ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ جنازے کے ساتھ ہوں، (اور) بیٹھ گئے ہوں یہاں تک کہ وہ رکھ دیا جائے۔
It was narrated that Abu Hurairah and Abu Saeed said: "We never saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) attend any funeral where he sat down until (the body) was placed (in the grave)."
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1918
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ (لے کر) گزرے، تو آپ کھڑے ہوگئے، اور عمرو بن علی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہوگئے۔
It was narrated from Abu Saeed that a funeral passed by the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he stood up. (One of the narrators) Amr said: "If a funeral passed by the Messenger of Allah he would stand up."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1919
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے (اتنے میں) ایک جنازہ نظر آیا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے، اور جو ان کے ساتھ تھے وہ بھی کھڑے ہوگئے، تو وہ لوگ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ وہ نکل گیا۔
It was narrated form Yazid bin Thabit: That they were sitting with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when a funeral appeared. The Messenger of Allah stood up, and those who were with him stood up, until it had passed by.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1920
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد بن عبادہ ؓ قادسیہ میں تھے۔ ان دونوں کے قریب سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو دونوں کھڑے ہوگئے تو ان سے کہا گیا: یہ تو ذمی ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا تو آپ کھڑے ہوگئے، تو آپ سے عرض کیا گیا یہ تو یہودی ہے؟ تو آپ ﷺ نے کہا: کیا یہ روح نہیں ہے؟ ۔
It was narrated that Abdur-Rahman bin Abi Laila said: "Sahl bin Hunaif and Qais bin Sad bin Ubadah were in Al-Qadisiyyah when a funeral passed by them, so they stood up and it was said to them: It is one of the local people. They said: A funeral passed the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he stood up, and it was said to him: It Is a Jew. He said: Is it not a soul?"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1921
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک جنازہ ہمارے پاس سے گزرا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے، اور آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہوگئے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ جنازہ (ایک) یہودی عورت کا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: موت ایک قسم کی ہیبت ہے، تو جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، یہ الفاظ خالد کے ہیں۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "A funeral passed by us and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up and we stood with him. I said: O Messenger of Allah, it is a Jewish funeral. He said: Death is something terrifying, so if you see a funeral, stand up," This is the wording of Khalid.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1922
ابومعمر کہتے ہیں کہ ہم علی ؓ کے پاس تھے (اتنے میں) ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہوگئے، تو علی ؓ نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوموسیٰ اشعری کا حکم ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ایک یہودی عورت کے جنازے کے لیے کھڑے ہوئے تھے، (پھر) اس کے بعد آپ کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔
It was narrated that Abu Mamar said: "We were with Ali and a funeral passed by him, and they stood up for it. Ali said: "What is this? They said: The command of Abu Musa. He said: Rather the Messenger of Allah stood up for a Jewish funeral but he did not do it again."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1923
محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ ایک جنازہ حسن بن علی اور ابن عباس ؓ کے پاس سے گزرا، تو حسن ؓ کھڑے ہوگئے، اور ابن عباس ؓ نہیں کھڑے ہوئے، تو حسن ؓ نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ ایک یہودی کا جنازہ (دیکھ کر) کھڑے نہیں ہوئے تھے؟ تو ابن عباس ؓ نے کہا: ہاں، پھر بیٹھے رہنے لگے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Muhammad that: a funeral passed by Al-Hasan bin Ali and Ibn Abbas. Al-Hasan stood up but Ibn Abbas did not/ Al-Hasan said: Didnt the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stand up for the funeral of a Jew? Ibn Abbas said: Yes, then he sat down."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1924
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پھر اس کے بعد کسی جنازے کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوئے۔
اس سند سے بھی ابن سیرین کہتے ہیں کہ حسن بن علی اور ابن عباس ؓ کے قریب سے ایک جنازہ گزرا، تو حسن ؓ کھڑے ہوگئے، اور ابن عباس ؓ نہیں کھڑے ہوئے، تو حسن ؓ نے ابن عباس سے کہا: کیا اس کے لیے رسول اللہ ﷺ کھڑے نہیں ہوئے تھے؟ تو ابن عباس ؓ نے کہا: کھڑے ہوئے تھے پھر بیٹھے رہنے لگے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Sirin said: "A funeral passed by Al-Hasan bin Ali and Ibn Abbas. Al-Hasan stood up but Ibn Abbas did not. Al-Hasan said to Ibn Abbas: Didnt the Messengr of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stand up for it? Ibn Abbas said: He stood up for it then he sat."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1925
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور نے اس سے کھڑے ہونے والی روایت کے منسوخ ہونے پر استدلال کیا ہے، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا کھڑا نہ ہونا بیان جواز کے لیے رہا ہو، واللہ اعلم۔
اس سند سے بھی ابن عباس رضی الله عنہما اور حسن بن علی رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان دونوں کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو ان میں سے ایک کھڑے ہوگئے، اور دوسرے بیٹھے رہے، تو جو کھڑے ہوگئے تھے انہوں نے کہا: سنو! اللہ کی قسم! مجھے یہی معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تھے، تو جو بیٹھے رہ گئے تھے انہوں نے کہا: مجھے (یہ بھی) معلوم ہو کہ رسول اللہ ﷺ (بعد میں) بیٹھے رہنے لگے تھے۔
It was narrated from Ibn Abbas and Al-Hasan bin Ali that: a funeral passed by them and one of them stood and the other sat. The one who stood up said: "By Allah, I know that the Messnger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stood up." The one who was sitting said: "I know that the Messenger of Allah sat."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1926
محمد بن علی الباقر کہتے ہیں کہ حسن بن علی ؓ بیٹھے تھے کہ ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ جنازہ گزر گیا، تو حسن ؓ نے کہا: ایک یہودی کا جنازہ گزرا، رسول اللہ ﷺ اسی راستے میں بیٹھے تھے تو آپ نے ناپسند کیا کہ ایک یہودی کا جنازہ آپ کے سر سے بلند ہو تو آپ کھڑے ہوگئے ١ ؎۔
It was narrated from Jafar bin Muhammad from his father that: Al-Hasan bin Ali was sitting when a funeral passed by. The People stood until the funeral had passed, and Al-Hasan said: "The funeral of Jew passed by when the Messenger of Allah was sitting in its path, and he did not want the funeral of a Jew to pass over his head, so he stood up."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1927
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ تاویل حسن رضی الله عنہ کی ہے جو ان کے ذہن میں آئی، لیکن احادیث سے جو بات سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ اس کی وجہ موت کی ہیبت اور اس کی سنگینی تھیں جیسا کہ إن للموت فزعاً والی روایت سے ظاہر ہے، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی متعدد وجہیں رہی ہوں، ان میں سے ایک یہ بھی ہو کیونکہ ایک روایت میں ہے: ہم فرشتوں کی تکریم میں کھڑے ہوئے ہیں نہ کہ جنازہ کی۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک یہودی کے جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے جو آپ کے پاس سے گزرا یہاں تک کہ وہ (نظروں سے) اوجھل ہوگیا۔
Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir say: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and his Companions stood up for the funeral of Jew that passed by him, until it disappeared."
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1928
اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب ایک یہودی کے جنازے کے لیے سے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ وہ (نظروں سے) اوجھل ہوگیا۔
Jabir said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and his Companions stood up for the funeral of a Jew until it disappeared."
صحيح أيضاًصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1928
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک جنازہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ کھڑے ہوگئے، آپ سے کہا گیا: یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہم فرشتوں (کی تکریم میں) کھڑے ہوئے ہیں، (نہ کہ جنازہ کی) ۔
It was narrated from Anas that: a funeral passed by the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he stood up. It was said: "It is the funeral of a Jew." He said: "We stood up for the angels."
صحيح أيضاًصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1929
ابوقتادہ بن ربعی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو آپ نے فرمایا: (یہ) مستریح ہے یا مستراح منہ ہے، تو لوگوں نے پوچھا: مستریح اور مستراح منہ سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بندہ مومن (موت کے بعد) دنیا کی بلا اور تکلیف سے راحت پا لیتا ہے، اور فاجر ١ ؎ بندہ مرتا ہے تو اس سے اللہ کے بندے، بستیاں، پیڑ پودے، اور چوپائے (سب) راحت پالیتے ہیں ۔
It was narrated from Abu Qatadah bin Raibi that he used to narrate: "A funeral passed by the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: He is relieved and others are relieved of him. They said: What does relieved mean and what does relieved of him mean: He said: "The believing slave is relieved of the hardships and troubles of this world, and the people, the land, the trees and the animals are relieved of the immoral slave."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1930
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے کہا ہے فاجر سے مراد کافر ہے کیونکہ یہاں مومن کے بالمقابل استعمال ہوا ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ اسے کافر اور فاجر دونوں کے لیے عام مانا جائے، کیونکہ کافر کی طرح فاجر مسلمان بھی بندگان اللہ کو اپنے مظالم کا شکار بناتے ہیں، واللہ اعلم۔
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک جنازہ نظر آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ مستریح ہے یا مستراح منہ ہے، (کیونکہ) جب مومن مرتا ہے تو دنیا کی مصیبتوں، بلاؤں اور تکلیفوں سے نجات پا لیتا ہے، اور فاجر مرتا ہے تو اس سے (اللہ کے) بندے، ملک و شہر، پیڑ پودے، اور چوپائے (سب) راحت پالیتے ہیں ۔
It was narrated that Abu Qatadah said: "We were sitting with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when a funeral appeared. The Messenger of Allah said: He is relieved and others are relieved of him. When the believer dies he is relieved of the calamities, hardships and troubles of this world, and when the evildoer dies, the people, the land, the trees and the animals are relieved of him."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1931
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: واجب ہوگئی ، (پھر) ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی مذمت کی گئی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: واجب ہوگئی ، تو عمر ؓ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہوگئی پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا تو اس کی مذمت کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہوگئی؟، تو آپ نے فرمایا: تم لوگوں نے جس کی تعریف کی تھی اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، اور جس کی مذمت کی تھی اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی، تم ١ ؎ روئے زمین پر اللہ کے گواہ ہو ۔
It was narrated that Anas said: "A funeral passed by and the deceased was praised." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is granted." Another funeral passed by and the deceased was criticized. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is granted." Umar said: "May my father and mother be ransomed for you. One funeral passed by and the deceased was praised, and you said, It is granted?" He said: "Whoever is praised will be granted Paradise, and whoever is criticized will be granted Hell, You are the witnesses of Allah on Earth."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1932
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے کہا ہے یہ خطاب صحابہ کرام رضی الله عنہم کے ساتھ مخصوص ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس خطاب میں صحابہ رضی الله عنہم کرام کے ساتھ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ان کے طریقہ پر کاربند ہوں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ لے کر گزرے، تو لوگوں نے اس کی تعریف کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : واجب ہوگئی ، پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے، تو لوگوں نے اس کی مذمت کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: واجب ہوگئی ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کے پہلی بار اور دوسری بار وجبت کہنے سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فرشتے آسمان پر اللہ کے گواہ ہیں، اور تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "A funeral passed by the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and they praised (the deceased). The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: It is granted. Then another funeral passed by and they criticized (the deceased). The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: It is granted. They said: O Messenger of Allah, you said in both cases, It is granted? The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The angels are the witnesses of Allah in heaven, and you are the witnesses of Allah on Earth."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1933
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٨٠ (٣٢٣٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٠ (١٤٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٣٨)، مسند احمد ٢/٤٦٦، ٤٧٠ (صحیح )
ابو اسود دیلی کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو عمر بن خطاب ؓ کے پاس بیٹھا اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی تعریف کی گئی تو عمر ؓ نے کہا: واجب ہوگئی، پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی (بھی) تعریف کی گئی، تو عمر ؓ نے کہا: واجب ہوگئی، پھر ایک تیسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی مذمت کی گئی، تو عمر ؓ نے کہا: واجب ہوگئی، تو میں نے پوچھا: امیر المؤمنین! کیا واجب ہوگئی؟ انہوں نے کہا: میں نے وہی بات کہی جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی: جس مسلمان کے لیے بھی چار لوگوں نے خیر کی گواہی دی تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا ، ہم نے پوچھا: (اگر) تین گواہی دیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تین ہی سہی ، (پھر) ہم نے پوچھا: (اگر) دو گواہی دیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: دو ہی سہی ۔
It was narrated that Abu Aswad Ad-Dili said: "I came to Al-Madinah and sat with Umar bin Al-Khattab. A funeral passed by and the deceased was praised, and Umar said: It is granted. Then another passed by and the deceased was praised, and Umar Said: It is granted. Then a third passed by, and the deceased was criticized, and Umar said: It is granted. I said: What is granted, O commander of the believers? He said: I said what the Messenger of Allah said: Any Muslim for whom four people bear witness and say good things, Allah will admit him to Paradise. We said: Or three? He said: Or three. We said: Or two? He said: Or two."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1934
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک مرے ہوئے شخص کا ذکر برائی سے کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: تم اپنے مردوں کا ذکر صرف بھلائی کے ساتھ کیا کرو ۔
It was narrated that Aishah said: "Something bad was said in the presence of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about a person who had died. He said: Do not say anything but good about your dead."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1935
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے مردوں کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جو کچھ آگے بھیجا تھا، اس تک پہنچ چکے ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do not verbally abuse the dead, for they have reached the consequences of what they did."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1936
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انہیں اپنے اعمال کی جزا و سزا مل رہی ہے۔