حضرات شہداء کرام پر نماز کا حکم
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ.
عقبہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ (مدینہ سے باہر) نکلے، اور غزوہ احد کے شہیدوں پر نماز (جنازہ) پڑھی ١ ؎ جیسے میت کی نماز جنازہ پڑھتے تھے، پھر منبر کی طرف پلٹے اور فرمایا: میں (قیامت میں) تمہارا پیش رو ہوں، اور تم پر گواہ (بھی) ہوں ۔
It was narrated from Uqbah that: the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) went out one day and offered the funeral prayer for the people f Uhd, then he went to the Minbar and said: "I am your predecessor and I am a witness over your."