رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 18 · 220 hadiths · Page 10 of 11

1779Sunan An Nasai

فجر کی رکعات کا وقت

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا يَطْلُعُ الْفَجْرُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حفصہ ؓ نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے اور یہ فجر طلوع ہوجانے کے بعد پڑھتے۔

Ibn Umar said: "Hafsah told me that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray two brief rakahs before Fajr, and that was after dawn had broken."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1778
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٨٤ (صحیح )
1780Sunan An Nasai

فجر کی رکعات کا وقت

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِيحَفْصَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا أَضَاءَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ.

ام المؤمنین حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ جب فجر روشن ہوجاتی تو رسول اللہ ﷺ دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

It was narrated from Salim that his father said: "Hafsah told me that when dawn glowed, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) would pray two rakahs."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1779
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٨٤ (صحیح )
1781Sunan An Nasai

فجر کی رکعات کا وقت

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

It was narrated from Aishah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray two brief rakahs between the Adhan and Iqamah for Fajr prayer.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1780
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٧٥٧ (صحیح )
1782Sunan An Nasai

فجر کی رکعات کا وقت

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَعَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي ثَمَانَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يُوتِرُ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ.

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے، پہلے آٹھ رکعتیں پڑھتے، پھر (ایک رکعت) وتر پڑھتے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے، اور جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہوجاتے، اور رکوع کرتے، اور دو رکعتیں صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے۔

It was narrated from Abu Salamah that : He asked Aishah about the prayer of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) at night. She said: "He used to pray thirteen rakahs. He would pray eight rakahs then pray witr, then pray two rakahs sitting down. When he wanted to bow he would stand and bow, and he prayed two rakahs between the adhan and iqamah of subh prayer.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1781
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوسلمہ سے مراد ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٧٥٧ (صحیح )
1783Sunan An Nasai

فجر کی رکعات کا وقت

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ إِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ وَيُخَفِّفُهُمَا، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب اذان سنتے تو فجر کی دو رکعتیں پڑھتے، اور انہیں ہلکی پڑھتے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to pray two rakahs of Fajr when he heard the Adhan and he made them brief."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1782
Notes · وضاحت
١ ؎: نکارت کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ اس مشہور روایت کے مخالف ہے جس میں ہے کہ آپ جب مؤذن اذان سے فارغ ہوجاتا اور صبح نمودار ہوجاتی تو دو ہلکی رکعتیں پڑھتے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے منکر کے بجائے شاذ کہا جائے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ متن ابن عباس ؓ سے محفوظ نہیں ہے کیونکہ اسے مسلم نے اپنی صحیح میں عرو ۃ عن عائشہ کے طریق سے روایت کی ہے، اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب اذان سن لیتے تو فجر کی دو رکعتیں پڑھتے، اور انہیں ہلکی پڑھتے، اور احتمال اس کا بھی ہے کہ مؤلف کی مراد یہ ہو کہ ابن عباس ؓ سے جو محفوظ روایت ہے وہ اس متن کے علاوہ ہے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٤٨٤) (صحیح) (اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
1784Sunan An Nasai

فجر کی رکعات کا وقت

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ شُرَيْحًا الْحَضْرَمِيَّ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَاكَ رَجُلٌ لَا يَتَوَسَّدُ الْقُرْآنَ.

سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ شریح حضرمی کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے پاس کیا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ قرآن کو تکیہ نہیں بناتے ۔

It was narrated that Az-Zuhri said: "As-Saib bin Yazid told me that Shuraih Al-Hadrami was mentioned in the presence of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "He does not sleep on the Quran"

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1783
Notes · وضاحت
١ ؎: قرآن کو تکیہ بنانے کے دو معنی ہیں، ایک تو یہ کہ وہ رات کو سوتے نہیں بلکہ رات بھر عبادت کرتے ہیں، دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ قرآن کو یاد نہیں رکھتے، اور اس کی قرات پر مداومت نہیں کرتے، پہلے معنی میں شریح کی تعریف ہے، اور دوسرے میں ان کی مذمت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٣٨٠٢)، مسند احمد ٣/٤٤٩ (صحیح الإسناد )
1785Sunan An Nasai

کوئی روز تہجد پڑھتا ہو لیکن غلبہ نیند کی وجہ سے کبھی نہ پڑھ سکے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ عِنْدَهُ رِضًا أَخْبَرَهُ، أَنَّعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنَ امْرِئٍ تَكُونُ لَهُ صَلَاةٌ بِلَيْلٍ فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ صَلَاتِهِ، وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ.

سعید بن جبیر ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں جو ان کے نزدیک پسندیدہ ہے اس نے انہیں خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بھی آدمی رات کو تہجد پڑھا کرتا ہو، پھر کسی دن نیند کی وجہ سے وہ نہ پڑھ سکے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیتا ہے، اور اس کی نیند اس پر صدقہ ہوتی ہے ۔

It was narrated from Saeed bin Jubair, from a man who he thought was good, that : Aishah, may Allah (SWT) be pleased with her, told him that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no man who habitually prays at night, then sleep overwhelms him, but Allah (SWT) will record for him the reward of his prayer, and his sleep is a charity given to him."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1784
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣١٠ (١٣١٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٠٧)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ١ (١)، مسند احمد ٦/٦٣، ٧٢، ١٨٠ (صحیح) (مبہم راوی کا نام آگے آ رہا ہے )
1786Sunan An Nasai

رضی (نامی شخص) کے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ صَلَاةٌ صَلَّاهَا مِنَ اللَّيْلِ فَنَامَ عَنْهَا كَانَ ذَلِكَ صَدَقَةً تَصَدَّقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ وَكَتَبَ لَهُ أَجْرَ صَلَاتِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی رات میں کسی نماز کا عادی ہو، اور کسی رات وہ نیند کی وجہ سے اسے نہ پڑھ سکے، تو یہ اس پر اللہ کی طرف سے کیا ہوا صدقہ ہوگا، اور وہ اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھے گا ١ ؎۔

It was narrated from Sad bin Jubair, from Al-Aswad bin Yazid, that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever has the habit of praying at night but he sleeps and misses it, that is a charity that Allah has given to him, and the reward of his prayer will be recorded for him."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1785
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت کی سند میں غور کرنے سے معلوم ہوا کہ گذشتہ سند میں سعید بن جبیر کے نزدیک پسندیدہ شخص کا نام اسود بن یزید ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
1787Sunan An Nasai

رضی (نامی شخص) کے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابو جعفر رازی حدیث میں قوی نہیں ہیں، (اسی لیے سند میں سے ایک راوی اسود کو ساقط کردیا ہے) ۔

It was narrated from Saeed bin Jubair, from Aishah, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: and he mentioned something similar.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1786
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٧٨٥ (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے )
1788Sunan An Nasai

کوئی شخص اپنے بستر پر رات کو بیدار ہونے کی نیت سے آیا لیکن نیند آگئی اور بیدار نہ ہو سکا

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْعَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يَقُومَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ حَتَّى أَصْبَحَ كُتِبَ لَهُ مَا نَوَى وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، خَالَفَهُ سُفْيَانُ.

ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو بستر پر آئے، اور وہ رات میں قیام کی نیت رکھتا ہو، پھر اس کی دونوں آنکھیں اس پر غالب آجائیں یہاں تک کہ صبح ہوجائے تو اس کے لیے اس کی نیت کا ثواب لکھا جائے گا، اور اس کی نیند اس کے رب عزوجل کی جانب سے اس پر صدقہ ہوگی ۔ سفیان ثوری نے حبیب بن ابی ثابت کی مخالفت کی ہے۔

It was narrated from Abu Ad-Darda who attributed it to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "Whoever goes to his bed intending to get up and pray qiyam at night, then sleep overwhelms him until morning, will have recorded that which he intended and his sleep is a charity given to him by his Lord, the Mighty and Sublime."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1787
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٧ (١٣٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٣٧) (صحیح )
1789Sunan An Nasai

کوئی شخص اپنے بستر پر رات کو بیدار ہونے کی نیت سے آیا لیکن نیند آگئی اور بیدار نہ ہو سکا

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفَلَةَ، عَنْأَبِي ذَرٍّ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ مَوْقُوفًا.

اور سفیان ثوری (کی حبیب بن ابی ثابت سے مخالفت یہ ہے کہ انہوں) نے اس سند سے یہ حدیث ابوذر اور ابو الدرداء ؓ سے موقوفاً روایت کی ہے۔

It was narrated from Sufyan, that Abdah said: "I heard Suwaid bin Ghaflah (narrate it) from Abu Dharr and Abu Ad-Darda."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1788
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1790Sunan An Nasai

اگر کوئی شخص نیند یا مرض کی وجہ سے رات میں نماز میں مشغول نہ رہ سکا تو وہ شخص دن میں کس قدر رکعت ادا کرے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ مِنَ اللَّيْلِ مَنَعَهُ مِنْ ذَلِكَ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو نماز نہیں پڑھ پاتے خواہ نیند نے آپ کو اس سے روکا ہو یا کسی تکلیف نے تو دن کو آپ بارہ رکعتیں پڑھتے۔

It was narrated from Aishah that: When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did not pray at night because he was prevented from doing so by sleep- meaning, sleep overwhelmed him- or by pain, he would pray twelve rakahs during the day.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1789
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٨ (٧٤٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٠ (٤٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٦١٠٥) (صحیح )
1791Sunan An Nasai

جو کوئی اپنا وظیفہ وغیرہ رات میں نہ پڑھ سکے تو وہ دن میں کب وہ وظیفہ پڑھے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی رات کو اپنے وظیفہ سے، یا اس کی کسی چیز سے سو جائے، پھر وہ اسے فجر سے لے کر ظہر تک کے درمیان پڑھ لے، تو اس کے لیے یہی لکھا جائے گا کہ گویا اس نے اسے رات ہی میں پڑھا ہے ۔

Abdur-Rahman bin Abdul-Qari said: "I heard Umar bin Al-Khattab say: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever sleeps and misses his portion (of Quran) or part of it, and then reads it between Fajr and Zuhr prayers, it will be recorded for him as if he had read it at night." (Sahih

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1790
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٨ (٧٤٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٩ (١٣١٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٩١ (الجمعة ٥٦) (٥٨١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٧ (١٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٩٢)، موطا امام مالک/القرآن ٣ (٣)، مسند احمد ١/٣٢، ٥٣، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٧ (١٥١٨) (صحیح )
1792Sunan An Nasai

جو کوئی اپنا وظیفہ وغیرہ رات میں نہ پڑھ سکے تو وہ دن میں کب وہ وظیفہ پڑھے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ قَالَ: جُزْئِهِ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ فَكَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں جو کوئی رات کو اپنا وظیفہ پڑھے بغیر سو جائے، پھر وہ صبح سے ظہر تک کے درمیان کسی بھی وقت اسے پڑھ لے، تو گویا اس نے اسے رات ہی میں پڑھا ہے۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Abdul-Qari that: Umar bin Al-Khattab said: "(The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said): "Whoever sleeps and misses his nightly portion, and reads it between Subh and Zuhr prayers, it is as if he read it at night."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1791
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1793Sunan An Nasai

جو کوئی اپنا وظیفہ وغیرہ رات میں نہ پڑھ سکے تو وہ دن میں کب وہ وظیفہ پڑھے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: مَنْ فَاتَهُ حِزْبُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَقَرَأَهُ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ إِلَى صَلَاةِ الظُّهْرِ فَإِنَّهُ لَمْ يَفُتْهُ أَوْ كَأَنَّهُ أَدْرَكَهُ، رَوَاهُ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مَوْقُوفًا.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں جس کا رات کا وظیفہ چھوٹ جائے، اور وہ سورج ڈھلنے سے لے کر نماز ظہر تک کسی بھی وقت اسے پڑھ لے، تو اس کا وظیفہ نہیں چھوٹا، یا گویا اس نے اپنا وظیفہ پا لیا۔ اسے حمید بن عبدالرحمٰن نے موقوفاً (یعنی: مقطوعا) روایت کیا ہے۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Abdul-Qari that Umar bin Al-Khattab said: "Whoever misses his nightly portion and recites it from the time when the sun passes its zenith until Zuhr prayer, then he did not miss it, or it is as if he caught up with it."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1792
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٧٩١ (صحیح )
1794Sunan An Nasai

جو کوئی اپنا وظیفہ وغیرہ رات میں نہ پڑھ سکے تو وہ دن میں کب وہ وظیفہ پڑھے؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: مَنْ فَاتَهُ وِرْدُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَقْرَأْهُ فِي صَلَاةٍ قَبْلَ الظُّهْرِ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ صَلَاةَ اللَّيْلِ.

حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں جس کا رات کا وظیفہ چھوٹ جائے، تو اسے چاہیئے کہ وہ ظہر سے پہلے کسی نماز میں اسے پڑھ لے، کیونکہ یہ رات کی نماز کے برابر ہوگا۔

It was narrated that Humaid bin Abdur-Rahman said: "Whoever misses his Wird at night, let him recite it during prayer before Zuhr, and that will be equivalent to night prayers."

صحيح مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1793
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٧٩١ (صحیح )
1795Sunan An Nasai

نماز فرض کے علاوہ رات دن میں بارہ رکعات پڑھنے کے اجر سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ ثَابَرَ عَلَى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو دن رات میں بارہ رکعتوں پر مداومت کرے گا، وہ جنت میں داخل ہوگا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے ١ ؎۔

It was narrated that Aishah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever persists in praying twelve rakahs each day and night will enter Paradise: Four before Zuhr and two after, two rakahs after Maghrib, two rakahs after Isha and two rakahs before Fajr."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1794
Notes · وضاحت
١ ؎: فرض نماز سے پہلے یا اس کے بعد جو سنتیں پڑھی جاتی ہیں ان کی دو قسمیں ہیں، ایک قسم وہ ہے جس پر نبی اکرم ﷺ نے مداومت فرمائی ہے بعض روایتوں میں ان کی تعداد دس بیان کی گئی ہے، اور بعض میں بارہ، اور بعض میں چودہ، انہیں سنن مؤکدہ یا سنن رواتب کہا جاتا ہے، دوسری قسم وہ ہے جس پر آپ نے مداومت نہیں کی ہے انہیں نوافل یا غیر موکدہ کہا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ سے مزید تقرب کے لیے نوافل یا غیر مؤکدہ سنتوں کی بھی بڑی اہمیت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٩٠ (٤١٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٠٠ (١١٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٩٣) (صحیح )
1796Sunan An Nasai

نماز فرض کے علاوہ رات دن میں بارہ رکعات پڑھنے کے اجر سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ثَابَرَ عَلَى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص پابندی سے بارہ رکعتوں پر مداومت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد، اور دو رکعتیں فجر سے پہلے ۔

It was narrated from Aishah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever persists in praying twelve rakahs each day and night, Allah, the Mighty and Sublime, will build for him a house in Paradise: Four before Zuhr and two after Zuhr, two rakahs after Maghrib, two rakahs after Isha and two rakahs of Fajr."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1795
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1797Sunan An Nasai

نماز فرض کے علاوہ رات دن میں بارہ رکعات پڑھنے کے اجر سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ، أَنَّأُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ رَكَعَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ سِوَى الْمَكْتُوبَةِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بِهَا بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ.

ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔

It was narrated that Ata said: "I was told that Umm Habibah bin Abi Sufyan said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever prays twelve rakahs during the day and night, apart from the prescribed prayers, Allah (SWT) will build for him a house in Paradise."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1796
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٨٧٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ١٥ (٧٢٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٠ (١٢٥٠)، سنن الترمذی/الصلاة ١٩٠ (٤١٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٠٠ (١١٤١)، مسند احمد ٦/٣٢٦، ٣٢٧، ٤٢٦، سنن الدارمی/ ال صلاة ١٤٤ (١٤٧٨) (صحیح )
1798Sunan An Nasai

نماز فرض کے علاوہ رات دن میں بارہ رکعات پڑھنے کے اجر سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تَرْكَعُ قَبْلَ الْجُمُعَةِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مَا بَلَغَكَ فِي ذَلِكَ، قَالَ: أُخْبِرْتُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ حَدَّثَتْ عَنْبَسَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ رَكَعَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ سِوَى الْمَكْتُوبَةِ بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ.

ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ جمعہ سے پہلے بارہ رکعتیں پڑھتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کو کیا معلوم ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے خبر دی گئی ہے کہ ام حبیبہ ؓ نے عنبسہ بن ابی سفیان سے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: جس نے رات دن میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔

Ibn Juraij said: "I said to Ata: I heard that you pray twelve rakahs before Jumuah. What did you hear concerning that? He said: I was told that Umm Habibah bin Abi Sufyan said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever prays twelve rakahs during the day and night, apart from the prescribed prayers, Allah (SWT), the Mighty and Sublime, will build for him a house in Paradise."

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1797
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٥٨٥٩)، مسند احمد ٦/٣٢٦ (صحیح) (اس سند میں انقطاع ہے، لیکن پچھلی سند سے یہ روایت بھی صحیح ہے، مگر عطاء کی یہ سمجھ خطا ہے کہ ایک ہی وقت میں بارہ رکعتیں پڑھ لیں تو وہی ثواب ہے )