جو کوئی اپنا وظیفہ وغیرہ رات میں نہ پڑھ سکے تو وہ دن میں کب وہ وظیفہ پڑھے؟
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: مَنْ فَاتَهُ وِرْدُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَقْرَأْهُ فِي صَلَاةٍ قَبْلَ الظُّهْرِ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ صَلَاةَ اللَّيْلِ.
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں جس کا رات کا وظیفہ چھوٹ جائے، تو اسے چاہیئے کہ وہ ظہر سے پہلے کسی نماز میں اسے پڑھ لے، کیونکہ یہ رات کی نماز کے برابر ہوگا۔
It was narrated that Humaid bin Abdur-Rahman said: "Whoever misses his Wird at night, let him recite it during prayer before Zuhr, and that will be equivalent to night prayers."
صحيح مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1793
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٧٩١ (صحیح )