ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ آئے اور پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں ، پھر دوسری بار آپ میرے پاس تشریف لے آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تب تو میں آج روزہ توڑ دوں گا حالانکہ میں نے روزہ کی نیت کرلی تھی ۔
It was narrated that Aishah, the Mother of the Believers, said: “The Messenger of Allah ﷺ came one day and said: ‘Do you have any food?’ I said: ‘No.’ He said: ‘Then I will fast.’ She said: ‘He came in to me on another occasion, and I said: ‘O Messenger of Allah ﷺ, we have been given some Hais.’ He said: ‘Then I will break my fast today, although I had started my day fasting.” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2330
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧٨٨٤) (صحیح) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص طلوع فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ نہ ہوگا ١ ؎۔
It was narrated from Hafsah that the Prophet ﷺ said: “Whoever does not have the intention of fasting before dawn, then there is no fast for him.’ (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2331
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم فرض روزوں کے سلسلہ میں ہے یا قضاء اور کفارہ کے روزوں کے سلسلہ میں، نفلی روزے کے لیے رات میں نیت ضروری نہیں، جیسا کہ ابھی عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث سے معلوم ہوا۔
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہیں کی تو اس کا روزہ نہیں ہوگا ۔
It was narrated from Hafsah (RA) that the Prophet ﷺ said: “Whoever does not have the intention of fasting before dawn, then there is no fast for him.” (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2332
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے روزہ کی نیت رات ہی میں نہ کرلی ہو تو اس کا روزہ نہیں ۔
It was narrated from Hafsah (RA) that the Prophet ﷺ said: “Whoever does not have the intention of fasting from the night before, then there is no fast for him.” (Da’if)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2334
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حفصہ ؓ کہتی ہیں: اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کرلے۔
Hamzah bin ‘Abdullah bin ‘Umar narrated that his father said: “Hafsah the wife of the Prophet ﷺ said: ‘There is no fast for the one who does not intend (to fast) before dawn.” (Sahih)
صحيح موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2336
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کرلے۔ مالک بن انس نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Hafsah said: “There is no fast for the one who does not intend to fast before dawn.” Malik bin Anas narrated it in Mursal form. (Sahih)
صحيح موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2340
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مالک نے اسے من قطعاً روایت کیا ہے، کیونکہ زہری نے عائشہ رضی الله عنہا کو نہیں پایا ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل کو روزوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ روزے داود (علیہ السلام) کے تھے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب نماز بھی داود (علیہ السلام) کی نماز تھی، وہ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات قیام کرتے تھے، اور رات کے چھٹویں حصہ میں پھر سوتے تھے ۔
‘Abdullah bin ‘Amr bin Al ‘Aas said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The most beloved fasting to Allah, the Mighty and Sublime, is the fast of Dawud علیہ السلام. He used to fast one day and not the next. And the most beloved prayer to Allah, the Mighty and Sublime, is the prayer of Dawud علیہ السلام. He used to sleep half the night, stand for one-third of it (in prayer), and sleep for one-sixth of it.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2344
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حضر میں ہوں یا سفر میں ایام بیض میں بغیر روزہ کے نہیں رہتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ would not break fast on the days of Al-Bid whether he was a resident or traveling.” (Hasan)
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2345
Notes · وضاحت
١ ؎: قمری مہینہ کی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخ کو ایام بیض (روشن راتوں والے دن) کہا جاتا ہے، کیونکہ ان راتوں میں چاند ڈوبنے کے وقت سے لے کر صبح تک پوری رات رہتا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے: آپ روزے رکھنا بند نہیں کریں گے، اور آپ بغیر روزے کے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزے رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اور آپ جب سے مدینہ آئے رمضان کے علاوہ آپ نے کسی بھی مہینہ کے مسلسل روزے نہیں رکھے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ would fast until we said he would not break his fast, and he would not fast until we said he does not want to fast. And he never fasted any month in full apart from Ramadan, from the time he came to Al-Madinah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2346
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزہ سے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے: آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں، اور بغیر روزہ کے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ used to fast until we said: ‘He does not want to break his fast.’ And he used not to fast until we said: ‘He does not want to fast.” (Hasan)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2347
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ نبی اکرم ﷺ نے کبھی پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ آپ نے کبھی پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ رمضان کے علاوہ آپ نے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ رکھا ہو۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “I do not know that the Messenger of Allah ﷺ recited the whole Qur’an in one night, or prayed Qiyam until morning, or ever fasted an entire month, except Ramadan.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2348
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے نبی اکرم ﷺ کے روزوں کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ روزہ رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ (برابر) روزہ ہی رکھا کریں گے، اور آپ افطار کرتے (روزہ نہ رہتے) تو ہم کہتے کہ آپ برابر بغیر روزہ کے رہیں گے، رسول اللہ ﷺ نے مدینہ آنے کے بعد سوائے رمضان کے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ نہیں رکھا۔
It was narrated that Abdullah bin Shaqiq said: "I asked Aishah (RA) bout the fasting of the Messenger of Allah ﷺ She said: "The Messenger of Allah ﷺused to fast until we said: He is going to (continue to) fast, and he used not to fast until we said: He is not going to, and he did not fast for a whole month from the time he came to Al-Madinah, apart from Ramadan.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2349