عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے عاشوراء کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی دن کا روزہ اور دنوں سے بہتر جان کے رکھا ہو، سوائے اس دن کے، یعنی ماہ رمضان کے اور عاشوراء کے۔
It was narrated from ‘Ubaidullah that he heard Ibn ‘Abbas, when he was asked about the fast of ‘Ashura’, say: “I do not know that the Prophet ﷺ fasted any day because of its virtue, except this day” - meaning the month of Ramadhan and the day of ‘Ashura’.(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2370
حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ ؓ کو عاشوراء کے دن منبر پر کہتے سنا: اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس دن میں کہتے ہوئے سنا کہ میں روزہ سے ہوں تو جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے ۔
It was narrated that Humaid bin ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf said: “I heard Muawiyah say on the day of ‘Ashura’ when he was on the Minbar: people of Al-Madinah, where are your scholars? I heard the Messenger of Allah ﷺ say on this day: “I am fasting, so whoever wants to fast let him do so.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2371
نبی اکرم ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ (ام المؤمنین رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عاشوراء کے روز، ذی الحجہ کے نو دنوں میں، ہر مہینے کے تین دنوں میں یعنی: مہینہ کے پہلے دوشنبہ (پیر) کو اور پہلے اور دوسرے جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔
It was narrated from Hunaidah bin Khalid that his wife said: “One of the wives of the Prophet ﷺ said: ‘The Prophet ﷺ used to fast on the day of ‘Ashura’, nine days of Dhul-Hajjah and three days each month: The first Monday of the month, and two Thursdays.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2372
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٦١ (٢٤٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٧)، مسند احمد ٥/٢٧١، ٦/٢٨٨، ٢٨٩، ٣١٠، ٤٢٣، یأتی عند المؤلف فی باب ٨٣ بأرقام: ٢٤١٩، ٢٤٢٠، ٢٤٢١ (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ افطار کیا ۔
It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah said: Whoever fasts every day of is life, then he has neither fasted, nor broken the fast.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2374
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے تو اس نے روزے ہی نہیں رکھے ۔
‘Ata’ said: “Someone who heard him, told me that Ibn ‘Umar said: ‘The Prophet ﷺ said: ‘Whoever fasts every day of his life, then he has not fasted.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2375
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے روزے ہی نہیں رکھے ۔
‘Ata’ said: “Someone who heard him told me that Ibn ‘Umar (said) that the Prophet ﷺ said: ‘Whoever fasts every day of his life, then he has not fasted.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2376
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ تو روزے ہی رکھے اور نہ ہی کھایا پیا ۔
It was narrated from ‘Ata’ that he narrated that someone who heard him said that ‘Abdullah bin ‘Amr bin Al-’As said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The one who fasts every day of his life has neither fasted, nor broken the fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2377
Notes · وضاحت
١ ؎: سند میں مبہم راوی ابو العباس الشاعر ہیں جن کے نام کی صراحت اگلی روایت میں آئی ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں، پھر مسلسل روزہ رکھتا ہوں، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عطاء نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے صیام ابد کا ذکر کیسے کیا، مگر اتنا یاد ہے کہ انہوں نے یوں کہا: اس شخص نے صیام (روزے) نہیں رکھے جس نے ہمیشہ صیام (روزے) رکھے ۔
‘Abdullah bin ‘Amr bin Al ‘Aas said: “The Prophet ﷺ heard that I was fasting continually,” and he quoted this Hadith. ‘Ata’ said: “I am not sure how he put it, but I think he said: ‘There is no fast for one who fasts continually.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2378
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! فلاں شخص کبھی دن کو افطار نہیں کرتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے نہ روزہ رکھا، نہ افطار کیا ۔
It was narrated that ‘Imran said: “It was said: ‘Messenger of Allah ﷺ, so-and-so never broke his fast, even for one day for the rest of his life.’ He said: ‘He has neither fasted nor broken his fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2379
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اور آپ کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا تھا جو ہمیشہ روزہ رکھتا تھا تو آپ نے فرمایا: اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا ۔
It was narrated from Mutarrif bin ‘Abdullah bin Ash Shikhkhir: “My father told me that he heard the Messenger of Allah ﷺ say, when mention was made in presence of a man who fasted for the rest of his life: ‘He neither fasted nor broke his fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2380
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٨ (١٧٠٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٥٠)، مسند احمد ٥/٢٤، ٢٥، ٢٦، سنن الدارمی/الصوم ٣٧ (١٧٨٥) (صحیح )
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صیام الدھر رکھنے والے کے بارے میں فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا، اور نہ ہی افطار کیا ۔
Mutarrif bin ‘Abdullah bin Ash-Shikhkhir narrated from his father that the Messenger of Allah ﷺ said, concerning one who fasted for the rest of his life: “He neither fasted nor broke his fast.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2381
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، تو ہم سب کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا، (اس کے بارے میں) لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! یہ شخص ایسا ہے جو اتنی مدت سے افطار نہیں کر رہا ہے (یعنی برابر روزے رکھ رہا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا، نہ ہی افطار کیا ۔
It was narrated that ‘Umar said: “We were with the Messenger of Allah ﷺ arid we passed by a man. They said: ‘Prophet ﷺ of Allah ﷺ , this man has not broken his fast for such and such a time.’ He said: ‘He has neither fasted nor broken his fast.” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2382
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٦٦٥) (صحیح) (اگلی روایت سے تقویت پا کر یہ بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابو ہلال راسبی “ ذرا کمزور راوی ہیں )
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ناراض ہوگئے، عمر ؓ نے کہا: ہم اللہ کے رب (حقیقی معبود) ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر، راضی ہیں، نیز آپ سے ہمیشہ روزہ رکھنے والے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: اس نے نہ روزہ رکھا، نہ ہی افطار کیا ۔
It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah ﷺ was asked about his fasting and he got angry. ‘Umar said: “We are content with Allah as our Lord, Islam as our religion and Muhammad as our Prophet ﷺ .” And he was asked about someone who fasted for the rest of his life and said: “He neither fasted nor broke his fast.” (Sahih)
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2383
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! میں ایک ایسا آدمی ہوں جو مسلسل روزے رکھتا ہو، تو کیا سفر میں بھی روزہ رکھ سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔
It was narrated from Aishah (RA) that Hamzah bin ‘Amr Al-Aslami asked the Messenger of Allah ﷺ: “Messenger of Allah, I am a man who fasts continually; should I fast when traveling?” He said: “Fast if you wish and break your fast if you wish.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2384
عمرو بن شرجبیل ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا گیا: ایک آدمی ہے جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ وہ کبھی کھاتا ہی نہیں ١ ؎، لوگوں نے عرض کیا: دو تہائی ایام رکھے تو؟ ٢ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ بھی زیادہ ہے ، لوگوں نے عرض کیا: اور آدھا رکھے تو؟ ٣ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ بھی زیادہ ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اتنے روزوں نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کردیں، یہ ہر مہینے کے تین دن کے روزے ہیں ۔
It was narrated from ‘Amr bin Shurahbil that a man from among the Companions of the Prophet said: “It was said to the Prophet ﷺ that a man fasted for the rest of his life. He said: ‘I wish that he had never eaten.’ They said: ‘Two-thirds (of a lifetime)?’ He said: ‘That is too much.’ Theysaid ‘Half?’ He said: ‘That is too much.’ Then he said: ‘Shall I not tell you of that which will take away impurity from the heart? Fasting three days each month.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2385
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نہ دن میں نہ رات میں یہاں تک کہ بھوک سے مرجائے، اس سے مقصود اس کے اس عمل پر اپنی ناگواری کا اظہار ہے اور یہ بتانا ہے کہ یہ ایک ایسا مذموم عمل ہے کہ اس کے لیے بھوک سے مرجانے کی تمنا کی جائے۔ ٢ ؎: یعنی دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟ ٣ ؎: یعنی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟
عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو صیام الدھر رکھے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تو یہ چاہوں گا کہ کبھی کچھ کھائے ہی نہ ، اس نے کہا: اس کا دو تہائی رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: زیادہ ہے ، اس نے کہا: آدھے ایام رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: زیادہ ہے ، پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دے ، لوگوں نے کہا: جی ہاں (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا: یہ ہر مہینے میں تین دن کا روزہ ہے ۔
It was narrated that ‘Amr bm Shurahbil said. “A man came the Messenger of Allah ﷺ and said: ‘Messenger of Allah, what do you say about a man who’fasted for the rest of his life?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I wish that he would never eat for the rest of his life.’ He said: ‘Two-thirds (of a lifetime)?’ He said: ‘That is too much.’ He said: ‘Half?’ He said: ‘That is too much.’ He said: ‘Shall I not tell you of that which will take away impurity from the heart?’ He said: ‘Yes.’ He(The Prophit) said: ‘Fasting for three days each month.” (Sahih).
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2386
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، پچھلی روایت سے تقویت پاکر صحیح ہے )
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو صیام الدھر رکھتا ہو؟ آپ نے فرمایا: اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ ہی افطار کیا ۔ (راوی کو شک ہے لاصيام ولا أفطر کہا، یا لم يصم ولم يفطر کہا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا اس کی کوئی طاقت رکھتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: (اچھا) اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے ، انہوں نے کہا: اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ میں اس کی طاقت رکھوں ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا، اور رمضان کے روزے رکھنا یہی صیام الدھر ہے ۔
It was narrated that Abu Qatadah said: “Umar said: ‘Messenger of Allah, what about a person who fasted for an entire lifetime?’ He said: ‘He neither fasted nor broke his fast.’ He said: ‘Messenger of Allah ﷺ, what about a person who fasted for two days, and broke his fast for one day?’ He said: ‘Can anyone do that?’ He said: ‘What about a person who fasted for one day, and broke his fast for one day?’ He said: ‘That is the fast of Dawood علیہ السلام, peace be upon him.’ He said: ‘What about a person who fasted for one day, and broke his fast for two days?’ He said: ‘I wish that I could do that.’ Then he said: ‘Three days of each month, and from Ramadan to Ramadan, this is fasting for an entire lifetime.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2387
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزوں میں سب سے افضل داود (علیہ السلام) کے روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے، اور ایک دن افطار کرتے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The best of fasting is the fast of Dawud علیہ السلام. He used to fast for one day and break his fast for one day.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2388
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٥٨ (١٩٧٨)، و فضائل القرآن ٣٤ (٥٠٥٢)، (تحفة الأشراف: ٨٩١٦)، مسند احمد ٢/١٥٨، ١٨٨، ١٩٢، ٢١٠ (صحیح )
مجاہد کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو ؓ نے کہا: میرے والد نے میری شادی ایک اچھے خاندان والی عورت سے کردی، چناچہ وہ اس کے پاس آتے، اور اس سے اس کے شوہر کے بارے میں پوچھتے، تو (ایک دن) اس نے کہا: یہ بہترین آدمی ہیں ایسے آدمی ہیں کہ جب سے میں ان کے پاس آئی ہوں، انہوں نے نہ ہمارا بستر روندا ہے اور نہ ہم سے بغل گیر ہوئے ہیں، عمرو بن العاص ؓ نے اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کر آؤ ، میں والد کے ساتھ آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، تو آپ نے پوچھا: تم کس طرح روزے رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: ہر روز، آپ نے فرمایا: ہفتہ میں تین دن روزے رکھا کرو ، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: اچھا دو دن روزہ رہا کرو اور ایک دن افطار کرو ، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا سب سے افضل روزے رکھے کرو جو داود (علیہ السلام) کے روزے ہیں، ایک دن روزہ اور ایک دن افطار ۔
It was narrated that Muhajid said: “Abdullah bin ‘Amr said to me. My father got me married to a woman from a noble family, and he used to come to her and ask her about her husband. She said: What a wonderful man he is! He never comes to my bed, and he has never approached me since he married me. He mentioned that to the Prophet ﷺ and he said: Bring him to me. So he brought him with him. (The Prophet ﷺ) said: How do you fast? I said: “Every day.” He said: “Fast three days of every month.” I said: “I am able to do better than that.” He said: “Fast for two days, and break your fast for one day.” He said: “I am able better than that”. He said: Observe the best of fasts, the fast Dawud علیہ السلام: Fasting for one day and breaking the fast for one day.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2389