کتاب الا شربة

Sunan An Nasai · Chapter 51 · 220 hadiths · Page 7 of 11

5662Sunan An Nasai

شراب پینے کی مذمت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ شَارِبُهَا حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، اور جب وہ کوئی ایسی چیز لوٹتا ہے، جس کی طرف لوگ نظریں اٹھا کر دیکھتے ہوں تو وہ مومن باقی نہیں رہتا ۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The adulterer is not a believer at the moment when he is committing adultery, and the wine drinker is not a believer at the moment when he is drinking wine, and the thief is not a believer at the moment when he is stealing, and the robber is not a believer at the moment when he is robbing and people are looking on.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5659
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے، جب بھی توبہ کرتا ہے اس کا ایمان لوٹ آتا ہے، (دیکھئیے حدیث نمبر ٤٨٧٤ اور اس کا حاشیہ)۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٣٠ (٢٤٧٥)، الحدود ٢ (٦٧٧٢)، صحیح مسلم/الٕایمان ٢٤ (٥٧)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣ (٣٩٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٣١٩١، ١٤٨٦٣) (صحیح )
5663Sunan An Nasai

شراب پینے کی مذمت سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدُ الْرَّحْمَنِ كُلُّهُمْ حَدَّثُونِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ الْمُسْلِمُونَ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ.

ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن باقی نہیں رہتا۔ اور جب کوئی قیمتی چیز چراتا ہے جس کی طرف مسلمان (حسرت سے) نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں، تو وہ مومن باقی نہیں رہتا ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The adulterer is not a believer at the moment when he is committing adultery, and the thief is not a believer at the moment when he is stealing, and the wine drinker is not a believer at the moment when he is drinking wine, and the robber is not a believer at the moment when he is robbing and taking something valuable by force while the Muslims are looking at it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5660
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٨٧٤ (صحیح )
5664Sunan An Nasai

شراب پینے کی مذمت سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْيمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاقْتُلُوهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ اور صحابہ کرام کی ایک جماعت سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شراب پیئے اسے کوڑے لگاؤ، پھر پیئے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر پیئے تو پھر کوڑے لگاؤ پھر پیئے تو اسے قتل کر دو ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar and a number of the Companions of Muhammad (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever drinks Khamr, whip him; then if he drinks (again), whip him; then if he drinks (again), whip him; then if he drinks (again), kill him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5661
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٧٣٠١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحدود ٣٦ (٤٤٨٣)، مسند احمد (٢/١٣٦) (صحیح )
5665Sunan An Nasai

شراب پینے کی مذمت سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ سَكِرَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ قَالَ: فِي الرَّابِعَةِ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی نشہ میں مست ہوجائے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر مست ہو تو کوڑے لگاؤ، اگر پھر بھی مست ہو تو پھر اسے کوڑے لگاؤ ، پھر چوتھی مرتبہ کے بارے میں فرمایا: اس کی گردن اڑا دو ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If he becomes drunk, whip him; then if he becomes drunk, whip him; then if he becomes drunk, whip him." Then he said concerning the fourth time, "Strike his neck (i.e., kill him).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5662
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحدود ٣٧ (٤٤٨٤)، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٧ (٢٥٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٤٨)، مسند احمد (٢/٢٨٠٨٠، ٢٩١، ٥٠٤، ٥١٩) (صحیح )
5666Sunan An Nasai

شراب پینے کی مذمت سے متعلق

أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ، يَقُولُ: مَا أُبَالِي شَرِبْتُ الْخَمْرَ، أَوْ عَبَدْتُ هَذِهِ السَّارِيَةَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے تھے کہ میں پروا نہیں کرتا (یعنی اس میں کوئی فرق نہیں سمجھتا) کہ شراب پیوں یا اللہ جل جلالہ کے علاوہ اس ستون کو پوجوں۔

It was narrated from Abu Burdah bin Abi Musa: That his father used to say: "I do not see any difference between drinking Khamr and worshipping this column instead of Allah the Mighty and Sublime.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5663
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔلشراف: ٩١٣٢) (صحیح الإسناد )
5667Sunan An Nasai

شراب پینے والے کی نماز قبول نہیں ہوتی

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ بْنُ حِصْنِ بْنِ عَلَّاقٍ دِمَشْقِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ رُوَيْمٍ: أَنَّ ابْنَ الدَّيْلَمِيِّ رَكِبَ يَطْلُبُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ ابْنُ الدَّيْلَمِيِّ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ شَأْنَ الْخَمْرِ بِشَيْءٍ ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي فَيَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ يَوْمًا.

عروہ بن رویم بیان کرتے ہیں کہ ابن دیلمی عبداللہ بن عمرو بن عاص کی تلاش میں سوار ہوئے، ابن دیلمی نے کہا: چناچہ میں ان کے پاس پہنچا تو میں نے عرض کیا: عبداللہ بن عمرو! آپ نے شراب کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت کا کوئی شخص شراب نہ پیئے، ورنہ اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا ۔

Urwah bin Ruwaim narrated that : Ibn Ad-Dailami rode looking for Abdullah bin Amr bin Al-As. Ibn Ad-Dailami said: "I entered upon him and said: O Abdullah bin Amr, did you hear the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say anything concerning Khamr? He said: Yes, I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: If a man among my Ummah drinks Khamr, Allah will not accept his Salah for forty days.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5664
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الٔهشربة ٤ (٣٣٧٧)، (تحفة الأشراف: ٨٨٤٣)، مسند احمد (٢/١٧٦، ١٨٩)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٥٦٧٣) (صحیح )
5668Sunan An Nasai

شراب پینے والے کی نماز قبول نہیں ہوتی

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: الْقَاضِي إِذَا أَكَلَ الْهَدِيَّةَ فَقَدْ أَكَلَ السُّحْتَ، وَإِذَا قَبِلَ الرِّشْوَةَ بَلَغَتْ بِهِ الْكُفْرَ. (حديث مقطوع) (حديث موقوف) وَقَالَ مَسْرُوقٌ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَقَدْ كَفَرَ، وَكُفْرُهُ أَنْ لَيْسَ لَهُ صَلَاةٌ.

مسروق کہتے ہیں کہ قاضی نے جب ہدیہ لیا ١ ؎ تو اس نے حرام کھایا، اور جب اس نے رشوت قبول کرلی تو وہ کفر تک پہنچ گیا، مسروق نے کہا: جس نے شراب پی، اس نے کفر کیا اور اس کا کفر یہ ہے کہ اس کی نماز (قبول) نہیں ہوتی۔

It was narrated that Masruq said: "If a judge accepts a gift he has consumed something unlawful, and if he accepts a bribe, that takes him to the level of Kufr. Masruq said: "Whoever drinks Khamr, he has committed (an act of) Kufr, and his Kufr is that his Salah does not count.

ضعيف الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5665
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کسی ایسے شخص سے جس سے قاضی بننے سے پہلے نہیں لیتا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٩٤٣٣) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” خلف “ حافظہ کے کمزور ہیں )
5669Sunan An Nasai

شراب نوشی سے کون کون سے گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے نماز چھوڑ دینا ناحق خون کرنا جس کو خداوندقدوس نے حرام فرمایا ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا أُمُّ الْخَبَائِثِ إِنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ خَلَا قَبْلَكُمْ تَعَبَّدَ فَعَلِقَتْهُ امْرَأَةٌ غَوِيَّةٌ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ جَارِيَتَهَا، فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّا نَدْعُوكَ لِلشَّهَادَةِ، فَانْطَلَقَ مَعَ جَارِيَتِهَا فَطَفِقَتْ كُلَّمَا دَخَلَ بَابًا أَغْلَقَتْهُ دُونَهُ، حَتَّى أَفْضَى إِلَى امْرَأَةٍ وَضِيئَةٍ عِنْدَهَا غُلَامٌ وَبَاطِيَةُ خَمْرٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا دَعَوْتُكَ لِلشَّهَادَةِ، وَلَكِنْ دَعَوْتُكَ لِتَقَعَ عَلَيَّ أَوْ تَشْرَبَ مِنْ هَذِهِ الْخَمْرَةِ كَأْسًا، أَوْ تَقْتُلَ هَذَا الْغُلَامَ، قَالَ: فَاسْقِينِي مِنْ هَذَا الْخَمْرِ كَأْسًا، فَسَقَتْهُ كَأْسًا، قَالَ: زِيدُونِي، فَلَمْ يَرِمْ حَتَّى وَقَعَ عَلَيْهَا، وَقَتَلَ النَّفْسَ، فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا وَاللَّهِ لَا يَجْتَمِعُ الْإِيمَانُ وَإِدْمَانُ الْخَمْرِ إِلَّا لَيُوشِكُ أَنْ يُخْرِجَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ.

عبدالرحمٰن بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے عثمان ؓ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: شراب سے بچو، کیونکہ یہ برائیوں کی جڑ ہے، تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں ایک شخص تھا جو بہت عبادت گزار تھا، اسے ایک بدکار عورت نے پھانس لیا، اس نے اس کے پاس ایک لونڈی بھیجی اور اس سے کہلا بھیجا کہ ہم تمہیں گواہی دینے کے لیے بلا رہے ہیں، چناچہ وہ اس کی لونڈی کے ساتھ گیا، وہ جب ایک دروازے میں داخل ہوجاتا (لونڈی) اسے بند کرنا شروع کردیتی یہاں تک کہ وہ ایک حسین و جمیل عورت کے پاس پہنچا، اس کے پاس ایک لڑکا تھا اور شراب کا ایک برتن، وہ بولی: اللہ کی قسم! میں نے تمہیں گواہی کے لیے نہیں بلایا ہے، بلکہ اس لیے بلایا ہے کہ تم مجھ سے صحبت کرو، یا پھر ایک گلاس یہ شراب پیو، یا اس لڑکے کو قتل کر دو، وہ بولا: مجھے ایک گلاس شراب پلا دو، چناچہ اس نے ایک گلاس پلائی، وہ بولا: اور دو، اور وہ وہاں سے نہیں ہٹا یہاں تک کہ اس عورت سے صحبت کرلی اور اس بچے کا خون بھی کردیا، لہٰذا تم لوگ شراب سے بچو، اللہ کی قسم! ایمان اور شراب کا ہمیشہ پینا، دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے، البتہ ان میں سے ایک دوسرے کو نکال دے گا۔

It was narrated from Abu Bakr bin Abdur-Rahman bin Al-Harith that his father said: "I heard Uthman, may Allah be pleased with him, say: Avoid Khamr for it is the mother of all evils. There was a man among those who came before you who was a devoted worshipper. An immoral woman fell in love with him. She sent her slave girl to him, saying: We are calling you to bear witness. So he set out with her slave girl, and every time he entered a door, she locked it behind him, until he reached a beautiful woman who has with her a boy and a vessel of wine. She said: By Allah, I did not call you to bear witness, rather I called you to have intercourse with me, or to drink a cup of this wine, or to kill this boy. He said: Pour me a cup of this wine. So she poured him a cup. He said: Give me more. And soon he had intercourse with her and killed the boy. So avoid Khamr, for by Allah faith and addiction to Khamr cannot coexist but, one of them will soon expel the other.

صحيح موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5666
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٩٨٢٢) (صحیح )
5670Sunan An Nasai

شراب نوشی سے کون کون سے گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے نماز چھوڑ دینا ناحق خون کرنا جس کو خداوندقدوس نے حرام فرمایا ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ، يَقُولُ: اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهَا أُمُّ الْخَبَائِثِ، فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ خَلَا قَبْلَكُمْ يَتَعَبَّدُ وَيَعْتَزِلُ النَّاسَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، قَالَ: فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا يَجْتَمِعُ وَالْإِيمَانُ أَبَدًا إِلَّا يُوشِكَ أَحَدُهُمَا أَنْ يُخْرِجَ صَاحِبَهُ.

عبدالرحمٰن بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے عثمان ؓ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: شراب سے بچو، کیونکہ یہ برائیوں کی جڑ ہے، تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں ایک شخص تھا جو بہت عبادت گزار تھا اور لوگوں سے الگ رہتا تھا، پھر اسی طرح ذکر کیا۔ وہ کہتے ہیں: لہٰذا تم شراب سے بچو، اس لیے کہ اللہ کی قسم وہ (یعنی شراب نوشی) اور ایمان کبھی اکٹھا نہیں ہوسکتے۔ البتہ ان میں سے ایک دوسرے کو نکال دے گا ١ ؎۔

Abu Bakr bin Abdur-Rahman bin Al-Harith narrated that his father said: "I heard Uthman say: Avoid Khamr for it is the mother of all evils. There was a man among those who came before you who was a devoted worshipper and used to stay away from people." And he mentioned something similar. He said: "Avoid Khamr for, by Allah, it can never coexist with Faith, but soon one of them will expel the other.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5667
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر بغیر توبہ کے مرگیا، اور اگر توبہ کرلے گا تو ایمان شراب کے اثر کو نکال دے گا ان شاء اللہ۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
5671Sunan An Nasai

شراب نوشی سے کون کون سے گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے نماز چھوڑ دینا ناحق خون کرنا جس کو خداوندقدوس نے حرام فرمایا ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ الْعَلَاءِ وَهُوَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَلَمْ يَنْتَشِ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ مَا دَامَ فِي جَوْفِهِ أَوْ عُرُوقِهِ مِنْهَا شَيْءٌ، وَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا وَإِنِ انْتَشَى لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَإِنْ مَاتَ فِيهَا مَاتَ كَافِرًا. خَالَفَهُ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جس نے شراب پی اور اسے نشہ (گرچہ) نہیں ہوا، جب تک اس کا ایک قطرہ بھی اس کے پیٹ یا اس کی رگوں میں باقی رہے گا ١ ؎ اس کی کوئی نماز قبول نہیں ہوگی، اور اگر وہ مرگیا تو کافر کی موت مرے گا ٢ ؎، اور اگر اسے نشہ ہوگیا تو اس کی نماز چالیس دن تک قبول نہیں ہوگی، اور اگر وہ اسی حالت میں مرگیا تو وہ کافر کی موت مرے گا۔

It was narrated that Ibn Umar said: "Whoever drinks Khamr and does not get intoxicated, his Salah will not be accepted so long as any trace of it remains in his belly or his veins, and if he dies he will die a Kafir. If he becomes intoxicated his Salah will not be accepted for 40 nights, and if he dies during them, he will die a Kafir." (Sahih Mawquf)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5668
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ شراب کا ایک قطرہ بھی (جو نشہ پیدا نہیں کرتا) حرام ہے، ارشاد نبوی ہے جس مشروب کا زیادہ حصہ نشہ پیدا کرے اس کا تھوڑا سا حصہ بھی حرام ہے۔ ٢ ؎: جیسے کفر کے ساتھ نماز مقبول نہیں اسی طرح شراب کے پیٹ میں موجود ہونے سے نماز قبول نہیں ہوگی، تو اس حالت میں موت کافر کی موت ہوئی کیونکہ بےنماز نہ پڑھنے والا کافر ہے، جیسا کہ محققین علما کا فتوی ہے۔ خالفه يزيد بن أبي زياد سابقہ روایت میں يزيد بن أبي زياد نے فضیل سے اختلاف کیا
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٧٤٠١) (صحیح )
5672Sunan An Nasai

شراب نوشی سے کون کون سے گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے نماز چھوڑ دینا ناحق خون کرنا جس کو خداوندقدوس نے حرام فرمایا ہے

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ يَزِيدَ. ح، وَأَنْبَأَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَعَلَهَا فِي بَطْنِهِ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ صَلَاةً سَبْعًا إِنْ مَاتَ فِيهَا، وَقَالَ ابْنُ آدَمَ: فِيهِنَّ مَاتَ كَافِرًا فَإِنْ أَذْهَبَتْ عَقْلَهُ عَنْ شَيْءٍ مِنَ الْفَرَائِضِ، وَقَالَ ابْنُ آدَمَ: الْقُرْآنِ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا إِنْ مَاتَ فِيهَا، وَقَالَ ابْنُ آدَمَ: فِيهِنَّ مَاتَ كَافِرًا.

عبداللہ بن عمرو ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے شراب پی اور پیٹ میں اسے اتار لی، اللہ اس کی سات دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ اس دوران میں مرگیا، تو وہ کفر کی حالت میں مرے گا، اور اگر اس کی عقل چلی گئی اور کوئی فرض چھوٹ گیا (ابن آدم نے کہا: قرآن چھوٹ گیا) ، تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوگی اور اگر وہ اس دوران میں مرگیا، تو کفر کی حالت میں مرے گا۔

It was narrated from Abdullah bin Amr that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever drinks Khamr and puts it in his belly, Allah will not accept his Salah for seven (days), if he dies during them" - Muhammad bin Adam (One of the narrators) said: "he will die a Kafir. If he was too intoxicated to offer any of the obligatory" - Ibn Adam said: "or recite Quran, his Salah will not be accepted for 40 days, and if he dies during them," And Ibn Adam said: "He will die a Kafir.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5669
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یزید بن زیاد کی روایت فضیل کی حدیث سے متن اور سند دونوں اعتبار سے مختلف ہے، چناچہ فضیل کی حدیث ابن عمر ؓ پر موقوف ہے جب کہ یزید کی عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی روایت سے مرفوع ہے، لیکن یزید ضعیف راوی ہیں اس لیے اس حدیث کا موقوف ہونا ہی صواب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٩٢١) (ضعیف) (اس کے راوی ” یزید “ ضعیف ہیں )
5673Sunan An Nasai

شراب پینے والے کی توبہ

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ. ح، وأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَقِيَّةَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو وَهُوَ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْرَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَهُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ بِالطَّائِفِ، يُقَالُ لَهُ: الْوَهْطُ، وَهُوَ مُخَاصِرٌ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يُزَنُّ ذَلِكَ الْفَتَى بِشُرْبِ الْخَمْرِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ لَهُ تَوْبَةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ لَمْ تُقْبَلْ تَوْبَتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. اللَّفْظُ لِعَمْرٍو.

عبداللہ بن دیلمی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ طائف کے اپنے باغ میں تھے جسے لوگ وہط کہتے تھے۔ وہ قریش کے ایک نوجوان کا ہاتھ پکڑے ٹہل رہے تھے، اس نوجوان پر شراب پینے کا شک کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے ایک گھونٹ شراب پی، اس کی توبہ چالیس دن تک قبول نہ ہوگی۔ (اس کے بعد) پھر اگر اس نے توبہ کی تو اللہ اسے قبول کرلے گا، اور اگر اس نے پھر شراب پی تو پھر چالیس دن تک توبہ قبول نہ ہوگی۔ اس کے بعد اگر اس نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، اور اگر اس نے پھر پی تو اللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ وہ قیامت کے دن اسے جہنمیوں کا مواد پلائے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Ad-Dailami said: "I entered upon Abdullah bin Amr bin Al-As when he was in a garden of his in At-Taif called Al-Waht. He was walking and holding hands with a young man of Quraish who was suspected of drinking Khamr. He said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: Whoever drinks Khamr once, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again, his repentance will not be accepted for 40 days, then if he repents, Allah will accept his repentance. If he does it again (a fourth time), then it is a right upon Allah to make him drink from the mud of Khibal on the Day of Resurrection." This is the wording of Amr.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5670
Notes · وضاحت
١ ؎: بشرطیکہ توبہ کی توفیق اسے نہ ملی ہو اور اس کی مغفرت نہ ہوئی ہو۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٦٦٧ (صحیح )
5674Sunan An Nasai

شراب پینے والے کی توبہ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا حُرِمَهَا فِي الْآخِرَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے دنیا میں شراب پی پھر توبہ نہیں کی تو وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever drinks Khamr in this world and does not repent from that, will be denied it in the Hereafter.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5671
Notes · وضاحت
١ ؎: اگرچہ وہ جنت میں داخل ہوجائے، کیونکہ اس نے جنت کا اپنا حق لینے میں دنیا میں عجلت سے کام لیا، یہ ایسے ہی جیسے ریشم کے بارے میں مسند طیالسی میں ایک حدیث ہے (نمبر ٢٢١٧ ) کہ جو دینا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا گرچہ اس میں داخل ہوجائے، دیگر اہل جنت تو پہنیں گے مگر وہ نہیں پہن سکے گا۔ (ابن حبان نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے ٧ /٢٩٧)۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأشربة ١ (٥٥٧٥)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ١ (٣٣٧٣)، (تحفة الأشراف: ٨٣٥٩)، مسند احمد (٢/١٩، ٢٢، ٢٨) (صحیح )
5675Sunan An Nasai

جو لوگ ہمیشہ شراب پیتے ہیں ان کے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ نُبَيْطٍ، عَنْ جَابَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ، وَلَا عَاقٌّ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: احسان جتانے والا، ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا اور ہمیشہ شراب پینے والا (عادی شرابی) : یہ سب جنت میں نہیں داخل ہوسکتے ۔

It was narrated from Abdullah bin Amr that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "No one who reminds others of his favors, no one who is disobedient to his parents and no drunkard, will enter Paradise.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5672
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٨٦١٢)، مسند احمد (٢/٢٠١٠١، ٢٠٣) (صحیح )
5676Sunan An Nasai

جو لوگ ہمیشہ شراب پیتے ہیں ان کے متعلق

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے دنیا میں شراب پی اور وہ اسے ہمیشہ پیتا رہا، اور اس سے توبہ نہیں کی تو اسے آخرت کی (پاکیزہ) شراب نہ ملے گی ۔

It was narrated from Ibn Umar that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever drinks Khamr in this world and dies addicted to it, and not having repented, will not drink it in the Hereafter.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5673
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٥٨٥ (صحیح )
5677Sunan An Nasai

جو لوگ ہمیشہ شراب پیتے ہیں ان کے متعلق

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے دنیا میں شراب پی اور وہ اسے ہمیشہ پیتا رہا، اسے آخرت کی (پاکیزہ) شراب نہ ملے گی ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Whoever drinks Khamr in this world and dies addicted to it, will not drink it in the Hereafter.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5674
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٥٨٥ (صحیح )
5678Sunan An Nasai

جو لوگ ہمیشہ شراب پیتے ہیں ان کے متعلق

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى، عَنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: مَنْ مَاتَ مُدْمِنًا لِلْخَمْرِ نُضِحَ فِي وَجْهِهِ بِالْحَمِيمِ حِينَ يُفَارِقُ الدُّنْيَا.

ضحاک کہتے ہیں کہ جو ہمیشہ شراب پئے ہوئے مرگیا، تو دنیا سے اس کے جدا ہونے کے وقت اس کے منہ پر گرم پانی کا چھینٹا دیا جائے گا ١ ؎۔

It was narrated that Ad-Dahhak said: "Whoever dies addicted to Khamr will have boiling water thrown in his face when he departs this world.

حسن الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5675
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جہنم کے پانی کا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٨٢٣) (حسن الإسناد )
5679Sunan An Nasai

شرابی کو جلا وطن کرنے کا بیان

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: غَرَّبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ فِي الْخَمْرِ إِلَى خَيْبَرَ، فَلَحِقَ بِهِرَقْلَ فَتَنَصَّرَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَا أُغَرِّبُ بَعْدَهُ مُسْلِمًا.

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ شراب کی وجہ سے عمر ؓ نے ربیعہ بن امیہ کو خیبر کی طرف نکال دیا ١ ؎، پھر وہ ہرقل سے جا ملے اور عیسائی ہوگئے، تو عمر ؓ نے کہا: اس کے بعد میں کسی مسلمان کو شہر بدر نہیں کروں گا۔

It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "Umar (RA) banished Rabiah bin Umaiyah to Khaibar for drinking Khamr, and he went and joined Heraclius and became a Christian. Umar (RA) him, said: I will never expel any Muslim after this.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5676
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ شہر بدری حد میں نہیں، بلکہ بطور تعزیر تھی، اسی طرح کی شہر بدری کے بارے میں عمر ؓ کا مذکورہ قول ہے، یہ اس شہر بدری کے خلاف ہے جو حد زنا کے وقت وجود میں آتی ہے، اس طرح کی شہر بدری کے بارے میں عمر ؓ مذکورہ بات نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ تو حد زنا میں داخل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٠٤٥٣) (ضعیف الإسناد) (” سعید بن المسیب “ کا سماع عمر رضی الله عنہ سے نہیں ہے، لیکن جب ابن المیسب کے مرفوع مراسیل مقبول ہیں تو عمر رضی الله عنہ کے واقعہ کے بارے میں کیوں مقبول نہیں ہوں گے؟ )
5680Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْرَبُوا فِي الظُّرُوفِ وَلَا تَسْكَرُوا. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، غَلِطَ فِيهِ أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ لَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا تَابَعَهُ عَلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، وَسِمَاكٌ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَكَانَ يَقْبَلُ التَّلْقِينَ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: كَانَ أَبُو الْأَحْوَصِ يُخْطِئُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ. خَالَفَهُ شَرِيكٌ فِي إِسْنَادِهِ وَفِي لَفْظِهِ.

ابوبردہ بن نیار ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر برتن میں پیو، لیکن اتنا نہیں کہ مست ہوجاؤ ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، اس میں ابوالاحوص سلام بن سلیم نے غلطی کی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ سماک کے تلامذہ میں سے کسی نے بھی ان کی متابعت کی ہو، اور سماک خود بھی قوی نہیں وہ تلقین کو قبول کرتے تھے ٢ ؎۔ امام احمد بن حنبل نے کہا: ابوالاحوص اس حدیث میں غلطی کرتے تھے، شریک نے ابوالاحوص کی اسناد اور الفاظ میں مخالفت کی ہے ٣ ؎۔

It was narrated that Abu Burdah bin Niyar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Drink from vessels but do not become intoxicated.

حسن صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5677
Notes · وضاحت
١ ؎: احتمال ہے اس بات کا کہ ولاتسکروا سے مراد ولا تشربوا المسکر ہو، یعنی نشہ لانے والی چیز مت پیو، اس تاویل سے اس روایت اور حرام بتانے والی دیگر روایات کے اندر تطبیق ہوجاتی ہے۔ ٢ ؎: تلقین کا معنی ہوتا ہے: کسی سے اعادہ کرانے کے لیے کوئی بات کہنا، بالمشافہ سمجھنا، باربار سمجھا کر، سنا کر ذہن میں بٹھانا اور ذہن نشین کرانا۔ ٣ ؎: ابوالا حوص بخاری و مسلم کے رواۃ میں سے ہیں، اور ان کی اس حدیث کے شواہد بھی موجود ہیں، جب کہ ان کے برخلاف شریک حافظہ کے ضعیف ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١١٧٢٣) (حسن، صحیح الإسناد )
5681Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ. خَالَفَهُ أَبُو عَوَانَةَ.

بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کدو کی تونبی، لاکھی برتن، لکڑی کے برتن اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے۔ ابو عوانہ نے شریک کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Buraidah, from his father, that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ad-Dubba, Al-Hantam, An-Naqir, and Al-Muzaffat.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5678
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: ابو عوانہ نے شریک کی مخالفت کی ہے، جو آگے کی روایت میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٦ (٩٧٧)، سنن الترمذی/الجنائز ٦٠ (١٠٥٤)، الإضاحي ١٤ (١٥١٠)، الأشربة ٦ (١٨٦٩)، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٣٤٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٩٣٢)، مسند احمد (٥/٣٥٦، ٣٥٩، ٣٦١) (صحیح) (اس کے راوی شریک حافظہ کے کمزور تھے، اس لیے غلطی کر جاتے تھے )