Sunan An Nasai 2373

روزوں سے متعلقہ احادیث

2373Sunan An Nasai

رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا روزہ! میرے والدین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان۔ اور اس خبر کے ناقلین کا اختلاف

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ ! أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي هَذَا الْيَوْمِ: إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ.

حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ ؓ کو عاشوراء کے دن منبر پر کہتے سنا: اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس دن میں کہتے ہوئے سنا کہ میں روزہ سے ہوں تو جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھے ۔

It was narrated that Humaid bin ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf said: “I heard Muawiyah say on the day of ‘Ashura’ when he was on the Minbar: people of Al-Madinah, where are your scholars? I heard the Messenger of Allah ﷺ say on this day: “I am fasting, so whoever wants to fast let him do so.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2371
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٣)، صحیح مسلم/الصوم ١٩ (١١٢٥)، (تحفة الأشراف: ١١٤٠٨)، موطا امام مالک/الصوم ١١ (٣٤)، مسند احمد ٤/٩٥، ٩٧ (صحیح )