Sunan An Nasai 2360

روزوں سے متعلقہ احادیث

2360Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو الْغُصْنِ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنَّكَ تَصُومُ حَتَّى لَا تَكَادَ تُفْطِرُ، وَتُفْطِرُ حَتَّى لَا تَكَادَ أَنْ تَصُومَ، إِلَّا يَوْمَيْنِ إِنْ دَخَلَا فِي صِيَامِكَ وَإِلَّا صُمْتَهُمَا، قَالَ: أَيُّ يَوْمَيْنِ ؟، قُلْتُ: يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، قَالَ: ذَانِكَ يَوْمَانِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الْأَعْمَالُ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ.

اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ روزہ رکھتے ہیں یہاں تک کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ روزہ بند ہی نہیں کریں گے، اور بغیر روزہ کے رہتے ہیں یہاں تک کہ لگتا ہے کہ روزہ رکھیں گے ہی نہیں سوائے دو دن کے۔ کہ اگر وہ آپ کے روزہ کے درمیان میں آگئے (تو ٹھیک ہے) اور اگر نہیں آئے تو بھی آپ ان میں روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے پوچھا: وہ دو دن کون ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ پیر اور جمعرات کے دن ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دو دن وہ ہیں جن میں اللہ رب العالمین کے سامنے ہر ایک کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں ۔

Usamah bin Zaid said: “I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, Sometimes you fast, and you hardly ever break your fast, and Sometimes you do not fast and your hardly ever fast, except two days which, if you are fasting, you include them in your fast, and if You are not fasting, then you fast them on your own.’ He said: ‘Which two days?’ I said: ‘Monday and Thursday.’ He said: ‘Those are two days in which deeds are shown to the Lord of the Worlds, and I like my deeds to be shown (to Him) when I am fasting.” (Hasan)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2358
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٩)، مسند احمد ٥/٢٠١، ٢٠٦، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم ٦٠ (٢٤٣٦)، سنن الدارمی/الصوم ٤١ (١٧٩١) (حسن صحیح )