روزہ کی نیت اور سیدہ عائشہ صدیقہ کی حدیث میں طلحہ بن یحیٰی کے متعلق اختلاف
أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِيرَجُلٌ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ طَعَامٍ ؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ: إِذًا أَصُومُ، قَالَتْ: وَدَخَلَ عَلَيَّ مَرَّةً أُخْرَى، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، فَقَالَ: إِذًا أُفْطِرُ الْيَوْمَ، وَقَدْ فَرَضْتُ الصَّوْمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ آئے اور پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں ، پھر دوسری بار آپ میرے پاس تشریف لے آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: تب تو میں آج روزہ توڑ دوں گا حالانکہ میں نے روزہ کی نیت کرلی تھی ۔
It was narrated that Aishah, the Mother of the Believers, said: “The Messenger of Allah ﷺ came one day and said: ‘Do you have any food?’ I said: ‘No.’ He said: ‘Then I will fast.’ She said: ‘He came in to me on another occasion, and I said: ‘O Messenger of Allah ﷺ, we have been given some Hais.’ He said: ‘Then I will break my fast today, although I had started my day fasting.” (Sahih)