حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَهْلٌ، أَنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا، يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ يُقَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الصَّائِمُونَ هَلْ لَكُمْ إِلَى الرَّيَّانِ مَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَدْخُلْ فِيهِ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ.
سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن پکار کر کہا جائے گا، روزہ دارو! کہاں ہو؟ کیا تمہیں ریان کی طرف آنے کی رغبت ہے؟ جو شخص اس میں داخل ہوگا، اور (اس کے چشمے (ریان) کا پانی پئے گا) وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا، جب وہ داخل ہوجائیں گے تو وہ بند کردیا جائے گا۔ اس دروازے سے روزہ دار کے سوا کوئی اور داخل نہ ہوگا۔
Sahl narrated that in paradise there is a gate called Ar Rayyan, it will be said on the Day of Resurrection: “Where are those who used to fast? Would you like to enter through Ar-Rayyan?” Whoever enters through it will never thirst again. Then when they have entered it will be closed behind them, and no one but they will enter through it. (Sahih)