جنازہ پر کس قدر تکبیریں پڑھنا چاہیے
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَصَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا خَمْسًا، وَقَالَ: كَبَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ زید بن ارقم ؓ نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی تو (اس میں) پانچ تکبیریں کہیں، اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے بھی اتنی ہی تکبیریں کہیں تھیں۔
It was narrated from Abu Laila: That Zaid bin Arqam (RA) offered the funeral prayer and said the Takbir five times, and said that the Messenger of Allah had said the Takbir like this.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1982
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٢٣ (٩٦١)، سنن ابی داود/الجنائز ٥٨ (٣١٩٧)، سنن الترمذی/الجنائز ٣٧ (١٠٢٣)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٥ (١٥٠٥)، (تحفة الأشراف: ٣٦٧١)، مسند احمد ٤/٣٦٧، ٣٦٨، ٣٧٠، ٣٧١، ٣٧٢ (صحیح )