Sunan An Nasai 5692

کتاب الا شربة

5692Sunan An Nasai

ان احادیث کا تذکرہ جن سے لوگوں نے یہ دلیل لی کہ نشہ آور شراب کا کم مقدار میں پینا جائز ہے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ، وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا نَشْرَبُهُ مِنَ الزَّبِيبِ وَالْعِنَبِ وَغَيْرِهِ، وَقَدْ أُشْكِلَ عَلَيَّ فَذَكَرَ لَهُ ضُرُوبًا مِنَ الْأَشْرِبَةِ فَأَكْثَرَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَمْ يَفْهَمْهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ، اجْتَنِبْ مَا أَسْكَرَ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ زَبِيبٍ، أَوْ غَيْرِهِ.

عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس ؓ سے کہا: میں اہل خراسان میں سے ایک فرد ہوں، ہمارا علاقہ ایک ٹھنڈا علاقہ ہے، ہم منقی اور انگور وغیرہ کا ایک مشروب بنا کر پیتے ہیں، مجھے اس کی بات سمجھنے میں کچھ دشواری ہوئی پھر اس نے ان سے مشروبات کی کئی قسی میں بیان کیں اور پھر بہت ساری مزید قسی میں۔ یہاں تک میں نے سمجھا کہ وہ (ابن عباس) اس کو نہیں سمجھ سکے۔ ابن عباس نے اس سے کہا: تم نے بہت ساری شکلیں بیان کیں۔ کھجور اور انگور وغیرہ کی جو چیز بھی نشہ لانے والی ہوجائے اس سے بچو (خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے) ۔

It was narrated from Uyainah bin Abdur-Rahman that his father said: "A man said to Ibn Abbas: I am a man from Khurasan, and our land is a cold land. We have a drink that is made from raisins and grapes and other things, and I am confused about it. He mentioned different kinds of drinks to him and mentioned many, until I thought that he had not understood him. Ibn Abbas said to him: You have told me too many. Avoid whatever intoxicates, whether it is made of dates, raisins or anything else.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5689
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٨١٥) (صحیح الإسناد )