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبیداللہ بن معیہ نامی ایک شخص کہتے ہیں کہ غزوہ طائف کے دن دو مسلمان مارے گئے، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اٹھا کر لائے گئے، تو آپ نے انہیں (اسی جگہ) دفنانے کا حکم دیا جہاں وہ مارے گئے تھے۔ اس حدیث کے راوی ابن معیہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں پیدا ہوئے تھے۔

It was narrated that a man called Ubaidullah bin Muayyah said: "Two Muslim men were killed on the day of At-Taif, and they were taken to the Messenger of Allah. He commanded that they be buried where they were killed." Ibn Muayyah was born during the time of the Messenger of Allah.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2003
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٧٤١) (ضعیف الإسناد) (ابن معیّة تابعی ہیں اس لیے یہ روایت مرسل ہے )
2006Sunan An Nasai

شہید کو کس جگہ دفن کیا جائے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَصَارِعِهِمْ، وَكَانُوا قَدْ نُقِلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ احد کے مقتولین کے بارے حکم دیا کہ انہیں ان کے پچھاڑے جانے کی جگ ہوں پر لوٹا دیا جائے، حالانکہ وہ مدینہ لے آئے گئے تھے۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah: That the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded that those who had been killed at Uhud should be taken back to the place where they fell; they had been brought to Al-Madinah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2004
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٤٢ (٣١٦٥)، سنن الترمذی/الجھاد ٣٧ (١٧١٧)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٨ (١٥١٦)، (تحفة الأشراف: ٣١١٧)، مسند احمد ٣/٢٩٧، ٣٠٣، ٣٠٨، ٣٩٧، سنن الدارمی/المقدمة ٧ (٤٦) (صحیح )
2007Sunan An Nasai

شہید کو کس جگہ دفن کیا جائے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْجَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ادْفِنُوا الْقَتْلَى فِي مَصَارِعِهِمْ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مقتولین کو ان کے گرنے کی جگ ہوں میں دفن کرو ١ ؎۔

It was narrated from Jabir that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Bury the slain where they fell."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2005
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ مارے گئے ہیں اور جس جگہ ان کی لاش گری تھی وہیں دفن کرو۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
2008Sunan An Nasai

مشرک کی تدفین سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْعَلِيٍّ، قال: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ مَاتَ، فَمَنْ يُوَارِيهِ ؟ قَالَ: اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ وَلَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا حَتَّى تَأْتِيَنِي، فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي وَذَكَرَ دُعَاءً لَمْ أَحْفَظْهُ.

علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: آپ کے بوڑھے گم کردہ راہ چچا (ابوطالب) مرگئے ہیں، انہیں کون دفن کرے؟ آپ نے فرمایا: تم جاؤ اور اپنے باپ کو دفن کر دو اور کوئی نئی چیز نہ کرنا جب تک میرے پاس لوٹ نہ آنا ، چناچہ میں انہیں دفن کر آیا، تو آپ نے میرے لیے (نہانے کا) حکم دیا، میں نے غسل کیا، اور آپ نے مجھے دعا دی۔ راوی ناجیہ بن کعب کہتے ہیں: اور علی ؓ نے ایک ایسی دعا کا ذکر کیا جسے میں یاد نہیں رکھ سکا۔

It was narrated that Ali said: "I said to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): Your paternal uncle, the old misguided man has died. Who will bury him? He said: Go and bury your father, then do not do anything until you come to me. So I buried him then I came, and he told me to perform Ghusl and he prayed for me, and he mentioned a supplication that I do not remember."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2006
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٩٠ (صحیح )
2009Sunan An Nasai

بغلی اور صندوقی قبر سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قال: أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَيَّ نَصْبًا كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے لیے بغلی قبر کھودنا، اور (اینٹیں) کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ ﷺ کے لیے کی گئی تھی۔

It was narrated that Sad said: "Make a niche for me in the side of the grave and set up (bricks) over me as was done for the Messenger of Allah."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2007
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، صحیح مسلم/الجنائز ٢٩ (٩٦٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٩ (١٥٥٦)، (تحفة الأشراف: ٣٩٢٦)، مسند احمد ١/١٧٣ (صحیح )
2010Sunan An Nasai

بغلی اور صندوقی قبر سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ سَعْدًا لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قال: أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَيَّ نَصْبًا كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ سعد ؓ کی جب وفات ہونے لگی تو انہوں نے کہا: میرے لیے بغلی قبر کھدوانا، اور اینٹیں کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ ﷺ (علیہ السلام) کے لیے کی گئی تھی۔

It was narrated from Amir bin Sad that when Sad was dying he said: "Make a niche for me in the side of the grave and set up (bricks) over me as was done for the Messenger of Allah."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2008
Takhrij · تخریج
تحفة الأشراف: ٣٨٦٧، حم ١/١٦٩، ١٨٤ (صحیح )
2011Sunan An Nasai

بغلی اور صندوقی قبر سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ، عَنْ حَكَّامِ بْنِ سَلْمٍ الرَّازِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بغلی قبر ہم (مسلمانوں) کے لیے ہے، اور صندوقی قبر دوسروں کے لیے ہے ١ ؎۔

It was narrated from Saeed bin Jubair that Ibn Abbas said: The Messenger of Allah said: "The niche is for us and the ditch is for others." (Daif)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2009
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اہل کتاب کے لیے ہے، مقصود یہ ہے کہ بغلی قبر افضل ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اللحد لنا کا مطلب اللحد لي ہے، یعنی بغلی قبر میرے لیے ہے، جمع کا صیغہ تعظیم کے لیے ہے، یا اللحدلنا کا مطلب اللحد اختیارنا ہے، یعنی بغلی قبر ہماری پسندیدہ قبر ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کی صندوقی مسلمانوں کے لیے ہے، کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں مدینہ میں قبر کھودنے والے دو شخص تھے ایک بغلی بنانے والا دوسرا شخص صندوقی بنانے والا، اگر صندوقی ناجائز ہوتی تو انہیں اس سے روک دیا جاتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٦٥ (٣٢٠٨)، سنن الترمذی/الجنائز ٥٣ (١٠٤٥)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٩ (١٥٥٤)، (تحفة الأشراف: ٥٥٤٢) (صحیح )
2012Sunan An Nasai

قبر گہری کھودنا بہتر ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْهِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَفْرُ عَلَيْنَا لِكُلِّ إِنْسَانٍ شَدِيدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْفِرُوا وَأَعْمِقُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ، قَالُوا: فَمَنْ نُقَدِّمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا، قَالَ: فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ.

ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے (غزوہ) احد کے دن رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہر ایک آدمی کے لیے (الگ الگ) قبر کھودنا ہمارے لیے دشوار ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کھودو اور گہرا کھودو اچھی طرح کھودو، اور دو دو تین تین (افراد) کو ایک ہی قبر میں دفن کر دو ، تو لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پہلے ہم کسے رکھیں؟ آپ نے فرمایا: پہلے انہیں رکھو جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو ۔ ہشام ؓ کہتے ہیں: ایک ہی قبر میں رکھے جانے والے تین افراد میں سے میرے والد تیسرے فرد تھے۔

It was narrated that Hisham bin Amir said: "We complained to the Messenger of Allah on the day of Uhud, saying: O Messneger of Allah, it is too difficult for us to dig a grave for each person. The Messenger of Allah said: Dig graves and make them good and deep, and bury two or three in one grave. They said: Who should we put in first, O Messenger of Allah? He said: Put in first the one who knew more Quran." He said: "My father was the third of three in one grave."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2010
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٧١ (٣٢١٥، ٣٢١٦، ٣٢١٧)، سنن الترمذی/الجھاد ٣٣ (١٧١٣)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤١ (١٥٦٠) مختصراً، (تحفة الأشراف: ١١٧٣١)، مسند احمد ٤/١٩، ٢٠، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ٢٠١٣، ٢٠١٧-٢٠٢٠ (صحیح )
2013Sunan An Nasai

قبر کو کشادہ رکھنا مستحب ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قال: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أُصِيبَ مَنْ أُصِيبَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَصَابَ النَّاسَ جِرَاحَاتٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ: احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا.

ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس دن احد کی لڑائی ہوئی تو جن مسلمانوں کو مارا جانا تھا مارے گئے، اور جسے زخمی ہونا تھا زخمی ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (قبریں) کھودو اور چوڑی کھودو، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین لوگوں کو دفنا دو، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں (قبر میں) پہلے رکھو ۔

It was narrated from Saeed bin Hisham bin Amir that his father said: "On the day of Uhud some of the people among the Muslims were killed, and people were wounded. The Messenger of Allah said: Dig graves and make them wide, and bury two or three in a grave, and put the one who knew more Quran in first."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2011
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
2014Sunan An Nasai

قبر میں ایک کپڑا بچھانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: جُعِلَ تَحْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دُفِنَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت دفنائے گئے آپ کے نیچے ایک سرخ چادر رکھی گئی ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "When the Messenger of Allah was buried, a red velvet cloak was placed beneath him."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2012
Notes · وضاحت
١ ؎: مشہور یہ ہے کہ اسے نبی اکرم ﷺ کے بعض غلاموں نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کو بتائے بغیر بچھایا تھا، ابن سعد نے طبقات ( ٢ /٢٩٩) میں وکیع کا قول نقل کیا ہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کے لیے خاص ہے، اور حسن بصری سے ایک روایت ہے کہ زمین گیلی تھی اس لیے ایک سرخ چادر بچھائی گئی جسے آپ اوڑھتے تھے، اور حسن بصری ہی سے ایک دوسری روایت ہے جس میں ہے قال رسول اللہ ﷺ افرشوا لي قطیفتي في لحدي، فإن الأرض لم تسلط علی أجساد الأنبیائ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٠ (٩٦٧)، سنن الترمذی/الجنائز ٥٥ (١٠٤٨)، (تحفة الأشراف: ٦٥٢٦)، مسند احمد ١/٢٢٨، ٣٥٥ (صحیح )
2015Sunan An Nasai

جن اوقات میں میت کی تدفین ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قال: سَمِعْتُ أَبِي، قال: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، قال: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا، حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ.

عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھنے (اور) اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے: ایک جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہوجائے، اور دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور (تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو رہا ہو۔

Uqbah bin Amir Al-Juhani said: "There are three times at which the Messenger of Allah forbade us to pray or to bury our dead: When the sun has risen fully until it is higher, when it reaches its zenith until it has passed the zenith, and when the sun starts to set" (Sahib)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2013
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٦١ (صحیح )
2016Sunan An Nasai

جن اوقات میں میت کی تدفین ممنوع ہے

أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الْقَطَّانُ الرَّقِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَجَابِرًا، يَقُولُ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ مَاتَ فَقُبِرَ لَيْلًا وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، فَزَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ إِنْسَانٌ لَيْلًا إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى ذَلِكَ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ ﷺ نے خطاب فرمایا (آپ نے اس میں) اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مرگیا تھا، اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا، اور ایک گھٹیا کفن میں کفنایا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی رات میں دفنایا جائے، سوائے اس کے کہ وہ اس کے لیے مجبور کردیا جائے۔

Jabir said: "The Messenger of Allah delivered a Khutbah and mentioned a man among his Companions who had died and had been buried at night in a shroud that was not sufficient. The Messenger of Allah reprimanded them, telling them not to bury a person at night except in cases of emergency."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2014
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٨٩٦ (صحیح )
2017Sunan An Nasai

چند لوگوں کو ایک ہی قبر میں دفن کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَصَابَ النَّاسَ جَهْدٌ شَدِيدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَنْ نُقَدِّمُ ؟ قَالَ: قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا.

ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب (غزوہ) احد کا دن آیا، تو لوگوں کو سخت پریشانی ہوئی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قبریں کھودو اور اسے چوڑی کھودو، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین دفنا دو ، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پہلے کسے رکھیں؟ آپ نے فرمایا: پہلے اسے رکھو جسے قرآن زیادہ یاد ہو ۔

It was narrated that Hisham bin Amir said: "On the day of Uhud the people were exhausted. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Dig graves and make them wide, and bury two or three in a grave. They said: O Messenger of Allah, who should we put in first? He said: Put in first the one who knew the Quran most."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2015
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٠١٢ (صحیح )
2018Sunan An Nasai

چند لوگوں کو ایک ہی قبر میں دفن کرنا

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: اشْتَدَّ الْجِرَاحُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَشُكِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا فِي الْقَبْرِ الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا.

ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (غزوہ) احد کے دن (لوگ) شدید زخمی ہوئے (اور جاں بحق ہوگئے) تو رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی گئی ١ ؎، آپ نے فرمایا: (قبریں) کھودو، انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ، اور ایک (ہی) قبر میں دو دو تین تین کو دفن کرو، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہوا سے آگے رکھو ۔

It was narrated from Sad bin Hisham bin Amir that his father said: "Many people were wounded on the day of Uhud and complaints were made to the Messenger of Allah ﷺ about that. He said: Dig graves and make them good and wide, and bury two or three in a grave, and put in first the one who knew the Quran most."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2016
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ سے اس پریشانی کا ذکر کیا گیا کہ اتنے لوگوں کے لیے قبریں کھودنا بہت مشکل امر ہے، انہیں کیسے دفنایا جائے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٠١٢ (صحیح )