Sunan An Nasai 1926

جنائز کے متعلق احادیث

1926Sunan An Nasai

جنازہ کے واسطے کھڑے نہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قال: مُرَّ بِجَنَازَةٍ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمِ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَمَا قَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَامَ لَهَا ثُمَّ قَعَدَ.

اس سند سے بھی ابن سیرین کہتے ہیں کہ حسن بن علی اور ابن عباس ؓ کے قریب سے ایک جنازہ گزرا، تو حسن ؓ کھڑے ہوگئے، اور ابن عباس ؓ نہیں کھڑے ہوئے، تو حسن ؓ نے ابن عباس سے کہا: کیا اس کے لیے رسول اللہ ﷺ کھڑے نہیں ہوئے تھے؟ تو ابن عباس ؓ نے کہا: کھڑے ہوئے تھے پھر بیٹھے رہنے لگے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Sirin said: "A funeral passed by Al-Hasan bin Ali and Ibn Abbas. Al-Hasan stood up but Ibn Abbas did not. Al-Hasan said to Ibn Abbas: Didnt the Messengr of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stand up for it? Ibn Abbas said: He stood up for it then he sat."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1925
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور نے اس سے کھڑے ہونے والی روایت کے منسوخ ہونے پر استدلال کیا ہے، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا کھڑا نہ ہونا بیان جواز کے لیے رہا ہو، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح الإسناد )