روزوں سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 20 · 345 hadiths · Page 14 of 18

2352Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، تَقُولُ: كَانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانُ بَلْ كَانَ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک روزہ رکھنے کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ مہینہ شعبان کا تھا، بلکہ آپ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے۔

Aishah (RA) said: “The month which the Messenger of Allah ﷺ most liked to fast was Sha’ban; indeed he used to join it to Ramadan.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2350
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٥٦ (٢٤٣١)، (تحفة الأشراف: ٦٢٨٠)، مسند احمد ٦/١٨٨ (صحیح )
2353Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُمَا، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يَصُومُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے سے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ بغیر روزے کے نہیں رہیں گے، اور بغیر روزہ کے رہتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو شعبان کے مہینے سے زیادہ کسی اور مہینے میں روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast until we said: ‘He will not break his fast.’ And he used not to fast until we said: ‘He will not fast.’ And I never saw the Messenger of Allah ﷺ fast more in any month than in Sha’ban.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2351
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٥٢ (١٩٦٩)، صحیح مسلم/الصیام ٣٤ (١١٥٦)، سنن ابی داود/الصیام ٥٩ (٢٤٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٧١٠)، موطا امام مالک/الصوم ٢ (٥٦)، مسند احمد ٦/١٠١، ١٥٣، ٢٤٢ (صحیح )
2354Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سوائے شعبان اور رمضان کے مسلسل دو مہینے روزہ نہیں رکھتے تھے۔

It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Allah ﷺ would not fast any two consecutive months except Sha’ban and Ramadán. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2352
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٧٧ (صحیح )
2355Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا تَامًّا، إِلَّا شَعْبَانَ وَيَصِلُ بِهِ رَمَضَانَ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سال کے کسی بھی مہینہ میں پورا روزہ نہیں رکھتے تھے سوائے شعبان کے، آپ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے۔

It was narrated from Umm Salamah (RA) that the Prophet ﷺ would not fast any month of the year in full except Sha’ban and he used to join it to Ramadan. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2353
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٧٨ (حسن صحیح )
2356Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِشَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ لِشَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ أَوْ عَامَّتَهُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی بھی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزہ نہیں رکھتے تھے، آپ شعبان کے پورے یا اکثر دن روزہ رہتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ did not fast any month more than Sha’ban; he used to fast (all of) it, or most of it.” (Sahih)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2354
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧٧٥٠) (صحیح )
2357Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پورے شعبان روزہ رکھتے تھے سوائے چند دنوں کے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast (all of) Sha’ban except a little.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2355
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧٧٧٨) (صحیح )
2358Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پورے شعبان روزہ رکھتے تھے۔

It was narrated from Jubair bin Nufair that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast all of Sha’ban.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2356
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٠٥١) (صحیح )
2359Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو الْغُصْنِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! لَمْ أَرَكَ تَصُومُ شَهْرًا مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ، قَالَ: ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ.

اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جتنا میں آپ کو شعبان کے مہینے میں روزہ رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں اتنا کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا، آپ نے فرمایا: رجب و رمضان کے درمیان یہ ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت برتتے ہیں، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال رب العالمین کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں ۔

Usamah bin Zaid said: “I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, I do not see you fasting any month as much as Sha’ban.’ He said: ‘That is a month to which people do not pay much attention, between Rajab and Ramadan. It is a month in which the deeds are taken up to the Lord of the worlds, and I like that my deeds to be taken up when I am fasting.” (Sahih).

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2357
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٠)، مسند احمد ٥/٢٠١ (حسن )
2360Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو الْغُصْنِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنَّكَ تَصُومُ حَتَّى لَا تَكَادَ تُفْطِرُ، وَتُفْطِرُ حَتَّى لَا تَكَادَ أَنْ تَصُومَ، إِلَّا يَوْمَيْنِ إِنْ دَخَلَا فِي صِيَامِكَ وَإِلَّا صُمْتَهُمَا، قَالَ: أَيُّ يَوْمَيْنِ ؟، قُلْتُ: يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، قَالَ: ذَانِكَ يَوْمَانِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الْأَعْمَالُ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ.

اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ روزہ رکھتے ہیں یہاں تک کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ روزہ بند ہی نہیں کریں گے، اور بغیر روزہ کے رہتے ہیں یہاں تک کہ لگتا ہے کہ روزہ رکھیں گے ہی نہیں سوائے دو دن کے۔ کہ اگر وہ آپ کے روزہ کے درمیان میں آگئے (تو ٹھیک ہے) اور اگر نہیں آئے تو بھی آپ ان میں روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے پوچھا: وہ دو دن کون ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ پیر اور جمعرات کے دن ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دو دن وہ ہیں جن میں اللہ رب العالمین کے سامنے ہر ایک کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں ۔

Usamah bin Zaid said: “I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, Sometimes you fast, and you hardly ever break your fast, and Sometimes you do not fast and your hardly ever fast, except two days which, if you are fasting, you include them in your fast, and if You are not fasting, then you fast them on your own.’ He said: ‘Which two days?’ I said: ‘Monday and Thursday.’ He said: ‘Those are two days in which deeds are shown to the Lord of the Worlds, and I like my deeds to be shown (to Him) when I am fasting.” (Hasan)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2358
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٩)، مسند احمد ٥/٢٠١، ٢٠٦، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم ٦٠ (٢٤٣٦)، سنن الدارمی/الصوم ٤١ (١٧٩١) (حسن صحیح )
2361Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ الْغِفَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْرُدُ الصَّوْمَ فَيُقَالُ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ فَيُقَالُ لَا يَصُومُ.

اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ برابر روزہ رکھتے جاتے تھے، یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں، اور (مسلسل) بغیر روزہ کے رہتے یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔

It was narrated from Usamah bin Zaid that the Messenger of Allah ﷺ used to fast continually and it was said that he would not break his fast, and he used not to fast and it was said that he would not fast. (Hasan)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2359
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٤)، مسند احمد ٥/٢٠١ (حسن صحیح )
2362Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَحَرَّى صِيَامَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو شنبہ (پیر) اور جمعرات کے روزہ کا اہتمام فرماتے تھے۔

It was narrated from Jubair bin Nufair that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to be keen to fast on Mondays and Thursdays.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2360
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٠٥٢) (صحیح )
2363Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَوْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے دن (کے روزہ) کا اہتمام فرماتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to be keen to fast on Mondays and Thursdays.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2361
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢١٨٩ (صحیح )
2364Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے دن (کے روزہ) کا اہتمام فرماتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to be keen to fast on Mondays and Thursdays.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2362
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٠٥٦)، مسند احمد ٦/٨٠، ١٠٦ (صحیح )
2365Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے دن (کے روزہ) کا اہتمام فرماتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to be keen to fast on Mondays and Thursdays.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2363
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٠٦٣) (صحیح )
2366Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِالْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ سَوَاءٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ used to fast on Mondays and Thursdays.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2364
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٠) (صحیح )
2367Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ مِنْ هَذِهِ الْجُمُعَةِ وَالِاثْنَيْنِ مِنَ الْمُقْبِلَةِ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے: پہلے ہفتہ کے دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کو، اور دوسرے ہفتہ کے دوشنبہ (پیر) کو۔

It was narrated that Umm Salamah said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast three days of every month: the Monday and Thursday of the first week and the Monday of the following week.” (Sahih)

حسن لکن الأصح بلفظ وخميسصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2365
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٨١٦١) (حسن )
2368Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْسَوَاءٍ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَيَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَمِنَ الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ.

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے کی جمعرات اور دوشنبہ (پیر) کو اور دوسرے ہفتہ کے دوشنبہ (پیر) کو روزہ رہتے تھے۔

It was narrated that Hafsah said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast Thursday and Monday of each month, and Monday of the following week.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2366
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٦٩ (٢٤٥١)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٩٦)، مسند احمد ٦/٢٨٧ (حسن )
2369Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ جَعَلَ كَفَّهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ، وَكَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ.

ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنی داہنی ہتھیلی اپنے دائیں گال کے نیچے رکھ لیتے، اور دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کے دن روزہ رکھتے تھے۔

It was narrated that Hafsah said: “When the Messenger of Allah ﷺ would lie down, he would place his right hand under his right cheek, and he used to fast on Mondays and Thursdays.” (Sahih)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2367
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٨١١) حم ٦/٢٨٧ (حسن صحیح )
2370Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أَبِي، أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ، وَقَلَّمَا يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر مہینے کے ابتدائی تین دنوں میں روزہ رکھتے تھے اور کم ہی ایسا ہوتا کہ آپ جمعہ کے دن روزہ سے نہ رہے ہوں ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast three days in the middle of every month, and he rarely did not fast on Fridays.” (Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2368
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری کی ایک حدیث (صوم/ ١٩٨٤ ) میں خاص جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے صراحت کے ساتھ ممانعت آئی ہے، تو اس حدیث کا مطلب بقول حافظ ابن حجر یہ ہے کہ اگر ان تین ایام بیض میں جمعہ آپڑتا تو جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کے وجہ سے آپ روزہ نہیں توڑتے تھے، بلکہ رکھ لیتے تھے، ممانعت تو خاص ایک دن جمعہ کو روزہ رکھنے کی ہے، یا بقول حافظ عینی: ایک دن آگے یا پیچھے ملا کر جمعہ کو روزہ رکھتے تھے، لیکن قابل قبول توجیہ حافظ ابن حجر کی ہی ہے، کیونکہ آپ تین دن ایام بیض کے روزہ تو رکھتے ہی تھے، اور پھر دو دن جمعہ کی مناسبت سے بھی رکھتے ہوں، یہ کہیں منقول نہیں ہے، یا پھر یہ کہا جائے کہ خاص اکیلے جمعہ کے دن کی ممانعت امت کے لیے ہے، اور روزہ رکھنا آپ ﷺ کی خصوصیت تھی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصوم ٦٨ (٢٤٥٠)، سنن الترمذی/الصوم ٤١ (٧٤٢)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٣٧ (١٧٢٥) مختصرا (تحفة الأشراف: ٩٢٠٦)، مسند احمد ١/٤٠٦ (حسن )
2371Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے چاشت کی دونوں رکعتوں کا حکم دیا، اور یہ کہ میں وتر پڑھے بغیر نہ سوؤں، اور ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کروں۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah commanded me to pray two Rakahs of Duha, and not to sleep until I had prayed witr, and to fast three days each month.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2369
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢١٩٠)، مسند احمد ٢/٣٣١ ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٢٤٠٧، ٢٤٠٨، ٢٤٠٩) (صحیح )