Sunan An Nasai 2021

جنائز کے متعلق احادیث

2021Sunan An Nasai

تدفین کے بعد مردہ کو قبر سے باہر نکالنے سے متعلق

قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا، يَقُولُ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ فِي قَبْرِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عبداللہ بن ابی کو قبر میں داخل کر دئیے جانے کے بعد آئے، تو آپ نے اسے (نکالنے کا) حکم دیا، چناچہ وہ نکالا گیا، آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر بٹھایا، اور اس پر تھو تھو کیا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی، واللہ اعلم ١ ؎۔

Jabir said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to Abdullah bin Ubayy after he had been placed in his grave, and commanded that he be brought out. He placed him on his knees and blew on him and clothed him in his shirt. And Allah knows best."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2019
Notes · وضاحت
١ ؎: اس پر تھو تھو کرنے اور اسے اپنی قمیص پہنانے میں کیا مصلحت پنہا تھی اسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، بعض لوگوں نے کہا: چونکہ اس نے آپ ﷺ کے چچا عباس رضی الله عنہ کو اپنی قمیص پہنائی تھی اس لیے آپ نے بدلے میں ایسا کیا، اور ایک قول یہ ہے کہ اس کے بیٹے کی دلجوئی کے لیے آپ نے ایسا کیا تھا۔ واللہ اعلم
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٩٠٢ (صحیح )