ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ طاقت بھر دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے: وضو کرنے، جوتے پہننے اور کنگھی کرنے (وغیرہ امور) میں۔
It was narrated from Aishah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) liked to start on the right whenever possible; when purifying himself, when putting on his shoes, and when combing his hair.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5240
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہودی اور نصرانی (بالوں کو) نہیں رنگتے، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو ١ ؎۔
Abu Hurairah narrated that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The Jews and the Christians do not dye their hair, so be different from them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5241
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: سفید بالوں کو رنگ دو، البتہ کالے خضاب سے بچو۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس (ابوبکر کے والد) ابوقحافہ ؓ لائے گئے، ان کا سر اور داڑھی ثغامہ نامی گھاس کی طرح تھے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ان کے بالوں کا رنگ بدلو ، یا (فرمایا) خضاب لگاؤ ۔
It was narrated that Jabir said: "Abu Quhafah was brought to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and his head and beard were white like the Thaghamah. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Change this, or dye it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5242
Notes · وضاحت
١ ؎: ثغامہ ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں۔
عبید کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کو اپنی داڑھی پیلی کرتے دیکھا، تو ان سے اس کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنی داڑھی زرد (پیلی) کرتے ہوئے دیکھا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ubaid said: "I saw Ibn Umar dyeing his beard yellow and I asked him about that. He said: "I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) dye his beard yellow.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5243
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ چمڑے کا جوتا پہنتے اور اپنی داڑھی ورس اور زعفران سے پیلی کرتے تھے، اور ابن عمر ؓ بھی ایسا کیا کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to wear Sibtiyyah sandals and dye his beard yellow with Wars and saffron." And Ibn Umar used to do that.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5244
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ ؓ کو سنا، وہ مدینے میں منبر پر تھے، انہوں نے اپنی آستین سے بالوں کا ایک گچھا نکالا اور کہا: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ان جیسی چیزوں سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے، نیز آپ ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل کی عورتوں نے جب ان جیسی چیزوں کو اپنانا شروع کیا تو وہ ہلاک و برباد ہوگئے ۔
It was narrated that Humaid bin Abdur-Rahman said: "I heard Muawiyah say, when he was on the Minbar in Al-Madinah, and he brought out a hairpiece from his sleeve: O people of Al-Madinah, where are your knowledgeable ones? I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbid such things as this, and he said: "The Children of Israel were destroyed when their women started to wear things like this.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5245
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ مدینہ آئے اور ہمیں خطاب کیا، آپ نے بالوں کا ایک گچھا لے کر کہا: میں نے سوائے یہود کے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا ١ ؎، اور رسول اللہ ﷺ تک جب یہ چیز پہنچی تو آپ نے اس کا نام دھوکا رکھا۔
It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "Muawiyah came to Al-Madinah and addressed us. He took hold of a hairpiece and said: I never used to see anyone do this except the Jews. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) heard of it and he called it "giving a false impression.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5246
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: اپنے اصلی بالوں میں دوسرے کے بال جوڑنا یہودی عورتوں کا کام ہے، مسلمان عورتوں کو اس سے بچنا ضروری ہے۔
معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: لوگو! نبی اکرم ﷺ نے تمہیں جھوٹ اور فریب سے روکا ہے، راوی (ابن المسیب) کہتے ہیں: اور انہوں نے ایک کالا چیتھڑا نکالا پھر اسے ان کے سامنے رکھ دیا اور کہا: یہی ہے وہ (یعنی جھوٹ اور فریب کاری) ، اسے عورت اپنے سر میں لگا کر دوپٹا اوڑھ لیتی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Muawiyah said: "O people, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade you to give false impressions. He brought a piece of black cloth and threw it in front of them and said: This is what women are putting on their heads and covering it.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5247
Notes · وضاحت
١ ؎: اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس عورت کے اپنے اصلی بال بڑے لمبے لمبے ہیں، اور لمبے بال عورتوں کی خوبصورتی میں شمار ہوتے ہیں، تو گویا غیر خوبصورت عورت خود کو مصنوعی ذریعے سے خوبصورت ظاہر کر کے اس کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، یہ عمل اسلام کی نظر میں ناپسندیدہ ہے کیونکہ یہ دھوکا ہے۔
معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جھوٹ اور فریب کاری سے منع فرمایا، اور جھوٹ اور فریب کاری یہ ہے کہ عورت (بال زیادہ دکھانے کے لیے) سر پر کچھ لپیٹ لے۔
It was narrated from Muawiyah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade giving a false impression, and the false impression of a woman when she adds extra hair to her head.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5248
اسماء ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میری ایک بیٹی نئی نویلی دلہن ہے، اسے ایک بیماری ہوگئی ہے کہ اس کے بال جھڑ رہے ہیں اگر میں اس کے بال جو ڑوا دوں تو کیا مجھ پر گناہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا: بال جوڑنے اور جو ڑوانے والی عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے ۔
It was narrated from Asma that: A woman came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "O Messenger of Allah, a daughter of mine is going to get married. She got sick and her hair fell out. Is there any sin on me if I give her hair extensions? He said: "Allah has cursed the woman who affixes hair extensions and the one who has that done.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5250
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بال جوڑنے اور جو ڑوانے والی عورت پر اور گودنے اور گودانے والی عورت پر لعنت فرمائی۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the woman who affixes hair extensions and the one who has that done, and the woman who does tattoos and the one who has that done.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5251
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ چہرہ کے روئیں اکھاڑنے والی اور دانتوں کو کشادہ کرنے والی عورتوں پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے، کیا میں اس پر لعنت نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی ہے۔
It was narrated that Abdullah said: "May Allah curse Al-Mutanammisat and who have their teeth separated. Shall I not curse those whom the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5252
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (جسم پر) گودنا گودنے والی، خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کروانے والی، پیشانی کے بال اکھاڑنے والی اور اللہ کی بنائی ہوئی چیز کو بدلنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed the women who do tattoos, those who have their teeth separated and Al-Mutanammisat who change the creation of Allah, the Mighty and Sublime.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5253
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے چہرہ کے بال اکھاڑنے والی، دانتوں میں کشادگی کرنے والی، گودنا گودانے والی اور اللہ کی فطرت کو تبدیل کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، چناچہ ایک عورت ان کے پاس آ کر کہا: آپ ہی ایسا ایسا کہتے ہیں؟ وہ بولے: آخر میں وہ بات کیوں نہ کہوں جو رسول اللہ ﷺ نے کہی ہے۔
It was narrated that Abdullah said: "May Allah curse Al-Mutanammisat and their teeth separated, who have tattoos done, changing the creation of Allah." A woman came to him and said: "Are you the one who said such-and-such?" He said: "Why should I not say what the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said?
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5254
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے تھے کہ گودنا گودانے والی، چہرے کے بال اکھاڑنے والی اور دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والی عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے۔ کیا میں اس پر لعنت نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی ہے۔
It was narrated that Ibrahim said: "Abdullah used to say: May Allah curse the women who have tattoos done and Al-Mutanammisat, and have the women who have their teeth separated. Should I not curse those whom the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) cursed?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5255
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے خوشبو پیش کی جائے وہ اسے نہ لوٹائے کیونکہ وہ اٹھانے میں ہلکی اور سونگھنے میں اچھی ہوتی ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever is offered perfume, let him not refuse it for it is easy to carry, and smells good.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5259