ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (قبریں) کھودو، اور انہیں خوبصورت بناؤ، اور دو دو تین تین کو دفن کرو، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہو انہیں پہلے رکھو ۔
It was narrated from Hisham bin Amir that the Messenger of Allah said: "Dig graves and dig them well, and bury two or three (together), and put in first the one who knew the Quran most."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2017
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (غزوہ) احد کے دن میرے والد قتل کئے گئے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (قبریں) کھودو اور انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ، اور (ایک ہی) قبر میں دو دو تین تین کو دفنا دو، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں پہلے رکھو ، چناچہ میرے والد تین میں کے تیسرے تھے، اور انہیں قرآن زیادہ یاد تھا تو وہ پہلے رکھے گئے۔
It was narrated that Hisham bin Amir said: "My father was killed on the day of Uhud, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Dig graves and make them good and wide, and bury two or three in a grave, and put in first the one who knew the Quran most. My father was the third of three, and the one who knew the Quran most was placed (in the grave) first."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2018
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عبداللہ بن ابی کو قبر میں داخل کر دئیے جانے کے بعد آئے، تو آپ نے اسے (نکالنے کا) حکم دیا، چناچہ وہ نکالا گیا، آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر بٹھایا، اور اس پر تھو تھو کیا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی، واللہ اعلم ١ ؎۔
Jabir said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to Abdullah bin Ubayy after he had been placed in his grave, and commanded that he be brought out. He placed him on his knees and blew on him and clothed him in his shirt. And Allah knows best."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2019
Notes · وضاحت
١ ؎: اس پر تھو تھو کرنے اور اسے اپنی قمیص پہنانے میں کیا مصلحت پنہا تھی اسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، بعض لوگوں نے کہا: چونکہ اس نے آپ ﷺ کے چچا عباس رضی الله عنہ کو اپنی قمیص پہنائی تھی اس لیے آپ نے بدلے میں ایسا کیا، اور ایک قول یہ ہے کہ اس کے بیٹے کی دلجوئی کے لیے آپ نے ایسا کیا تھا۔ واللہ اعلم
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عبداللہ بن ابی کو اس کی قبر سے نکلوایا، پھر اس کا سر اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، اور اس پر تھو تھو کیا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی۔ اور اس کی نماز (جنازہ) پڑھی، واللہ اعلم۔
Jabir said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded that Abdullah bin Ubayy by brought out of his grave, then he placed his head on his knees and blew on him and put his shirt on him." "And he prayed for him. And Allah knows best."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2020
أخبرنا العباس بن عبد العظيم عن سعيد بن عامر عن شعبة عن بن أبي نجيح عن عطاء عن جابر قال: دفن مع أبي رجل في القبر فلم يطب قلبي حتى أخرجته ودفنته على حدة .
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کے ساتھ قبر میں ایک شخص اور دفن کیا گیا تھا، میرا دل خوش نہیں ہوا یہاں تک کہ میں نے اسے نکالا، اور انہیں علاحدہ دفن کیا۔
It was narrated that Jabir said: "A man was buried with my father in the same grave and I felt restless until I brought him out and buried him on his own."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2021
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ ایک دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، تو آپ نے ایک نئی قبر دیکھی تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ فلاں قبیلے کی لونڈی (کی قبر) ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے پہچان لیا، وہ دوپہر میں مری تھی، اور آپ قیلولہ فرما رہے تھے، تو ہم نے آپ کو اس کی وجہ سے جگانا پسند نہیں کیا، تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بندی کی، اور آپ نے چار تکبیریں کہیں، پھر فرمایا: جب تک میں تمہارے درمیان ہوں جو بھی تم میں سے مرے اس کی خبر مجھے ضرور دو، کیونکہ میری نماز اس کے لیے رحمت ہے ۔
It was narrated from Yazid bin Thabit that: they went out with the Messenger of Allah one day and he saw a new grave. He said: "What is this?" They said: "This is so-and-so, the freed slave woman of Banu so-and-so" - whom Messenger of Allah knew - "She died at midday and we did not like to wake you up when you were fasting and taking a nap." The Messenger of Allah stood (for prayer) and the people formed rows behind him. He said four Takbirs over her then he said: "If anyone among you dies while I am still among you, inform me, for my prayer for his is a mercy."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2022
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٢ (١٥٢٨)، (تحفة الأشراف: ١١٨٢٤)، مسند احمد ٤/٣٨٨ (صحیح )
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ایسی قبر کے پاس سے گزرا، جو الگ تھلگ تھی، تو آپ نے ان کی امامت کی، اور اپنے پیچھے ان کی صف بندی کی۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے (شعبی) پوچھا: ابوعمرو! یہ کون تھے؟ انہوں نے کہا: ابن عباس ؓ تھے۔
It was narrated from Sulaiman Ash-Shaibani from Ash-Shabi: "Some people passed by an isolated grave with the Messenger of Allah and he led them in prayer and they formed rows behind him." I said: "Who was that O Abu Amr?" He said: "Ibn Abbas."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2023
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال الشَّيْبَانِيُّ، أَنْبَأَنَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِقَبْرٍ مُنْتَبِذٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفَّ أَصْحَابَهُ خَلْفَهُ، قِيلَ: مَنْ حَدَّثَكَ، قال: ابْنُ عَبَّاسٍ.
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرے، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اور اپنے پیچھے اپنے اصحاب کی صف بندی کی، پوچھا گیا: آپ سے کس نے بیان کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عباس ؓ نے۔
Ash-Shaibani narrated that Ash-Shabi said: "Someone who saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) pass by an isolated grave told me that he offered the funeral prayer there and his Companions formed rows behind him." It was said: "Who told you this?" He said: "Ibn Abbas."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2024
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابودحداح ؓ کے جنازے میں (شرکت کے لیے) نکلے، تو جب آپ لوٹنے لگے تو (آپ کے لیے) بغیر زین کے ننگی پیٹھ والا ایک گھوڑا لایا گیا، آپ (اس پر) سوار ہوگئے، اور ہم آپ کے ہمراہ پیدل چلنے لگے۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Messenger of Allah went our to the funeral of Ibn Ad-Dahdah, and when he came back an unsaddled horse was brought to him, so he rode and we walked with him."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2026
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ قبر پر قبہ بنایا جائے یا اس کو اونچا کیا جائے، یا اس کو پختہ بنایا جائے، سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں یا اس پر لکھا جائے کا اضافہ ہے ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah forbade building over graves, making them larger or plastering over them." (One of two narrators) Sulaiman bin Musa added: "Or writing on them."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2027
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نہی مطلق ہے، اس میں میت کا نام اور اس کی تاریخ وفات تبرک کے لیے قرآن کی آیتیں، اور اسماء حسنٰی وغیرہ لکھنا سبھی داخل ہیں اور یہ سب کچھ منع ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو پختہ بنانے ١ ؎ یا اس پر عمارت بنانے ٢ ؎ یا اس پر کسی کے بیٹھنے ٣ ؎ سے منع فرمایا ہے۔
Jabir said: "The Messenger of Allah forbade plastering over graves, building over them or sitting on them."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2028
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ یہ فضول خرچی ہے اس سے کوئی فائدہ مردے کو نہیں ہوتا، دوسرے اس میں مردوں کی ایسی تعظیم ہے جو انسان کو شرک کی طرف لے جاتی ہے۔ ٢ ؎: قبہ اور گنبد وغیرہ بنانے کا بھی یہی معاملہ ہے۔ ٣ ؎: یعنی قضائے حاجت کے ارادے سے بیٹھنے یا بطور سوگ بیٹھنے سے منع فرمایا، یا یہ ممانعت میت کی توقیر و تکریم کی خاطر ہے کیونکہ اس سے میت کی تذلیل و توہین ہوتی ہے۔
ثمامہ بن شفی کہتے ہیں کہ ہم فضالہ بن عبید ؓ کے ساتھ سر زمین روم میں تھے کہ ہمارا ایک ساتھی وفات پا گیا، تو فضالہ ؓ نے اس کی قبر (زمین کے برابر کرنے کا) حکم دیا، تو وہ برابر کردی گئی ١ ؎ پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کے برابر کرنے کا حکم دیتے سنا ہے۔
Thumamah bin Shufa narrated: "We were with Fadalah bin Ubaid in the land of the Romans, and a companion of ours died. Fadalah ordered that his grave be made level, then he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ commanding that it be made level."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2030
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کوہان کی طرح بنائی جانے کے بجائے مسطح بنائی گئی، گو وہ زمین سے کچھ اونچی ہو، واللہ اعلم۔
ابوہیاج (حیان بن حصین اسدی) کہتے ہیں کہ علی ؓ نے کہا: کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا تھا: تم کوئی بھی اونچی قبر نہ چھوڑنا مگر اسے برابر کردینا، اور نہ کسی گھر میں کوئی مجسمہ (تصویر) چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا۔
Thumamah bin Shufa narrated: "We were with Fadalah bin Ubaid in the land of the Romans, and a companion of ours died. Fadalah ordered that his grave be made level, then he said: I heard the Messenger of Allah ﷺ commanding that it be made level."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2031
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا تو اب تم اس کی زیارت کیا کرو ١ ؎، اور میں نے قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا تو اب جب تک جی چاہے رکھو، اور میں نے تمہیں مشک کے علاوہ کسی اور برتن میں نبیذ (پینے) سے منع کیا تھا، تو سارے برتنوں میں پیو (مگر) کسی نشہ آور چیز کو مت پینا ۔
It is was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah said: I forbade you to visit graves but now visit them; and I forbade you to eat the sacrificial meat after three days, but now keep it as long as you want; and I forbade you to make Nabidh I anything but a water-skin but now drink it from any kind of container, but do not drink intoxicants."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2032
Notes · وضاحت
١ ؎: قبروں کی زیارت کی ممانعت ابتدائے اسلام میں تھی تاکہ یہ چیز قبر پرستی اور مردوں سے مدد مانگنے اور فریاد کرنے کا ذریعہ نہ بن جائے پھر جب توحید کی تعلیم دلوں میں بیٹھ گئی، تو آپ ﷺ نے اس کی اجازت دے دی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٦ (٩٧٧)، والأضاحي ٥ (١٩٧٧)، والأشربة ٦ (٩٧٧) (مقتصرا علی الشق الثالث)، سنن ابی داود/الأشربة ٧ (٣٦٩٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ٦ (١٨٧٠)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١٤ (٣٤٠٥)، (تحفة الأشراف: ٢٠٠١)، مسند احمد ٥/٣٥٠، ٣٥٥، ٣٥٦، ٣٥٧، ٣٦١، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ٤٤٣٤، ٥٦٥٤، ٥٦٥٧ (صحیح )
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے جس میں رسول اللہ ﷺ (موجود) تھے، تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع کیا تھا (تو اب تم) کھاؤ، کھلاؤ اور جب تک جی چاہے رکھ چھوڑو، اور میں نے تم سے ذکر کیا تھا کہ کدو کی تمبی، تار کول ملے ہوئے، اور لکڑی کے اور سبز اونچے گھڑے کے برتنوں میں نبیذ نہ بناؤ، (مگر اب) جس میں مناسب سمجھو بناؤ، اور ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو، اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا (تو اب) جو بھی زیارت کرنا چاہے کرے، البتہ تم زبان سے بری بات نہ کہو ۔
Abdullah bin Buraidah narrated from his father: That he was in a gathering where the Messenger of Allah was present and he said: "I used to forbid you to eat the sacrificial mea for more than three days, but now eat it, give it to others and store it for as long as you want. And I told you not to make Nabidh in these containers: Ad-Dubba, Al-Muzaqqat, An-Naqir, and Al-Hantam. But now make Nabidh in whatever you want, but avoid everything that intoxicates. And I forbade you to visit graves, but now whoever want to visit them, let him do so, but do not utter anything which is not suitable."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2033
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی، تو آپ خود رو پڑے اور جو آپ کے اردگرد تھے انہیں بھی رلا دیا، اور فرمایا: میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ میں ان کے لیے مغفرت طلب کروں تو مجھے اجازت نہیں ملی، (تو پھر) میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی گئی، تم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah visited the grave of his mother and wept, and caused those around him to weep. He said: I asked my Lord for permission to pray for forgiveness for her and He did not give me permission, and I asked Him for permission to visit her grave and He gave me permission, so visit the graves, for they will remind you of death."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2034
مسیب بن حزن رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے، اور ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ دونوں ان کے پاس (پہلے سے موجود) تھے، تو آپ نے فرمایا: چچا جان! آپ لا إله إلا اللہ کا کلمہ کہہ دیجئیے، میں اس کے ذریعہ آپ کے لیے اللہ عزوجل کے پاس جھگڑوں گا ، تو ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ دونوں نے ان سے کہا: ابوطالب! کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑ لو گے؟ پھر وہ دونوں ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ آخری بات جو عبدالمطلب نے ان سے کی وہ یہ تھی کہ (میں) عبدالمطلب کے دین پر ہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے کہا: میں آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا رہوں گا جب تک مجھے روک نہ دیا جائے ، تو یہ آیت اتری ١ ؎: ما کان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشرکين نبی اور اہل ایمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت طلب کریں (التوبہ: ١١٣ ) نیز یہ آیت اتری: إنک لا تهدي من أحببت آپ جسے چاہیں ہدایت کے راستہ پر نہیں لاسکتے (القص: ٥٦ ) ۔
It was narrated from Saeed bin Al-Musayyab that his father said: "When Abu Talib was dying, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to him and found Abu Jahl and Abdullah bin Abi Umayyah with him. He said: O uncle, say La ilaha illallah(there is none worthy of worship except Allah), a word with which I will defend you before Allah. Abu Jahl and Abdullah bin Abi Umayyah said: O Abu Talib, are you turning away from the religion of Abdul-Muttalib. Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I will keep on asking for Allahs forgiveness for you unless I am forbidden to do so. Then the following was revealed: It is not (proper) for the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and those who believe to ask Allahs forgiveness for the idolaters. And the following was revealed: Verily, you (O Muhammad) guide not whom you like."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2035
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں ایک مشکل یہ ہے کہ ابوطالب کی موت ہجرت سے پہلے ہوئی ہے، اور سورة برأت جس کی یہ آیت ہے ان سورتوں میں سے جو مدنی دور کے اخیر میں نازل ہوئی ہیں، اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ یہاں یہ مراد نہیں کہ آیت کا نزول آپ کے لأستغفرن لک ما لم أنه عنك کہنے کے بعد فوراً ہوا، بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ نزول کا سبب ہے فنزلت میں فاء سبب بیان کرنے کے لیے ہے نہیں کہ بلکہ تعقیب یعنی بعد میں واقع ہونے کی خبر کے لیے ہے۔
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں میں نے ایک شخص کو اپنے ماں باپ کے لیے مغفرت طلب کرتے ہوئے سنا حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے، تو میں نے کہا: کیا تو ان دونوں کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے؟ حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے، تو اس نے کہا: کیا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب نہیں کی تھی؟ تو میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو (یہ آیت) اتری: وما کان استغفار إبراهيم لأبيه إلا عن موعدة وعدها إياه ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب کرنا ایک وعدہ کی وجہ سے تھا (التوبہ: ١١٤ ) ۔
It was narrated that Ali said: "I heard a man praying for forgiveness for his parents who were idolaters, and I said: Are you praying for forgiveness for them even though they are idolators?" He said: Didnt Ibrahim pray for forgiveness for his father? I went to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and told him about that, then the following revealed: And Ibrahims (Abraham) invoking (of Allah) for his fathers forgiveness was only because of a promise he (Ibrahim) had made to him (his father)." (Daif)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2036