Sunan An Nasai 1934

جنائز کے متعلق احادیث

1934Sunan An Nasai

مردے کی تعریف کرنا

أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قال: مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ، فَقَالَ عُمَرُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، مُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقُلْتَ: وَجَبَتْ، وَمُرَّ بِجَنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقُلْتَ: وَجَبَتْ، فَقَالَ: مَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: واجب ہوگئی ، (پھر) ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی مذمت کی گئی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: واجب ہوگئی ، تو عمر ؓ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہوگئی پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا تو اس کی مذمت کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہوگئی؟، تو آپ نے فرمایا: تم لوگوں نے جس کی تعریف کی تھی اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، اور جس کی مذمت کی تھی اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی، تم ١ ؎ روئے زمین پر اللہ کے گواہ ہو ۔

It was narrated that Anas said: "A funeral passed by and the deceased was praised." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is granted." Another funeral passed by and the deceased was criticized. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "It is granted." Umar said: "May my father and mother be ransomed for you. One funeral passed by and the deceased was praised, and you said, It is granted?" He said: "Whoever is praised will be granted Paradise, and whoever is criticized will be granted Hell, You are the witnesses of Allah on Earth."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1932
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے کہا ہے یہ خطاب صحابہ کرام رضی الله عنہم کے ساتھ مخصوص ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس خطاب میں صحابہ رضی الله عنہم کرام کے ساتھ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ان کے طریقہ پر کاربند ہوں۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ٨٥ (١٣٦٧)، والشھادات ٦ (٢٦٤٢)، صحیح مسلم/الجنائز ٢٠ (٩٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٤)، سنن الترمذی/الجنائز ٦٣ (١٠٥٨)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٠ (١٤٩١)، مسند احمد ٣/١٧٩، ١٨٦، ١٩٧، ٢٤٥، ٢٨١ (صحیح )