جنائز کے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 19 · 273 hadiths · Page 8 of 14

1959Sunan An Nasai

حد زنا میں جو شخص پتھروں سے مارا جائے اس پر نماز جنازہ پڑھنا

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي زَنَيْتُ، وَهِيَ حُبْلَى فَدَفَعَهَا إِلَى وَلِيِّهَا، فَقَالَ: أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا، فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَ بِهَا، فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ رَجَمَهَا ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ ؟ فَقَالَ: لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ تَوْبَةً أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اور کہنے لگی: میں نے زنا کیا ہے، وہ حاملہ تھی، تو آپ نے اسے اس کے ولی کے سپرد کردیا اور کہا: اسے اچھی طرح رکھو، اور جب بچہ جن دے تو میرے پاس لے کر آنا ، چناچہ جب اس نے بچہ جن دیا تو ولی اسے لے کر آیا، تو آپ نے اسے حکم دیا، اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے، پھر آپ نے اسے رجم کیا، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی، اس پر عمر ؓ نے آپ سے عرض کیا: آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں؟ حالانکہ وہ زنا کرچکی ہے، تو آپ نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر لوگوں کے درمیان تقسیم کردی جائے تو ان سب کو کافی ہوجائے، اور اس سے بہتر توبہ اور کیا ہوگی کہ اس نے اللہ تعالیٰ (کی شریعت کے پاس و لحاظ میں) اپنی جان (تک) قربان کردی ۔

It was narrated from "Imran bin Husain that: a woman from Juhainah came to the Messenger of Allah and said: "I have committed Zina." And she was committed Zina." And She was pregnant. He handed her over to her guardian and said: "Look after her, and when she gave birth, he brought her to him. He ordered that her garment be wrapped around her, then he offered the funeral prayer for her. Umar said to him: "Are you praying for her even though she committed Zina?" he said: "She has repented in a manner that, if it were to be shared among seventy of the people of Al-Madinah it would suffice them. Have you ever seen repentance better than the one who sacrificed herself for the sake of Allah, the Mighty and Sublime?"

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1957
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ٥ (١٦٩٦)، سنن ابی داود/الحدود ٢٥ (٤٤٤٠، ٤٤٤١)، سنن الترمذی/الحدود ٩ (١٤٣٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحدود ٩ (٢٥٥٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨١)، مسند احمد ٤/٤٢٠، ٤٢٩، ٤٣٥، ٤٣٧، ٤٤٠، سنن الدارمی/الحدود ١٧ (٢٣٧٠) (صحیح )
1960Sunan An Nasai

جو آدمی وصیت کرنے میں ظلم سے کام لے (یعنی جائز حق سے زیادہ کی وصیت کرے) اس کی نماز جنازہ

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةً مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ دَعَا مَمْلُوكِيهِ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً.

عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کردیئے، اس کے پاس ان کے علاوہ اور کوئی مال (مال و اسباب) نہ تھا، یہ بات نبی اکرم ﷺ کو معلوم ہوئی تو آپ اس سے ناراض ہوئے، اور فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھوں ، پھر آپ نے اس کے غلاموں کو بلایا، اور ان کے تین حصے کیے، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، اور دو کو آزاد کردیا، اور چار کو رہنے دیا۔

It was narrated from Imran bin Husain that: a man freed six slaves of his when he was dying, and he did not have any wealth apart from them. News of that reached the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he was angry about that. He said: "I was thinking of not offering the funeral prapyer for him." Then he called the slaves and divided them into three groups. He cast lost among them, then freed two and left four as slaves.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1958
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٨١٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأیمان ١١ (١٦٦٨)، سنن ابی داود/العتق ١٠ (٣٩٥٨)، سنن الترمذی/الأحکام ٢٧ (١٣٦٤)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٠ (٢٣٤٥)، مسند احمد ٤/٤٢٦، ٤٣١، ٤٣٨، ٤٤٠ (صحیح )
1961Sunan An Nasai

جس کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہو اس پر نماز پڑھنا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، قال: مَاتَ رَجُلٌ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ إِنَّهُ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ.

زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص خیبر میں مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو، اس نے اللہ کی راہ میں چوری کی ہے ، تو (جب) ہم نے اس کے اسباب کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہود کے نگینوں میں سے کچھ نگینے ملے، جو دو درہم کے برابر بھی نہیں تھے۔

It was narrated that Zaid bin Khalid said: "A man died at Khaibar and the Messenger of Allah said: Pray for your companion; he stole from the spoils war. We inspected his luggage and fund some of the beads of the Jews that were not even worth two Dirhams."

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1959
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجھاد ١٤٣ (٢٧١٠)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٤ (٢٨٤٨)، (تحفة الأشراف: ٣٧٦٧)، موطا امام مالک/الجھاد ١٣ (٢٣)، مسند احمد ٤/١١٤ و ٥/١٩٢ (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو عمرہ “ لین الحدیث ہیں، اور موطا میں یہ سند سے ساقط ہیں، کما حررہ ابن عبدالبر )
1962Sunan An Nasai

مقروض شخص کی جنازہ کی نماز

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، سَمِعْتُعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُوَ عَلَيَّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِالْوَفَاءِ، قَالَ: بِالْوَفَاءِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ.

ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس انصار کا ایک شخص لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ دیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھتا) کیونکہ اس پر قرض ہے ، ابوقتادہ ؓ نے کہا: یہ میرے ذمہ ہے، نبی اکرم ﷺ نے پوچھا: تم اس کی ادائیگی کرو گے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں میں اس کی ادائیگی کروں گا، تب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔

Abdullah bin Abi Qatadah narrated from his father that: a man was brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) for him to offer the funeral prayer, and he said: "Pray for your companion, for he owes a debt." Abu Qatadah said: " I will pay it." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "In full?" He said: "In full." So he prayed for him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1960
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٦٩ (١٠٦٩)، سنن ابن ماجہ/الکفالة ٩ (٢٤٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٢١٠٣)، مسند احمد ٥/٣٠١، ٣٠٢، ٣١١، سنن الدارمی/البیوع ٥٣ (٢٦٣٥) (صحیح )
1963Sunan An Nasai

مقروض شخص کی جنازہ کی نماز

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْأَكْوَعِ، قال: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ: هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ: صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ.

سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے نبی! اس کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے، آپ نے پوچھا: کیا اس نے اپنے اوپر کچھ قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ، تو ابوقتادہ نامی ایک انصاری نے عرض کیا: آپ اس کی نماز (جنازہ) پڑھ دیجئیے، اس کا قرض میرے ذمہ ہے، تو آپ ﷺ نے اس کی نماز (جنازہ) پڑھی۔

Salamah - meaning, bin Al-Akwa - said: "A Janazah was brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and they said: " O Prophet of Allah, pray for him. He said: "Did he leave any debt behind? They said: "Yes. He said Did he leave anything? They said: No. He said; Pray fro your companion. A man among the Ansar who was called Abu Qatadah said: Pray for him and I will pay off his debt. So he prayed for him."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1961
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحوالة ٣ (٢٢٨٩)، والکفالة ٣ (٢٢٩٥)، (تحفة الأشراف: ٤٥٤٧)، مسند احمد ٤/٤٧ (صحیح )
1964Sunan An Nasai

مقروض شخص کی جنازہ کی نماز

أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَوْمَسِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْجَابِرٍ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَأُتِيَ بِمَيْتٍ، فَسَأَلَ: أَعَلَيْهِ دَيْنٌ ؟، قَالُوا: نَعَمْ، عَلَيْهِ دِينَارَانِ، قَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، مَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، چناچہ ایک جنازہ آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے پوچھا: کیا اس پر قرض ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: ہاں، اس پر دو دینار (کا قرض) ہے، آپ نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی پر نماز جنازہ پڑھ لو ، ابوقتادہ ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں دینار میرے ذمہ ہیں، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتح و نصرت عطا کی، تو آپ نے فرمایا: میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں، جو قرض چھوڑ کر مرے (اس کی ادائیگی) مجھ پر ہے، اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۔

It was narrated that Jabir said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) would not pray for a man who owed a debt. A deceased person was brought to him and he said: Does he owe any debt? They said: Yes, he owes two Dinars. He said: Pray for your companion. Abu Qatadah said: I will pay them, O Messenger of Alllah, So he prayed for him. Then, when Allah made His Messenger rich though conquest, he said: I am closer to each believer than his own self. Whoever leaves behind a debt, I will pay it, and whoever leaves behind wealth, it is for his heirs."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1962
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخراج ١٥ (٢٩٥٤)، البیوع ٩ (٣٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ٣١٥٨)، مسند احمد ٣/٢٩٦ (صحیح )
1965Sunan An Nasai

مقروض شخص کی جنازہ کی نماز

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تُوُفِّيَ الْمُؤْمِنُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ سَأَلَ: هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ ؟فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنْ قَالُوا: لَا قَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن مرتا اور اس پر قرض ہوتا ہے تو رسول اللہ ﷺ پوچھتے: کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟ اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ کہتے: تم اپنے ساتھی پر نماز (جنازہ) پڑھ لو ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر فتح و نصرت کا دروازہ کھولا، تو آپ نے فرمایا: میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں، تو جو وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو (اس کی ادائیگی) مجھ پر ہے، اور اگر کوئی مال چھوڑ کر گیا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: if a believer died with debts outstanding, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) would ask whether he had left behind anything to pay off his debts. If they said yes, he would pray for him, but if they said no, he would say: "Pray for your companion." Then, when Allah made His Messenger rich through conquest, he said: "I am closer to the believers than their own selves. Whoever dies and leaves behind a debt, I will pay it, and whoever leavers behind wealth, it is for his heirs."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1963
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکفالة ٥ (٢٢٩٨)، والنفقات ١٥ (٢٣٩٨)، صحیح مسلم/الفرائض ٤ (١٦١٩)، سنن الترمذی/الجنائز ٦٩ (١٠٧٠)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٣ (٢٤١٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٥٧، ١٥٣١٥)، مسند احمد ٢/٢٩٠، ٤٥٣ (صحیح )
1966Sunan An Nasai

جو شخص خود کو ہلاک کرے اس کی نماز جنازہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنِ ابْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَنَا فَلَا أُصَلِّي عَلَيْهِ.

ابن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے تیر کی انی سے خودکشی کرلی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رہا میں تو میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتا ۔

It was narrated from Jabir bin Samurah that: a man killed himself with an arrowhead and the Messenger of Allah said: "As for me, I will not pray for him."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1964
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٦ (٩٧٨)، (تحفة الأشراف: ٢١٥٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٥١ (٣١٨٥) مطولاً، سنن الترمذی/الجنائز ٦٨ (١٠٦٨)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣١ (١٥٢٦)، مسند احمد ٥/٨٧، ٩٠، ٩١، ٩٢، ٩٤، ٩٦، ٩٧، ١٠٠، ١٠٧ (صحیح )
1967Sunan An Nasai

جو شخص خود کو ہلاک کرے اس کی نماز جنازہ سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَحَسَّى سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ ثُمَّ انْقَطَعَ عَلَيَّ شَيْءٌ خَالِدٌ، يَقُولُ: كَانَتْ حَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے آپ کو کسی پہاڑ سے گرا کر مار ڈالے، تو وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش اپنے آپ کو اوپر سے نیچے گراتا رہے گا، اور جو زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالے تو وہ زہر اس کے ہاتھ میں رہے گا اسے وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں پیتا رہے گا، اور جو شخص کسی دھار دار چیز سے اپنے آپ کو مار ڈالے (راوی کہتے ہیں: پھر کوئی چیز میرے سننے سے رہ گئی ١ ؎، خالد کہہ رہے تھے:) تو اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا اسے وہ جہنم کی آگ میں اپنے پیٹ میں برابر گھونپتا رہے گا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever throws himself, he will be in the Fire of Hell, throwing himself down forever and ever. And whoever kills himself with a piece of iron"- then I missed something ( one of the narrators) Khalid said-"will have his piece of iron in his hand, stabbing himself in the stomach in the Fire of Hell, forever and ever."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1965
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ متن حدیث کا حصہ نہیں ہے بلکہ خالد سے روایت کرنے والے راوی کا کلام ہے یعنی خالد کہہ رہے تھے کہ من قتل نفسہ بحدید ۃ کے بعد کوئی لفظ رہ گیا ہے جسے میں سن نہیں سکا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الطب ٥٦ (٥٧٧٨)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٧ (١٠٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب ١١ (٣٨٧٢)، سنن الترمذی/الطب ٧ (١٠٤٤)، سنن ابن ماجہ/الطب ١١ (١٠٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٩٤)، مسند احمد ٢/٢٥٤، ٢٧٨، ٤٨٨، سنن الدارمی/الدیات ١٠ (٢٤٠٧) (صحیح )
1968Sunan An Nasai

منافقین پر نماز نہ پڑھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قال: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ دُعِيَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُصَلِّي عَلَى ابْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ قَالَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا أُعَدِّدُ عَلَيْهِ ؟ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ، فَلَمَّا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ، قَالَ: إِنِّي قَدْ خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ، فَلَوْ عَلِمْتُ أَنِّي لَوْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ عَلَيْهَا، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَتَانِ مِنْ بَرَاءَةَ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ سورة التوبة آية 84 فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ.

عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی ابن سلول (منافقوں کا سردار) مرگیا، تو رسول اللہ ﷺ بلائے گئے، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں، جب رسول اللہ ﷺ (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑے ہوئے تو میں تیزی سے آپ کی طرف بڑھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ابن ابی پر نماز جنازہ پڑھیں گے؟ حالانکہ فلاں دن وہ ایسا ایسا کہہ رہا تھا، میں اس کی تمام باتیں آپ پر گنانے لگا، تو آپ مسکرائے، اور فرمایا: اے عمر! ان باتوں کو جانے دو ۔ جب میں نے کافی اصرار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے اختیار ہے (نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں) تو میں نے پڑھنا پسند کیا، اگر میں یہ جانتا کہ ستر بار سے زیادہ مغفرت چاہنے پر اس کی مغفرت ہوجائے گی تو میں اس سے زیادہ مغفرت کرتا ١ ؎ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر لوٹے اور ابھی ذرا سا دم ہی لیا تھا کہ سورة برأت کی دونوں آیتیں نازل ہوئیں: ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره إنهم کفروا باللہ ورسوله وماتوا وهم فاسقون جب یہ مرجائیں تو تم ان میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور نہ اس کی قبر پہ کھڑے ہو، اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے، اور گنہگار ہو کر مرے ہیں ، بعد میں مجھے رسول اللہ ﷺ کے خلاف اپنی اس دن کی اس جرات پر حیرت ہوئی، اور اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں کہ یہ جرات میں نے کیوں کی۔

It was narrated that Umar bin Al-Khattab said: "When Abdullah bin Ubayy bin Soul died, the Messenger of Allah was called upon to offer the funeral prayer for him. When the Messenger of Allah stood up (to offer the prayer), I got up quickly and said: O Messenger of Allah Are you going to pray for Ibn Ubayy when he said such-and-such an occasion? And I stated to list all the things that he had said. The Messenger of Allah smiled and said: Leave me alone, O Umar. When I spoke too much he said: I have been given the choice and I have chosen (to offer the prayer for him). If I knew that he could be forgiven by asking Allahs forgiveness more than seventy times, I would have done so. The Messenger of Allah offered the funeral prayer for him, and then left. A short while later, the two Verses form surah Bara were revealed: And never pray (funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave. Certainly they disbelieved in Allah and His Messenger, and died while they were rebellious. Later I was astonished by my audacity toward the Messenger of Allah on that day. And Allah and His Messenger know best."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1966
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ستر بار سے زیادہ اس کی مغفرت کے لیے دعا کرتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٤ (١٣٦٦)، و تفسیر التوبة ١٢ (٤٦٧١)، سنن الترمذی/الجنائز/تفسیر التوبة (٣٠٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٠٩)، مسند احمد ١/١٦ (صحیح )
1969Sunan An Nasai

مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْعَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن بیضاء ؓ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی تھی ١ ؎۔

It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did not ofer gthe funeral prayer for shail bin Baida anywhere but in the Masjid."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1967
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مسجد میں جنازہ پڑھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، اگرچہ آپ کا معمول مسجد سے باہر پڑھنے کا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٤ (٩٧٣) مطولاً، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٥٤ (٣١٨٩)، سنن الترمذی/الجنائز ٤٤ (١٠٣٣)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٩ (١٥١٨)، (تحفة الأشراف: ١٦١٧٥)، موطا امام مالک/الجنائز ٨ (٢٢)، مسند احمد ٦/٧٨، ١٣٣، ١٦٩ (صحیح )
1970Sunan An Nasai

مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن بیضاء ١ ؎ کی نماز جنازہ مسجد کے صحن ہی میں پڑھی تھی۔

It was narrated from Abdul-Wahid bin Hamzah that Abbad bin Abdullah bin Az-Zubair told him that Aishah said: "the Messenger of Allah did not offer the funeral prayer for Suhail bin Baida anywhere but inside the Masjid."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1968
Notes · وضاحت
١ ؎: بیضاء کے تین بیٹے تھے جن کے نام سہل، سہیل اور صفوان تھے اور ان کی ماں کا نام رعد تھا، بیضاء ان کا وصفی نام ہے، اور ان کے والد کا نام وہب بن ربیعہ قرشی فہری تھا۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
1971Sunan An Nasai

رات میں نماز جنازہ ادا کرنا

أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَتِ امْرَأَةٌ بِالْعَوالِي مِسْكِينَةٌ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُمْ عَنْهَا وَقَالَ: إِنْ مَاتَتْ فَلَا تَدْفِنُوهَا حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَتُوُفِّيَتْ فَجَاءُوا بِهَا إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ، فَوَجَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَامَ فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ، فَصَلَّوْا عَلَيْهَا وَدَفَنُوهَا بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءُوا فَسَأَلَهُمْ عَنْهَا فَقَالُوا: قَدْ دُفِنَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَدْ جِئْنَاكَ فَوَجَدْنَاكَ نَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، قَالَ: فَانْطَلِقُوافَانْطَلَقَ يَمْشِي وَمَشَوْا مَعَهُ حَتَّى أَرَوْهُ قَبْرَهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفُّوا وَرَاءَهُ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا.

ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عوالی مدینہ کی ایک غریب عورت ١ ؎ بیمار پڑگئی، نبی اکرم ﷺ اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھتے رہتے تھے، اور کہہ رکھا تھا کہ اگر یہ مرجائے تو اسے دفن مت کرنا جب تک کہ میں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھ لوں ، چناچہ وہ مرگئی، تو لوگ اسے عشاء کے بعد مدینہ لے کر آئے، ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، چناچہ ان لوگوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی، اور اسے لے جا کر مقبرہ بقیع میں دفن کردیا، جب رسول اللہ ﷺ نے صبح کی تو لوگ آپ کے پاس آئے، آپ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! وہ تو دفنائی جا چکی، (رات) ہم آپ کے پاس آئے (بھی) تھے، (لیکن) ہم نے آپ کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا نامناسب سمجھا، آپ نے فرمایا: چلو! (اور) خود بھی چل پڑے، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ کو اس کی قبر دکھائی، رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف باندھا، آپ نے اس کی نماز (جنازہ) پڑھائی اور (اس میں) چار تکبیریں کہیں۔

Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif said: "A poor woman in Al-Awali fell sick and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to ask them about her. He said: If she dies, do not bury her until I have offered the funeral prayer for her. She died and they brought her to Al-Madinah after dark, and they found that the Messenger of Allah had gone to sleep. They did not like to wake him up, so they offered the funeral prayer for her and buried her in Baqi Al-Gharqab. The next morning they came and the Messenger of Allah asked them about her. They said: She has been buried, O Messenger of Allah. We came to you and found you sleeping, and we did not like to wake you up. He said: lets go. He set out walking and they went with him and showed him her grave. The Messenger of Allah stood and they formed rows behind him, and he offered the funeral prayer for her, saying the Takbir four times."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1969
Notes · وضاحت
١ ؎: اس عورت کا نام ام محجن تھا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٩٠٨ (صحیح )
1972Sunan An Nasai

جنازہ پر صفیں باندھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ، فَقَامَ فَصَفَّ بِنَا كَمَا يُصَفُّ عَلَى الْجَنَازَةِ وَصَلَّى عَلَيْهِ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے بھائی نجاشی کی موت ہوگئی ہے، تو تم لوگ اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو ، (پھر) آپ نے ہماری صف بندی کی جیسے جنازہ پر صف بندی کی جاتی ہے، اور ان کی نماز جنازہ پڑھی۔

It was narrated from Jair that: the Messenger of Allah said: "Your brother An-Najashi has died, so get up and offer the funeral prayer for him." He stood up and put us in rows as is done for the funeral prayer, and we prayed for him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1970
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٥٣ (١٣١٧)، ٥٤ (١٣٢٠)، ٦٤ (١٣٣٤)، ومناقب الأنصار ٣٨ (٣٨٧٧)، صحیح مسلم/الجنائز ٢٢ (٩٥٢)، (تحفة الأشراف: ٢٤٥٠)، مسند احمد ٣/٢٩٥، ٣١٩، ٣٦٩، ٤٠٠ (صحیح )
1973Sunan An Nasai

جنازہ پر صفیں باندھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، پھر آپ لوگوں کو لے کر صلاۃ گاہ کی طرف نکلے، اور ان کی صف بندی کی، (پھر) آپ نے ان کی نماز (جنازہ) پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔

It was narrated from Abu Hurairah: That the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) announced the death of An-Najashi to the people on the day that he died, then he took them out to the prayer place and put them in rows and offered the funeral prayer for him, saying the Takbir four times.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1971
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٤ (١٢٤٥)، ٥٤ (١٣١٨)، ٦٠ (١٣٢٨)، ٦٤ (١٣٣٤)، والمناقب ٣٨ (٣٨٨٠- ٣٨٨١) صحیح مسلم/الجنائز ٢٢ (٩٥١)، سنن ابی داود/الجنائز ٦٢ (٣٢٠٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ٣٧ (١٠٢٢)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٣ (١٥٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٣٢)، موطا امام مالک/الجنائز ٥ (١٤)، مسند احمد ٢/٢٨١، ٢٨٩، ٤٣٨، ٤٣٩، ویأتی عند المؤلف برقم: ١٩٨٢ (صحیح )
1974Sunan An Nasai

جنازہ پر صفیں باندھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: نَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ لِأَصْحَابِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَصَفُّوا خَلْفَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: ابْنُ الْمُسَيَّبِ إِنِّي لَمْ أَفْهَمْهُ كَمَا أَرَدْتَ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں اپنے صحابہ کو نجاشی کی موت کی خبر دی، تو انہوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، آپ نے ان کی نماز (جنازہ) پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابن مسیب کا نام جیسا میں سننا چاہتا تھا نہیں سن سکا۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah announced the death of An-Najashi to his Companions in Al-Madinah, so they formed rows behind him and he offered the funeral prayer for him, saying the Takbir four times."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1972
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٥٤ (١٣١٨)، سنن الترمذی/الجنائز ٣٧ (١٠٢٢)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٣ (١٥٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٦٧، ١٥٢٩٠) (صحیح )
1975Sunan An Nasai

جنازہ پر صفیں باندھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ، فَصَفَفْنَا عَلَيْهِ صَفَّيْنِ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: تمہارے بھائی (نجاشی) مرگئے ہیں تو تم لوگ اٹھو، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو تو ہم نے ان پر دو صفیں باندھیں۔

It was narrated from Jabir that: the Messenger of Allah said: "Your brother has died, so get up and offer the funeral prayer for him." So we formed two rows for him."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1973
Takhrij · تخریج
انظر صحیح مسلم/الجنائز ٢٢ (٩٥٢)، (تحفة الأشراف: ٢٦٧٠)، مسند احمد ٣/٣٥٥ (صحیح )
1976Sunan An Nasai

جنازہ پر صفیں باندھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سَمِعْتُ شُعْبَةَ، يَقُولُ: السَّاعَةَ يَخْرُجُ السَّاعَةَ يَخْرُجُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: كُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي يَوْمَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّجَاشِيِّ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ ﷺ نے نجاشی کی نماز (جنازہ) پڑھی تھی میں دوسری صف میں تھا۔

It was narrated that Jabir said: "I was in the second row on the day the Messenger of Allah offered the funeral prayer for An-Najashi."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1974
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٥٤ (١٣٢٠) تعلیقاً، (تحفة الأشراف: ٢٧٧٤) (صحیح الإسناد )
1977Sunan An Nasai

جنازہ پر صفیں باندھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قال: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَقُمْنَا، فَصَفَفْنَا عَلَيْهِ كَمَا يُصَفُّ عَلَى الْمَيِّتِ، وَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ كَمَا يُصَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ.

عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: تمہارے بھائی نجاشی انتقال کر گئے ہیں تو تم اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو ، تو ہم کھڑے ہوئے (اور) ہم نے ان پر اسی طرح صف بندی کی جس طرح میت پر کی جاتی ہے، اور ہم نے ان کی نماز (جنازہ) اسی طرح پڑھی جس طرح میت کی پڑھی جاتی ہے۔

It was narrated that Imran bin Husain said: "The Messenger of Allah said to us: Your brother An-Najashi has died, so get up and offer the funeral prayer for him. So we got up and formed row to pray for him, as rows are formed to pray for the dead, and he led us in praying for him as people pray for the dead."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1975
Takhrij · تخریج
انظر سنن الترمذی/الجنائز ٤٨ (١٠٣٩)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٣ (١٥٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨٩)، مسند احمد ٤/٤٣٩، ٤٤١ (صحیح )
1978Sunan An Nasai

جنازہ پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، قال: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فِي وَسَطِهَا.

سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام کعب ؓ کی نماز (جنازہ) پڑھی، جو اپنی زچگی میں مرگئیں تھیں، تو رسول اللہ ﷺ نماز میں ان کی کمر کے پاس کھڑے ہوئے۔

It was narrated that Samurah said: "I offered the funeral prayer with the Messenger of Allah for Umm kab who had died in childbirth, and the Messenger of Allah stood in line at her mid-section to pray."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1976
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٩٣ (صحیح )