کتاب الا شربة

Sunan An Nasai · Chapter 51 · 220 hadiths · Page 8 of 11

5682Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَجَّاجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قِرْصَافَةَ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْرَبُوا وَلَا تَسْكَرُوا. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَيْضًا غَيْرُ ثَابِتٍ، وَقِرْصَافَةُ هَذِهِ لَا نَدْرِي مَنْ هِيَ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عَائِشَةَ خِلَافُ مَا رَوَتْ عَنْهَا قِرْصَافَةُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ شراب پیو، لیکن (اس حد تک کہ) مست نہ ہوجاؤ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ بھی ثابت نہیں ہے اور قرصافہ یہ کون ہے؟ ہمیں نہیں معلوم اور عائشہ ؓ سے منقول جو مشہور بات ہے وہ اس کے برعکس ہے جو قرصافہ نے ان سے روایت کی ہے۔

It was narrated from Simak, from Qirsafah, one of their womenfolk, that: Aishah (RA) said: "Drink but do not become intoxicated.

ضعيف الإسناد موقوفا لکن صح مرفوعاصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5679
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٦٨٠ (ضعیف الإسناد) (قرصافہ مجہول ہیں، لیکن عائشہ ؓ سے مرفوع صحیح ہے جیسا کہ گزرا )
5683Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ قُدَامَةَ الْعَامِرِيِّ، أَنَّ جَسْرَةَ بِنْتَ دَجَاجَةَ الْعَامِرِيَّةَ حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ سَأَلَهَا أُنَاسٌ كُلُّهُمْ يَسْأَلُ عَنِ النَّبِيذِ، يَقُولُ: نَنْبِذُ التَّمْرَ غُدْوَةً وَنَشْرَبُهُ عَشِيًّا، وَنَنْبِذُهُ عَشِيًّا وَنَشْرَبُهُ غُدْوَةً ؟ قَالَتْ: لَا أُحِلُّ مُسْكِرًا، وَإِنْ كَانَ خُبْزًا، وَإِنْ كَانَتْ مَاءً، قَالَتْهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.

جسرہ بنت دجاجہ عامر یہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ کو سنا: ان سے کچھ لوگوں نے سوال کیا اور وہ سب ان سے نبیذ کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہہ رہے تھے کہ ہم لوگ صبح کو کھجور بھگوتے اور شام کو پیتے ہیں اور شام کو بھگوتے ہیں تو صبح میں پیتے ہیں، تو وہ بولیں: میں کسی نشہ لانے والی چیز کو حلال قرار نہیں دیتی خواہ وہ روٹی ہو خواہ پانی، انہوں نے ایسا تین بار کہا۔

It was narrated from Qudamah Al-Amiri that Jasrah bint Dijajah Al-Amiriyyah told him: "I heard Aishah (RA) when some people asked her about Nabidh, saying we soak dates in the morning and drink it in the evening, or we soak them in the evening and drink them in the morning. She said: I do not permit any intoxicant even if it were bread or even if it were water. She said that three times.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5680
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٨٣١) (ضعیف الٕاسناد) (اس کے راوی ” قدامہ “ اور ” جسرہ “ دونوں لین الحدیث ہیں )
5684Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا كَرِيمَةُ بِنْتُ هَمَّامٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْعَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، تَقُولُ: نُهِيتُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، نُهِيتُمْ عَنِ الْحَنْتَمِ، نُهِيتُمْ عَنِ الْمُزَفَّتِ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَتْ: إِيَّاكُنَّ وَالْجَرَّ الْأَخْضَرَ، وَإِنْ أَسْكَرَكُنَّ مَاءُ حُبِّكُنَّ فَلَا تَشْرَبْنَهُ.

کریمہ بنت ہمام بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا: تم لوگوں کو کدو کی تو نبی سے منع کیا گیا ہے، لاکھی برتن سے منع کیا گیا ہے اور روغنی برتن سے منع کیا گیا ہے، پھر وہ عورتوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور بولیں: سبز روغنی گھڑے سے بچو اور اگر تمہیں تمہارے مٹکوں کے پانی سے نشہ آجائے تو اسے نہ پیو۔

It was narrated that Ali bin Al-Mubarak said: "Karimah bint Hammam told me that she heard Aishah (RA), the Mother of the Believers, say: You have been forbidden Ad-Dubba (gourds), you have been forbidden Al-Hantam, you have been forbidden Al-Muzaffat. Then she turned to women and said: Beware of green earthenware jars, and if the water in your clay vessels intoxicates you, do not drink it.

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5681
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: ١٧٩٦٠) (حسن الٕاسناد )
5685Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي وَالِدَتِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ ؟، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ. وَاعْتَلُّوا بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے مشروبات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہر نشہ لانے والی چیز سے روکتے تھے۔ واعتلوا بحديث عبداللہ بن شداد عن عبداللہ بن عباس لوگوں نے عبداللہ بن شداد کی (آگے آنے والی) اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے جو عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے۔

It was narrated that Aishah (RA) was asked about drinks and she said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to forbid all intoxicants." And they use the narration of Abdullah bin Shaddad from Abdullah bin Abbas.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5682
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٩٧٤) (صحیح )
5686Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شُبْرُمَةَ يَذْكُرُهُ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا، وَالسُّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ. ابْنُ شُبْرُمَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ شراب کم ہو یا زیادہ حرام ہے، اور دوسرے مشروبات اس وقت حرام ہیں جب نشہ آجائے۔ ابن شبرمہ نے اسے عبداللہ بن شداد سے نہیں سنا۔

It was narrated from Ibn Shubrumah who mentioned it from Abdullah bin Shaddad bin Al-Had, from Ibn Abbas, who said: "Khamr was forbidden in small or large amounts, as was every kind of intoxicating drink.

صحيح موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5683
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: ٥٧٨٩)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٥٦٨٧-٥٦٨٩) (صحیح )
5687Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الثِّقَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ بِعَيْنِهَا قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا، وَالسَّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ. خَالَفَهُ أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ شراب تو بذات خود حرام ہے خواہ کم ہو یا زیادہ اور دوسرے مشروبات (اس وقت حرام ہیں) جب نشہ آجائے۔ ابو عون محمد عبیداللہ ثقفی نے ابن شبرمہ کی مخالفت کی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Khamr was forbidden in and of itself, in small or large amounts, as was every kind of intoxicating drink.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5684
Notes · وضاحت
١ ؎: مخالفت یہ ہے کہ ابو عون نے السکر (سین کے ضم اور کاف کے سکون کے ساتھ) کی بجائے المسکر (میم کے ضمہ، سین کے کسرہ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ) (ما أسكر جیسا کہ اگلی روایت میں ہے) روایت کی ہے، جو معنی میں بھی ابن شبرمہ کی روایت کے خلاف ہے، لفظ السکر سے کا مطلب یہ ہے کہ جس مقدار پر نشہ آجائے وہ حرام ہے اس سے پہلے نہیں، اور لفظ المسکر (یا اگلی روایت میں ما أسكر ) کا مطلب یہ ہے کہ جس مشروب سے بھی نشہ آتا ہو (خواہ اس کی کم مقدار پر نہ آئے) وہ حرام ہے، اور سنداً ابن شبرمہ کی روایت کے مقابلہ میں ابو عون کی روایت زیادہ قریب صواب ہے، اس لیے امام طحاوی وغیرہ کا استدلال ابن شبرمہ کی روایت سے درست نہیں۔ (دیکھئیے: الحواشی الجدیدہ للفنجابی، نیز الفتح ١٠ /٦٥ )
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
5688Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ. ح، وَأَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ بِعَيْنِهَا قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا، وَالسُّكْرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ. لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ الْحَكَمِ: قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ شراب بذات خود حرام ہے خواہ کم ہو یا زیادہ، اور ہر مشروب جو نشہ لائے حرام ہے۔ (مقدار کم ہو یا زیادہ) ابن حکم نے قلیلھا و کثیر ھا (خواہ کم ہو یا زیادہ) کا ذکر نہیں کیا۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Khamr was forbidden in and of itself, in small or large amounts, as was every kind of intoxicating drink.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5685
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٦٨٦ (صحیح )
5689Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا وَمَا أَسْكَرَ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ كَانَ يُدَلِّسُ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ، ذِكْرُ السَّمَاعِ مِنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ، وَرِوَايَةُ أَبِي عَوْنٍ أَشْبَهُ بِمَا رَوَاهُ الثِّقَاتُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ شراب کم ہو یا زیادہ حرام ہے اور ہر وہ مشروب جو نشہ لائے (کم ہو یا زیادہ) حرام ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابن شبرمہ کی حدیث کے مقابلے میں یہ زیادہ قرین صواب ہے ١ ؎، ہشیم بن بشیر تدلیس کرتے تھے، ان کی حدیث میں ابن شبرمہ سے سماع ہونے کا ذکر نہیں ہے اور ابو عون کی روایت ان ثقات کی روایت سے بہت زیادہ مشابہ ہے جنہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے ٢ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Khamr was forbidden in small or large amounts, as was every kind of drink that intoxicates.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5686
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: اس حدیث کا بلفظ المسکر ہونا بمقابلہ السکر ہونے کا زیادہ صحیح ہے، (ابن شبرمہ کی روایت میں السکر ہے جب کہ ابو عون کی روایت میں المسکر ہے) امام نسائی کی طرح امام احمد وغیرہ نے بھی لفظ المسکر ہی کو ترجیح دیا ہے (دیکھئیے فتح الباری ج ١٠ /ص ٤٣ )۔ ٢ ؎: مؤلف کا مقصد یہ ہے کہ ابن عباس ؓ سے ابن شبرمہ کی روایت کے مقابلہ میں ابو عون کی روایت سنداً زیادہ قرین صواب اس لیے بھی ہے کہ ابو عون کی روایت ابن عباس سے روایت کرنے والے دیگر ثقہ رواۃ کی روایتوں کے مطابق ہے کہ ابن عباس نشہ لانے والے مشروب کی ہر مقدار کی حرمت کے قائل تھے خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٦٨٦ (صحیح )
5690Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ عَنِ الْبَاذَقِ، فَقَالَ: سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذَقَ، وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ، قَالَ: أَنَا أَوَّلُ الْعَرَبِ سَأَلَهُ.

ابوالجویریہ جرمی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے باذق (بادہ) کے بارے میں پوچھا، وہ کعبے سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے، چناچہ وہ بولے: محمد ﷺ باذق کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے چلے گئے (یا پہلے ہی اس کا حکم فرما گئے کہ) جو مشروب نشہ لائے، وہ حرام ہے۔ وہ (جرمی) کہتے ہیں: میں عرب کا سب سے پہلا شخص تھا جس نے باذق کے بارے میں پوچھا۔

It was narrated that Abu Al-Juwairiyah Al-Jarmi said: "I asked Ibn Abbas, when he was leaning back against the Kabah, about Badhaq (a drink made from the juice of grapes slightly boiled). He said: Muhammad came before Badhaq (i.e., it was not known during his time), but everything that intoxicates in unlawful." He said: "I was the first of the Arabs to ask him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5687
Notes · وضاحت
١ ؎: باذق: بادہ کا معرب ہے جو فارسی لفظ ہے، انگور کے شیرے کو تھوڑا سا جوش دے کر ایک خاص قسم کا مشروب تیار کرتے ہیں۔ یہ مشروب محمد ﷺ کے زمانے میں نہیں تھا، لیکن ہر نشہ لانے والے کے بارے میں آپ کا فرمان اس پر بھی صادق آتا ہے، اور آپ کا یہ بھی فرمان ہے کہ جس مشروب کا زیادہ حصہ نشہ لائے اس کا تھوڑا حصہ بھی حرام ہے، تو کیسے یہ بات صحیح ہوسکتی ہے کہ معروف شراب کے سوا دیگر مشروب کی وہی مقدار حرام ہے جو نشہ لائے؟۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٦٠٩ (صحیح )
5691Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَالنَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ يُحَدِّثُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَرِّمَ إِنْ كَانَ مُحَرِّمًا مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلْيُحَرِّمْ النَّبِيذَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: جسے بھلا معلوم ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیز کو حرام کہنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ نبیذ کو حرام کہے ١ ؎۔

Ibn Abbas said: "Whoever would like to regard as forbidden that which Allah and His Messenger (صلی اللہ علیہ وسلم) regard as forbidden, let him regard Nabidh as forbidden.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5688
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد اس سے وہ نبیذ ہے، جس میں نشہ پیدا ہوچکا ہو خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٦٣٢٣) (صحیح الإسناد )
5692Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا نَشْرَبُهُ مِنَ الزَّبِيبِ وَالْعِنَبِ وَغَيْرِهِ، وَقَدْ أُشْكِلَ عَلَيَّ فَذَكَرَ لَهُ ضُرُوبًا مِنَ الْأَشْرِبَةِ فَأَكْثَرَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَمْ يَفْهَمْهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ، اجْتَنِبْ مَا أَسْكَرَ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ زَبِيبٍ، أَوْ غَيْرِهِ.

عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس ؓ سے کہا: میں اہل خراسان میں سے ایک فرد ہوں، ہمارا علاقہ ایک ٹھنڈا علاقہ ہے، ہم منقی اور انگور وغیرہ کا ایک مشروب بنا کر پیتے ہیں، مجھے اس کی بات سمجھنے میں کچھ دشواری ہوئی پھر اس نے ان سے مشروبات کی کئی قسی میں بیان کیں اور پھر بہت ساری مزید قسی میں۔ یہاں تک میں نے سمجھا کہ وہ (ابن عباس) اس کو نہیں سمجھ سکے۔ ابن عباس نے اس سے کہا: تم نے بہت ساری شکلیں بیان کیں۔ کھجور اور انگور وغیرہ کی جو چیز بھی نشہ لانے والی ہوجائے اس سے بچو (خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے) ۔

It was narrated from Uyainah bin Abdur-Rahman that his father said: "A man said to Ibn Abbas: I am a man from Khurasan, and our land is a cold land. We have a drink that is made from raisins and grapes and other things, and I am confused about it. He mentioned different kinds of drinks to him and mentioned many, until I thought that he had not understood him. Ibn Abbas said to him: You have told me too many. Avoid whatever intoxicates, whether it is made of dates, raisins or anything else.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5689
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٨١٥) (صحیح الإسناد )
5693Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَبِيذُ الْبُسْرِ بَحْتٌ لَا يَحِلُّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ گدر (ادھ کچی) کھجور کی نبیذ اگرچہ وہ خالص ہو پھر بھی حرام ہے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Nabidh made from Al-Busr is forbidden and is not permissible.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5690
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٤٤٢) (صحیح الإسناد )
5694Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَنَهَى عَنْهُ، قُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، إِنِّي أَنْتَبِذُ فِي جَرَّةٍ خَضْرَاءَ نَبِيذًا حُلْوًا، فَأَشْرَبُ مِنْهُ، فَيُقَرْقِرُ بَطْنِي، قَالَ: لَا تَشْرَبْ مِنْهُ وَإِنْ كَانَ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ.

ابوجمرہ کہتے ہیں کہ میں ابن عباس ؓ اور عربی سے ناواقف لوگوں کے درمیان ترجمہ کر رہا تھا، اتنے میں ان کے پاس ایک عورت لاکھی برتن کی نبیذ کے بارے میں مسئلہ پوچھنے آئی تو انہوں نے اس سے منع کیا، میں نے عرض کیا: ابوعباس! میں ایک سبز لاکھی میں میٹھی نبیذ تیار کرتا اور اسے پیتا ہوں، اس سے میرے پیٹ میں ریاح بنتی ہے، انہوں نے کہا: اسے مت پیو اگرچہ شہد سے زیادہ میٹھی ہو۔

It was narrated that Abu Hamzah said: "I used to interpret between Ibn Abbas and the people. A woman came to him and asked him about Nabidh made in earthenware jars, and he forbade it. I said: O Abu Abbas, I make a sweet Nabidh in a green earthenware jar; when I drink it, my stomach makes noises. He said: Do not drink it even if it is sweeter than honey.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5691
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوعباس یعنی آپ کے سب سے بڑے لڑکے کا نام عباس تھا، انہی کے نام سے آپ کی کنیت ابوعباس تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٦٥٣٤) (صحیح الإسناد )
5695Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ وَهُوَ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ نَصْرٌ، قَالَ: قُلْتُلِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ جَدَّةً لِي تَنْبِذُ نَبِيذًا فِي جَرٍّ أَشْرَبُهُ حُلْوًا، إِنْ أَكْثَرْتُ مِنْهُ فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ خَشِيتُ أَنْ أَفْتَضِحَ، فَقَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ لَيْسَ بِالْخَزَايَا، وَلَا النَّادِمِينَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ، فَحَدِّثْنَا بِأَمْرٍ إِنْ عَمِلْنَا بِهِ، دَخَلْنَا الْجَنَّةَ وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ: آمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ، وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ.

ابوجمرہ نصر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا: میری دادی میرے لیے ایک گھڑے میں میٹھی نبیذ تیار کرتی ہیں جسے میں پیتا ہوں۔ اگر میں اسے زیادہ پی لوں اور لوگوں میں بیٹھوں تو اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں رسوائی نہ ہوجائے، وہ بولے: عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: خوش آمدید ان لوگوں کو جو نہ رسوا ہوئے، نہ شرمندہ ، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہمارے اور آپ کے درمیان کفار و مشرکین حائل ہیں، اس لیے ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں ہی میں پہنچ سکتے ہیں، لہٰذا آپ ایسی بات بتا دیجئیے کہ اگر ہم اس پر عمل کریں تو جنت میں داخل ہوں۔ اور ہمارے پیچھے جو لوگ (گھروں پر) رہ گئے ہیں، انہیں اس کی دعوت دیں۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں تین باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے روکتا ہوں: میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں، کیا تم جانتے ہو؟ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ وہ لوگ بولے: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ دینی، اور غنیمت کے مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) ادا کرنا، اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں: کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن، لاکھی اور روغنی برتن میں تیار کی گئی نبیذ سے ۔

Abu Hamzah Nasr said: "I said to Ibn Abbas that my grandmother makes Nabidh in an earthenware jar and it is sweet. If I drink a lot of it and sit with people, I am worried that they will find out. He said: The delegation of Abdul-Qais came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he said: Welcome to a delegation that is not disgraced or filled with regret. They said: O Messenger of Allah, the idolators are between us and you, and we can only reach you during the sacred months. Tell us of something which, if we do it, we will enter Paradise, and we can tell it to those whom we left behind. He said: I will enjoin three things upon you, and forbid four things to you. I order you to have faith in Allah, and do you know what faith in Allah is? They said: Allah and His Messenger know best. He said: (It means) testifying that there is none worthy of worship except Allah, establishing Salah, paying Zakah and giving one-fifth (the Khums) of the spoils of war. And I forbid four things to you: That which is soaked in Ad-Dubba, An-Naqir, Al-Hantam, and Al-Muzaffat.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5692
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٠٣٤ (صحیح )
5696Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْنانَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: إِنَّ لِي جُرَيْرَةً أَنْتَبِذُ فِيهَا حَتَّى إِذَا غَلَى وَسَكَنَ شَرِبْتُهُ، قَالَ: مُذْ كَمْ هَذَا شَرَابُكَ ؟، قُلْتُ: مُذْ عِشْرُونَ سَنَةً، أَوْ قَالَ: مُذْ أَرْبَعُونَ سَنَةً، قَالَ: طَالَمَا تَرَوَّتْ عُرُوقُكَ مِنَ الْخَبَثِ وَمِمَّا اعْتَلُّوا بِهِ. حَدِيثُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.

قیس بن وہبان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے سوال کیا: میرے پاس ایک گھڑا ہے، میں اس میں نبیذ تیار کرتا ہوں، جب وہ جوش مارنے لگتی ہے اور ٹھہر جاتی ہے تو اسے پیتا ہوں، انہوں نے کہا: تم کتنے برس سے یہ پی رہے ہو؟ میں نے کہا: بیس سال سے، یا کہا: چالیس سال سے، بولے: عرصہ دراز تک تیری رگیں گندگی سے تر ہوتی رہیں۔ ومما اعتلوا به حديث عبد الملک بن نافع عن عبداللہ بن عمر تھوڑی سی شراب کے جواز کی دلیل عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کی ہوئی عبدالملک بن نافع کی حدیث بھی ہے۔

It was narrated that Qais bin Wahban said: "I asked Ibn Abbas: I have a small jar in which I make Nabidh and when it has bubbled and settled down again, I drink it. He said: For how long you have been drinking that? He said: For twenty years" - or he said: for forty years. He said: For a long time you have been quenching your thirst with something forbidden.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5693
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٦٣٣٤) (ضعیف) (اس کے راوی ” قیس “ لین الحدیث ہیں لیکن اس کا معنی صحیح احادیث سے ثابت ہے )
5697Sunan An Nasai

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: رَأَيْتُ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ وَهُوَ عِنْدَ الرُّكْنِ وَدَفَعَ إِلَيْهِ الْقَدَحَ، فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ فَوَجَدَهُ شَدِيدًا، فَرَدَّهُ عَلَى صَاحِبِهِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَرَامٌ هُوَ ؟ فَقَالَ: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ، فَأُتِيَ بِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ الْقَدَحَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ فِيهِ، فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ فَقَطَّبَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ أَيْضًا فَصَبَّهُ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا اغْتَلَمَتْ عَلَيْكُمْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةُ، فَاكْسِرُوا مُتُونَهَا بِالْمَاءِ.

عبدالملک بن نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے کہا: میں نے ایک شخص کو دیکھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک پیالہ لایا اس میں نبیذ تھی۔ آپ رکن (حجر اسود) کے پاس کھڑے تھے اور آپ کو وہ پیالہ دے دیا۔ آپ نے اسے اپنے منہ تک اٹھایا تو دیکھا کہ وہ تیز ہے، آپ نے اسے لوٹا دیا، آپ سے لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! کیا وہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: بلاؤ اس شخص کو ، اس کو بلایا گیا، آپ نے اس سے پیالا لے لیا پھر پانی منگایا اور اس میں ڈال دیا، پھر منہ سے لگایا تو پھر منہ بنایا اور پھر پانی منگا کر اس میں ملایا۔ پھر فرمایا: جب ان برتنوں میں کوئی مشروب تمہارے لیے تیز ہوجائے تو اس کی تیزی کو پانی سے مٹاؤ ۔

Ibn Umar said: "While he was at the Rukn, I saw a man bring a cup to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) in which there was Nabidh. He gave the cup to him and he raised it to his mouth, but he found it to be strong, so he gave it back to him and a man among the people said: O Messenger of Allah, is it unlawful? He said: Bring the man to me. So he was brought to him. He took the cup from him and called for water. He poured it into the cup, which he raised to his mouth and frowned. Then he called for more water and poured it into it. Then he said: When these vessels become strong in taste, pour water on them to weaken them.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5694
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٧٣٠٣) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عبدالملک مجہول ہیں )
5698Sunan An Nasai

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَر، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نَافِعٍ لَيْسَ بِالْمَشْهُورِ، وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ خِلَافُ حِكَايَتِهِ.

اس سند سے بھی ابن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عبدالملک بن نافع مشہور نہیں ہیں، ان کی روایات لائق دلیل نہیں۔ ابن عمر ؓ سے ان کی اس حکایت کے خلاف مشہور ہے۔

Narrated from Abdul-Malik bin Nafi from Ibn Umar: A similar report was narrated from Abdul-Malik bin Nafi from Ibn Umar, from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم).

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد )
5699Sunan An Nasai

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَنِ الْأَشْرِبَةِ ؟، فَقَالَ: اجْتَنِبْ كُلَّ شَيْءٍ يَنِشُّ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے مشروبات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہر اس چیز سے بچو جو نشہ لائے۔

It was narrated from Ibn Umar that: A man asked about drinks and he said: "Avoid everything that intoxicates.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5696
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٦٧٤٢) (صحیح الإسناد )
5700Sunan An Nasai

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَشْرِبَةِ ؟، فَقَالَ: اجْتَنِبْ كُلَّ شَيْءٍ يَنِشُّ.

زید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے مشروبات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہر اس چیز سے بچو جو نشہ لائے۔

It was narrated that Zaid bin Jubair said: "I asked Ibn Umar about drinks and he said: Avoid everything that intoxicates.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5697
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد )
5701Sunan An Nasai

جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: الْمُسْكِرُ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ حَرَامٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نشہ لانے والی چیز خواہ کم ہو (جو نشہ نہ لائے) یا زیادہ حرام ہے۔

It was narrated that Ibn Umar said: "Intoxicants are unlawful in small or large amounts.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5698
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٧٤٣٧) (صحیح الإسناد )