Sunan An Nasai 5696

کتاب الا شربة

5696Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْنانَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: إِنَّ لِي جُرَيْرَةً أَنْتَبِذُ فِيهَا حَتَّى إِذَا غَلَى وَسَكَنَ شَرِبْتُهُ، قَالَ: مُذْ كَمْ هَذَا شَرَابُكَ ؟، قُلْتُ: مُذْ عِشْرُونَ سَنَةً، أَوْ قَالَ: مُذْ أَرْبَعُونَ سَنَةً، قَالَ: طَالَمَا تَرَوَّتْ عُرُوقُكَ مِنَ الْخَبَثِ وَمِمَّا اعْتَلُّوا بِهِ. حَدِيثُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.

قیس بن وہبان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے سوال کیا: میرے پاس ایک گھڑا ہے، میں اس میں نبیذ تیار کرتا ہوں، جب وہ جوش مارنے لگتی ہے اور ٹھہر جاتی ہے تو اسے پیتا ہوں، انہوں نے کہا: تم کتنے برس سے یہ پی رہے ہو؟ میں نے کہا: بیس سال سے، یا کہا: چالیس سال سے، بولے: عرصہ دراز تک تیری رگیں گندگی سے تر ہوتی رہیں۔ ومما اعتلوا به حديث عبد الملک بن نافع عن عبداللہ بن عمر تھوڑی سی شراب کے جواز کی دلیل عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کی ہوئی عبدالملک بن نافع کی حدیث بھی ہے۔

It was narrated that Qais bin Wahban said: "I asked Ibn Abbas: I have a small jar in which I make Nabidh and when it has bubbled and settled down again, I drink it. He said: For how long you have been drinking that? He said: For twenty years" - or he said: for forty years. He said: For a long time you have been quenching your thirst with something forbidden.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5693
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٦٣٣٤) (ضعیف) (اس کے راوی ” قیس “ لین الحدیث ہیں لیکن اس کا معنی صحیح احادیث سے ثابت ہے )