روزوں سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 20 · 345 hadiths · Page 9 of 18

2252Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں حضرت سفیان ثوری پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَسُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے آگ سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا ۔

Abu Saeed Al-Khudri said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Whoever fasts one day in the cause of Allah, Allah will separate his face from the Fire by (a distance of) seventy autumns.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2250
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٤٧ (صحیح )
2253Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں حضرت سفیان ثوری پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ نَيْسَابُورِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْعَدَنِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِالنُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَصُومُ عَبْدٌ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ تَعَالَى بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بندہ بھی اللہ کی راہ میں کسی دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اسے جہنم کی آگ سے ستر سال دوری پر کر دے گا ۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘There is no worshipper who fasts a day in the cause of Allah, but Allah, the Most High, will separate (a distance of) seventy autumns between his face and the Fire in return for that day.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2251
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٥٠ (صحیح )
2254Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں حضرت سفیان ثوری پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ حَرَّ جَهَنَّمَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے بدلے اس سے جہنم کی گرمی کو ستر سال کی دوری پر کر دے گا ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet ﷺ said: “Whoever fasts a day in the cause of Allah, Allah will separate his face from the heat of Hell (a distance of) seventy autumns.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2252
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٥٠ (صحیح )
2255Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں حضرت سفیان ثوری پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي: حَدَّثَكُمُ ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْسُمَيٍّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اس سے جہنم کی آگ کو ستر سال دور کر دے گا ۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: “The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever fasts a day in the cause of Allah, Allah will separate his face (a distance of) seventy autumns from the Fire in return for that day.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2253
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٤٧ (صحیح )
2256Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں حضرت سفیان ثوری پر راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَ اللَّهُ مِنْهُ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ مِائَةِ عَامٍ.

عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس سے جہنم کو سو سال کی مسافت کی دوری پر کر دے گا ۔

It was narrated from ‘Uqbah bin ‘Amir that the Messenger of Allah ﷺ said: “Whoever fasts one day in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, Allah will seperate him the distance of one hundred years from the Fire.”(Hasan)

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2254
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: ٩٩٤٧ (حسن )
2257Sunan An Nasai

بحالت سفر روزہ رکھنے کے مکروہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ.

کعب بن عاصم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ۔

It was narrated that Ka’b bin ‘Asim said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘It is not righteousness to fast when traveling.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2255
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ١١ (١٦٦٤)، مسند احمد ٥/٤٣٤، سنن الدارمی/الصوم ١٥ (١٧٥١) (صحیح )
2258Sunan An Nasai

بحالت سفر روزہ رکھنے کے مکروہ ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ ابْنَ كَثِيرٍ عَلَيْهِ.

( تابعی) سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے، صحیح روایت وہ ہے جو پہلے گزری ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اس پر ابن محمد بن کثیر کی متابعت کی ہے۔

It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘It is not righteousness to fast when traveling.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: This is a mistake, and what is correct is the one that is before it. We do not know of anyone who followed up Ibn Kathir.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2256
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، جس کی وضاحت خود مؤلف نے کردی ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر اصل حدیث صحیح ہے )
2259Sunan An Nasai

اس سے متعلق تذکرہ کہ جس وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طریقہ سے ارشاد فرمایا اور حضرت جابر کی روایت میں محمد بن عبدالرحمن پر اختلاف

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نَاسًا مُجْتَمِعِينَ عَلَى رَجُلٍ، فَسَأَلَ فَقَالُوا: رَجُلٌ أَجْهَدَهُ الصَّوْمُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو ایک شخص کو گھیرے ہوئے دیکھا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: (کیا بات ہے؟ کیوں لوگ اکٹھا ہیں؟ ) تو لوگوں نے کہا: ایک شخص ہے جسے روزہ نے نڈھال کردیا ہے، تو آپ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی و تقویٰ نہیں ہے ۔

It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ saw some people gathered around a man, so he asked (what was happening) and they said: “It is a man who is exhausted because of fasting.” The Messenger of Allah ﷺ said: “It is not righteousness to fast when traveling.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2257
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٥٩٠)، مسند احمد ٣/٣٥٢ (صحیح )
2260Sunan An Nasai

اس سے متعلق تذکرہ کہ جس وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طریقہ سے ارشاد فرمایا اور حضرت جابر کی روایت میں محمد بن عبدالرحمن پر اختلاف

أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَاالْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ يُرَشُّ عَلَيْهِ الْمَاءُ، قَالَ: مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ هَذَا ؟، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! صَائِمٌ، قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ، وَعَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّتِي رَخَّصَ لَكُمْ فَاقْبَلُوهَا،

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک درخت کے سایہ میں بیٹھا ہوا تھا اور اس پر پانی چھڑکا جا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: تمہارے اس ساتھی کو کیا ہوگیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ روزہ دار ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ نیکی و تقویٰ نہیں ہے کہ تم سفر میں روزہ رکھو، اللہ نے جو رخصت تمہیں دی ہے اسے قبول کرو ۔

Jabir bin ‘Abdullah narrated that the Messenger of Allah ﷺ passed by a man in the shade of a tree on whom water was being sprinkled. He said: “What is the matter with your companion?” They said: “Messenger of Allah ﷺ, he is fasting.” He said: “It is not righteousness to fast when traveling. Take to the concession which Allah has granted you, accept it.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2258
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
2261Sunan An Nasai

اس سے متعلق تذکرہ کہ جس وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طریقہ سے ارشاد فرمایا اور حضرت جابر کی روایت میں محمد بن عبدالرحمن پر اختلاف

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا نَحْوَهُ.

یحییٰ کہتے ہیں مجھے محمد بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے جس شخص نے جابر ؓ سے سنا ہے اسی طرح بیان کیا ہے۔

Muhammad bin ‘Abdur Rahman said: “Someone who heard it from Jabir told me something similar.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٥٩ (صحیح )
2262Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت علی بن مبارک کے اختلاف کا تذکرہ

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ، عَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاقْبَلُوهَا.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے، اللہ عزوجل کی دی گئی رخصت (اجازت) کو لازم پکڑو اور اسے قبول کرو ۔

It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: “It is not righteousness to fast when traveling. Take to the concession which Allah, the Mighty and Sublime, has granted you, accept it.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2260
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٥٩ (صحیح )
2263Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت علی بن مبارک کے اختلاف کا تذکرہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ.

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ۔

It was narrated from a man, from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: “It is not righteousness to fast when traveling.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2261
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٥٩ (صحیح )
2264Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت علی بن مبارک کے اختلاف کا تذکرہ

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ.

محمد بن عبدالرحمٰن نے محمد بن عمرو بن حسن سے روایت کی، اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ سفر میں اس کے اوپر سایہ کیا گیا ہے، تو آپ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ۔

It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ saw a man who was being shaded on a journey. He said: “It is not righteousness to fast when traveling.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2262
Notes · وضاحت
١ ؎: اوپر والی روایت میں مذکور عن رجل میں رجل سے مراد یہی محمد بن عمرو بن حسن ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٣٦ (١٩٤٦)، صحیح مسلم/الصوم ١٥ (١١١٥)، سنن ابی داود/الصوم ٤٣ (٢٤٠٧)، (تحفة الأشراف: ٢٦٤٥)، مسند احمد ٣/ ٢٩٩، ٣١٧، ٣١٩، ٣٩٨، سنن الدارمی/الصوم ١٥ (١٧٥٠) (صحیح )
2265Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت علی بن مبارک کے اختلاف کا تذکرہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ، فَبَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ، فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنَ الْمَاءِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَشَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، فَأَفْطَرَ بَعْضُ النَّاسِ وَصَامَ بَعْضٌ فَبَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا، فَقَالَ: أُولَئِكَ الْعُصَاةُ.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ کے لیے نکلے، تو آپ نے روزہ رکھا، یہاں تک کہ آپ کراع الغمیم پر پہنچے، تو لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا، تو آپ کو خبر ملی کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہوگیا ہے، تو آپ نے عصر کے بعد پانی سے بھرا ہوا پیالہ منگایا، پھر پانی پیا، اور لوگ دیکھ رہے تھے، تو (آپ کو دیکھ کر) بعض لوگوں نے روزہ توڑ دیا، اور بعض رکھے رہ گئے، آپ کو یہ بات پہنچی کہ کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا ـ: یہی لوگ نافرمان ہیں ۔

It was narrated that Jabir said: “The Messenger of Allah ﷺ went out to Makkah in the year of the Conquest in Ramadan. He fasted until he reached Kura’ Al Ghamim, and the people fasted. Then he heard that it was too difficult for the people to fast, so he called for a vessel of water after ‘Asr and drank it while the people were looking on. Then some of the people broke their fast and some continued to fast. He heard that some people were still fasting and he said: ‘Those are the disobedient ones.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2263
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٥ (١١١٤)، سنن الترمذی/الصوم ١٨ (٧١٠)، (تحفة الأشراف: ٢٥٩٨) (صحیح )
2266Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت علی بن مبارک کے اختلاف کا تذکرہ

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبدِ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: أَدْنِيَا فَكُلَا، فَقَالَا: إِنَّا صَائِمَانِ، فَقَالَ: ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمُ اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مرالظہران (مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے) میں کھانا لایا گیا، تو آپ نے ابوبکر و عمر ؓ سے فرمایا: تم دونوں قریب آ جاؤ اور کھاؤ، انہوں نے عرض کیا: ہم روزہ سے ہیں، تو آپ نے لوگوں سے کہا: اپنے دونوں ساتھیوں کے کجاوے کس دو، اور اپنے دونوں ساتھیوں کے کام کر دو ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “Some food was brought to the Messenger of Allah ﷺ at Marr Az-Zahran, and he said to Abu Bakr (RA) and ‘Umar (RA): ‘Come and eat.’ They said: ‘We are fasting.’ He said: ‘Saddle the camels for your companions, and help your companions.” (Da’if)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2264
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے سفر میں روزہ رکھنے کا جواز ثابت ہوا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ روزہ دار کو سہولت پہنچائی جائے۔
Takhrij · تخریج
مسند احمد ٢/٣٣٦ (صحیح )
2267Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت علی بن مبارک کے اختلاف کا تذکرہ

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَدَّى بِمَرِّ الظَّهْرَانِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ: الْغَدَاءَ مُرْسَلٌ.

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر ؓ بھی تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ یہ روایت مرسل ہے۔

It was narrated that Abu Salamah said: “When the Messenger of Allah ﷺ was eating breakfast in Marr Az-Zahran, and Abu Bakr (RA) and ‘Umar were with him, he said:‘(Come and eat) breakfast.” (Da’if) He narrated it in Mursal form.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2265
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، جیسا کہ مؤلف نے بیان فرمایا اس لیے ابوسلمہ تابعی نے صحابی کا ذکر نہیں کیا لیکن اصل حدیث سابقہ حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے )
2268Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث میں حضرت علی بن مبارک کے اختلاف کا تذکرہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، كَانُوا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ مُرْسَلٌ.

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ابوبکر و عمر ؓ مرالظہران میں تھے یہ روایت مرسل ہے۔

It was narrated from Abu Salamah that the Messenger of Allah ﷺ Abu Bakr (RA) and ‘Umar were in Marr Az-Zahran. He narrated it in Mursal form. (Da‘if)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2266
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر رقم ٢٢٦٦ (صحیح) (اس سند میں بھی ارسال ہے جیسا کہ اوپر والی روایت میں گزرا، لیکن اصل حدیث سے سابقہ حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے، اور یہ واضح رہے کہ مؤلف (رح) اس طرح کی روایتوں کو ان کی علت اور ضعف بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں، کبھی صراحة اور کبھی صحیح اور غیر صحیح روایات کو پیش کر کے ان کی اصل اور ان کے اختلافات کا تذکرہ کرتے ہیں )
2269Sunan An Nasai

مسافر کے واسطے روزہ کے معاف ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِيعَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، فَقَالَ: انْتَظِرِ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: تَعَالَ ادْنُ مِنِّي حَتَّى أُخْبِرَكَ عَنِ الْمُسَافِرِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ.

عمرو بن امیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا، آپ نے فرمایا: اے ابوامیہ! (بیٹھو) صبح کے کھانے کا انتظار کرلو ، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: آؤ میرے قریب آ جاؤ، میں تمہیں مسافر سے متعلق بتاتا ہوں، اللہ عزوجل نے اس سے روزے معاف کردیا ہے اور آدھی نماز بھی ١ ؎۔

‘Amr bin Umayyah Ad PamrI said: “I came to the Messenger of Allah ﷺ from a journey and he said: ‘Stay and have a meal to break the fast, O Abu Umayyah.’ I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Come close to me and I will tell you about the traveler. Allah, the Mighty and Sublime, has waived fasting and half of the prayer for him.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2267
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سفر کی حالت میں مسافر پر روزہ رکھنا ضروری نہیں، قرار دیا، بلکہ اسے اختیار دیا ہے کہ وہ چاہے تو روزہ رکھ لے (اگر اس کی طاقت پاتا ہے تو) یا چاہے تو ان کے بدلہ اتنے ہی روزے دوسرے دنوں میں رکھ لے، لیکن مسافر سے روزہ بالکل معاف نہیں ہے، ہاں چار رکعت والی نماز میں سے دو رکعت کی چھوٹ دی ہے، چاہے تو چار رکعت پڑھے اور چاہے تو دو رکعت، اور پھر اس کی قضاء نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (صحیح الإسناد )
2270Sunan An Nasai

مسافر کے واسطے روزہ کے معاف ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَنْتَظِرُ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنِ الْمُسَافِرِ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ.

عمرو بن امیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اے امیہ! تم کیوں نہیں دوپہر کے کھانے کا انتظار کرلیتے ، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ تو آپ نے فرمایا: (میرے قریب) آ جاؤ۔ میں مسافر کے سلسلے میں تمہیں (شریعت کا حکم) بتاتا ہوں: اللہ تعالیٰ نے اس سے روزہ کی چھوٹ دے دی ہے، اور نماز آدھی کردی ہے ۔

Jafar bin Amr bin Umayyah Ad-Damri narrated that his father said: "I came to the Messenger of Allah and the Messenger of Allah said to me: Stay and have a meal for breakfast, O Abu Umayyah. I said: I am fasting. He said: Come and I will tell you about the traveler. Allah has waived meaning the fasting and half the prayer for him.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2268
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٧٠٢) (صحیح الإسناد )
2271Sunan An Nasai

مسافر کے واسطے روزہ کے معاف ہونے سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا ذَهَبْتُ لِأَخْرُجَ، قَالَ: انْتَظِرِ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ! قَالَ: تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنِ الْمُسَافِرِ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ،

ابوامیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا، تو میں نے آپ کو سلام کیا، پھر جب میں نکلنے لگا تو آپ نے فرمایا: اے ابوامیہ! دوپہر کے کھانے کا انتظار کرلو ۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: آؤ میں تمہیں مسافر کے بارے میں بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے اس سے روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور نماز آدھی کردی ہے ۔

It was narrated that Abu Umayyah Ad Damri- said: “I came to the Messenger of Allah ﷺ from a journey and greeted him with Salam. When I was going to leave he said: ‘Stay and have meal for breakfast, Abu Umayyah. ’I said: I am fasting, Prophet ﷺ of Allah ﷺ.’ He said: ‘Come and I will tell about the traveler. Allah, Most High, has waived fasting and of the prayer for him.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2269
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٧٠٨، سنن الدارمی/الصوم ١٦ (١٧٥٣) (صحیح )