عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد نے میری شادی ایک عورت سے کردی، وہ اس سے ملاقات کے لیے آئے، تو اس سے پوچھا: تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا؟ اس نے کہا: کیا ہی بہترین آدمی ہیں نہ رات میں سوتے ہیں اور نہ دن میں کھاتے پیتے ہیں، ١ ؎ تو انہوں نے مجھے سخت سست کہا اور بولے: میں نے تیری شادی ایک مسلمان لڑکی سے کی ہے، اور تو اسے چھوڑے رکھے ہے۔ میں نے ان کی بات پر دھیان نہیں دیا اس لیے کہ میں اپنے اندر قوت اور (نیکیوں میں) آگے بڑھنے کی صلاحیت پاتا تھا، یہ بات نبی اکرم ﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: میں رات میں قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں اور کھاتا پیتا بھی ہوں، تو تم بھی قیام کرو اور سوؤ بھی۔ اور روزہ رکھو اور افطار بھی کرو، ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: تو پھر تم صیام داودی رکھا کرو، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن کھاؤ پیو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ہر مہینہ ایک مرتبہ قرآن پڑھا کرو ، پھر آپ (کم کرتے کرتے) پندرہ دن پر آ کر ٹھہر گئے، اور میں کہتا ہی رہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “My father got me married to a woman and he came to visit her and said: ‘What do you think of your husband?’ She said: ‘What a wonderful man he is. He does not sleep at night and he does not break his fast during the day.’ He got upset with me and said: ‘I got you married to a woman from among the Muslims and you have neglected her.’ I did not pay attention to what he said because of my energy and love of worship. News of that reached the Prophet ﷺ and he said: ‘But I stand (in prayer) and I sleep, I fast and I break my fast. So stand (in prayer) and sleep, fast and break your fast.’ He said: ‘Fast three days of every month.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Observe the fast of Dawud علیہ السلام: fast one day and break your fast one day.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Read the Qur’an (once) every month.’ Then it ended up being every fifteen days, and I still said: ‘I am able to do more than that.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2390
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رات میں قیام کرتے ہیں اور دن میں روزے سے رہتے ہیں۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے حجرے میں داخل ہوئے اور فرمایا: کیا مجھے یہ خبر نہیں ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو اور دن میں روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہاں ایسا ہی ہے۔ آپ نے فرمایا: تم ایسا ہرگز نہ کرو، سوؤ بھی اور قیام بھی کرو، روزہ سے بھی رہو اور کھاؤ پیو بھی، کیونکہ تمہاری آنکھ کا تم پر حق ہے، اور تمہارے بدن کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے، اور تمہارے دوست کا تم پر حق ہے، توقع ہے کہ تمہاری عمر لمبی ہو، تمہارے لیے بس اتنا کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرو، یہی صیام الدھر ہوگا کیونکہ نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے، میں نے عرض کیا: میں اپنے اندر طاقت پاتا ہوں، تو میں نے سختی چاہی تو مجھ پر سختی کردی گئی، آپ نے فرمایا: ہر ہفتے تین دن روزہ رکھا کرو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو میں نے سختی چاہی تو مجھ پر سختی کردی گئی، آپ نے فرمایا: تم اللہ کے نبی داود (علیہ السلام) کے روزے رکھو ، میں نے کہا: داود (علیہ السلام) کا روزہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ایک دن روزہ ایک دن افطار ۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah entered my apartment and said: "I have been told that you stand all night (in prayer) and fast all day. I said: Yes (I do). He said: Do not do that. Sleep and stand (in prayer); fast and break your fast. For your eyes have a right over you, your body has a right over you, your body has a right over you, your wife has a right over you, your guest has a right over you, and your friend has a right over you. I hope that you will have a long life and that it will be sufficient for you to fast three days of each month. That is fasting for a lifetime, because a good deed is equal to ten like it. I said : I feel able to do more. I was strict, so I was dealt with strictly. He said: Fast three days each week. I said: I am ableto do more thtn that; I was strict, so I was dealt with strictly. He said: Observe the fast of the Prophet of Allah, Dawud علیہ السلام. I said: What was the fast of Dawud? he said: Half of a lifetime."
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2391
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا گیا کہ میں کہتا ہوں کہ میں جب تک زندہ رہوں گا ہمیشہ رات کو قیام کروں گا، اور دن کو روزہ رکھا کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: تم ایسا کہتے ہو؟ میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! جی ہاں میں نے یہ بات کہی ہے، آپ نے فرمایا: تم ایسا نہیں کرسکتے، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، سوؤ بھی اور قیام بھی کرو، اور مہینے میں تین دن روزہ رکھو کیونکہ نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے، اور یہ صیام الدھر (پورے سال کے روزوں) کے مثل ہے ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو اور دو دن افطار کرو ، پھر میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: اچھا ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو، یہ داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے، یہ بہت مناسب روزہ ہے ، میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: اس سے بہتر کچھ نہیں ۔ عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں: اگر میں نے مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی رسول اللہ ﷺ کی بات قبول کرلی ہوتی تو یہ میرے اہل و عیال اور میرے مال سے میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہوتی۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr bin Al-’As that it was mentioned to the Messenger of Allah ﷺ that he had said: “I will Certainly stand all night (in prayer) and fast every day for as long as I live.” The Messenger of Allah ﷺ said: “Are you the one who said that?” “I said: ‘I said it, Messenger of Allah ﷺ.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘You cannot do that. Fast and break your fast, sleep and stand (in prayer), and fast three days of each month. For a good deed is equal to ten like it, and that is like fasting for a lifetime.’ I said: ‘But I am able to do better than that.’ He said: ‘Fast for one day and break your fast for two days.’ I said: ‘I am able to do better than that, Messenger of Allah.’ He said: ‘Then fast for one day and break your fast for one day, and that is the fast of Dawud علیہ السلام and it is the best kind of fasting.’ I said: ‘I am able to do better than that.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There is nothing better than that.” ‘Abdullah said: “If I had accepted the three days that the Messenger of Allah ﷺ said, that would be dearer to me than my family and my wealth.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2392
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو ؓ کے پاس آیا۔ میں نے عرض کیا: چچا جان! رسول اللہ ﷺ نے آپ سے جو کہا تھا اسے مجھ سے بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں نے پختہ عزم کرلیا تھا کہ میں اللہ کی عبادت کے لیے بھرپور کوشش کروں گا یہاں تک کہ میں نے کہہ دیا کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، اور ہر روز دن و رات قرآن پڑھا کروں گا، رسول اللہ ﷺ نے اسے سنا تو میرے پاس تشریف لائے یہاں تک کہ گھر کے اندر میرے پاس آئے، پھر آپ نے فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا اور قرآن پڑھوں گا؟ میں نے عرض کیا: ہاں اللہ کے رسول! میں نے ایسا کہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا مت کرو (بلکہ) ہر مہینے تین دن روزہ رکھ لیا کرو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ہر ہفتہ سے دو دن دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کو روزہ رکھ لیا کرو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: داود (علیہ السلام) کا روزہ رکھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سب سے زیادہ بہتر اور مناسب روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے، اور وہ جب وعدہ کرلیتے تو وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تھی تو بھاگتے نہیں تھے ۔
It was narrated that Abu Salamah bin ‘Abdur-Rahman said: “I entered upon ‘Abdullah bin ‘Amr and said: uncle, tell me what the Messenger of Allah ﷺ said to you. He said: son of my brother, I had resolved to strive very hard until I said: I will fast for the rest of my life and I will read the whole Qur’an every day and The Messenger of Allah ﷺ heard about that, and came in to me in my house, and said: I have heard that you said, I will fast for a lifetime and will read the Qur’an. I said: I did say that, Messenger of Allah. He said: Do not do that. Fast three days of each month. I said: I am able to do more than that. He said: fast two days of each week, Monday and Thursday. I said: I am able to do more than that. He said: Observe the fast of Dawud علیہ السلام, for it is the best kind of fasting before Allah; one day fasting, and one day not fasting. And when he made a promise he did not break it, and when he met (the enemy in battle) he did not flee.” (Sahih)
منکر بزيادة الموعدصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2393
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٣٩٣ (منکر) (جمعرات اور سوموار کا تذکرہ منکر ہے، باقی حصے صحیح ہیں )
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ایک دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا ۔ انہوں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: دو دن روزہ رکھ تمہیں باقی دنوں کا اجر ملے گا ، انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تین دن روزہ رکھو اور باقی دنوں کا ثواب ملے گا ۔ انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: چار دن روزہ رکھو اور تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملے گا، انہوں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر داود (علیہ السلام) کے روزے رکھو جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل روزے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah ﷺ said to him: “Fast one day, and you will have the reward of what is left.” He said: “I am able to do more than that.” He said: “Fast two days and you will have the reward of what is left.” He said: “I am able to do more than that.” He said: “Fast three days and you will have the reward of what is left.” He said: “I am able to do more than that.” He said: “Fast four days and you will have the reward of what is left.” He said: “I am able to do more than that.” He said: “Observe the best kind of fasting before Allah, the fast of Dawud علیہ السلام; he used to fast one day and break his fast for one day.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2394
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے روزہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ہر دس دن پر ایک دن روزہ رکھو، تمہیں ان باقی نو دنوں کا اجر و ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ہر نو دن پر ایک دن روزہ رکھو اور تمہیں ان آٹھ دنوں کا بھی ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ہر آٹھ دن پر ایک دن روزہ رکھ اور تجھے باقی سات دنوں کا بھی ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ برابر اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “I spoke to the Prophet ﷺ and he said: ‘Fast one day out of ten and you will have the reward of the other nine.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Fast one day out of eight and you will have the reward of the other eight.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Fast one day out of eight and you will have the reward of the other seven.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ And it continued until he said: ‘Fast one day and not the next.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2395
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک دن روزہ رکھ تمہیں دس دن کا ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا: میرے لیے کچھ اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: دو دن روزہ رکھ تمہیں نو دن کا ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا: میرے لیے کچھ اور بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: تین دن روزہ رکھ لیا کرو تمہیں آٹھ دن کا ثواب ملے گا ۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے مطرف سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ کام میں تو بڑھ رہے ہیں لیکن اجر میں گھٹتے جا رہے ہیں، یہ الفاظ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم کے ہیں۔
It was narrated from Shuaib bin ‘Abdullah bin ‘Amr that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said to me: ‘Fast one day and you will have the reward of ten.’ I said: ‘Let me fast more.’ He said: ‘Fast two days and you will have the reward of nine. I said: ‘Let me fast more than that.’ He said: ‘Fast three days and you will have the reward of eight.” (One of the narrators) Thabit said: “I mentioned that to Mutarrif and he said: ‘I only see that he is making more effort for less reward.”(Hasan)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2396
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے خبر ملی ہے کہ تم رات میں قیام کرتے ہو، اور دن کو روزہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اس سے خیر کا ارادہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: جس نے ہمیشہ کا روزہ رکھا اس نے روزہ ہی نہیں رکھا، لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ہمیشہ کا روزہ کیا ہے؟ یہ مہینہ میں صرف تین دن کا روزہ ہے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: پانچ دن رکھ لیا کرو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: تو دس دن رکھ لیا کرو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: تم داود (علیہ السلام) کے روزے رکھا کرو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I have heard that you stand (in prayer) all light and fast all day.’ I said: ‘Messenger of Allah, I only meant good by that.’ He said: ‘One who fasts every day of his life has not truly fasted. But I will tell you what fasting for a lifetime means: Three days of every month.’ I said: ‘Messenger of Allah ﷺ , I am able to do more than that.’ He said: ‘Fast for five days.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Fast for ten.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Observe the fast of Dáwud علیہ السلام; he used to fast one day and not the next.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2397
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: عبداللہ بن عمرو! تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات میں کرتے ہو، جب تم ایسا کرو گے تو آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی اور نفس تھک جائے گا، جو ہمیشہ روزہ رہے گا اس کا روزہ نہ ہوگا، ہر مہینے میں تین دن کا روزہ پورے سال کے روزہ کے برابر ہے ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: صوم داود رکھو، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah ﷺ said to me: ‘‘O Abdullah bin ‘Amr, you fast all the time and you stand (in prayer) at night, but if you do that your eyes will become sunken and you will become exhausted. There is no fast for one who fasts every day of his life. Fasting a lifetime means fasting three days each month, (that is) fasting all of a lifetime.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Observe the fast of Dawud علیہ السلام; he used to fast one day and not the next, and he did not flee if he met (the enemy in battle).” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2399
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: قرآن ایک مہینہ میں پڑھا کرو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، اور پھر میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: پانچ دن میں پڑھا کرو، اور مہینہ میں تین دن روزہ رکھو ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: داود (علیہ السلام) کا روزہ رکھو، جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah ﷺ said to me: ‘Read the Qur’an in a month.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ And I kept asking him until he said: ‘In five days.’ And he said: ‘Fast three days a month.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ and I kept asking him until he said: ‘Observe the most beloved of fasting to Allah, the Mighty and Sublime, the fast of Dawud علیہ السلام. He used to fast one day and not the next.” (Sahih)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2400
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو خبر ملی کہ میں روزہ رکھتا ہوں اور مسلسل رکھتا ہوں، اور رات میں نماز تہجد پڑھتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلا بھیجا، یا آپ ان سے ملے تو آپ نے فرمایا: کیا مجھے خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم (ہمیشہ) روزہ رکھتے ہو، اور کبھی بغیر روزہ کے نہیں رہتے، اور رات میں تہجد کی نماز پڑھتے ہو، تم ایسا نہ کرو کیونکہ تمہاری آنکھ کا بھی ایک حصہ ہے، اور تمہارے نفس کا بھی ایک حصہ ہے، تمہاری بیوی کا بھی ایک حصہ ہے، تم روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو، نماز بھی پڑھو اور سوؤ بھی، ہر دس دن میں ایک دن روزہ رکھو، تمہیں باقی نو دنوں کا بھی ثواب ملے گا ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تم روزہ داود رکھا کرو ، پوچھا: اللہ کے نبی! داود (علیہ السلام) کے روزہ کیسے ہوا کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے، اور جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو بھاگتے نہیں تھے ، انہوں نے کہا: کون ایسا کرسکتا ہے؟ اللہ کے نبی!۔
‘Abdullah bin ‘Amr bin Al- ‘As said: “The Messenger of Allah ﷺ heard that I was fasting Continually and praying all night.” Either he sent for him, or he happened to meet him and he said: “Have I not been told that you fast and never break your fast, and you pray all night? Do not do that, for your eyes should have a share, your self should have a share, and your family should have a share. Fast and break your fast; pray and sleep. Fast one day out of every ten, and you will have the reward of the other nine.” He said: “I am able to do more than that, Messenger of Allah.” He said: “Observe the fast of Dawud علیہ السلام then.” “I said: ‘How did Dawud علیہ السلام fast, Prophet of Allah ﷺ ?’ He said: ‘He used to fast one day, and not the next, and he never fled if he met (the enemy in battle).” He said: “How can I compare to him, Prophet of Allah ﷺ ?” (Sahih)
صحيح الإسناد ق نحوه دون قوله قال ومن ليصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2401
ابوقلابۃ ابوالملیح سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں تمہارے والد زید کے ساتھ عبداللہ بن عمرو ؓ کے پاس آیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے میرے روزہ کا ذکر کیا گیا تو آپ میرے پاس تشریف لائے، میں نے آپ کے لیے چمڑے کا ایک درمیانی تکیہ لا کر رکھا جس کا بھراؤ کھجور کی پیتاں تھیں، آپ زمین پر بیٹھ گئے، اور تکیہ ہمارے اور آپ کے درمیان ہوگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا ہر مہینے میں تین دن تمہارے روزہ کے لیے کافی نہیں ہیں؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! (کچھ بڑھا دیجئیے) آپ نے فرمایا: پانچ دن کرلو ، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! (کچھ بڑھا دیجئیے) آپ نے فرمایا: سات دن کرلو ، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ اور بڑھا دیجئیے! آپ نے فرمایا: نو دن ، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! (کچھ اور بڑھا دیجئیے) تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: گیارہ دن کرلو ، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! (کچھ بڑھا دیجئیے) آپ نے فرمایا: داود (علیہ السلام) کے روزہ سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں ہے، اور وہ اس طرح ہے ایک دن روزہ رکھا جائے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہا جائے ۔
It was narrated that Ibn Al-Malih said: "I entered with Zaid upon Abdullah bin Amr and he narrated: The Messenger of Allah was told about my fasting, so he entered upon me and I gave him an average-sized leather pillow that was stuffed with palm fibers. He sat in the ground with the pillow between myself and him, and said: "Will it not be sufficient for you to fast three days each months?" I said: O Messenger of Allah! He said: "He said: "Eleven." I said: "O Messenger of Allah!" Then the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is not fast better than the fast of Dawud علیہ السلام, half of a lifetime, fasting one day and not next.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2402
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: مہینے میں ایک دن روزہ رکھو تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا ، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: دو دن رکھ لیا کر، تجھے باقی دنوں کا ثواب مل جایا کرے گا ، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: تو تین دن رکھ لیا کرو تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملا کرے گا ، میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو آپ نے فرمایا: چار دن رکھ لیا کرو باقی دنوں کا بھی اجر بھی تمہیں ملا کرے گا ، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے افضل روزہ داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔
‘Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah ﷺ said to me: ‘Fast one day of the month and you will have the reward of what is left.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Fast two days and you will have the reward of what is left.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Fast three days and you will have the reward of what is left.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ He said: ‘Fast four days and you will have the reward of what is left.’ I said: ‘I am able to do more than that.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The best fasting is the fast of Dawud علیہ السلام; he used to fast one day and not the next.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2403
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے حبیب ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے میں انہیں ان شاء اللہ کبھی چھوڑ نہیں سکتا: آپ نے مجھے صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) پڑھنے کی وصیت کی، اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کی۔
It was narrated that Abu Dharr said: “My beloved Prophet ﷺ advised me to do three things which I will never give up, if Allah Wills. He advised me to pray Duha, to pray Witr before sleeping, and to fast three days of each month.” (Sahih)
صحيح ق دون قوله لا أدعهن أبدا وعند خ معناهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2404
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا ہے: وتر پڑھ کر سونے کا، جمعہ کے دن غسل کرنے کا ١ ؎، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ enjoined three things upon me: To sleep after praying Witr, to perform Ghusl on Friday, and to fast three days of each month.” (Sahih)
منکر بذکر الغسل والمحفوظ صلاة الضحىصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2405
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی ٹکڑا منکر ہے، صحیح صلاۃ الضحیٰ چاشت کی نماز ہے جیسا کہ اگلی روایت میں ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٣٧١ (منکر) (جمعہ کے غسل کا تذکرہ منکر ہے، صحیح ” چاشت کی صلاة “ ہے )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) دو رکعتیں پڑھنے کا، اور بغیر وتر پڑھے نہ سونے کا، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ commanded me to pray two Rak’ahs of Duha, not to sleep until after praying Witr and to fast three days of each month.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2406
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وتر پڑھ کر سونے، جمعہ کے دن غسل کرنے، اور ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ commanded me to sleep after praying Witr, to perform Ghusl on Friday and to fast three days of each month.” (Sahih)
منكرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2407
ابوعثمان سے روایت ہے کہ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا: صبر کے مہینے کے، اور ہر مہینے سے تین دن کے روزے صوم الدهر ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘The month of patience (Ramadan) and three days of each month is fasting for a lifetime.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2408
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مہینے کے تین دن روزہ رکھے تو گویا اس نے صوم الدهر رکھے ، پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں سچ فرمایا ہے: من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها جو کوئی ایک نیکی لائے گا اسے دس گنا ثواب ملے گا (الانعام: ١٦٠ ) ۔
It was narrated that Abu Dharr (RA) said: “The Messenger of Allah said: ‘Whoever fasts for three days of each month, he has fasted for a whole lifetime.’ Then he said: ‘Allah has spoken the truth in His Book: Whoever brings a good deed shall have ten times the like thereof to his credit.”
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2409
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ٥٤ (٧٦٢)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٢٩ (١٧٠٨)، (تحفة الأشراف: ١١٩٦٧)، مسند احمد ٥/١٤٥ (صحیح )