زینت (آرائش) سے متعلق احادیت مبارکہ

Sunan An Nasai · Chapter 48 · 339 hadiths · Page 10 of 17

5223Sunan An Nasai

گھونگرو اور گھنٹہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ الطُّرْسُوسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُوسَى، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَحَدَّثَ سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جُلْجُلٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے ساتھ گھنگھرو ہوں ۔

It was narrated that Abu Bakr bin Musa said: "I was with Salim bin Abdullah when Salim narrated from his father, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The angels do not accompany groups of people who have small bells with them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5220
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
5223Sunan An Nasai

گھونگرو اور گھنٹہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، رَفَعَهُ، قَالَ: لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جُلْجُلٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے ساتھ گھنگھرو ہوں ۔

It was narrated from Salim, from his father,: Who attributed it to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "The angels do not accompany groups of people who have small bells with them.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5221
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٢٢٢ (صحیح )
5224Sunan An Nasai

گھونگرو اور گھنٹہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بَابَيْهِ مَوْلَى آلِ نَوْفَلٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جُلْجُلٌ وَلَا جَرَسٌ وَلَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، جس میں گھنگھرو یا گھنٹہ ہو، اور نہ فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ چلتے ہیں جن کے ساتھ گھنٹی ہو ۔

Umm Salamah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The angels do not enter a house in which there is a small bell, or a bell, and the angels do not accompany groups of people who have bells with them.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5222
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨١٥٦) (حسن )
5225Sunan An Nasai

گھونگرو اور گھنٹہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَآنِي رَثَّ الثِّيَابِ، فَقَالَ: أَلَكَ مَالٌ ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ كُلِّ الْمَالِ، قَالَ: فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ أَثَرُهُ عَلَيْكَ.

ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ جشمی ؓ روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے مجھے پھٹے کپڑے پہنے دیکھا تو فرمایا: کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! سب کچھ ہے، آپ نے فرمایا: جب تمہیں اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا ہے تو اس کے آثار بھی تمہارے اوپر ہونے چاہئیں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Al-Ahwas that his father said: "I was sitting with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he saw that I was dressed in scruffy clothes. He said: Do you have any wealth? I said: Yes, O Messenger of Allah, all kinds of wealth. He said: If Allah gives you wealth then let its effect be seen on you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5223
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کی دی ہوئی نعمت کی قدر کرو اور اس کی شکر گزاری کرتے ہوئے فضول خرچی کئے بغیر اسے حسب ضرورت استعمال کرو اور اس میں سے دوسروں کے حقوق ادا کرو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١٧ (٤٠٦٣)، (تحفة الٔنشراف: ١١٢٠٣)، مسند احمد (٤/١٣٧)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٢٩٦ (صحیح )
5226Sunan An Nasai

گھونگرو اور گھنٹہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ دُونٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَكَ مَالٌ، قَالَ: نَعَمْ، مِنْ كُلِّ الْمَالِ، قَالَ: مِنْ أَيِّ الْمَالِ ؟قَالَ: قَدْ آتَانِي اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ، وَالْغَنَمِ، وَالْخَيْلِ، وَالرَّقِيقِ، قَالَ: فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ.

ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ جشمی ؓ روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گھٹیا کپڑے پہن کر آئے۔ تو آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ وہ بولے: جی ہاں، سب کچھ ہے۔ آپ نے فرمایا: کس طرح کا مال ہے؟ وہ بولے: اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ، بکریاں، گھوڑے اور غلام عطا کئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل کے تم پر آثار بھی دکھائی دینے چاہیئے ۔

It was narrated from Abu Al-Ahwas, from his father, : That he came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wearing shabby clothes. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: "Do you have any wealth?" He said: "Yes, all kinds of wealth." He said: "What kinds of wealth?" He said: "Allah has given me camels, cattle, sheep, horses and slaves." He said: "If Allah has given you wealth, then let the effect of Allahs blessing and generosity be seen on you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5224
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
5227Sunan An Nasai

فطرت کا بیان

أَخْبَرَنَا ابْنُ السُّنِّيِّ قِرَاءَةً، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ لَفْظًا، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَالْخِتَانُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزیں دین فطرت میں سے ہیں: مونچھ کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن کترنا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: Five things are from the Fitrah: Trimming the mustache, plucking the armpit hairs, clipping the nails, shaving the pubes and circumcision.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5225
Notes · وضاحت
١ ؎: کتاب الزینہ کے جو ابواب اب تک گزرے وہ سنن کبری کے تھے، اور یہ ابواب اس مختصر (سنن مجتبیٰ ) میں بڑھائے گئے ہیں، یہ سنن کبری میں نہیں تھے۔ ٢ ؎: پانچ چیزوں کے ذکر سے حصر مقصود نہیں ہے کیونکہ بعض روایتوں میں عشر ۃ من الفطر ۃ فطرت میں دس باتیں ہیں بھی ہے۔ ٣ ؎: فطرت سے مراد جبلت یعنی مزاج و طبیعت کے ہیں جس پر انسان کی پیدائش ہوتی ہے، یہاں مراد قدیم سنت ہے جسے انبیاء کرام (علیہم السلام) نے پسند فرمایا ہے اور پچھلی شریعتیں اس پر متفق ہیں گویا کہ وہ پیدائشی معاملہ ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٠ (صحیح )
5228Sunan An Nasai

مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا بیان

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى.

عبداللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مونچھیں کاٹو اور داڑھی بڑھاؤ۔

It was narrated from Ibn Umar that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Trim the mustache and let the beard grow.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5226
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٥ (صحیح )
5229Sunan An Nasai

بچوں کا سر مونڈنے کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْالْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثَةً أَنْ يَأْتِيَهُمْ، ثُمَّ أَتَاهُمْ، فَقَالَ: لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ، ثُمَّ قَالَ: ادْعُوا إِلَيَّ بَنِي أَخِي، فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ، فَقَالَ: ادْعُوا إِلَيَّ الْحَلَّاقَ، فَأَمَرَ بِحَلْقِ رُءُوسِنَا. مُخْتَصَرٌ.

عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آل جعفر کو یہ کہہ کر کہ آپ ان کے پاس آئیں گے تین روز تک (رونے اور غم منانے کی) اجازت دی ١ ؎، پھر آپ ان کے پاس آئے اور فرمایا: آج کے بعد میرے بھائی پر مت روؤ، پھر فرمایا: میرے بھائی کے بچوں کو بلاؤ ۔ چناچہ ہمیں لایا گیا گویا ہم چوزے بہت چھوٹے تھے پھر آپ نے فرمایا: نائی کو بلاؤ ، پھر آپ نے ہمارے سر مونڈنے کا حکم دیا۔

It was narrated that Abdullah bin Jafar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stayed away from the family of Jafar (when he died) for three days, then he came to them, and said: Do not weep for my brother after today. Then he said: Call my brothers sons to me. We were brought like little chicks, and he said: Call the barber for me. Then he ordered that our heads be shaved.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5227
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے پتہ چلا کہ میت پر بغیر آواز اور سینہ کو بی کے تین دن تک رونا اور اظہار غم کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الترجل ١٣ (٤١٩٢)، (تحفة الأشراف: ٥٢١٦)، مسند احمد (١/٢٠٤) (صحیح )
5230Sunan An Nasai

بچے کا سر کچھ منڈانا اور کچھ چھوڑنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْقَزَعِ.

عبداللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے قزع (کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑ دینے) سے منع فرمایا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Qaza (shaving part of the head and leaving part).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5228
Notes · وضاحت
١ ؎: قزع یہ ہے کہ بچوں کے سر کے کچھ بال مونڈ دئیے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔزشراف: ٨٠٣٤) (صحیح )
5231Sunan An Nasai

بچے کا سر کچھ منڈانا اور کچھ چھوڑنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنْهَى عَنِ الْقَزَعِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو قزع (کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑ دینے) سے منع فرماتے سنا ہے۔

Ibn Umar said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbidding Al-Qaza (shaving part of the head and leaving part).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5229
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠٥٤ (صحیح )
5232Sunan An Nasai

بچے کا سر کچھ منڈانا اور کچھ چھوڑنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قزع (کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑ دینے) سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Qaza (shaving part of the head and leaving part).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5230
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠٥٣ (صحیح )
5233Sunan An Nasai

بچے کا سر کچھ منڈانا اور کچھ چھوڑنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْقَزَعِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قزع (کچھ بال مونڈنے اور کچھ چھوڑ دینے) سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated from Ibn Umar that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Qaza (shaving part of the head and leaving part).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5231
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠٥٣ (صحیح )
5234Sunan An Nasai

سر پر بال رکھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجِلًا مَرْبُوعًا عَرِيضَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، كَثَّ اللِّحْيَةِ، تَعْلُوهُ حُمْرَةٌ جُمَّتُهُ إِلَى شَحْمَتَيْ أُذُنَيْهِ، لَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مَا رَأَيْتُ أَحْسَنَ مِنْهُ.

براء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ درمیانے قد کے، چوڑے مونڈھوں اور گھنی داڑھی والے تھے، آپ کے بدن پر کچھ سرخی ظاہر تھی، سر کے بال کان کی لو تک تھے ١ ؎، میں نے آپ کو لال جوڑا پہنے ہوئے دیکھا اور آپ سے زیادہ کسی کو خوبصورت نہیں دیکھا۔

It was narrated that Al-Bara said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was a man of average height with broad shoulders, a thick beard and a reddish complexion, and his hair came down to his earlobes. I saw him in a red Hullah and I never saw anything more handsome than him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5232
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کے سر کے بالوں کے بارے میں متعدد و مختلف روایات وارد ہیں: آدھے کان تک، کانوں کے لو تک، کانوں کے لووں اور کندھوں کے درمیان تک، اور کندھوں تک، اور ان سب روایات میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف حالات کی روایات ہیں، کبھی آپ نے بال کٹوائے تو آدھے کانوں تک کرلیا، اور وہ بڑھ کر کان کے لو تک ہوگئے، اور اسی حالت میں چھوڑ دیئے تو اور بڑھ گئے، کبھی اتنے ہی پر کٹوا لیا اور کبھی چھوڑ دیا تو تو کندھوں کے اوپر یا کندھوں تک ہوگئے، اب جس نے جو دیکھا وہی بیان کردیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥١)، صحیح مسلم/الفضائل ٢٥ (٢٣٣٧)، سنن ابی داود/اللباس ٢١ (٤٠٧٢)، الترجل ٩ (٤١٨٤)، سنن الترمذی/الأدب ٤٧ (٢٨١١)، (تحفة الأشراف: ١٨٦٩)، مسند احمد (٤/٢٨١)، ویأتي عند المؤلف: ٥٣١٦ (صحیح )
5235Sunan An Nasai

سر پر بال رکھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ.

براء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کسی بال والے کو لباس پہنے ہوئے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ ﷺ کے بال مونڈھوں کے قریب تھے۔

It was narrated that Al-Bara said: "I never saw any long haired man in a Hullah who was more handsome than the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and he had hair that came down to his shoulders.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5233
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٢٥ (٢٣٣٧)، سنن ابی داود/الترجل ٩ (٤١٨٣)، سنن الترمذی/اللباس ٤ (١٧٢٤)، المناقب ٨ (٣٦٣٥)، الأدب ٤٧ (٢٨١١)، (تحفة الأشراف: ١٨٤٧) (صحیح )
5236Sunan An Nasai

سر پر بال رکھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نِصْفِ أُذُنَيْهِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال آدھے کانوں تک تھے۔

It was narrated from Anas that: The hair of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came halfway down his ears.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5234
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٢٦ (٢٣٣٨)، سنن ابی داود/الترجل ٩ (٤١٨٧)، (تحفة الأشراف: ٥٦٧)، مسند احمد (٣/١٤٢، ٢٤٩) (صحیح )
5237Sunan An Nasai

سر پر بال رکھنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَضْرِبُ شَعْرُهُ إِلَى مَنْكِبَيْهِ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے بال مونڈھوں تک رکھتے تھے۔

It was narrated from Anas that: The hair of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came down to his shoulders.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5235
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٦٨ (٥٩٠٣، ٥٩٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٦)، مسند احمد (٣/١١٨١٨، ١٢٥، ٢٤٥، ٢٦٩) (صحیح )
5238Sunan An Nasai

بالوں کو برابر کرنے یعنی کنگھی کرنے اور تیل لگانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَى رَجُلًا ثَائِرَ الرَّأْسِ، فَقَالَ: أَمَا يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ شَعْرَهُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ آئے، آپ نے ایک شخص کو دیکھا، اس کے سر کے بال الجھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: کیا اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس سے اپنے بال ٹھیک رکھ سکے؟ ۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to us and saw a man with wild hair. He said: Could this man not find anything with which to calm down his hair?

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5236
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١٧ (٤٠٦٢)، (تحفة الأشراف: ٣٠١٢)، مسند احمد (٣/٣٥٧) (صحیح )
5239Sunan An Nasai

بالوں کو برابر کرنے یعنی کنگھی کرنے اور تیل لگانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَتْ لَهُ جُمَّةٌ ضَخْمَةٌ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،فَأَمَرَهُ أَنْ يُحْسِنَ إِلَيْهَا وَأَنْ يَتَرَجَّلَ كُلَّ يَوْمٍ.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ان کے بال بڑے بڑے تھے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تو آپ نے حکم دیا: انہیں اچھی طرح رکھو اور ہر روز کنگھی کرو ۔

It was narrated that Abu Qatadah said: That he had long thick hair. "He asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) (about it) and he told him to take care of it and comb it every day.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5237
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٢١٢٧) (ضعیف) (اس کی سند میں محمد بن منکدر اور ابوقتادہ رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ اس صحیح حدیث کے خلاف ہے جس میں ہر روز کنگھی کرنے سے ممانعت ہے )
5240Sunan An Nasai

بالوں میں مانگ نکالنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدُلُ شَعْرَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ شُعُورَهُمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِشَيْءٍ، ثُمَّ فَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بال چھوڑ دیتے تھے اور کفار و مشرکین بالوں میں مانگ نکالتے تھے، آپ ایسے معاملات میں جن میں کوئی حکم نہ ملتا اہل کتاب (یہود و نصاری) کی موافقت پسند فرماتے تھے، پھر اس کے بعد آپ نے بھی مانگ نکالی۔

It was narrated from Ibn Abbas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to let his hair hang down (without a parting) and the Mushrikun used to part their hair. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) liked to act in accordance with the People of the Book, in matters where no specific command had been given to him. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) parted his hair after that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5238
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥٨)، مناقب الٔلنصار ٥٢ (٣٩٤٤)، اللباس ٧٠ (٥٩١٧)، صحیح مسلم/الفضائل ٢٤ (٢٣٣٦)، سنن ابی داود/الترجل ١٠ (٤١٨٨)، سنن الترمذی/الشمائل ٣ (٢٩)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٦ (٣٦٣٢)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٦)، مسند احمد (١/٢٤٦٤٦، ٢٦١، ٢٨٧، ٣٢٠) (صحیح )
5241Sunan An Nasai

کنگھی کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَالُ لَهُ: عُبَيْدٌ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْإِرْفَاهِ. سُئِلَ ابْنُ بُرَيْدَةَ عَنِ الْإِرْفَاهِ ؟ قَالَ: مِنْهُ التَّرَجُّلُ.

عبید نامی ایک صحابی رسول ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارفاہ (بہت زیادہ عیش میں پڑجانے) سے منع فرماتے تھے۔ عبداللہ بن بریدہ سے پوچھا گیا: ارفاہ کیا ہے؟ کہا: ارفاہ میں (ہر روز) کنگھی کرنا بھی شامل ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Buraidah that: A man from among the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) who was called Ubaid said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to forbid too much of Al-Irfah." Ibn Buraidah was asked what too much of Al-Irfah meant, and he said: "It includes combing the hair.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5239
Notes · وضاحت
١ ؎: لفظ ترجل کا معنی ہر روز کنگھی کرنا اس لیے کیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ خود بھی کنگھی کرتے تھے، اور اس کی ترغیب بھی دیتے تھے، (جیسا کہ حدیث نمبر: ٥٢٣٨ میں ہے) آپ نے صرف کثرت سے کنگھی کرنے سے منع فرمایا، اور ناغہ کر کے کرنے کی اجازت دی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠١١ (صحیح )