جنائز کے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 19 · 273 hadiths · Page 6 of 14

1919Sunan An Nasai

جنازہ کے لئے کھڑے ہونے کا حکم

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: مَا رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهِدَ جَنَازَةً قَطُّ فَجَلَسَ حَتَّى تُوضَعَ.

ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ جنازے کے ساتھ ہوں، (اور) بیٹھ گئے ہوں یہاں تک کہ وہ رکھ دیا جائے۔

It was narrated that Abu Hurairah and Abu Saeed said: "We never saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) attend any funeral where he sat down until (the body) was placed (in the grave)."

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1918
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤٠٤٠، ١٣٠٥٩) (حسن الإسناد )
1920Sunan An Nasai

جنازہ کے لئے کھڑے ہونے کا حکم

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قال: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ. ح وأَخْبَرَنَاإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، قال: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ، وَقَالَ عَمْرٌو: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ (لے کر) گزرے، تو آپ کھڑے ہوگئے، اور عمرو بن علی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہوگئے۔

It was narrated from Abu Saeed that a funeral passed by the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he stood up. (One of the narrators) Amr said: "If a funeral passed by the Messenger of Allah he would stand up."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1919
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤٠٨٨)، مسند احمد ٣/٤٧، ٥٣ (صحیح الإسناد )
1921Sunan An Nasai

جنازہ کے لئے کھڑے ہونے کا حکم

أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قال: أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُمْكَانُوا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَلَعَتْ جَنَازَةٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ مَنْ مَعَهُ فَلَمْ يَزَالُوا قِيَامًا حَتَّى نَفَذَتْ.

یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے (اتنے میں) ایک جنازہ نظر آیا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے، اور جو ان کے ساتھ تھے وہ بھی کھڑے ہوگئے، تو وہ لوگ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ وہ نکل گیا۔

It was narrated form Yazid bin Thabit: That they were sitting with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when a funeral appeared. The Messenger of Allah stood up, and those who were with him stood up, until it had passed by.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1920
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٨٢٦)، مسند احمد ٤/٣٨٨ (صحیح الإسناد )
1922Sunan An Nasai

مشرکین کے جنازہ کے واسطے کھڑے رہنا

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قال: كَانَ سَهْلُ ابْنُ حُنَيْفٍ، وَقَيْسُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ بِالْقَادِسِيَّةِ فَمُرَّ عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَا، فَقِيلَ لَهُمَا: إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَقَالَا: مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ فَقَامَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ يَهُودِيٌّ، فَقَالَ: أَلَيْسَتْ نَفْسًا.

عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد بن عبادہ ؓ قادسیہ میں تھے۔ ان دونوں کے قریب سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو دونوں کھڑے ہوگئے تو ان سے کہا گیا: یہ تو ذمی ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا تو آپ کھڑے ہوگئے، تو آپ سے عرض کیا گیا یہ تو یہودی ہے؟ تو آپ ﷺ نے کہا: کیا یہ روح نہیں ہے؟ ۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin Abi Laila said: "Sahl bin Hunaif and Qais bin Sad bin Ubadah were in Al-Qadisiyyah when a funeral passed by them, so they stood up and it was said to them: It is one of the local people. They said: A funeral passed the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he stood up, and it was said to him: It Is a Jew. He said: Is it not a soul?"

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1921
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٤٩ (١٣١٢، ١٣١٣)، صحیح مسلم/الجنائز ٢٤ (٩٦١)، (تحفة الأشراف: ٤٦٦٢) (صحیح )
1923Sunan An Nasai

مشرکین کے جنازہ کے واسطے کھڑے رہنا

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ هِشَامٍ. ح وأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: مَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيَّةٍ، فَقَالَ: إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، اللَّفْظُ لِخَالِدٍ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک جنازہ ہمارے پاس سے گزرا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے، اور آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہوگئے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ جنازہ (ایک) یہودی عورت کا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: موت ایک قسم کی ہیبت ہے، تو جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، یہ الفاظ خالد کے ہیں۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "A funeral passed by us and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up and we stood with him. I said: O Messenger of Allah, it is a Jewish funeral. He said: Death is something terrifying, so if you see a funeral, stand up," This is the wording of Khalid.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1922
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٤٩ (١٣١١)، صحیح مسلم/الجنائز ٢٤ (٩٦٠)، سنن ابی داود/الجنائز ٤٧ (٣١٧٤)، (تحفة الأشراف: ٢٣٨٦)، مسند احمد ٣/٣١٩، ٣٣٤، ٣٥٤ (صحیح )
1924Sunan An Nasai

جنازہ کے واسطے کھڑے نہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قال: كُنَّا عِنْدَ عَلِيٍّفَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامُوا لَهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا هَذَا ؟ قَالُوا: أَمْرُ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ: إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيَّةٍ وَلَمْ يَعُدْ بَعْدَ ذَلِكَ.

ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم علی ؓ کے پاس تھے (اتنے میں) ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہوگئے، تو علی ؓ نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوموسیٰ اشعری کا حکم ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ایک یہودی عورت کے جنازے کے لیے کھڑے ہوئے تھے، (پھر) اس کے بعد آپ کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔

It was narrated that Abu Mamar said: "We were with Ali and a funeral passed by him, and they stood up for it. Ali said: "What is this? They said: The command of Abu Musa. He said: Rather the Messenger of Allah stood up for a Jewish funeral but he did not do it again."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1923
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠١٨٥)، مسند احمد ١/١٤١، ١٤٢، ٤/٤١٣ (صحیح الإسناد )
1925Sunan An Nasai

جنازہ کے واسطے کھڑے نہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمِ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ: أَلَيْسَ قَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ، ثُمَّ جَلَسَ.

محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ ایک جنازہ حسن بن علی اور ابن عباس ؓ کے پاس سے گزرا، تو حسن ؓ کھڑے ہوگئے، اور ابن عباس ؓ نہیں کھڑے ہوئے، تو حسن ؓ نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ ایک یہودی کا جنازہ (دیکھ کر) کھڑے نہیں ہوئے تھے؟ تو ابن عباس ؓ نے کہا: ہاں، پھر بیٹھے رہنے لگے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Muhammad that: a funeral passed by Al-Hasan bin Ali and Ibn Abbas. Al-Hasan stood up but Ibn Abbas did not/ Al-Hasan said: Didnt the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stand up for the funeral of a Jew? Ibn Abbas said: Yes, then he sat down."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1924
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پھر اس کے بعد کسی جنازے کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوئے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٣٤٠٩)، مسند احمد ١/٢٠٠، ٢٠١، ٣٣٧، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ١٩٢٦، ١٩٢٧، ١٩٢٨ (صحیح الإسناد )
1926Sunan An Nasai

جنازہ کے واسطے کھڑے نہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قال: مُرَّ بِجَنَازَةٍ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمِ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَمَا قَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَامَ لَهَا ثُمَّ قَعَدَ.

اس سند سے بھی ابن سیرین کہتے ہیں کہ حسن بن علی اور ابن عباس ؓ کے قریب سے ایک جنازہ گزرا، تو حسن ؓ کھڑے ہوگئے، اور ابن عباس ؓ نہیں کھڑے ہوئے، تو حسن ؓ نے ابن عباس سے کہا: کیا اس کے لیے رسول اللہ ﷺ کھڑے نہیں ہوئے تھے؟ تو ابن عباس ؓ نے کہا: کھڑے ہوئے تھے پھر بیٹھے رہنے لگے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Sirin said: "A funeral passed by Al-Hasan bin Ali and Ibn Abbas. Al-Hasan stood up but Ibn Abbas did not. Al-Hasan said to Ibn Abbas: Didnt the Messengr of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stand up for it? Ibn Abbas said: He stood up for it then he sat."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1925
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور نے اس سے کھڑے ہونے والی روایت کے منسوخ ہونے پر استدلال کیا ہے، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا کھڑا نہ ہونا بیان جواز کے لیے رہا ہو، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح الإسناد )
1927Sunan An Nasai

جنازہ کے واسطے کھڑے نہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّمَرَّتْ بِهِمَا جِنَازَةٌ فَقَامَ أَحَدُهُمَا وَقَعَدَ الآخَرُ، فَقَالَ الَّذِي قَامَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَامَ، قَالَ لَهُ الَّذِي جَلَسَ: لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَسَ.

اس سند سے بھی ابن عباس رضی الله عنہما اور حسن بن علی رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان دونوں کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو ان میں سے ایک کھڑے ہوگئے، اور دوسرے بیٹھے رہے، تو جو کھڑے ہوگئے تھے انہوں نے کہا: سنو! اللہ کی قسم! مجھے یہی معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تھے، تو جو بیٹھے رہ گئے تھے انہوں نے کہا: مجھے (یہ بھی) معلوم ہو کہ رسول اللہ ﷺ (بعد میں) بیٹھے رہنے لگے تھے۔

It was narrated from Ibn Abbas and Al-Hasan bin Ali that: a funeral passed by them and one of them stood and the other sat. The one who stood up said: "By Allah, I know that the Messnger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up." The one who was sitting said: "I know that the Messenger of Allah sat."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1926
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٩٢٥ (صحیح الإسناد )
1928Sunan An Nasai

جنازہ کے واسطے کھڑے نہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ كَانَ جَالِسًا فَمُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ، فَقَامَ النَّاسُ حَتَّى جَاوَزَتِ الْجَنَازَةُ، فَقَالَ الْحَسَنُ: إِنَّمَا مُرَّ بِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى طَرِيقِهَا جَالِسًا، فَكَرِهَ أَنْ تَعْلُوَ رَأْسَهُ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَامَ.

محمد بن علی الباقر کہتے ہیں کہ حسن بن علی ؓ بیٹھے تھے کہ ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ جنازہ گزر گیا، تو حسن ؓ نے کہا: ایک یہودی کا جنازہ گزرا، رسول اللہ ﷺ اسی راستے میں بیٹھے تھے تو آپ نے ناپسند کیا کہ ایک یہودی کا جنازہ آپ کے سر سے بلند ہو تو آپ کھڑے ہوگئے ١ ؎۔

It was narrated from Jafar bin Muhammad from his father that: Al-Hasan bin Ali was sitting when a funeral passed by. The People stood until the funeral had passed, and Al-Hasan said: "The funeral of Jew passed by when the Messenger of Allah was sitting in its path, and he did not want the funeral of a Jew to pass over his head, so he stood up."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1927
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ تاویل حسن رضی الله عنہ کی ہے جو ان کے ذہن میں آئی، لیکن احادیث سے جو بات سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ اس کی وجہ موت کی ہیبت اور اس کی سنگینی تھیں جیسا کہ إن للموت فزعاً والی روایت سے ظاہر ہے، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی متعدد وجہیں رہی ہوں، ان میں سے ایک یہ بھی ہو کیونکہ ایک روایت میں ہے: ہم فرشتوں کی تکریم میں کھڑے ہوئے ہیں نہ کہ جنازہ کی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٩٢٥ (صحیح الإسناد )
1929Sunan An Nasai

جنازہ کے واسطے کھڑے نہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک یہودی کے جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے جو آپ کے پاس سے گزرا یہاں تک کہ وہ (نظروں سے) اوجھل ہوگیا۔

Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir say: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and his Companions stood up for the funeral of Jew that passed by him, until it disappeared."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1928
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٢٤ (٩٥٨، ٩٥٩)، (تحفة الأشراف: ٢٨١٨)، مسند احمد ٣/٢٩٥، ٣٤٦ (صحیح )
1930Sunan An Nasai

جنازہ کے واسطے کھڑے نہ ہونے سے متعلق

وأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَيْضًا، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ حَتَّى تَوَارَتْ.

اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب ایک یہودی کے جنازے کے لیے سے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ وہ (نظروں سے) اوجھل ہوگیا۔

Jabir said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and his Companions stood up for the funeral of a Jew until it disappeared."

صحيح أيضاًصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1928
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1931Sunan An Nasai

جنازہ کے واسطے کھڑے نہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قال: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ، فَقِيلَ: إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، فَقَالَ: إِنَّمَا قُمْنَا لِلْمَلَائِكَةِ.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک جنازہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ کھڑے ہوگئے، آپ سے کہا گیا: یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہم فرشتوں (کی تکریم میں) کھڑے ہوئے ہیں، (نہ کہ جنازہ کی) ۔

It was narrated from Anas that: a funeral passed by the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he stood up. It was said: "It is the funeral of a Jew." He said: "We stood up for the angels."

صحيح أيضاًصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1929
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٦٢) (صحیح الإسناد )
1932Sunan An Nasai

مومن کے موت سے آرام حاصل کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ: مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ، فَقَالُوا: مَا الْمُسْتَرِيحُ وَمَا الْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ ؟ قَالَ: الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ.

ابوقتادہ بن ربعی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو آپ نے فرمایا: (یہ) مستریح ہے یا مستراح منہ ہے، تو لوگوں نے پوچھا: مستریح اور مستراح منہ سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بندہ مومن (موت کے بعد) دنیا کی بلا اور تکلیف سے راحت پا لیتا ہے، اور فاجر ١ ؎ بندہ مرتا ہے تو اس سے اللہ کے بندے، بستیاں، پیڑ پودے، اور چوپائے (سب) راحت پالیتے ہیں ۔

It was narrated from Abu Qatadah bin Raibi that he used to narrate: "A funeral passed by the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: He is relieved and others are relieved of him. They said: What does relieved mean and what does relieved of him mean: He said: "The believing slave is relieved of the hardships and troubles of this world, and the people, the land, the trees and the animals are relieved of the immoral slave."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1930
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے کہا ہے فاجر سے مراد کافر ہے کیونکہ یہاں مومن کے بالمقابل استعمال ہوا ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ اسے کافر اور فاجر دونوں کے لیے عام مانا جائے، کیونکہ کافر کی طرح فاجر مسلمان بھی بندگان اللہ کو اپنے مظالم کا شکار بناتے ہیں، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٤٢ (٦٥١٢)، صحیح مسلم/الجنائز ٢١ (٩٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٢١٢٨)، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٥٤)، مسند احمد ٥/٢٩٦، ٢٠٢، ٣٠٤ (صحیح )
1933Sunan An Nasai

مومن کے موت سے آرام حاصل کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قال: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَتْ جَنَازَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ، الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ فَيَسْتَرِيحُ مِنْ أَوْصَابِ الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا وَأَذَاهَا، وَالْفَاجِرُ يَمُوتُ فَيَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ.

ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک جنازہ نظر آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ مستریح ہے یا مستراح منہ ہے، (کیونکہ) جب مومن مرتا ہے تو دنیا کی مصیبتوں، بلاؤں اور تکلیفوں سے نجات پا لیتا ہے، اور فاجر مرتا ہے تو اس سے (اللہ کے) بندے، ملک و شہر، پیڑ پودے، اور چوپائے (سب) راحت پالیتے ہیں ۔

It was narrated that Abu Qatadah said: "We were sitting with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when a funeral appeared. The Messenger of Allah said: He is relieved and others are relieved of him. When the believer dies he is relieved of the calamities, hardships and troubles of this world, and when the evildoer dies, the people, the land, the trees and the animals are relieved of him."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1931
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1934Sunan An Nasai

مردے کی تعریف کرنا

أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قال: مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ، فَقَالَ عُمَرُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقُلْتَ: وَجَبَتْ، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقُلْتَ: وَجَبَتْ، فَقَالَ: مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: واجب ہوگئی ، (پھر) ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی مذمت کی گئی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: واجب ہوگئی ، تو عمر ؓ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہوگئی پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا تو اس کی مذمت کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہوگئی؟، تو آپ نے فرمایا: تم لوگوں نے جس کی تعریف کی تھی اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، اور جس کی مذمت کی تھی اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی، تم ١ ؎ روئے زمین پر اللہ کے گواہ ہو ۔

It was narrated that Anas said: "A funeral passed by and the deceased was praised." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is granted." Another funeral passed by and the deceased was criticized. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is granted." Umar said: "May my father and mother be ransomed for you. One funeral passed by and the deceased was praised, and you said, It is granted?" He said: "Whoever is praised will be granted Paradise, and whoever is criticized will be granted Hell, You are the witnesses of Allah on Earth."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1932
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے کہا ہے یہ خطاب صحابہ کرام رضی الله عنہم کے ساتھ مخصوص ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس خطاب میں صحابہ رضی الله عنہم کرام کے ساتھ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ان کے طریقہ پر کاربند ہوں۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ٨٥ (١٣٦٧)، والشھادات ٦ (٢٦٤٢)، صحیح مسلم/الجنائز ٢٠ (٩٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٤)، سنن الترمذی/الجنائز ٦٣ (١٠٥٨)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٠ (١٤٩١)، مسند احمد ٣/١٧٩، ١٨٦، ١٩٧، ٢٤٥، ٢٨١ (صحیح )
1935Sunan An Nasai

مردے کی تعریف کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَامِرٍ، وَجَدَّهُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَرُّوا بِجَنَازَةٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَوْلُكَ الْأُولَى وَالْأُخْرَى وَجَبَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَلَائِكَةُ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي السَّمَاءِ وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ لے کر گزرے، تو لوگوں نے اس کی تعریف کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : واجب ہوگئی ، پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے، تو لوگوں نے اس کی مذمت کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: واجب ہوگئی ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کے پہلی بار اور دوسری بار وجبت کہنے سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فرشتے آسمان پر اللہ کے گواہ ہیں، اور تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "A funeral passed by the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and they praised (the deceased). The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: It is granted. Then another funeral passed by and they criticized (the deceased). The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: It is granted. They said: O Messenger of Allah, you said in both cases, It is granted? The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The angels are the witnesses of Allah in heaven, and you are the witnesses of Allah on Earth."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1933
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٨٠ (٣٢٣٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٠ (١٤٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٣٨)، مسند احمد ٢/٤٦٦، ٤٧٠ (صحیح )
1936Sunan An Nasai

مردے کی تعریف کرنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قال: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثِ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا شَرًّا، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، فَقُلْتُ: وَمَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قال: قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ قَالُوا خَيْرًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، قُلْنَا: أَوْ ثَلَاثَةٌ، قَالَ: أَوْ ثَلَاثَةٌ، قُلْنَا: أَوِ اثْنَانِ، قَالَ: أَوِ اثْنَانِ.

ابو اسود دیلی کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو عمر بن خطاب ؓ کے پاس بیٹھا اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی تعریف کی گئی تو عمر ؓ نے کہا: واجب ہوگئی، پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی (بھی) تعریف کی گئی، تو عمر ؓ نے کہا: واجب ہوگئی، پھر ایک تیسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی مذمت کی گئی، تو عمر ؓ نے کہا: واجب ہوگئی، تو میں نے پوچھا: امیر المؤمنین! کیا واجب ہوگئی؟ انہوں نے کہا: میں نے وہی بات کہی جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی: جس مسلمان کے لیے بھی چار لوگوں نے خیر کی گواہی دی تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا ، ہم نے پوچھا: (اگر) تین گواہی دیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تین ہی سہی ، (پھر) ہم نے پوچھا: (اگر) دو گواہی دیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: دو ہی سہی ۔

It was narrated that Abu Aswad Ad-Dili said: "I came to Al-Madinah and sat with Umar bin Al-Khattab. A funeral passed by and the deceased was praised, and Umar said: It is granted. Then another passed by and the deceased was praised, and Umar Said: It is granted. Then a third passed by, and the deceased was criticized, and Umar said: It is granted. I said: What is granted, O commander of the believers? He said: I said what the Messenger of Allah said: Any Muslim for whom four people bear witness and say good things, Allah will admit him to Paradise. We said: Or three? He said: Or three. We said: Or two? He said: Or two."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1934
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٥ (١٣٦٨)، والشھادات ٦ (٢٦٤٣)، سنن الترمذی/الجنائز ٦٣ (١٠٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٧٢)، مسند احمد ١/٢١، ٢٢، ٤٥، ٣٠، ٤٦ (صحیح )
1937Sunan An Nasai

مرنے والے کا تذکرہ بہتر طریقہ سے کرنا چاہیے

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَالِكٌ بِسُوءٍ، فَقَالَ: لَا تَذْكُرُوا هَلْكَاكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک مرے ہوئے شخص کا ذکر برائی سے کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: تم اپنے مردوں کا ذکر صرف بھلائی کے ساتھ کیا کرو ۔

It was narrated that Aishah said: "Something bad was said in the presence of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about a person who had died. He said: Do not say anything but good about your dead."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1935
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧٨٦٢) (صحیح )
1938Sunan An Nasai

مردوں کو برا کہنے کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے مردوں کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جو کچھ آگے بھیجا تھا، اس تک پہنچ چکے ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do not verbally abuse the dead, for they have reached the consequences of what they did."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1936
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انہیں اپنے اعمال کی جزا و سزا مل رہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٩٧ (١٣٩٣)، والرقاق ٤٢ (٦٥١٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٧٦)، مسند احمد ٦/١٨٠، سنن الدارمی/السیر ٦٨ (٢٥٥٣) (صحیح )