ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی جنازے کے ساتھ جائے (اور) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر لوٹ آئے، تو اسے ایک قیراط کا ثواب ہے، اور جو (جنازہ میں) شریک ہو، (اور) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر بیٹھا رہے یہاں تک کہ اسے دفنا کر فارغ ہو لیا جائے، تو اس کا اجر دو قیراط ہے، ان میں سے ہر ایک قیراط احد (پہاڑ) سے زیادہ بڑا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: Whoever follows a funeral and offers the funeral prayer then leaves, will have one Qirat reward. And whoever follows it and offers the funeral prayer then stays until the burial is completed will have two Qirat of reward, both of which are greater than Uhud."
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1997
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ، اور جو اس کے ساتھ جائے وہ بھی کھڑا رہے یہاں تک کہ اسے رکھ دیا جائے ۔
It was narrated that Abu Saeed said: "The Messenger of Allah said: If you see a funeral, then stand up, and whoever follows it, then let him not sit down until (the body) is placed in the grave."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1998
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے جنازے کے لیے جب تک رکھ نہ دیا جائے کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا، تو علی ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ (پہلے) کھڑے رہتے تھے پھر بیٹھنے لگے۔
It was narrated from Ali bin Abi Talib that: mention was made of standing at the funeral until the body is placed in the grave. Ali bin Abi Talib said: "The Messenger of Allah stood, then he sat down."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1999
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا وَرَأَيْنَاهُ قَعَدَ فَقَعَدْنَا.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے دیکھا آپ کھڑے ہوئے تو ہم (بھی) کھڑے ہوئے، اور بیٹھتے دیکھا تو ہم (بھی) بیٹھنے لگے۔
It was narrated from Ali bin Abi Talib that: mention was made of standing at the funeral until the body is placed in the grave. Ali bin Abi Talib said: "The Messenger of Allah ﷺ stood, then he sat down."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2000
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو وہ تیار نہیں ہوئی تھی، چناچہ آپ بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، گویا ہمارے سر پر پرندے بیٹھے ہوئے تھے۔
It was narrated that Al-Bark said: "We went out with the Messenger of Allah for a funeral, and when we reached the grave the Lahd had not yet been prepared. He sat, and we sat around him, as if there were birds on our heads."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2001
عبداللہ بن ثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شہدائے احد کے بارے میں فرمایا: انہیں ان کے خون کے ساتھ کپڑوں میں لپیٹ دو کیونکہ جو بھی زخم اللہ کی راہ میں لگا ہوگا وہ قیامت کے روز بہتا ہوا آئے گا، اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا، اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی ۔
It was narrated that Abdullah bin Thalabah said: "The Messenger of Allah said, concerning those who had been slain at Uhud: Wrap them up on their clothes that are stained with blood, for there is no wound that is sustained for the sake of Allah, but it will come bleeding on the Day of Resurrection: its color will be the color of blood, but its fragrance will be the fragrance of musk."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2002
عبیداللہ بن معیہ نامی ایک شخص کہتے ہیں کہ غزوہ طائف کے دن دو مسلمان مارے گئے، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اٹھا کر لائے گئے، تو آپ نے انہیں (اسی جگہ) دفنانے کا حکم دیا جہاں وہ مارے گئے تھے۔ اس حدیث کے راوی ابن معیہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں پیدا ہوئے تھے۔
It was narrated that a man called Ubaidullah bin Muayyah said: "Two Muslim men were killed on the day of At-Taif, and they were taken to the Messenger of Allah. He commanded that they be buried where they were killed." Ibn Muayyah was born during the time of the Messenger of Allah.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2003
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٧٤١) (ضعیف الإسناد) (ابن معیّة تابعی ہیں اس لیے یہ روایت مرسل ہے )
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ احد کے مقتولین کے بارے حکم دیا کہ انہیں ان کے پچھاڑے جانے کی جگ ہوں پر لوٹا دیا جائے، حالانکہ وہ مدینہ لے آئے گئے تھے۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah: That the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded that those who had been killed at Uhud should be taken back to the place where they fell; they had been brought to Al-Madinah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2004
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: آپ کے بوڑھے گم کردہ راہ چچا (ابوطالب) مرگئے ہیں، انہیں کون دفن کرے؟ آپ نے فرمایا: تم جاؤ اور اپنے باپ کو دفن کر دو اور کوئی نئی چیز نہ کرنا جب تک میرے پاس لوٹ نہ آنا ، چناچہ میں انہیں دفن کر آیا، تو آپ نے میرے لیے (نہانے کا) حکم دیا، میں نے غسل کیا، اور آپ نے مجھے دعا دی۔ راوی ناجیہ بن کعب کہتے ہیں: اور علی ؓ نے ایک ایسی دعا کا ذکر کیا جسے میں یاد نہیں رکھ سکا۔
It was narrated that Ali said: "I said to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): Your paternal uncle, the old misguided man has died. Who will bury him? He said: Go and bury your father, then do not do anything until you come to me. So I buried him then I came, and he told me to perform Ghusl and he prayed for me, and he mentioned a supplication that I do not remember."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2006
عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ سعد ؓ کی جب وفات ہونے لگی تو انہوں نے کہا: میرے لیے بغلی قبر کھدوانا، اور اینٹیں کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ ﷺ (علیہ السلام) کے لیے کی گئی تھی۔
It was narrated from Amir bin Sad that when Sad was dying he said: "Make a niche for me in the side of the grave and set up (bricks) over me as was done for the Messenger of Allah."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2008
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بغلی قبر ہم (مسلمانوں) کے لیے ہے، اور صندوقی قبر دوسروں کے لیے ہے ١ ؎۔
It was narrated from Saeed bin Jubair that Ibn Abbas said: The Messenger of Allah said: "The niche is for us and the ditch is for others." (Daif)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2009
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اہل کتاب کے لیے ہے، مقصود یہ ہے کہ بغلی قبر افضل ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اللحد لنا کا مطلب اللحد لي ہے، یعنی بغلی قبر میرے لیے ہے، جمع کا صیغہ تعظیم کے لیے ہے، یا اللحدلنا کا مطلب اللحد اختیارنا ہے، یعنی بغلی قبر ہماری پسندیدہ قبر ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کی صندوقی مسلمانوں کے لیے ہے، کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں مدینہ میں قبر کھودنے والے دو شخص تھے ایک بغلی بنانے والا دوسرا شخص صندوقی بنانے والا، اگر صندوقی ناجائز ہوتی تو انہیں اس سے روک دیا جاتا۔
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے (غزوہ) احد کے دن رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہر ایک آدمی کے لیے (الگ الگ) قبر کھودنا ہمارے لیے دشوار ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کھودو اور گہرا کھودو اچھی طرح کھودو، اور دو دو تین تین (افراد) کو ایک ہی قبر میں دفن کر دو ، تو لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پہلے ہم کسے رکھیں؟ آپ نے فرمایا: پہلے انہیں رکھو جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو ۔ ہشام ؓ کہتے ہیں: ایک ہی قبر میں رکھے جانے والے تین افراد میں سے میرے والد تیسرے فرد تھے۔
It was narrated that Hisham bin Amir said: "We complained to the Messenger of Allah on the day of Uhud, saying: O Messneger of Allah, it is too difficult for us to dig a grave for each person. The Messenger of Allah said: Dig graves and make them good and deep, and bury two or three in one grave. They said: Who should we put in first, O Messenger of Allah? He said: Put in first the one who knew more Quran." He said: "My father was the third of three in one grave."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2010
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس دن احد کی لڑائی ہوئی تو جن مسلمانوں کو مارا جانا تھا مارے گئے، اور جسے زخمی ہونا تھا زخمی ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (قبریں) کھودو اور چوڑی کھودو، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین لوگوں کو دفنا دو، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں (قبر میں) پہلے رکھو ۔
It was narrated from Saeed bin Hisham bin Amir that his father said: "On the day of Uhud some of the people among the Muslims were killed, and people were wounded. The Messenger of Allah said: Dig graves and make them wide, and bury two or three in a grave, and put the one who knew more Quran in first."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2011
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت دفنائے گئے آپ کے نیچے ایک سرخ چادر رکھی گئی ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "When the Messenger of Allah was buried, a red velvet cloak was placed beneath him."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2012
Notes · وضاحت
١ ؎: مشہور یہ ہے کہ اسے نبی اکرم ﷺ کے بعض غلاموں نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کو بتائے بغیر بچھایا تھا، ابن سعد نے طبقات ( ٢ /٢٩٩) میں وکیع کا قول نقل کیا ہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کے لیے خاص ہے، اور حسن بصری سے ایک روایت ہے کہ زمین گیلی تھی اس لیے ایک سرخ چادر بچھائی گئی جسے آپ اوڑھتے تھے، اور حسن بصری ہی سے ایک دوسری روایت ہے جس میں ہے قال رسول اللہ ﷺ افرشوا لي قطیفتي في لحدي، فإن الأرض لم تسلط علی أجساد الأنبیائ۔
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھنے (اور) اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے: ایک جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہوجائے، اور دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور (تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو رہا ہو۔
Uqbah bin Amir Al-Juhani said: "There are three times at which the Messenger of Allah forbade us to pray or to bury our dead: When the sun has risen fully until it is higher, when it reaches its zenith until it has passed the zenith, and when the sun starts to set" (Sahib)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2013
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ ﷺ نے خطاب فرمایا (آپ نے اس میں) اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مرگیا تھا، اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا، اور ایک گھٹیا کفن میں کفنایا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی رات میں دفنایا جائے، سوائے اس کے کہ وہ اس کے لیے مجبور کردیا جائے۔
Jabir said: "The Messenger of Allah delivered a Khutbah and mentioned a man among his Companions who had died and had been buried at night in a shroud that was not sufficient. The Messenger of Allah reprimanded them, telling them not to bury a person at night except in cases of emergency."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2014
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب (غزوہ) احد کا دن آیا، تو لوگوں کو سخت پریشانی ہوئی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قبریں کھودو اور اسے چوڑی کھودو، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین دفنا دو ، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پہلے کسے رکھیں؟ آپ نے فرمایا: پہلے اسے رکھو جسے قرآن زیادہ یاد ہو ۔
It was narrated that Hisham bin Amir said: "On the day of Uhud the people were exhausted. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Dig graves and make them wide, and bury two or three in a grave. They said: O Messenger of Allah, who should we put in first? He said: Put in first the one who knew the Quran most."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2015
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (غزوہ) احد کے دن (لوگ) شدید زخمی ہوئے (اور جاں بحق ہوگئے) تو رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی گئی ١ ؎، آپ نے فرمایا: (قبریں) کھودو، انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ، اور ایک (ہی) قبر میں دو دو تین تین کو دفن کرو، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہوا سے آگے رکھو ۔
It was narrated from Sad bin Hisham bin Amir that his father said: "Many people were wounded on the day of Uhud and complaints were made to the Messenger of Allah ﷺ about that. He said: Dig graves and make them good and wide, and bury two or three in a grave, and put in first the one who knew the Quran most."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2016
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ سے اس پریشانی کا ذکر کیا گیا کہ اتنے لوگوں کے لیے قبریں کھودنا بہت مشکل امر ہے، انہیں کیسے دفنایا جائے۔