ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنائے گئے جن میں نہ تو قمیص تھی اور نہ عمامہ (پگڑی) ۔
It was narrated that Aishah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was shrouded in three white Suhuli garments that does not include shirt and turban."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1898
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو تین سفید یمنی سوتی کپڑوں میں کفنایا گیا جس میں نہ تو قمیص تھی، اور نہ عمامہ (پگڑی) ، ام المؤمنین عائشہ ؓ سے دو کپڑوں اور ایک یمنی چادر کے متعلق لوگوں کی گفتگو کا ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا: چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے لوٹا دیا، اور آپ کو اس میں نہیں کفنایا تھا۔
Hisham narrated from his father, from Aishah that: the Messenger of Allah was shrouded in three white Yemeni garments of cotton, among which was no shirt and no turban. It was mentioned to Aishah that they said: "He was buried in two garments and a Burd made of Hibrah." She said: "A Burd was brought, but they sent it back and did not shroud him in it."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1899
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی (منافق) مرگیا، تو اس کے بیٹے (عبداللہ ؓ) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، (اور) عرض کیا: (اللہ کے رسول! ) آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ میں اس میں انہیں کفنا دوں، اور آپ ان پر نماز (جنازہ) پڑھ دیجئیے، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی کر دیجئیے، تو آپ ﷺ نے اپنی قمیص انہیں دے دی، پھر فرمایا: جب تم فارغ ہو لو تو مجھے خبر کرو میں ان کی نماز (جنازہ) پڑھوں گا (اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے) تو عمر ؓ نے آپ کو کھینچا، اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین پر نماز (جنازہ) پڑھنے سے منع فرمایا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں دو اختیارات کے درمیان ہوں (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: استغفر لهم أو لا تستغفر لهم تم ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو دونوں برابر ہے (التوبہ: ٨٠ ) چناچہ آپ نے اس کی نماز (جنازہ) پڑھی، تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی: ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره تم ان (منافقین) میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور نہ ہی ان کی قبر پر کھڑے ہو (التوبہ: ٨٤ ) تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھنا چھوڑ دیا۔
It was narrated that Abdullah bin Umar said: "When Abdullah bin Ubayy died, his son came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: Give me your shirt so that I may shroud him in it, and (some and) offer the (funeral) prayer for him, and pray for forgiveness for him. So he gave him his shirt then he said: When you have finished, inform me and I will offer the (funeral) prayer for him. But Umar stopped him and said: Hasnt Allah forbidden you to offer the (funeral) prayer for the hypocrites? He said: I have two options. Whether you ask forgiveness for them (hypocrites) or ask no forgiveness for them." So he offered the (funeral) prayer for him. Then Allah, Most High, revealed: And never pray (funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave. So he stopped offering the (funeral) prayer for them."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1900
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عبداللہ بن ابی کی قبر پر آئے، اور اسے اس کی قبر میں رکھا جا چکا تھا، تو آپ اس پر کھڑے ہوئے، اور اس کے نکالنے کا حکم دیا تو اسے نکالا گیا، تو آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، اور اپنی قمیص پہنائی اور اس پر تھو تھو کیا، واللہ تعالیٰ اعلم۔
It was narrated from Sufyan, from Amr who said he heard Jabir say: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to the grave of Abdullah bin Ubayy when he had been placed in his grave and stood over it. He commanded that he be brought out to him and placed on his knees, and he dressed him in his shirt and blew on him (for blessing). And Allah knows best."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1901
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب ؓ مدینے میں تھے، تو انصار نے ایک کپڑا تلاش کیا جو انہیں پہنائیں، تو عبداللہ بن ابی کی قمیص کے سوا کوئی قمیص نہیں ملی جو ان پر فٹ آتی، تو انہوں نے انہیں وہی پہنا دیا ١ ؎۔
It was narrated that Amr heard Jabir say: "And Al-Abass was in Al-Madinah, and he asked the Ansar for a garment to clothe him in, but they could not find a shirt that would fit him except the shirt of Abdullah bin Ubayy, so they clothed him in it."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1902
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اسی احسان کے بدلے کے طور پر آپ نے مرنے پر عبداللہ بن ابی کو اپنی قمیص دی۔
خباب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی، ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہ رہے تھے، اللہ تعالیٰ پر ہمارا اجر ثابت ہوگیا، پھر ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو مرگئے (اور) اس اجر میں سے (دنیا میں) کچھ بھی نہیں چکھا، انہیں میں سے مصعب بن عمیر ؓ ہیں، جو جنگ احد میں قتل کئے گئے، تو ہم نے سوائے ایک (چھوٹی) دھاری دار چادر کے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جس میں انہیں کفناتے، جب ہم ان کا سر ڈھکتے تو پیر کھل جاتا، اور جب پیر ڈھکتے تو سر کھل جاتا، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھک دیں اور ان کے پیروں پہ اذخر نامی گھاس ڈال دیں، اور ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کے پھل پکے اور وہ اسے چن رہے ہیں (یہ الفاظ اسماعیل کے ہیں) ۔
Khabbab said: "We emigrated with the Messenger of Allah, seeking the Face of Allah, the Most High, so our reward became due from Allah. Some of us died without enjoying anything of his reward (in this world) among them is Musab bin Umair. He was matyred on the day of Uhud and we could not find anything to shroud him in except a Namirah; if we covered his head with it, his feet were uncovered, and if we covered his feet with it, his head became uncovered. The Messenger of Allah told us to cover his head with it and to put Idhkhir over his feet. And for some of us, the fruits of our labor have ripened and we are gathering them." This is the wording of Ismail
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1903
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: محرم کو اس کے ان ہی دونوں کپڑوں میں غسل دو جن میں وہ احرام باندھے ہوئے تھا، اور اسے پانی اور بیر (کے پتوں) سے نہلاؤ، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفناؤ، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ ہی اس کا سر ڈھکو، کیونکہ وہ قیامت کے دن احرام باندھے ہوئے اٹھے گا ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah said: Wash the Muhrim in the two garments in which he entered Ihram, and wash him with water and lotus leaves, and shroud him in his two garments, and do not put perfume on him nor cover his head, for he will be raised on the Day of Resurrection in Ihram."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1904
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک مسکین عورت بیمار ہوگئی، رسول اللہ ﷺ کو اس کی بیماری کی خبر دی گئی (رسول اللہ ﷺ مسکینوں اور غریبوں کی بیمار پرسی کرتے اور ان کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے) تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب یہ مرجائے تو مجھے خبر کرنا ، رات میں اس کا جنازہ لے جایا گیا (تو) لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو بیدار کرنا مناسب نہ جانا، جب رسول اللہ ﷺ نے صبح کی تو (رات میں) جو کچھ ہوا تھا آپ کو اس کی خبر دی گئی، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ مجھے اس کی خبر کرنا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو رات میں جگانا نا مناسب سمجھا، رسول اللہ ﷺ (اپنے صحابہ کے ساتھ) نکلے یہاں تک کہ اس کی قبر پہ لوگوں کی صف بندی ١ ؎ کی اور چار تکبیریں کہیں۔
It was narrated from Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif that: a poor woman fell sick and the Messenger of Allah was informed of her sickness. The Messenger of Allah used to visit the poor when they were sick and ask about them. The Messnger of Allah said: "If she dies, then inform me." Then her funeral took place at night and they did not like to wake the Messenger of Allah. When morning came, the Messenger of Allah was told what had happened to her. He said: "Did I not tell you to inform me?" They said: "O Messenger of Allah, we did not like to wake you up at night." The Messenger of Allah went out and the people lined up by her grave and he said four Takbirs.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1907
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں قبر پر دوبارہ نماز پڑھنے کے جواز کی دلیل ہے، جو لوگ اس کے قائل نہیں ہیں وہ اسے اسی عورت کے ساتھ خاص مانتے ہیں لیکن یہ دعویٰ محتاج دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٣٧)، موطا امام مالک/الجنائز ٥ (١٥)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: ١٩٧١، ١٩٨٣ (صحیح )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب نیک بندہ اپنی چارپائی پہ رکھا جاتا ہے، تو وہ کہتا ہے: مجھے جلدی لے چلو، مجھے جلدی لے چلو، اور جب برا آدمی اپنی چارپائی پہ رکھا جاتا ہے، تو کہتا ہے: ہائے میری تباہی! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو ۔
It was narrated from Abdullah bin Mihran that Abu Huraiyrah said: "I heard the Messenger of Allah say: When the righteous man is placed on his bier, he says: Take me quickly, take me quickly. And when the bad man is placed on his bier he said: Woe to me! Where are you taking me?"
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1908
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب جنازہ (چارپائی پر) رکھا جاتا ہے (اور) لوگ اسے اپنے کندھوں پہ اٹھاتے ہیں، تو اگر وہ نیکوکار ہوتا ہے تو کہتا ہے: مجھے جلدی لے چلو، مجھے جلدی لے چلو، اور اگر برا ہوتا ہے تو کہتا ہے: ہائے اس کی ہلاکت! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو، اس کی آواز ہر چیز سنتی ہے سوائے انسان کے، اگر انسان اسے سن لے تو بیہوش ہوجائے ۔
Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah said: When the Janazah (prepared body) is placed (on the bier) and the men lift it onto their shoulders, if it was a righteous person it says: Take me quickly, take me quickly. And if it was not a righteous person it says: Woe to me! Where are you taking me! And everything hears its voice except man, and if man heard it he would faint."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1909
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنازے کو تیز لے چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف (جلد) لے جاؤ گے، اور اگر اس کے علاوہ ہے تو وہ ایک شر ہے جسے تم (جلد) اپنی گردنوں سے اتار پھینکو گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah, who attributed it to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "Hasten with the Janazah, for if it was righteous then your are taking it toward something good, and if it was otherwise, then it is an evil of which you are relieving yourselves."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1910
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٥١ (١٣١٥)، صحیح مسلم/الجنائز ١٦ (٩٤٤)، سنن ابی داود/الجنائز ٥٠ (٣١٨١)، سنن الترمذی/الجنائز ٣٠ (١٠١٥)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ١٥ (١٤٧٧)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٤)، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٥٦)، (موقوفاً علی أبي ھریرة)، مسند احمد ٢/٢٤٠ (صحیح )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جنازے کو جلدی لے چلو، کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف جلد لے جاؤ گے، اور اگر بد ہے تو شر کو اپنی گردنوں سے (جلد) اتار پھینکو گے ۔
Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: ,Hsten with the Janazah, for if it was righteous then you are taking it toward something good, and if it was otherwise, then it is an evil of which you are relieving yourselves."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1911
عبدالرحمٰن بن جو شن کہتے ہیں میں عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کے جنازے میں موجود تھا، زیاد نکلے تو وہ چارپائی کے آگے چل رہے تھے، عبدالرحمٰن ؓ کے گھر والوں میں سے کچھ لوگ اور ان کے غلام چارپائی کو سامنے کر کے اپنی ایڑیوں کے بل چلنے لگے، وہ کہہ رہے تھے: آہستہ چلو، آہستہ چلو، اللہ تمہیں برکت دے، تو وہ لوگ رینگنے کے انداز میں چلنے لگے، یہاں تک کہ جب ہم مربد کے راستے میں تھے تو ابوبکرہ ؓ ہمیں ایک خچر پر (سوار) ملے، جب انہوں نے انہیں (ایسا) کرتے دیکھا، تو اپنے خچر پر (سوار) ان کے پاس گئے اور کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا، اور کہا: قسم! اس ذات کی جس نے ابوالقاسم ﷺ کو عزت بخشی، میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے، تو لوگ (یہ سن کر) خوش ہوئے۔
Uyaynah bin Abdur-Rahman bin Jawsh said: "My father told me: I witnessed the funeral of Abdur-Rahamn bin Samurah. Ziyad came out, walking in front of the bier, and some men from the family of Abdur-Rahman and their freed slaves came out, facing the bier and walking backward, saying: Slow down, slow down, may Allah bless you. And they were walking slowly. Then when they were partway to Al-Mrbad, Abu Bakrah joined us on his mule. When he saw what they were doing, he rushed to them on his mule, brandishing his whip, and said: Move on, for by the One Who honored the face of Abu Al-Qasim, I remember when we were with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), we were walking fast, so the people speeded up."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1912
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (صحابہ کرام) کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے۔ یہ الفاظ ہشیم کی روایت کے ہیں۔
It was narrated that Abu Bakrah said: "I remember when we were with the Messnger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and we were walking fast with it (the Janazah)." This is the wording of Hushaim.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1913
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تمہارے (سامنے) سے جنازہ گزرے تو کھڑے ہوجاؤ، (اور) جو (جنازے) کے ساتھ جائے وہ نہ بیٹھے یہاں تک کہ اسے رکھ دیا جائے ۔
It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "When a funeral passes by you, stand up, and whoever follows it, let him not sit down until it is put down (in the grave)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1914
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے (اور) اس کے ساتھ جا نہ رہا ہو تو وہ کھڑا رہے یہاں تک کہ (جنازہ) اس سے آگے نکل جائے یا آگے نکلنے سے پہلے رکھ دیا جائے ۔
It was narrated from Amir bin Rabiah that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "When any one of you sees a funeral and is not walking with it, let him stand up until it has passed him, or until (the body) is placed (in the grave) before it passes him."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1915
عامر بن ربیعہ عدوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ تم سے آگے نکل جائے، یا رکھ دیا جائے ۔
It was narrated form Amir bin Rabiah Al-Adawi that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "When you see a funeral, stand up until it has passed you, or (the body) is placed (in the grave)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1916
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ، (اور) جو اس کے پیچھے پیچھے جا رہا ہو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے وہ نہ بیٹھے ۔
It was narrated that Abu Saeed said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: When you see a funeral, stand up, and whoever follows it, let him not sit down until (the body) is placed (in the grave)."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1917