Sunan An Nasai 5679

کتاب الا شربة

5679Sunan An Nasai

شرابی کو جلا وطن کرنے کا بیان

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: غَرَّبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ فِي الْخَمْرِ إِلَى خَيْبَرَ، فَلَحِقَ بِهِرَقْلَ فَتَنَصَّرَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَا أُغَرِّبُ بَعْدَهُ مُسْلِمًا.

سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ شراب کی وجہ سے عمر ؓ نے ربیعہ بن امیہ کو خیبر کی طرف نکال دیا ١ ؎، پھر وہ ہرقل سے جا ملے اور عیسائی ہوگئے، تو عمر ؓ نے کہا: اس کے بعد میں کسی مسلمان کو شہر بدر نہیں کروں گا۔

It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "Umar (RA) banished Rabiah bin Umaiyah to Khaibar for drinking Khamr, and he went and joined Heraclius and became a Christian. Umar (RA) him, said: I will never expel any Muslim after this.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5676
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ شہر بدری حد میں نہیں، بلکہ بطور تعزیر تھی، اسی طرح کی شہر بدری کے بارے میں عمر ؓ کا مذکورہ قول ہے، یہ اس شہر بدری کے خلاف ہے جو حد زنا کے وقت وجود میں آتی ہے، اس طرح کی شہر بدری کے بارے میں عمر ؓ مذکورہ بات نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ تو حد زنا میں داخل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٠٤٥٣) (ضعیف الإسناد) (” سعید بن المسیب “ کا سماع عمر رضی الله عنہ سے نہیں ہے، لیکن جب ابن المیسب کے مرفوع مراسیل مقبول ہیں تو عمر رضی الله عنہ کے واقعہ کے بارے میں کیوں مقبول نہیں ہوں گے؟ )