عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے ساتھ گھنگھرو ہوں ۔
It was narrated that Abu Bakr bin Musa said: "I was with Salim bin Abdullah when Salim narrated from his father, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The angels do not accompany groups of people who have small bells with them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5220
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے ساتھ گھنگھرو ہوں ۔
It was narrated from Salim, from his father,: Who attributed it to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "The angels do not accompany groups of people who have small bells with them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5221
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، جس میں گھنگھرو یا گھنٹہ ہو، اور نہ فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ چلتے ہیں جن کے ساتھ گھنٹی ہو ۔
Umm Salamah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The angels do not enter a house in which there is a small bell, or a bell, and the angels do not accompany groups of people who have bells with them.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5222
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ جشمی ؓ روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے مجھے پھٹے کپڑے پہنے دیکھا تو فرمایا: کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! سب کچھ ہے، آپ نے فرمایا: جب تمہیں اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا ہے تو اس کے آثار بھی تمہارے اوپر ہونے چاہئیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Al-Ahwas that his father said: "I was sitting with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he saw that I was dressed in scruffy clothes. He said: Do you have any wealth? I said: Yes, O Messenger of Allah, all kinds of wealth. He said: If Allah gives you wealth then let its effect be seen on you.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5223
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کی دی ہوئی نعمت کی قدر کرو اور اس کی شکر گزاری کرتے ہوئے فضول خرچی کئے بغیر اسے حسب ضرورت استعمال کرو اور اس میں سے دوسروں کے حقوق ادا کرو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ١٧ (٤٠٦٣)، (تحفة الٔنشراف: ١١٢٠٣)، مسند احمد (٤/١٣٧)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٢٩٦ (صحیح )
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ جشمی ؓ روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گھٹیا کپڑے پہن کر آئے۔ تو آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے؟ وہ بولے: جی ہاں، سب کچھ ہے۔ آپ نے فرمایا: کس طرح کا مال ہے؟ وہ بولے: اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ، بکریاں، گھوڑے اور غلام عطا کئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل کے تم پر آثار بھی دکھائی دینے چاہیئے ۔
It was narrated from Abu Al-Ahwas, from his father, : That he came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wearing shabby clothes. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: "Do you have any wealth?" He said: "Yes, all kinds of wealth." He said: "What kinds of wealth?" He said: "Allah has given me camels, cattle, sheep, horses and slaves." He said: "If Allah has given you wealth, then let the effect of Allahs blessing and generosity be seen on you.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5224
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزیں دین فطرت میں سے ہیں: مونچھ کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن کترنا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: Five things are from the Fitrah: Trimming the mustache, plucking the armpit hairs, clipping the nails, shaving the pubes and circumcision.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5225
Notes · وضاحت
١ ؎: کتاب الزینہ کے جو ابواب اب تک گزرے وہ سنن کبری کے تھے، اور یہ ابواب اس مختصر (سنن مجتبیٰ ) میں بڑھائے گئے ہیں، یہ سنن کبری میں نہیں تھے۔ ٢ ؎: پانچ چیزوں کے ذکر سے حصر مقصود نہیں ہے کیونکہ بعض روایتوں میں عشر ۃ من الفطر ۃ فطرت میں دس باتیں ہیں بھی ہے۔ ٣ ؎: فطرت سے مراد جبلت یعنی مزاج و طبیعت کے ہیں جس پر انسان کی پیدائش ہوتی ہے، یہاں مراد قدیم سنت ہے جسے انبیاء کرام (علیہم السلام) نے پسند فرمایا ہے اور پچھلی شریعتیں اس پر متفق ہیں گویا کہ وہ پیدائشی معاملہ ہے۔
عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آل جعفر کو یہ کہہ کر کہ آپ ان کے پاس آئیں گے تین روز تک (رونے اور غم منانے کی) اجازت دی ١ ؎، پھر آپ ان کے پاس آئے اور فرمایا: آج کے بعد میرے بھائی پر مت روؤ، پھر فرمایا: میرے بھائی کے بچوں کو بلاؤ ۔ چناچہ ہمیں لایا گیا گویا ہم چوزے بہت چھوٹے تھے پھر آپ نے فرمایا: نائی کو بلاؤ ، پھر آپ نے ہمارے سر مونڈنے کا حکم دیا۔
It was narrated that Abdullah bin Jafar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stayed away from the family of Jafar (when he died) for three days, then he came to them, and said: Do not weep for my brother after today. Then he said: Call my brothers sons to me. We were brought like little chicks, and he said: Call the barber for me. Then he ordered that our heads be shaved.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5227
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے پتہ چلا کہ میت پر بغیر آواز اور سینہ کو بی کے تین دن تک رونا اور اظہار غم کرنا جائز ہے۔
براء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ درمیانے قد کے، چوڑے مونڈھوں اور گھنی داڑھی والے تھے، آپ کے بدن پر کچھ سرخی ظاہر تھی، سر کے بال کان کی لو تک تھے ١ ؎، میں نے آپ کو لال جوڑا پہنے ہوئے دیکھا اور آپ سے زیادہ کسی کو خوبصورت نہیں دیکھا۔
It was narrated that Al-Bara said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was a man of average height with broad shoulders, a thick beard and a reddish complexion, and his hair came down to his earlobes. I saw him in a red Hullah and I never saw anything more handsome than him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5232
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کے سر کے بالوں کے بارے میں متعدد و مختلف روایات وارد ہیں: آدھے کان تک، کانوں کے لو تک، کانوں کے لووں اور کندھوں کے درمیان تک، اور کندھوں تک، اور ان سب روایات میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف حالات کی روایات ہیں، کبھی آپ نے بال کٹوائے تو آدھے کانوں تک کرلیا، اور وہ بڑھ کر کان کے لو تک ہوگئے، اور اسی حالت میں چھوڑ دیئے تو اور بڑھ گئے، کبھی اتنے ہی پر کٹوا لیا اور کبھی چھوڑ دیا تو تو کندھوں کے اوپر یا کندھوں تک ہوگئے، اب جس نے جو دیکھا وہی بیان کردیا۔
براء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کسی بال والے کو لباس پہنے ہوئے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ ﷺ کے بال مونڈھوں کے قریب تھے۔
It was narrated that Al-Bara said: "I never saw any long haired man in a Hullah who was more handsome than the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and he had hair that came down to his shoulders.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5233
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ آئے، آپ نے ایک شخص کو دیکھا، اس کے سر کے بال الجھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: کیا اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس سے اپنے بال ٹھیک رکھ سکے؟ ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to us and saw a man with wild hair. He said: Could this man not find anything with which to calm down his hair?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5236
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ان کے بال بڑے بڑے تھے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تو آپ نے حکم دیا: انہیں اچھی طرح رکھو اور ہر روز کنگھی کرو ۔
It was narrated that Abu Qatadah said: That he had long thick hair. "He asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) (about it) and he told him to take care of it and comb it every day.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5237
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٢١٢٧) (ضعیف) (اس کی سند میں محمد بن منکدر اور ابوقتادہ رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ اس صحیح حدیث کے خلاف ہے جس میں ہر روز کنگھی کرنے سے ممانعت ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بال چھوڑ دیتے تھے اور کفار و مشرکین بالوں میں مانگ نکالتے تھے، آپ ایسے معاملات میں جن میں کوئی حکم نہ ملتا اہل کتاب (یہود و نصاری) کی موافقت پسند فرماتے تھے، پھر اس کے بعد آپ نے بھی مانگ نکالی۔
It was narrated from Ibn Abbas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to let his hair hang down (without a parting) and the Mushrikun used to part their hair. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) liked to act in accordance with the People of the Book, in matters where no specific command had been given to him. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) parted his hair after that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5238
عبید نامی ایک صحابی رسول ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارفاہ (بہت زیادہ عیش میں پڑجانے) سے منع فرماتے تھے۔ عبداللہ بن بریدہ سے پوچھا گیا: ارفاہ کیا ہے؟ کہا: ارفاہ میں (ہر روز) کنگھی کرنا بھی شامل ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Buraidah that: A man from among the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) who was called Ubaid said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to forbid too much of Al-Irfah." Ibn Buraidah was asked what too much of Al-Irfah meant, and he said: "It includes combing the hair.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5239
Notes · وضاحت
١ ؎: لفظ ترجل کا معنی ہر روز کنگھی کرنا اس لیے کیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ خود بھی کنگھی کرتے تھے، اور اس کی ترغیب بھی دیتے تھے، (جیسا کہ حدیث نمبر: ٥٢٣٨ میں ہے) آپ نے صرف کثرت سے کنگھی کرنے سے منع فرمایا، اور ناغہ کر کے کرنے کی اجازت دی ہے۔