زیر نظر حدیث شریف میں راوی غیلان پر اختلاف
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ فَغَضِبَ، فَقَالَ عُمَرُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَسُئِلَ عَمَّنْ صَامَ الدَّهْرَ، فَقَالَ: لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ.
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ناراض ہوگئے، عمر ؓ نے کہا: ہم اللہ کے رب (حقیقی معبود) ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر، راضی ہیں، نیز آپ سے ہمیشہ روزہ رکھنے والے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: اس نے نہ روزہ رکھا، نہ ہی افطار کیا ۔
It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah ﷺ was asked about his fasting and he got angry. ‘Umar said: “We are content with Allah as our Lord, Islam as our religion and Muhammad as our Prophet ﷺ .” And he was asked about someone who fasted for the rest of his life and said: “He neither fasted nor broke his fast.” (Sahih)