جنائز کے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 19 · 273 hadiths · Page 4 of 14

1879Sunan An Nasai

موت کی اطلاع پہنچانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْأَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَى زَيْدًا وَجَعْفَرًا قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ خَبَرُهُمْ، فَنَعَاهُمْ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زید اور جعفر کی موت کی اطلاع (کسی آدمی کے ذریعہ) ان کی (موت) کی خبر آنے سے پہلے دی، اس وقت آپ کی دونوں آنکھیں اشکبار تھیں۔

It was narrated from Anas: that the Messenger of Allah announced the news of the death of Zaid and Jafar before news of them came. He announced their death and his eyes were overflowing with tears.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1878
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٤ (١٢٤٦)، والجھاد ٧ (٢٧٩٨)، ١٨٣ (٣٠٦٣)، والمناقب ٢٥ (٣٦٣٠)، و فضائل الصحابة ٢٥ (٣٧٥٧)، والمغازي ٤٤ (٤٢٦٢)، (تحفة الأشراف: ٨٢٠)، مسند احمد ٣/١١٣، ١١٧ (صحیح )
1880Sunan An Nasai

موت کی اطلاع پہنچانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَى لَهُمَا النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، اور فرمایا: اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو ۔

Abu Salamah and Ibn Al-Musayyab narrated that Abu Hurairah told them, that: the Messenger of Allah had told them of the death of An-Najashi, the ruler of Ethiopia, on the day that he died, and he said: "Pray for forgiveness for your brother."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1879
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٦٠ (١٣٢٨)، ومناقب الأنصار ٣٨ (٣٨٨٠)، صحیح مسلم/الجنائز ٢٢ (٩٥١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز ٦٢ (٣٢٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٣١٧٦)، مسند احمد ٢/٥٢٩، ویأتی عند المؤلف برقم: ٢٠٤٤ (صحیح )
1881Sunan An Nasai

موت کی اطلاع پہنچانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَعِيدٌ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ بَصُرَ بِامْرَأَةٍ لَا تَظُنُّ أَنَّهُ عَرَفَهَا، فَلَمَّا تَوَسَّطَ الطَّرِيقَ وَقَفَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ، فَإِذَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: مَا أَخْرَجَكِ مِنْ بَيْتِكِ يَا فَاطِمَةُ ؟، قَالَتْ: أَتَيْتُ أَهْلَ هَذَا الْمَيِّتِ فَتَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ وَعَزَّيْتُهُمْ بِمَيِّتِهِمْ، قَالَ: لَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى، قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَكُونَ بَلَغْتُهَا وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِي ذَلِكَ مَا تَذْكُرُ، فَقَالَ لَهَا: لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: رَبِيعَةُ ضَعِيفٌ.

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ اچانک آپ کی نگاہ ایک عورت پہ پڑی، ہم یہی گمان کر رہے تھے کہ آپ نے اسے نہیں پہچانا ہے، تو جب بیچ راستے میں پہنچے تو آپ کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ وہ (عورت) آپ کے پاس آگئی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی فاطمہ ؓ ہیں، آپ نے ان سے پوچھا: فاطمہ! تم اپنے گھر سے کیوں نکلی ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں اس میت کے گھر والوں کے پاس آئی، میں نے ان کے لیے رحمت کی دعا کی، اور ان کی میت کی وجہ سے ان کی تعزیت کی، آپ نے فرمایا: شاید تم ان کے ساتھ کدیٰ ١ ؎ تک گئی تھیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ! میں وہاں تک کیوں جاتی اس سلسلے میں آپ کو ان باتوں کا ذکر کرتے سن چکی ہوں جن کا آپ ذکر کرتے ہیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: اگر تم ان کے ساتھ وہاں جاتی تو تم جنت نہ دیکھ پاتی یہاں تک کہ تمہارے باپ کے دادا (عبدالمطلب) اسے دیکھ لیں ٢ ؎۔ نسائی کہتے ہیں: ربیعہ ضعیف ہیں۔

Rabiah bin Saif Al-Muafiri narrated from Abu Abdur-Rahman Al-Hubuli, from Abdullah bin Amr, who said: "while we were traveling with the Messenger of Allah, he saw a woman, and did not think that he knew her. When she was halfway to him, he stopped until she reached him, and it was Fatimah, the daughter of the Messenger of Allah. He said to her: What brought you out of your house, O Fatimah? She said: I came to the people of this deceased one to pray for mercy for them, and to offer my condolences to them. He said: Perhaps you went with them to Al-Kuda?" She said: Allah forbid that I should go there. I heard what you said about that. He said: If you had gone there with them, you would never have seen Paradise until the grandfather of your father saw it."

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1880
Notes · وضاحت
١ ؎: کُدَی کُدْیَ ۃ کی جمع ہے جس کے معنی سخت زمین کے ہیں یہاں مراد قبرستان ہے۔ ٢ ؎: یہ جملہ حتیٰ یلج الجمل فی سم الخیاط کے قبیل سے ہے، مراد یہ ہے کہ تم اسے کبھی نہیں دیکھ پاتی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٢٦ (٣١٢٣)، (تحفة الأشراف: ٨٨٥٣)، مسند احمد ٢/١٦٨، ٢٢٣ (ضعیف) (اس کے راوی ” ربیعہ معافری “ منکر روایت کیا کرتے تھے )
1882Sunan An Nasai

مردے کو پانی اور بیری کے پتے سے غسل سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ، وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ.

ام عطیہ انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ١ ؎ کی وفات ہوئی، آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اسے پانی اور بیر (کے پتوں) سے دو تین یا پانچ یا اس سے زیادہ بار اگر مناسب سمجھو غسل دو، اور آخری بار میں کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو (اور) جب تم (غسل سے) فارغ ہو تو مجھے خبر کرو ۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا: اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو ٢ ؎۔

It was narrated from Muhammad bin Sirin that Umm Atiyyah Al-Ansariyyah said: "The Messenger of Allah entered upon us when his daughter died, and said: Wash her three times or five, or more if you think (that is needed), with water and lote leaves, and put some camphor in it the last time, and when you have finished call me. When we finished we called him and he gave us his waist-wrap, and said: Shroud her in it."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1881
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور کے قول کے مطابق یہ زینب رضی الله عنہا تھیں، اور بعض اہل سیر کی رائے ہے کہ یہ ام کلثوم رضی الله عنہا تھیں، صحیح پہلا قول ہے۔ ٢ ؎: شعار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو جسم سے ملا ہو، مطلب یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو پھر کفن پہناؤ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣١ (١٦٧)، والجنائز ٨-١٧ (١٢٥٣-١٢٦٣)، صحیح مسلم/الجنائز ١٢ (٩٣٩)، سنن ابی داود/الجنائز ٣٣ (٣١٤٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ١٥ (٩٩٠)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٨ (١٤٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٤)، موطا امام مالک/الجنائز ١ (٢)، مسند احمد ٦/٨٤، ٨٥، ٤٠٧، ٤٠٨، ویأتی عند المؤلف فی بأرقام: ١٨٨٧، ١٨٨٨، ١٨٩١، ١٨٩٤ (صحیح )
1883Sunan An Nasai

گرم پانی سے غسل سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ ابْنِي فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُهُ: لَا تَغْسِلِ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَهُ، فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا، فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ: مَا قَالَتْ طَالَ عُمْرُهَا، فَلَا نَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِرَتْ مَا عُمِرَتْ.

ام قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرا بیٹا مرگیا، تو میں اس پر رونے لگی اور اس شخص سے جو اسے غسل دے رہا تھا کہا: میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دو کہ اس (مرے کو مزید) مارو، عکاشہ بن محصن ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، اور آپ کو ان کی یہ بات بتائی تو آپ مسکرا پڑے، پھر فرمایا: کیا کہا اس نے؟ اس کی عمردراز ہو ، (راوی کہتے ہیں) تو ہم نہیں جانتے کہ کسی عورت کو اتنی عمر ملی ہو جتنی انہیں ملی ١ ؎۔

It was narrated from Abu Al-Hasan, the freed slave of Umm Qais bint Mihsan, that Umm Qais said: "My son died, and I felt very sad. I said to the one who was washing him: Do not wash my son with cold water and kill him." Ukashah bin Mihsan went to the Messenger of Allah and told him what she had said, and he smiled then said: "What did she say, may Allah give her long life?" And we do not know of any woman who lived as long as she lived.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1882
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ رسول اللہ ﷺ کی دعا طال عمرہا کی برکت تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٨٣٤٦)، مسند احمد ٦/٣٥٥ (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” ابو الحسن “ لین الحدیث ہیں )
1884Sunan An Nasai

میت کا سر دھونا

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَيُّوبُ: سَمِعْتُ حَفْصَةَ، تَقُولُ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ، أَنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ ابْنَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ قُلْتُ: نَقَضْنَهُ وَجَعَلْنَهُ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ.

ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ان عورتوں نے نبی اکرم ﷺ کی بیٹی کے سر کی تین چوٹیاں بنائیں، میں نے پوچھا: اسے کھول کر انہوں نے تین چوٹیاں کردیں، تو انہوں نے کہا: جی ہاں۔

It was narrated from Ayyub: "I heard Hafsah saying: Umm Atiyyah said: They tied the hair of the daughter of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in three braids." I said: Did they undo it, then make three braids? She said: Yes."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1883
Takhrij · تخریج
الجنائز ٩ (١٢٥٤) مطولاً، ١٣ (١٢٥٨)، ١٤ (١٢٦٠)، صحیح مسلم/الجنائز ١٢ (٩٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٨١١٦) (صحیح )
1885Sunan An Nasai

مردے کے دائیں جانب سے غسل شروع کرنا اور مقامات وضو کو پہلے دھونا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ: ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا.

ام عطیہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی کے غسل کے سلسلہ میں فرمایا: ان کے داہنے اعضاء، اور وضو کے مقامات سے نہلانا شروع کرو ۔

It was narrated from Umm Atiyyah that: the Messenger of Allah said concerning the washing of his daughter: "Start on the right and the parts that were washed in wudu."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1884
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣١ (١٦٧)، الجنائز ١٠ (١٢٥٥)، ١١ (١٢٥٦)، صحیح مسلم/الجنائز ١٢ (٩٣٩)، سنن ابی داود/الجنائز ٣٣ (٣١٤٥)، سنن الترمذی/الجنائز ١٥ (٩٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٨١٢٤) (صحیح )
1886Sunan An Nasai

مردے کو طاق مرتبہ غسل سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: مَاتَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُوَمَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا مِنْ خَلْفِهَا.

ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ایک بیٹی انتقال کر گئیں، تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا اور فرمایا: اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دینا، اور طاق بار یعنی تین بار، یا پانچ بار غسل دینا، اگر ضرورت سمجھو تو سات بار دینا، اور آخری بار تھوڑا کافور ملا لینا (اور) جب تم فارغ ہو چکو تو مجھے خبر کرنا ، تو جب ہم (نہلا کر) فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کیا، آپ ﷺ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا، اور فرمایا: اسے (ان کے جسم پہ) لپیٹ دو ، (پھر) ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں، اور انہیں ان کے پیچھے ڈال دیا۔

It was narrated that Umm Atiyyah said: "One of the daughters of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) died, and he sent word to us saying: Wash her with water and lotus leaves, and wash her an odd number of times, three, or five, or seven if you think (that is needed), and put some camphor in it the last time. And when you have finished, inform me. When we finished, we finished, we informed him, and he threw his informed him, and he threw his waist-wrap to us and said: Shroud her in it. And we combed her hair and put it in three braids, and put it behind her."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1885
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ١٧ (١٢٦٣)، صحیح مسلم/الجنائز ١٢ (٩٣٩)، سنن الترمذی/الجنائز ١٥ (٩٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٨١٣٥)، مسند احمد ٦/٤٠٧، ٤٠٨ (صحیح )
1887Sunan An Nasai

مردہ کو پانچ مرتبہ سے زیادہ غسل دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ.

ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی بیٹی کو نہلا رہے تھے، آپ نے فرمایا: انہیں پانی اور بیر (کے پتوں) سے تین یا پانچ بار غسل دو، یا اگر مناسب سمجھو اس سے بھی زیادہ، اور آخری بار کافور یا کافور کی کچھ (مقدار) ملا لینا، اور جب تم فارغ ہوجاؤ تو مجھے خبر کرو ۔ چناچہ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا، اور فرمایا: اسے ان کے جسم سے لپیٹ دو ۔

It was narrated that Umm Atiyyah said: "The Messenger of Allah entered upon us when we were washing his daughter and said: Wash her three times or five, or more if you think (that is necessary), with water and lotus leaves, and put camphor, or some camphor in it the last time. And when you have finished, inform me. When we finished, we informed him, and he threw his waist-wrap to us and said: Shroud her in it."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1886
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٨٨٢ (صحیح )
1888Sunan An Nasai

میت کو سات سے زیادہ مرتبہ غسل دینا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ.

ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ایک بیٹی کی وفات ہوگئی، تو آپ نے ہمیں بلوایا (اور) فرمایا: اسے پانی اور بیر (کے پتوں) سے تین یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر مناسب سمجھو، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی کچھ (مقدار) ملا لینا، اور جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے خبر کرو ۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو ۔

It was narrated that Umm Atiyyah said: "The Messenger of Allah entered upon us while we were washing his daughter and said: Wash her three times, or five or more if you think (that is necessary), with water and lotus leaves, and put camphor, or some camphor in it the last time. And when you have finished, inform me. When we finished, we informed him, and he threw his waist-wrap to us, and said: Shroud her in it."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1887
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٨٨٢ (صحیح )
1889Sunan An Nasai

میت کو سات سے زیادہ مرتبہ غسل دینا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ.

اس سند سے بھی ام عطیہ ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، مگر (اس میں یہ الفاظ ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں تین بار یا پانچ بار یا سات بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر اس کی ضرورت سمجھو ۔

Something similar was narrated from Umm Atiyyah except, that he (the narrator) said: "Three times or five, or seven, or more than that, if you think that (is necessary)."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1888
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٩ (١٢٥٤)، ١٣ (١٢٥٨)، صحیح مسلم/الجنائز ١٢ (٩٣٩)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٨ (١٤٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٨١١٥) (صحیح )
1890Sunan An Nasai

میت کو سات سے زیادہ مرتبہ غسل دینا

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَتِهِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا بِغَسْلِهَا، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ، قَالَتْ: قُلْتُ: وِتْرًا، قَالَ: نَعَمْ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ، وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ.

ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک بیٹی کی وفات ہوگئی، تو آپ نے مجھے انہیں نہلانے کا حکم دیا اور فرمایا: تین بار، یا پانچ بار، یا سات بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو ، تو میں نے کہا: طاق بار؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اور آخری مرتبہ کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو، (اور) جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے باخبر کرنا ، چناچہ جب ہم فارغ ہوئے، ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا، اور فرمایا: اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو ۔

It was narrated that Umm Atiyyah said: "A daughter of the Messenger of Allah died and he told us to wash her. He said: Three times, or five or seven, or more than that, if you think that (is necessary). I said: An odd number? He said: Yes, and put camphor, or some camphor, in (the water) the last time. And when you have finished, inform me. So when you have finished, we informed him, and then gave us his waist-wrap and said: Shroud her in it."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1889
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٨١٤٣) (صحیح )
1891Sunan An Nasai

میت کے غسل میں کافور کی شرکت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ، فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ، قَالَ: أَوْ قَالَتْ حَفْصَةُ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا، قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ،

ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے، آپ نے فرمایا: انہیں پانی اور بیر (کے پتوں) سے تین بار، یا پانچ بار، غسل دو ، یا اس سے زیادہ، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی مقدار ملا لو (اور) جب تم فارغ ہوجاؤ تو مجھے آگاہ کرو ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ کو خبر کی، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے (اس کے جسم سے) لپیٹ دو ، راوی کہتے ہیں یا حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں: اسے تین، پانچ، یا سات بار غسل دو، راوی کہتے ہیں: ام عطیہ ؓ کہتی ہیں: ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں۔

It was narrated from Ayyub, from Muhammad, that Umm Atiyyah said: "The Messenger of Allah came to us when we were washing his daughter. He said: Wash her three times, or five, or more than that if you think that (is necessary), with water and lotus leaves, and put camphor, or some camphor in (the water) the last time. And when you have finished, inform me. When we finished, we informed him and he threw his waist-wrap to us and said: Shroud her in it." He said: "Hafsah said: We washed her three, or five, or seven times. Umm Atiyyah said: We combed her hair into three braids."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1890
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٨٨٢ (صحیح )
1892Sunan An Nasai

میت کے غسل میں کافور کی شرکت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ،

اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔

Ayyub narrated from Muhammad, who said: "Hafsah informed me that Umm Atiyyah said: We put her hair in three braids."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1891
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ١٥ (٩٣٩)، سنن ابی داود/الجنائز ٣٣ (٣١٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٨١٣٣)، مسند احمد ٦/٤٠٧ (صحیح )
1893Sunan An Nasai

میت کے غسل میں کافور کی شرکت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَالَتْ حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَوَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ.

اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔

Hammad reported from Ayyub: "And Hafsah said, from Umm Atiyyah: We put her hair in three braids."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1892
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٨٨٤ (صحیح )
1894Sunan An Nasai

اندر ایک کپڑا لپیٹنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ، يَقُولُ: كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدِمَتْ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ، حَدَّثَتْنَا، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي، فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَيُّ بَنَاتِهِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُهُ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ أَتُؤَزَّرُ بِهِ ؟ قَالَ: لَا أُرَاهُ إِلَّا أَنْ يَقُولَ: الْفُفْنَهَا فِيهِ.

محمد بن سیرین کہتے ہیں ام عطیہ ؓ ایک انصاری عورت تھیں، وہ (بصرہ) آئیں، اپنے بیٹے سے جلد ملنا چاہ رہی تھیں لیکن وہ اسے نہیں پاسکیں، انہوں نے ہم سے حدیث بیان کی، کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں پانی اور بیر (کی پتیوں) سے تین بار، یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھو، اور آخر میں کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لینا (اور) جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے بتاؤ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو ، اور اس سے زیادہ نہیں فرمایا۔ (ایوب نے) کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ آپ کی کون سی بیٹی تھیں، راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا اشعار سے کیا مراد ہے؟ کیا ازار (تہبند) پہنانا مقصود ہے؟ ایوب نے کہا: میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو۔

Muhammad bin Sirin said: "Umm Atiyyah was a woman from among the Ansar who told us: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) entered upon us while we were washing his daughter and said: "Wash her three times, or five, or more than that if you think that (is necessary), with water and lotus leaves, and put camphor, or some camphor in it the last time. And when you have finished, inform me." So when we finished we informed him, and he threw his waist-wrap to us and said: "Shroud her in it." And he did not add to that. He (the narrator) said: "I do not know which of his daughters that was." I said: "What did he mean by: Shroud her in it? Did he mean to put it on like an Izar?" He said: "No, I think he meant to wrap her completely."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1893
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٨٨٢ (صحیح )
1895Sunan An Nasai

اندر ایک کپڑا لپیٹنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ النَّسَائِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ وَاغْسِلْنَهَا بِالسِّدْرِ وَالْمَاءِ، وَاجْعَلْنَ فِي آخِرِ ذَلِكِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي قَالَتْ: فَآذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ.

ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کی موت ہوگئی تو آپ نے فرمایا: انہیں تین یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو، اور انہیں بیر (کے پتوں) اور پانی سے غسل دو، اور کچھ کافور ملا لو، اور جب فارغ ہوجاؤ تو مجھے خبر کرو ، وہ کہتی ہیں: میں نے آپ کو خبر کیا، تو آپ نے ہماری طرف اپنی لنگی پھینکی اور فرمایا: اسے (ان کے جسم سے) لپیٹ دو ۔

It was narrated that Umm Atiyyah said: "One of the daughters of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) died and he said: Wash her three times, or five, or more than that if you think that (is necessary). Wash her with water and lotus leaves and put camphor, or some camphor in it the last time. And when you have finished inform me. We informed him, and he threw his waist-wrapper to us and said: Shroud her in it."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1894
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ١٢ (١٢٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٨١٠٤) (صحیح )
1896Sunan An Nasai

عمدہ کفن دینے کی تاکید

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيُّ الْقَطَّانُ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قال: أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ مَاتَ فَقُبِرَ لَيْلًا وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، فَزَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ إِنْسَانٌ لَيْلًا إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِلَى ذَلِكَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحَسِّنْ كَفْنَهُ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا تو آپ نے اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مرگیا تھا، اور اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا تھا، اور ایک گھٹیا کفن میں اس کی تکفین کی گئی تھی، رسول اللہ ﷺ نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی آدمی رات میں دفنایا جائے سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری ہو، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی (کے کفن دفن کا) ولی ہو تو اسے چاہیئے کہ اسے اچھا کفن دے ۔

It was narrated that Ibn Juraij said: "Abu Az-Zubair told me that he heard Jabir say; The Messenger of Allah delivered a speech and mentioned a man among his Companions who had died. He had been buried at night and wrapped in a shroud that was not sufficient. The Messenger of Allah rebuked (them) and said that no one should be buried at night unless constrained to do that. And the Messenger of Allah said: When one of you wants to takes care of his brother, let him shroud him well."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1895
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ١٥ (٩٤٣)، سنن ابی داود/الجنائز ٣٤ (٣١٤٨)، (تحفة الأشراف: ٢٨٠٥)، مسند احمد ٣/٢٩٥، ویأتی عند المؤلف برقم: ٢٠١٦ (صحیح )
1897Sunan An Nasai

کفن کونسی قسم کا بہتر ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي عَرُوبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ.

سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ پاکیزہ اور عمدہ ہوتا ہے، نیز اپنے مردوں کو (بھی) اسی میں کفنایا کرو ۔

It was narrated that Ibn Juraij sad: "Abu Az-Zubair told me that he heard Jabir say: "The Messenger of Allah delivered a speech and mentioned a man among his Companions who had died. He had been buried at night and wrapped in a shroud that was not sufficient. The Messenger of Allah reduced (them) and said that no one should be buried at night unless constrained to do that. And the Messenger of Allah said: When one of you wants to takes care of his brother, let him shroud him well."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1896
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤٦٤٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب ٤٦ (٢٨١٠)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٥ (٣٥٦٧)، مسند احمد ٥/١٠، ١٢، ١٣، ١٧، ١٨، ١٩، ٢١، ویأتی عند المؤلف برقم: ٥٣٢٤ (صحیح )
1898Sunan An Nasai

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفن کتنے کپڑے میں دیا گیا؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ سُحُولِيَّةٍ بِيضٍ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا۔

It was narrated from Aishah who said: shroud the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) with three white Suhuli clothes."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1897
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٦٧٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ١٨ (١٢٦٤)، ٢٣ (١٢٧١)، ٢٤ (١٢٧٢)، ٩٤ (١٣٨٧)، صحیح مسلم/الجنائز ١٣ (٩٤١)، سنن ابی داود/الجنائز ٣٤ (٣١٥١)، سنن الترمذی/الجنائز ٢٠ (٩٩٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ١١ (١٤٦٩)، موطا امام مالک/الجنائز ٢ (٥)، مسند احمد ٦/٤٠، ٩٣، ١١٨، ١٣٢، ١٦٥، ٢٣١ (صحیح )