بنی عامر بن صعصعہ کی اولاد میں سے مطرف نامی ایک شخص کہتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص ؓ نے ان کے لیے دودھ منگوایا تاکہ وہ انہیں پلائیں تو مطرف نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ تو عثمان ؓ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: روزہ ڈھال ہے جس طرح کہ لڑائی کے موقع پر تم میں سے کسی کے پاس ڈھال ہوتی ہے ۔
It was narrated from Saeed bin Abi Hind that Mutarrif a man from Banu Amir bin Sasaah told him that: Uthman bin Abi Al-As called for milk to be given to him (Mutarrif) to drink. Mutarrif said: I heard the Messenger of Allah say: Fasting is a shield like the shield of any one of you in battle." Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah said: Fasting is a shield." (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2230
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ١ (١٦٣٩)، (تحفة الأشراف: ٩٧٧١)، مسند احمد ٤/ ٢١، ٢٢، ٢١٧، ٢١٨ (صحیح )
مطرف کہتے ہیں کہ میں عثمان بن ابی العاص ؓ کے پاس آیا تو انہوں نے (میری ضیافت کے لیے) دودھ منگوایا، تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: روزہ آگ سے بچاؤ کے لیے کی ڈھال ہے جس طرح کہ تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں دشمن کے وار سے بچاؤ کے لیے ڈھال ہوتی ہے ۔
It was narrated that Mutarrif said: “I entered upon ‘Uthman bin Abi Al-’As and he called for milk. I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Fasting is a shield like the of any one of you in battle.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2231
سعید بن ابی ہند کہتے ہیں کہ مطرف عثمان ؓ عنہ کے پاس آئے۔ آگے راوی نے اس طرح کی روایت بیان کی، یہ روایت مرسل ہے۔
It was narrated that Saeed bin Abi Hind said: “Mutarrif entered upon ‘Uthman” and he narrated something similar in Mursal form. (Sahih)
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2232
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٣٢ (صحیح) (مؤلف نے اسے مرسل کہا ہے، یعنی یہ موقوف ہے، اس معنی میں کہ عثمان بن ابی العاص رضی الله عنہ نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف نسبت کئے بغیر ہی اسے موقوفاً روایت کیا ہے، نیز احتمال ہے کہ ارسال یہاں انقطاع کے معنی میں ہو کیونکہ مطرف کا عثمان کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس میں سعید موجود تھے اس بارے میں عبداللہ بن سعید کی روایت صریح نہیں ہے )
ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ الجراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اسے (جھوٹ و غیبت وغیرہ کے ذریعہ) پھاڑ نہ دے ۔
Abu ‘Ubaidah said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say:‘Fasting is a shield, so long as you do not damage it.” (Hasan)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2233
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٠٤٧)، مسند احمد ١/١٩٥، ١٩٦، یأتي عند المؤلف برقم ٢٢٣٧ (ضعیف) (اس کے رواة بشار اور عیاض دونوں لین الحدیث ہیں )
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: روزہ جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے ڈھال ہے، جو شخص روزہ دار ہو کر صبح کرے تو وہ اس دن جہالت و نادانی کی کوئی بات نہ کرے، اور اگر کوئی شخص اس کے ساتھ جہالت و نادانی کی بات کرنے لگے تو اسے گالی نہ دے، برا بھلا نہ کہے۔ اس کے لیے مناسب ہوگا کہ وہ اس سے کہے، (بھائی) میں روزے سے ہوں، (میں تم سے لڑائی جھگڑا نہیں کرسکتا) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے ۔
It was narrated that Aishah (RA) said that the Prophet ﷺ said:“Fasting is a shield against the Fire. Whoever starts the day of fasting, let him not act in an ignorant manner during that day. If anyone treats him in an ignorant manner, let him not insult him or curse him, rather let him say: ‘I am fasting.’ By the One in Whose hand is the soul of Muhammad, the smell that comes from the mouth of a fasting person is better before Allah than the fragrance of musk.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2234
ابوعبیدہ بن الجراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اسے پھاڑ نہ دے۔
It was narrated that Al Walid bin Abi Malik said: “Our companions narrated to us that Abu ‘Ubaidah said: ‘Fasting is a shield, so long as you do not damage it.” (Hasan)
صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2235
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: روزہ دار کے لیے جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، روزہ دار کے سوا کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا، اور جب آخری روزہ دار دروازہ کے اندر پہنچ جائے گا تو دروازہ بند کردیا جائے گا، جو وہاں پہنچ جائے گا وہ پئے گا اور جو پئے گا، وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا ۔
It was narrated from Sahl bin Sad that the Prophet ﷺ said:“For those who fast there is a gate in Paradise called Ar-Rayyan, through which no one but they will enter. When the last of them has entered it, it will be closed. Whoever enters through it will drink, and whoever drinks will never thirst again.” (Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2236
سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن پکار کر کہا جائے گا، روزہ دارو! کہاں ہو؟ کیا تمہیں ریان کی طرف آنے کی رغبت ہے؟ جو شخص اس میں داخل ہوگا، اور (اس کے چشمے (ریان) کا پانی پئے گا) وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا، جب وہ داخل ہوجائیں گے تو وہ بند کردیا جائے گا۔ اس دروازے سے روزہ دار کے سوا کوئی اور داخل نہ ہوگا۔
Sahl narrated that in paradise there is a gate called Ar Rayyan, it will be said on the Day of Resurrection: “Where are those who used to fast? Would you like to enter through Ar-Rayyan?” Whoever enters through it will never thirst again. Then when they have entered it will be closed behind them, and no one but they will enter through it. (Sahih)
صحيح الإسناد موقوف ق مرفوعا دون جملة الظمأصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2237
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: ٤٧٩١ (صحیح الإسناد) (یہ حدیث مرفوعا متفق علیہ ہے، من دخله لم يظمأ أبدا مرفوع حدیث میں ثابت نہیں ہے، صحیح الترغیب ٩٦٩، تراجع الالبانی ٣٥١ )
ابوہریرہ رضی الله عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا دے گا ١ ؎ اسے جنت میں بلا کر پکارا جائے گا، اے اللہ کے بندے! یہ تیری نیکی ہے، تو جو شخص نمازی ہوگا وہ صلاۃ کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو مجاہدین میں سے ہوگا وہ جہاد والے دروازہ سے بلایا جائے گا، اور جو صدقہ دینے والوں میں سے ہوگا وہ صدقہ والے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو روزہ داروں میں سے ہوگا وہ باب ریان سے بلایا جائے گا۔ ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کسی کے لیے ضرورت تو ٢ ؎ نہیں کہ وہ ان سبھی دروازوں سے بلایا جائے، لیکن کیا کوئی ان سبھی دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, he will be called in Paradise: O slave of Allah, here is prosperity. Whoever is one of the people of salah, he will be called from the gate of Salah. Whoever is one of the people of Jihad, he will be called from the gate of Jihad. Whoever is one of the people of charity, he will be called from the gate of charity. Whoever is one of the people of fasting, he will be called from the gate of Ar-Rayyan.’ Abu Bakr (RA) As-Siddiq said: ‘Messenger of Allah ﷺ , no distress or need will befall the one who is called from those gates. Will there be anyone who will be called from all these gates?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Yes, and I hope that you will be one of them.”(Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2238
Notes · وضاحت
١ ؎:ـ مثلاً دو دینار، دو گھوڑے، دو کپڑے، دو روٹیاں، دو غلام اور دو لونڈیاں وغیرہ وغیرہ دے گا۔ ٢ ؎: کیونکہ ایک دروازے سے بلایا جانا جنت میں داخل ہونے کے لیے کافی ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، اور ہم سب نوجوان تھے۔ ہم (جوانی کے جوش میں) کسی چیز پر قابو نہیں رکھ پاتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! تم اپنے اوپر شادی کرنے کو لازم پکڑو کیونکہ یہ نظر کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے، اور جو نہ کرسکتا ہو (یعنی نان، نفقے کا بوجھ نہ اٹھا سکتا ہو) وہ اپنے اوپر روزہ لازم کرلے کیونکہ یہ اس کے لیے بمنزلہ خصی بنا دینے کے ہے ۔
It was narrated that ‘Abdullah said: “We went out with the Messenger of Allah ﷺ and we were young men who could not afford anything’ He said: ‘young men, you should get married, for it is more effective in lowering the gaze and protecting one’s chastity. Whoever cannot afford it should fast, for it will be a restraint Wija’ for him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2239
علقمہ سے روایت ہے کہ ابن مسعود ؓ ، عثمان ؓ سے عرفات میں ملے، تو وہ انہیں لے کر تنہائی میں چلے گئے اور ان سے باتیں کیں، عثمان ؓ عنہ نے ابن مسعود ؓ سے کہا: کیا آپ کو کسی دوشیزہ کی خواہش ہے کہ میں آپ کی اس سے شادی کرا دوں؟ تو عبداللہ بن مسعود ؓ نے علقمہ کو بھی بلا لیا (آجاؤ کوئی خاص بات نہیں ہے اور جب وہ آگئے) تو انہوں نے عثمان ؓ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے اسے چاہیئے کہ وہ شادی کرلے کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور جو طاقت نہ رکھے، تو اسے چاہیئے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے وجاء ہے (یعنی وہ اسے خصی بنا دے گا، اس کی شہوت کو توڑ دے گا) ۔
It was narrated from ‘Alqamah that Ibn Mas’ud met ‘Uthman at ‘Arafat and spoke to him in private. ‘Uthman said to Ibn Mas’ud: “Are you interested in a girl so that I marry her to you?” ‘Abdullah called ‘Alqamah and he told him that the Prophet ﷺ said:‘Whoever among you can afford to get married, let him do so. Whoever cannot afford it, let him fast, for fasting will be a restraint (Wija for him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2240
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے، تو وہ شادی کرلے اور جو نہ رکھے، وہ اپنے اوپر روزہ لازم کرلے، کیونکہ یہ اس کی شہوت کو توڑ دے گا ۔
It was narrated that ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever among you can afford to get married, let him do so, and whoever cannot afford it should fast, for it will be a restraint (Wija’) for him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2241
عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت ہے کہ ہم عبداللہ (عبداللہ بن مسعود ؓ) کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ علقمہ، اسود اور ایک جماعت تھی، تو انہوں نے ہم سے ایک حدیث بیان کی، اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے وہ حدیث میرے ہی لیے بیان کی تھی کیونکہ میں ان لوگوں میں سب سے زیادہ نوعمر تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرلے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے ۔ علی بن ہاشم (راوی) کہتے ہیں کہ اعمش سے ابراہیم والی روایت کے بارے میں پوچھا گیا، سائل نے پوچھا: عن إبراهيم عن علقمة عن عبداللہ اسی کے مثل مروی ہے، اعمش نے کہا: ہاں۔
It was narrated that ‘Abdur Rahman bin Yazid said: “We entered upon ‘Abdullah along with ‘Alqamah, Al-Aswad and a group (of others). He told us a Hadith which he only narrated to the people because of me, as I was the youngest of them. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘young men, whoever among you can afford to get married let him do so, for it is more effective in lowering the gaze and guarding one’s chastity.” (Sahih) (One of the narrators) ‘Ali said: “Al-’Amash was asked about the narration of Ibrahim, so he (the questioner) said: ‘From Ibrahim, from ‘Alqamah, from ‘Abdullah; similarly?. To which he (Al-’Amash) replied: ‘Yes.’(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2242
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٤١ (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” علا باہلی “ ضعیف ہیں )
علقمہ کہتے ہیں: میں ابن مسعود ؓ کے ساتھ تھا اور وہ عثمان ؓ عنہ کے پاس تھے تو ثمان ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص وسعت والا ہو وہ شادی کرلے۔ کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے، اور جو شخص ایسا نہ ہو تو روزہ اس کی شہوت کو کچل دینے کا ذریعہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سند میں مذکور ابومعشر کا نام زیاد بن کلیب ہے، وہ ثقہ ہیں اور وہ ابراہیم (نخعی) کے تلامذہ میں سے ہیں، اور ان سے منصور، مغیرہ اور شعبہ نے روایت کی ہے۔ اور (ایک دوسرے) ابومعشر جو مدنی ہیں ان کا نام نجیح (نجیح بن عبدالرحمٰن سندی) ہے، وہ ضعیف ہیں، اور ضعف کے ساتھ اختلاط کا شکار ہوگئے تھے ان کے یہاں کچھ منکر احادیث بھی ہیں جن میں سے ایک وہ ہے جو انہوں نے محمد بن عمرو سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے ابوہریرہ ؓ سے، اور ابوہریرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے وہ قبلہ ہے ١ ؎۔ نیز اسی میں سے ایک حدیث وہ ہے جو انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے عائشہ ؓ سے، اور عائشہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: گوشت چھری سے نہ کاٹو بلکہ نوچ نوچ کر کھاؤ ٢ ؎۔
It was narrated that ‘Alqamah said: “I was with Ibn Mas’ud when he was with ‘Uthman, and ‘Uthman said: ‘Whoever among you has the means, let him get married, for it is more effective in lowering the gaze and guarding one’s chastity. And whoever cannot, then fasting will be a shield for him.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: This (narrator) is Abu Ma’shar, his name is Ziyad bin Kulaib, and he is trustworthy. He was a companion of Ibrahim. Mansur, Mughira, and Shu’bah reported from him. (As for) Abu Ma’shar Al-Madini; his name is Najih and he is weak, and with his weakness, he also became confused, he narrated Munkar narrations, among them: Muhammad bin ‘Amr from Abu Salamah, from Abu Hurairah (RA) h, from the Prophet ﷺ , who said: “What is between the east and the west is the Qiblah.” And among them: Hisham bin ‘Urwah, from his father, from Aishah (RA), from the Prophet ﷺ “Do not cut meat with the knife, rather gnaw at it.”
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2243
Notes · وضاحت
١ ؎: أخرجه الترمذي (342) وابن ماجه (1011) (تحفة الأشراف 15124) (حافظ ابن حجر النکت الظراف میں لکھتے ہیں کہ خلیلی نے ارشاد میں ایک دوسرے طریقے سے اسے بسند ابو معشر عن ہشام عن ابیہ عن عائشہ روایت کیا ہے، اس حدیث میں ابو معشر نجیح بن عبدالرحمٰن سندی ہیں، جو ضعیف راوی ہیں، اسی لیے حافظ ابن حجر نے ان کے بارے میں کہا: ضعیف أسن واختلط یعنی ضعیف ہیں، عمر دراز ہوئے اور اختلاط کا شکار ہوئے، اسی وجہ سے امام نسائی نے باب میں موجود ابو معشر زیاد بن کلیب کی توثیق کے بعد اسی کنیت کے دوسرے راوی یعنی نجیح بن عبدالرحمٰن سندی کا تذکرہ ان کی منکر احادیث کے ساتھ دیا تاکہ دونوں میں تمیز ہوجائے، اور یہ امام نسائی کی کتاب کی خوبی ہے کہ وہ اس طرح کے افادات رقم فرماتے ہیں، لیکن مذکور حدیث دوسرے طرق کی وجہ سے صحیح ہے، تفصیل کے ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٩٢ ) ٢ ؎: حدیث لأستغفرن لک ما لم أنه عنك اس کی تخریج ابوداؤد اور بیہقی نے سنن کبریٰ میں کی ہے، اور شیخ البانی نے اسے ضعیف الجامع ( ٦٢٥٦ ) میں داخل کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (لم يذكر المزي طرف الحديث في ترجمة أبي معشر زياد بن کليب عن إبراهيم عن علقمة عن ابن مسعود /تحفة الأشراف 6/ 363) حم ١/٥٨ ویأتی عند المؤلف ٣٢٠٨ (صحیح الإسناد )
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ (یعنی جہاد یا اس کے سفر) میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اسے اس دن کے بدلے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever fasts one day in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, Allah will remove his face away from the Fire in return for the day (the distance of) seventy autumns.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2244
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل الجھاد ٣ (١٦٢٢)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٣٤ (١٧١٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٦٢٤) حم ٢/٣٠٠، ٣٥٧ (صحیح) (مزی نے تحفة الاشراف میں ابن حیویہ کی روایت پر اعتماد کرتے ہوئے اس حدیث کو مراسیل میں ذکر کیا ہے (١٨٦٢٤) اس لیے کہ اس کے نسخہ (ہ) میں ” عن أبي هريرة “ ساقط ہے، اور ابن الاحمر اور ابن سیار نیز سنن صغریٰ سب میں ” عن ابی ہریرة “ موجود ہے، اور مسند میں بھی ایسے ہی ہے) (ملاحظہ ہو: السنن الکبریٰ: ٢٥٦٤ )
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اس کے اور جہنم کی آگ کے درمیان ستر سال کی دوری کر دے گا ۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah ﷺ said:‘Whoever fasts one day in the cause of Allah, Allah will separate between his face and the Fire by (a distance of) seventy autumns in return for that day.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2245
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ عزوجل اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever fasts one day in the cause of Allah, Allah, the Mighty and Sublime, will separate his face from the fire by (a distance of) seventy autumns. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2246
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا ۔
It was narrated from Aba Saeed that the Prophet ﷺ said: “Whoever fasts one day in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, Allah will separate his face from the fire by (a distance of) seventy years..” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2247
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے بھی اللہ عزوجل کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ عزوجل اس دن کے بدلے اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا ۔
It was narrated from Abu Saeed that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: “There is no worshipper who fasts a day in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, but Allah the Mighty and Sublime, will separate his face from the Fire by (a distance of) seventy autumns in return for that day.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2248
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٣٦ (٢٨٤٠)، صحیح مسلم/الصوم ٣١ (١١٥٣)، سنن الترمذی/الجہاد ٣ (١٦٢٣)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٣٤ (١٧١٧)، تحفة الأشراف: ٤٣٨٨، مسند احمد ٣/٢٦، ٥٩، ٨٣، سنن الدارمی/الجہاد ١٠ (٢٤٤٤)، و یأتي عند المؤلف بأرقام: ٢٢٥١-٢٢٥٥) (صحیح )
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا، اللہ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا ۔
It was narrated that An Numan bin Abi ‘Ayyash said: “I heard Abu Saeed Al-Khudri say:‘The Messenger of Allah ﷺ said:Whoever fasts one day in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, Allah will separate his face from the Fire by (a distance of) seventy autumns.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2249