حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِيمَالِكٌ، وَيُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ يُدْعَى مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ يُدْعَى مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ يُدْعَى مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! مَا عَلَى أَحَدٍ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا دے گا ١ ؎ اسے جنت میں بلا کر پکارا جائے گا، اے اللہ کے بندے! یہ تیری نیکی ہے، تو جو شخص نمازی ہوگا وہ صلاۃ کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو مجاہدین میں سے ہوگا وہ جہاد والے دروازہ سے بلایا جائے گا، اور جو صدقہ دینے والوں میں سے ہوگا وہ صدقہ والے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو روزہ داروں میں سے ہوگا وہ باب ریان سے بلایا جائے گا۔ ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کسی کے لیے ضرورت تو ٢ ؎ نہیں کہ وہ ان سبھی دروازوں سے بلایا جائے، لیکن کیا کوئی ان سبھی دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, he will be called in Paradise: O slave of Allah, here is prosperity. Whoever is one of the people of salah, he will be called from the gate of Salah. Whoever is one of the people of Jihad, he will be called from the gate of Jihad. Whoever is one of the people of charity, he will be called from the gate of charity. Whoever is one of the people of fasting, he will be called from the gate of Ar-Rayyan.’ Abu Bakr (RA) As-Siddiq said: ‘Messenger of Allah ﷺ , no distress or need will befall the one who is called from those gates. Will there be anyone who will be called from all these gates?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Yes, and I hope that you will be one of them.”(Sahih).