کتاب الا شربة

Sunan An Nasai · Chapter 51 · 220 hadiths · Page 6 of 11

5642Sunan An Nasai

کدو کے تونبے اور چوبی برتن اور روغنی برتن اور لاکھی کے برتن کی نبیذ کے ممنوع ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ بِذَاتِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اصل کدو کی تو نبی سے روکا گیا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "He forbade Ad-Dubba (gourds) specifically.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5639
Notes · وضاحت
١ ؎: خواہ اس میں نشہ ہو یا نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٩٦٨) (صحیح الإسناد )
5643Sunan An Nasai

کدو کے تونبے اور چوبی برتن اور روغنی برتن اور لاکھی کے برتن کی نبیذ کے ممنوع ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْحَاق وَهُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ نَبِيذِ النَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ. فِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ: إِسْحَاق: وَذَكَرَتْ هُنَيْدَةُ، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ حَدِيثِ مُعَاذَةَ: وَسَمَّتِ الْجِرَارَ، قُلْتُ لِهُنَيْدَةَ: أَنْتِ سَمِعْتِيهَاسَمَّتِ الْجِرَارَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لکڑی کے برتن، روغنی برتن، کدو کی تو نبی اور لاکھی برتن سے منع فرمایا۔ ابراہیم بن علیہ کی روایت میں ہے کہ اسحاق کہتے ہیں: ہنیدہ نے عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہوئے معاذہ کی حدیث کی طرح بیان کیا اور گھڑوں کا ذکر کیا، میں نے ہنیدہ سے کہا: تم نے عائشہ ؓ کو گھڑوں کا نام لیتے سنا، وہ بولیں: ہاں۔

It was narrated from Ishaq - he is Ibn Suwaid - that he said: "Muadhah narrated to me from Aishah (RA), that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Nabidh made in An-Naqir, Al-Muqayyar, Ad-Dubba, and Al-Hantam." And in the narration of Ibn Ulayyah, Ishaq said: "And Hunaidah mentioned from Aishah (RA) similar to the narration of Muadhah, and she named earthenware containers. I said to Hunaidah: Did you hear her say earthenware containers? She said: Yes.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5640
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
5644Sunan An Nasai

کدو کے تونبے اور چوبی برتن اور روغنی برتن اور لاکھی کے برتن کی نبیذ کے ممنوع ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ طَوْدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقَيْسِيِّ بَصْرِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هُنَيْدَةَ بِنْتِ شَرِيكِ بْنِ زَبَّانَ، قَالَتْ: لَقِيتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِالْخُرَيْبَةِ، فَسَأَلْتَهَا عَنِ الْعَكَرِ ؟ فَنَهَتْنِي عَنْهُ، وَقَالَتْ: انْبِذِي عَشِيَّةً، وَاشْرَبِيهِ غُدْوَةً، وَأَوْكِي عَلَيْهِ، وَنَهَتْنِي عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالْحَنْتَمِ.

ہنیدہ بنت شریک بن ابان کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے (مقام) خریبہ میں ملاقات کی اور ان سے شراب کی تلچھٹ کے بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے مجھے اس سے منع فرمایا، یعنی انہوں نے کہا: شام کو بھگو کر صبح پی لو اور برتن کے منہ کو بند کر کے رکھو۔ اور انہوں نے مجھے کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی برتن سے منع فرمایا۔

It was narrated that Hunaidah bint Sharik bin Aban said: "I met Aishah (RA) in Al-Khuraibah, and I asked her about the dregs and she forbade them to me and she said: Soak (the fruit) at night and drink it in the morning, and tie the vessel closed. And she forbade me from using Ad-Dubba (gourds), An-Naqir, Al-Muzaffat, and Al-Hantam.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5641
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٧٩٧٣) (ضعیف) (اس کے رواة ” طود “ اور ان کے باپ ” عبدالملک “ دونوں لین الحدیث ہیں )
5645Sunan An Nasai

روغنی برتنوں کا بیان

أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُخْتَارَ بْنَ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الظُّرُوفِ الْمُزَفَّتَةِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے روغنی برتنوں سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Muzaffat

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5642
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٨٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة ٦ (١٩٩٢)، مسند احمد (٣/١١٠، ١١٢، ١١٩) (صحیح )
5646Sunan An Nasai

مذکورہ برتنوں کے استعمال کی ممانعت ضروری تھی نہ کہ بطور ادب کے

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ: أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7.

عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے، آپ نے کدو کی تونبی، لاکھی برتن، روغنی برتن اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: وما آتاکم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا رسول جو کچھ تمہیں دیں اسے لے لو، اور جس سے تمہیں روکیں، اس سے رک جاؤ (الحشر: ٧ ) ۔

Saeed bin Jubair narrated that: He heard Ibn Umar and Ibn Abbas testify that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ad-Dubba (gourds), Al-Hantam, Al-Muzaffat, and An-Naqir. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) recited this Verse: "And whatsoever the Messenger (Muhammad) gives you, take it; and whatsoever he forbids you, abstain (from it).

صحيح دون تلاوة الآية وكأنها مدرجةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5643
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الٔاشربة ٦ (١٩٩٧)، سنن ابی داود/الٔهشربة ٧ (٣٦٩٠)، (تحفة الأشراف: ٥٦٢٣) (صحیح )
5647Sunan An Nasai

مذکورہ برتنوں کے استعمال کی ممانعت ضروری تھی نہ کہ بطور ادب کے

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ عَمٍّ لَهَا، يُقَالُ: لَهُ أَنَسٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7 ؟، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ: وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ سورة الأحزاب آية 36 ؟، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّيأَشْهَدُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ.

انس (قیسی بصریٰ ) کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: ما آتاکم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا جو کچھ تمہیں رسول دے، اسے لے لو اور جس سے تمہیں روکے، اس سے رک جاؤ (الحشر: ٧ ) میں نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: کیا یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: وما کان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى اللہ ورسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو جب اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے میں فیصلہ کردیں اپنے معاملات میں کوئی حق نہیں رہتا (الاحزاب: ٣٦ ) میں نے کہا: کیوں نہیں، انہوں نے کہا: تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے نبی اکرم ﷺ نے لکڑی کے برتن، روغنی برتن، کدو کی تو نبی اور لاکھ برتن سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated from Asma bint Yazid that: A paternal uncle of hers whose name was Anas said: "Ibn Abbas said: Does not Allah say: "And whatsoever the Messenger (Muhammad) gives you, take it; and whatsoever he forbids you, abstain (from it)? He said: Yes. He said: Does not Allah say: It is not for a believer, man or woman, when Allah and His Messenger have decreed a matter that they should have any option in their decision? I said: Yes. He said: I bear witness that the Prophet of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade An-Naqir, Al-Muqayyar, Ad-Dubba, and Al-Hantam.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5644
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٣٦٣) (ضعیف) (اس کے رواة انس قیسی اور اسماء قیسیہ لین الحدیث ہیں )
5648Sunan An Nasai

ان برتنوں کا بیان

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُزَاذَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قُلْتُ: حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَوْعِيَةِ وَفَسِّرْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمِ، وَهُوَ الَّذِي تُسَمُّونَهُ أَنْتُمُ الْجَرَّةَ، وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَهُوَ الَّذِي تُسَمُّونَهُ أَنْتُمُ الْقَرْعَ، وَنَهَى عَنِ النَّقِيرِ، وَهِيَ النَّخْلَةُ يَنْقُرُونَهَا، وَنَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ، وَهُوَ الْمُقَيَّرُ.

زاذان کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے درخواست کی کہ مجھ سے کوئی ایسی بات بیان کیجئیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے برتنوں کے سلسلے میں سنی ہو اور اس کی شرح و تفسیر بھی بیان کیجئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے لاکھی برتن سے روکا اور یہ وہی ہے جسے تم جرہ (گھڑا) کہتے ہو۔ دباء سے روکا، جسے تم قرع (کدو کی تُو نبی) کہتے ہو، نقیر سے روکا اور یہ کھجور کے درخت کی جڑ ہے جسے تم کھودتے ہو (اور برتن بنا لیتے ہو) اور مزفت جو مقیر ١ ؎ ہے اس سے بھی روکا۔

Zadan said: "I asked Abdullah bin Umar: Tell me of something that you heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) concerning vessels and explain it. He said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Hantam, which are what you call earthenware jars. And he forbade Ad-Dubba which are what you call squash. And he forbade An-Naqir, which are hollowed-out date palm wood. And he forbade Al-Muzaffat which are (Al-Muqayyar) vessels daubed with tar.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5645
Notes · وضاحت
١ ؎: پینٹ کیا ہوا روغن چڑھایا ہوا برتن۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الّٔشربة ٦ (١٩٩٧)، سنن الترمذی/الْٔشربة ٥ (١٨٦٨)، (تحفة الأشراف: ٦٧١٦)، مسند احمد (٢/٥٦) (صحیح )
5649Sunan An Nasai

کن برتنوں میں نبیذ بنانا درست ہے اس سے متعلق احادیث اور مشکوں میں نبیذ بنانے سے متعلق احادیث مبارکہ کا بیان

أَخْبَرَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ حِينَ قَدِمُوا عَلَيْهِ عَنِ الدُّبَّاءِ وَعَنِ النَّقِيرِ وَعَنِ الْمُزَفَّتِ وَالْمَزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ، وَقَالَ: انْتَبِذْ فِي سِقَائِكَ أَوْكِهِ وَاشْرَبْهُ حُلْوًا، قَالَ: بَعْضُهُمُ ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي مِثْلِ هَذَا، قَالَ: إِذًا تَجْعَلَهَا مِثْلَ هَذِهِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ يَصِفُ ذَلِكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبدالقیس کے وفد کو جب وہ آپ کے پاس آئے کدو کی تو نبی اور لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور منہ کھلے گہرے برتن سے روکا، اور فرمایا: مشک میں نبیذ تیار کرو اور اس کا منہ بند کر دو اور اسے میٹھا میٹھا پیو، ان میں سے کسی شخص نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اس جیسے برتن کی اجازت دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: تو تمہیں اس جیسا چاہیئے اور آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس کی شدت اور تیزی بیان کرنے لگے۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade the delegation of Abdul-Qais, when they came to him, Ad-Dubba, An-Naqir, Al-Muzaffat, and large water-skins that are cut from the top and can no longer be closed. He said: Make Nabidh in your water-skins, and close them and drink it sweet. One of them said: O Messenger of Allah, give me permission concerning something like this. He said: If you make it like this, and he gestured with his hand, showing him how.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5646
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: ١٤٥٤١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة ٦ (١٩٩٣)، سنن ابی داود/الأشربة ٧ (٣٦٩٣)، مسند احمد (٢/٤٩١) (صحیح )
5650Sunan An Nasai

کن برتنوں میں نبیذ بنانا درست ہے اس سے متعلق احادیث اور مشکوں میں نبیذ بنانے سے متعلق احادیث مبارکہ کا بیان

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً، قَالَ: وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرِّ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يَجِدْ سِقَاءً يُنْبَذْ لَهُ فِيهِ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے روغنی گھڑے، کدو کی تو نبی اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا، اور جب نبی اکرم ﷺ کے پاس مشکیزہ نہ ہوتا جس میں آپ کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تو آپ کے لیے پتھر کے برتن میں نبیذ بنائی جاتی۔

Jabir said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Al-Muzaffat jars, Ad-Dubba (gourds), An-Naqir, and if the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) could not find a water-skin in which to make Nabidh, it would be made for him in a small vessel of stone.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5647
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٦ (١٩٩٩)، (تحفة الأشراف: ٢٨٢٦) (صحیح )
5651Sunan An Nasai

کن برتنوں میں نبیذ بنانا درست ہے اس سے متعلق احادیث اور مشکوں میں نبیذ بنانے سے متعلق احادیث مبارکہ کا بیان

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي الْأَزْرَقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ سِقَاءٌ نَنْبِذُ لَهُ فِي تَوْرِ بِرَامٍ، قَالَ: وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے مشکیزہ میں نبیذ تیار کی جاتی تھی، جب مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کے برتن میں تیار کی جاتی، اور آپ نے کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن اور روغنی برتن سے روکا۔

It was narrated that Jabir said: "(Fruit) would be soaked for the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) in a water skin, and if he did not have a water skin, it would be made for him in a small vessel of stone. And the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ad-Dubba (gourds), An-Naqir, and Al-Muzaffat.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5648
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الٔهشربة ٦ (١٩٩٨)، تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٢٧٩١)، مسند احمد (٣/٣٢٦٢٦) (صحیح )
5652Sunan An Nasai

کن برتنوں میں نبیذ بنانا درست ہے اس سے متعلق احادیث اور مشکوں میں نبیذ بنانے سے متعلق احادیث مبارکہ کا بیان

أَخْبَرَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْجَرِّ، وَالْمُزَفَّتِ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن، گھڑے اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated from Jabir that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade Ad-Dubba (gourds), An-Naqir, earthenware jars, and Al-Muzaffat.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5649
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
5653Sunan An Nasai

مٹی کے برتن کی اجازت

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْجَرِّ غَيْرَ مُزَفَّتٍ.

عبدا اللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسے مٹی کے برتن (گھڑے) کی اجازت دی جس پر روغن نہ لگایا گیا ہو۔

It was narrated from Abdullah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) granted a concession allowing earthenware jars that are not coated with pitch.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5650
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الٔجشربة ٨ (٥٥٩٣)، صحیح مسلم/الُٔشربة ٦ (٢٠٠٠)، سنن ابی داود/الأشربة ٧ (٣٧٠١، ٣٧٢)، (تحفة الأشراف: ٨٨٩٥)، مسند احمد (٢/١٦٠) (صحیح )
5654Sunan An Nasai

ہر ایک برتن کی اجازت

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ جَوَّابٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْالزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا، وَمَنْ أَرَادَ زِيَارَةَ الْقُبُورِ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ، وَاشْرَبُوا، وَاتَّقُوا كُلَّ مُسْكِرٍ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں قربانی کے گوشت (ذخیرہ کرنے) سے روکا تھا، لیکن اب تم اسے رکھ چھوڑو اور ذخیرہ کرو، اور جو قبروں کی زیارت کرنا چاہے کرے، اس لیے کہ اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے اور پیو (ہر چیز) البتہ نشہ لانے والی چیز سے بچو۔

It was narrated from Ibn Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I used to forbid you (to store) the sacrificial meat, but now eat it and store it; and whosoever wants to visit graves (may do so), for they are a reminder of the Hereafter; and drink but avoid all intoxicants.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5651
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٤٤٣٥ (صحیح )
5655Sunan An Nasai

ہر ایک برتن کی اجازت

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم زیارت کرو، میں نے تین دن سے زیادہ تک قربانی کے گوشت (جمع کرنے) سے منع کیا تھا، لیکن اب جب تک تمہارا جی چاہے رکھ چھوڑو، میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ (برتنوں) کی نبیذ سے منع کیا تھا، لیکن اب تم تمام قسم کے برتنوں میں پیو البتہ نشہ لانے والی چیز مت پیو ۔

It was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I used to forbid you to visit graves, but (now) visit them. And I forbade you (to keep) the sacrificial meat for three days, but now keep whatever you wish. And I forbade Nabidh to you, unless it was (made) in a water skin, but now drink from all kinds of vessels but do not drink any intoxicant.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5652
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٠٤٣ (صحیح )
5656Sunan An Nasai

ہر ایک برتن کی اجازت

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى بْنِ مَعْدَانَ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُبَيْدٌ، عَنْ مُحَارِبٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ: زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا مِنْهَا مَا شِئْتُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں تین چیزوں سے روکا تھا: قبروں کی زیارت سے تو اب تم (قبروں کی زیارت) کرو، اس کی زیارت سے تمہاری بہتری ہوگی، میں نے تمہیں تین دن سے زائد قربانی کے گوشت (ذخیرہ کرنے) سے روکا تھا، لیکن اب تم جب تک چاہو اس میں سے کھاؤ، میں نے تمہیں کچھ برتنوں کے مشروب سے روکا تھا، لیکن اب تم جس برتن میں چاہو پیو اور کوئی نشہ لانے والی چیز نہ پیو ۔

It was narrated from Ibn Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I used to forbid three things to you: Visiting graves, but now visit them, and may visiting them increase you in goodness; and I forbade you (to store) the sacrificial meat for more than three days, but now eat whatever you wish of it. And I forbade to you drinks in (certain kinds of ) vessels, but now drink from whatever vessel you wish, but do not drink any intoxicant.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5653
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٠٣٤ (صحیح )
5657Sunan An Nasai

ہر ایک برتن کی اجازت

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ، فَانْتَبِذُوا فِيمَا بَدَا لَكُمْ، وَإِيَّاكُمْ وَكُلَّ مُسْكِرٍ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں (مخصوص) برتنوں کے استعمال سے منع کیا تھا، لیکن اب تمہیں جو بہتر لگے اس میں نبیذ تیار کرو، البتہ ہر نشہ لانے والی چیز سے بچو ۔

It was narrated from Abdullah bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I used to forbid certain kinds of vessels to you. Now soak (fruits) in whatever you wish, but beware of any intoxicant.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5654
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٩٧٣) (صحیح )
5658Sunan An Nasai

ہر ایک برتن کی اجازت

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ مَرْوَزِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُبَيْدٍ الْكِنْدِيُّ خُرَاسَانِيٌّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ إِذْ حَلَّ بِقَوْمٍ، فَسَمِعَ لَهُمْ لَغَطًا، فَقَالَ: مَا هَذَا الصَّوْتُ ؟، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَهُمْ شَرَابٌ يَشْرَبُونَهُ، فَبَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ فَدَعَاهُمْ، فَقَالَ: فِي أَيِّ شَيْءٍ تَنْتَبِذُونَ ؟، قَالُوا: نَنْتَبِذُ فِي النَّقِيرِ، وَالدُّبَّاءِ، وَلَيْسَ لَنَا ظُرُوفٌ، فَقَالَ: لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَوْكَيْتُمْ عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَبِثَ بِذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ ثُمَّ رَجَعَ عَلَيْهِمْ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَصَابَهُمْ وَبَاءٌ وَاصْفَرُّوا، قَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ قَدْ هَلَكْتُمْ ؟، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرْضُنَا وَبِيئَةٌ، وَحَرَّمْتَ عَلَيْنَا، إِلَّا مَا أَوْكَيْنَا عَلَيْهِ، قَالَ: اشْرَبُوا وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ سفر میں جا رہے تھے، اسی دوران اچانک کچھ لوگوں کے پاس ٹھہرے، تو ان میں کچھ گڑبڑ آواز سنی، فرمایا: یہ کیسی آواز ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے نبی! ان کا ایک قسم کا مشروب ہے جسے وہ پی رہے ہیں، آپ نے لوگوں کو بلا بھیجا اور فرمایا: تم لوگ کس چیز میں نبیذ تیار کرتے ہو؟ وہ بولے: ہم لوگ لکڑی کے برتن اور کدو کی تو نبی میں تیار کرتے ہیں۔ ہمارے پاس (ان کے علاوہ) دوسرے برتن نہیں ہوتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم صرف ڈاٹ لگے ہوئے برتنوں میں پیو ، پھر آپ وہاں کچھ دنوں تک ٹھہرے رہے جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، پھر جب ان کے پاس لوٹ کر گئے تو دیکھا کہ وہ استسقاء کے مرض میں مبتلا ہو کر پیلے پڑگئے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں تباہ و برباد دیکھ رہا ہوں ، وہ بولے: اللہ کے نبی! ہمارا علاقہ وبائی ہے آپ نے ہم پر (تمام برتن) حرام کردیے سوائے ان برتنوں کے جن پر ہم نے ڈاٹ لگائی ہو، آپ نے فرمایا: پیو (جیسے چاہو) البتہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔

Abdullah bin Buraidah (narrated) from his father that: While the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was walking, he approached some people and heard a confused noise coming from them. He said: "What is this noise?" They said: "O Messenger of Allah, they have a drink that they drink." He sent for those people and said: "In what do you soak (fruit - to make that drink)?" They said: "We soak (fruits) in vessels carved from wood and gourds, and we have no water skins (that can be closed)." He said: "Do not drink except from a vessel that can be tied closed." Then as much time as Allah willed passed, then he went back to them and they had fallen sick and become pallid. He said: "Why do you look so ill?" They said: "O Messenger of Allah, our land is unhealthy and you forbade to us everything except that which was in a vessel that could be tied closed." He said: "Drink, but every intoxicant is unlawful.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5655
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٩٩١) (صحیح الإسناد )
5659Sunan An Nasai

ہر ایک برتن کی اجازت

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَهَى عَنِ الظُّرُوفِ شَكَتْ الْأَنْصَارُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لَنَا وِعَاءٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَا إِذًا.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب کچھ برتنوں سے روکا تو انصار کو شکایت ہوئی، چناچہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس کوئی اور برتن نہیں ہے تو آپ نے فرمایا: تب تو نہیں ١ ؎۔

It was narrated from Jabir that : When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade large water skins that are cut from the top and can no longer be closed, Ansar complained and said: "O Messenger of Allah, we do not have any vessels." The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Then there is no harm.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5656
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پھر تو ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الٔ شربة ٨ (٥٥٩٢)، سنن ابی داود/الٔاشربة ٧ (٣٦٩٩)، سنن الترمذی/الٔعشربة ٦ (١٨٧١)، (تحفة الأشراف: ٢٢٤٠) (صحیح )
5660Sunan An Nasai

شراب کیسی شے ہے؟

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ، وَلَبَنٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا، فَأَخَذَ اللَّبَنَ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ، لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ اسراء (معراج) کی رات رسول اللہ ﷺ کے پاس شراب اور دودھ کے دو پیالے لائے گئے، آپ نے انہیں دیکھا تو دودھ لے لیا، جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے آپ کو فطری چیز کی ہدایت دی، اگر آپ شراب لے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔

It was narrated that Abu Hurairah said: "On the night on which he was taken on the Night Journey (Al-Isra), two cups, of wine and milk, were brought to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم). He looked at them and chose the milk. Jibrail علیہ السلام, said to him: Praise be to Allah Who has guided you to the Fitrah. If you have chosen the wine, your Ummah would have gone astray.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5657
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الٕنسراء ٣ (٤٧٠٩)، الأشربة ١ (٥٥٧٦)، ١٢ (٥٦٠٣)، صحیح مسلم/الإیمان ٧٤ (١٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٢٣)، مسند احمد (٢/٥١٢) (صحیح )
5661Sunan An Nasai

شراب کیسی شے ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَفْصٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَشْرَبُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا.

ایک صحابی رسول ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے اور وہ اس کا نام کچھ اور رکھ دیں گے ۔

Ibn Muhairiz narrated from a man among the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) that : The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "People among my Ummah will drink Khamr, calling it by another name.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5658
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٥٦١٧)، مسند احمد (٤/٢٣٧) (صحیح )