انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردے (کے ساتھ) تین چیزیں (قبرستان تک) جاتی ہیں: اس کے گھر والے، اس کا مال، اور اس کا عمل، (پھر) دو چیزیں یعنی اس کے گھر والے اور اس کا مال لوٹ آتے ہیں، اور ایک باقی رہ جاتا ہے اور وہ اس کا عمل ہے ۔
It was narrated that Abdullah bin Abi Bakr said: "I heard Anas bin Malik (RA) say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The dead person is followed by three: His family, his wealth and his deeds. Then two of them come back: His family and his wealth, and there remain only his deeds."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1937
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کے مومن پر چھ حقوق ہیں: جب بیمار ہو تو وہ اس کی عیادت کرے، جب مرجائے تو اس کے جنازے میں شریک رہے، جب دعوت کرے تو اسے قبول کرے، جب وہ اس سے ملے تو اسے سلام کرے، جب چھینکے اور الحمد للہ کہے تو جواب میں یرحمک اللہ کہے، اور اس کی خیر خواہی کرے خواہ اس کے پیٹھ پیچھے ہو یا سامنے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "The believer owes six duties toward his fellow believer: To visit him when he is sick, to attend his funeral when he dies, to accept his invitation, to greet him with Salam when he meets him, to reply to him (say: Yarhamuk Allah, [may Allah have mercy on you]) when he sneezes and to be sincere to him, whether he is absent or present." (Hasan).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1938
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ١ (٢٧٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٦٦)، مسند احمد ٢/٣٢١، ٣٧٢، ٤١٢، ٥٤٠ (صحیح) و ورد عندخ و م بلفظ ” خمس “ أی بعدم ذکر ” وینصح لہ إذا ۔۔۔ الخ “ راجع خ /الجنائز ٢ (١٢٤٠)، صحیح مسلم/السلام ٣ (٢١٦٢ )
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا، اور سات باتوں سے منع فرمایا: ہمیں آپ نے مریض کی عیادت کرنے، چھینکنے والے کے جواب میں یرحمک اللہ کہنے، قسم پوری کرانے، مظلوم کی مدد کرنے، سلام کو عام کرنے، دعوت دینے والوں (کی دعوت) قبول کرنے، اور جنازے کے ساتھ جانے کا حکم دیا، اور ہمیں آپ نے سونے کی انگوٹھیاں پہننے سے، چاندی کے برتن (میں کھانے، پینے) سے، میاثر، قسّیہ، استبرق ١ ؎، حریر اور دیباج نامی ریشمی کپڑوں سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated that Al-Bara bin Azib said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) commanded us to do seven things, and forbade us form seven things. He commanded us to visit the risk, to reply (say: Yarhamuk Allah, may Allah have mercy on you) to one who sneezes, to fulfill our oaths, to support the oppressed, to spread the greeting of Salam, to accept invitation, and to attend funerals. And he forbade us from using gold rings, silver vessels, Mayathir, the Qasiyyah, Al-Istabraq, silk and Ad-Dibaj."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1939
Notes · وضاحت
١ ؎: استبرق، حریر اور دیباج یہ تینوں ریشمی کپڑوں کی قسمیں ہیں۔
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص جنازے کے ساتھ گیا، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک کہ اس پر جنازہ کی نماز پڑھی گئی اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے، اور جو شخص کسی جنازے کے ساتھ گیا، اور اس کے ساتھ رہا یہاں تک وہ دفن کردیا گیا، تو اس کے لیے دو قیراط کا ثواب ہے، اور ایک قیراط احد (پہاڑ) کے مثل ہے ۔
It was narrated that Al-Musayyab bin Rafi said: "I heard Al-Bara bin Azib say: The Messenger of Allah said: whoever follows a Janazah until the prayer is offered, he will have one Qirat of reward and whoever walks with the funeral until (the body) is buried will have two Qirats of reward, and a Qirat is like Uhud."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1940
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی جنازے کے ساتھ جائے، اور اس کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو لیا جائے، تو اس کے لیے دو قیراط کا ثواب ہے، اور اگر لوٹ آئے قبل اس کے کہ اس سے فارغ ہوا جائے، تو اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے ۔
It was narrated that Abdullah bin Al-Mughaffal said: "The Messenger of Allah said: Whoever follows a Janazah until it is finished, he will have two Qirats, and whoever goes back before it is finished, he will have one Qirat."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1941
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٣)، مسند احمد ٤/٨٦، و ٥/٥٧ (صحیح )
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوار جنازے کے پیچھے رہے، پیدل چلنے والا جہاں چاہے رہے، اور بچوں پہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔
It was narrated that Al-Mughirah bin Shu,bah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The riders should move behind the Janazah and the pedestrian may walk wherever he wishes, and the (funeral) prayer should be offered for a child."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1942
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوار جنازے کے پیچھے رہے، پیدل چلنے والا (آگے پیچھے دائیں بائیں) جہاں چاہے رہے، اور بچوں پہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔
It was narrated that Al-Mughirah bin Shubah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The rider should travel behind the Janazah and the pedestrian may travel wherever he wishes, and the (funeral) prayer should be offered for a child."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1943
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ عنہم کو جنازے کے آگے (پیدل) چلتے دیکھا ہے۔ صرف راوی بکر نے عثمان ؓ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ نسائی کہتے ہیں: اس حدیث کا موصول ہونا غلط ہے، اور درست مرسل ہونا ہے۔
Salim narrated: That his father told him that he was the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), Abu Bakr, Umar and Uthman walking in front of the Janazah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1945
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انصار کے بچوں میں سے ایک بچہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا، تو آپ نے اس کی جنازے کی نماز پڑھی، میں نے کہا: (یہ) خوش بخت جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، نہ تو اس نے کوئی برا کام کیا، اور نہ اس عمر ؓ کو پہنچا، آپ ﷺ نے فرمایا: یا عائشہ! اس کے علاوہ کچھ اور معاملہ ہے اللہ تعالیٰ نے جنت کی تخلیق فرمائی، اور اس کے لیے لوگ پیدا کئے، جبکہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے، اور (اللہ) نے جہنم کی تخلیق کی، اور اس کے لیے لوگ پیدا کیے جبکہ وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے ١ ؎۔
The mother of the believers, Aishah said: "One of the children of the Ansar (who had died) was brought to the Messenger of Allah so he prayed for him." Aishah said: "How fortunate he is, one of the little birds of Paradise. He never did any evil or reached the age of puberty." He said: "It is better not to say anything, O Aishah Allah, the Mighty and Sublime, created Paradise and created people for it, He created them in the loins of their fathers. And He created Hell and created people for it, and He created them in the loins of their fathers."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1947
Notes · وضاحت
١ ؎: اور وہ توقف ہے، لیکن یہ پہلے کی بات ہے، بعد میں آپ نے یہ بتایا کہ مسلمانوں کے نابالغ بچے جنت میں جائیں گے، البتہ کفار و مشرکین کے بچوں کی بابت جمہور کا موقف یہی ہے کہ ان کے بارے میں توقف اختیار کیا جائے، دیکھئیے حدیث رقم: ١٩٥١ ، ١٩٥٣ ۔
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوار جنازے کے پیچھے رہے، پیدل چلنے والا اس کے (آگے پیچھے دائیں بائیں) جس طرف چاہے رہے، اور شیرخوار بچہ کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔
It was narrated from Al-Mughirah bin Shubah that: the Messenger of Allah said: "The rider should move behind the Janazah and the pedestrian may walk wherever he wishes, and the (funeral) prayer should be offered for a child."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1948
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: جو کچھ وہ کرنے والے تھے اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked about the children of the idolators and he said: Allah knows best what they would have done."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1949
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جو وہ کرنے والے تھے اسے خوب جانتا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked about the children of the idolators and he said: Allah knows best what they would have done."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1950
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ اپنے اسی علم کی بنیاد پر ان کے بارے میں فیصلہ فرمائے گا۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا (اور) جس وقت انہیں پیدا کیا وہ جانتا تھا (کہ آئندہ) وہ کیا کرنے والے ہیں ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah was asked about the children of the idolators and he said: Allah created them when He created them, and He knows best what they would have done."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1951
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو وہ کرنے والے تھے ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah was asked about he children of the idolators and he said: Allah knows best what they would have done."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1952
شداد بن ہاد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک بادیہ نشین نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ پر ایمان لے آیا، اور آپ کے ساتھ ہوگیا، پھر اس نے عرض کیا: میں آپ کے ساتھ ہجرت کروں گا، نبی اکرم ﷺ نے اپنے بعض اصحاب کو اس کا خیال رکھنے کی وصیت کی، جب ایک غزوہ ہوا تو نبی اکرم ﷺ مال غنیمت میں کچھ لونڈیاں ملیں، تو آپ نے انہیں تقسیم کیا، اور اس کا (بھی) حصہ لگایا، چناچہ اس کا حصہ اپنے ان اصحاب کو دے دیا جن کے سپرد اسے کیا گیا تھا، وہ ان کی سواریاں چراتا تھا، جب وہ آیا تو انہوں نے (اس کا حصہ) اس کے حوالے کیا، اس نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ حصہ نبی اکرم ﷺ نے تمہارے لیے لگایا تھا، تو اس نے اسے لے لیا، (اور) نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کر آیا، اور عرض کیا: (اللہ کے رسول! ) یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے تمہارا حصہ دیا ہے ، تو اس نے کہا: میں نے اس (حقیر بدلے) کے لیے آپ کی پیروی نہیں کی ہے، بلکہ میں نے اس بات پر آپ کی پیروی کی ہے کہ میں تیر سے یہاں مارا جاؤں، (اس نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا) پھر میں مروں اور جنت میں داخل ہوجاؤں، تو آپ نے فرمایا: اگر تم سچے ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا وعدہ سچ کر دکھائے گا ، پھر وہ لوگ تھوڑی دیر ٹھہرے رہے، پھر دشمنوں سے لڑنے کے لیے اٹھے، تو انہیں (کچھ دیر کے بعد) نبی اکرم ﷺ کے پاس اٹھا کر لایا گیا، اور انہیں ایسی جگہ تیر لگا تھا جہاں انہوں نے اشارہ کیا تھا، نبی اکرم ﷺ نے پوچھا: کیا یہ وہی شخص ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: اس نے اللہ تعالیٰ سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا تو (اللہ تعالیٰ ) نے (بھی) اپنا وعدہ اسے سچ کر دکھایا ١ ؎ پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنے جبّے (قمیص) میں اسے کفنایا، پھر اسے اپنے سامنے رکھا، اور اس کی جنازے کی نماز پڑھی ٢ ؎ آپ کی نماز میں سے جو چیز لوگوں کو سنائی دی وہ یہ دعا تھی: اللہم هذا عبدک خرج مهاجرا في سبيلک فقتل شهيدا أنا شهيد على ذلك اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے، یہ تیری راہ میں ہجرت کر کے نکلا، اور شہید ہوگیا، میں اس بات پر گواہ ہوں ۔
It was narrated from Shaddad bin Al-Had that: a man from among the Bedouins came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and believed in him and followed him, then he said: "I will emigrate with you." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) told one of his Companions to look after him. During one battle the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) got some prisoners as spoils of war, and he distributed them, giving him (that Bedouin) a share. His Companions gave him what had been allocated to him. He had been looking after some livestock for them, and when he came they gave him his share. He said: "What is this?" They said: "A share that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) has allocated to you." He took it and brought it to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "What is this?" He said: "I allocated it to your." He said: "It is not for this that I follwed you. Rather I followed you so that I might be shot her - and he pointed to his throat - with an arrow and die and enter Paradise." He said: "If you are sincere toward Allah, Allah will fulfill your wish." Shortly after that they got up to fight the enemy, then he was brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم); he had pointed to. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Is it him?" They said: "yes." He said: "He was sincere toward Allah and Allah fulfilled his wish." Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) shrouded him in his own cloak and out him in front of him and offered the (funeral) prayer for him. During his supplication he said: "O allah, this is Your sloave who went out as a emigrant (Muhajir) for your sake and was killed as a martyr; I am a witness to that.: (Sahih) .
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1953
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی مراد پوری کردی۔ ٢ ؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شہداء پر نماز جنازہ پڑھی جائے۔
عقبہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ (مدینہ سے باہر) نکلے، اور غزوہ احد کے شہیدوں پر نماز (جنازہ) پڑھی ١ ؎ جیسے میت کی نماز جنازہ پڑھتے تھے، پھر منبر کی طرف پلٹے اور فرمایا: میں (قیامت میں) تمہارا پیش رو ہوں، اور تم پر گواہ (بھی) ہوں ۔
It was narrated from Uqbah that: the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out one day and offered the funeral prayer for the people f Uhd, then he went to the Minbar and said: "I am your predecessor and I am a witness over your."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1954
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نماز آپ نے جنگ احد کے آٹھ سال بعد آخری عمر میں پڑھی تھی، اور یہ شہداء احد ہی کے ساتھ خاص تھی۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ احد کے مقتولین میں سے میں سے دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے، پھر پوچھتے: ان دونوں میں کس کو قرآن زیادہ یاد تھا؟ جب لوگ ان دونوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتے تو آپ اسے قبر میں پہلے رکھتے، اور فرماتے: میں ان پر گواہ ہوں ، آپ نے انہیں ان کے خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا، اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی ١ ؎ اور نہ انہیں غسل دیا گیا۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Ka b bin Malik that Jabir bin Abdullah told him that: the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) put two men from those who had been slain in Uhud in one shrud, then he would ask which of them had learned more Quran and when one of them was pointed out, he would put him in the Lahd (grave) first. He said: "I am a witness to these." And he ordered that they be buried with their blood, and that the funeral prayer should not be offered, and they should not be washed.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1955
Notes · وضاحت
١ ؎: جو لوگ شہید کی نماز جنازہ پڑھی جانے کے قائل ہیں، وہ اس روایت کی یہ توجیہ کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ان میں کسی پر اس طرح نماز نہیں پڑھی جیسے حمزہ رضی الله عنہ پر کئی بار پڑھی تھی۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کے ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر زنا کا اعتراف کیا، تو آپ نے اس کی طرف سے (اپنا منہ) پھیرلیا، اس نے دوبارہ اعتراف کیا تو آپ نے (پھر) اپنا منہ پھیرلیا، اس نے پھر تیسری دفعہ اعتراف کیا، تو آپ نے (پھر) اپنا منہ پھیرلیا، یہاں تک کہ اس نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہیاں دیں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تجھے جنون ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: ہاں، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا تو اس کو رجم کردیا گیا، جب اسے پتھر لگا تو بھاگ کھڑا ہوا، پھر وہ پکڑا گیا تو پتھروں سے مارا گیا، تو اور مرگیا، نبی اکرم ﷺ نے اس کے حق میں اچھی بات کہی، اور اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah that: a man from Aslam came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and confessed to committing Zina, and he turned away from him. He admitted it again, and he turned away from him. He admitted it again, and he turned away from him. Then when he had testified against himself four times, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Are your crazy?" He said: "No." He said: "Have you been marred?" he said: "Yes." So the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) ordered that he be stoned. When the stones struck him, he ran away, but they caught up with him and stoned him and he died. Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) spoke well of him but he did not pray for him. (Shih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1956
Notes · وضاحت
١ ؎: رجم کئے جانے والے پر نماز جنازہ پڑھنے نہ پڑھنے کی بابت روایات مختلف ہیں، صحیح بات یہ ہے کہ رجم کے دن نہیں پڑھی دوسرے دن پڑھی، جیسا کہ سنن ابو قرہ میں ہے، نیز امام وقت کو یہ اختیار ہے، جس کے حالات جیسے ہوں اسی کے حساب پڑھے یا نہ پڑھے، ماعز اور غامدیہ رضی الله عنہما نے سچی توبہ کی تھی، تو ان کی نماز جنازہ پڑھی، اور جو بغیر توبہ کے گواہی کی وجہ سے رجم کیا جائے اس پر نہ پڑھنا ہی بہتر ہے۔