روزہ کی نیت اور سیدہ عائشہ صدیقہ کی حدیث میں طلحہ بن یحیٰی کے متعلق اختلاف
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَأُمِّ كُلْثُومٍ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ ؟نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ رَوَاهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ.
مجاہد اور ام کلثوم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے، اور ان سے پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ آگے اسی طرح ہے جیسے اس سے پہلی روایت میں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اور اسے سماک بن حرب نے بھی روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے روایت کی اور اس نے عائشہ بنت طلحہ سے روایت کی ہے (ان کی روایت آگے آرہی ہے) ۔
It was narrated from Mujahid and Umm Kulthum that the Messenger of Allah ﷺ entered upon Aishah (RA) and said: “Do you have any food?” a similar report. (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: Simak bin Harb reported it, he said: “A man narrated to me, from Aishah bint Talhah.”