ابوقلابہ جرمی کا بیان ہے کہ ان سے ابوامیہ ضمری ؓ نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ نے ان سے کہا: ابوامیہ! دوپہر کے کھانے کا انتظار کرلو (کھا کر چلے جانا) میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: قریب آؤ، میں مسافر کے بارے میں تمہیں بتاتا ہوں: اللہ نے اس سے روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور نماز آدھی کردی ہے ۔
Abu Qilabah Al-Jarmi narrated that Abu Umayyah Ad Damri told them that he came to the Messenger of Allah ﷺ from a journey and he said: “Come and have a meal for breakfast, Abu Umayyah.” “I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Come close and I will tell you about the traveler. Allah, Most High, has waived fasting and half of the prayer for him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2271
ابوامیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ سفر سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور وہ روزے سے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا: (تم جانا چاہتے ہو) کیا، تم دوپہر کے کھانے کا انتظار نہیں کرو گے ، انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آؤ میں روزے سے متعلق تمہیں بتاتا ہوں۔ اللہ عزوجل نے مسافر کو روزے کی چھوٹ دی ہے اور نماز آدھی کردی ہے ۔
It was narrated from Abu Qilabah that Abu Umayyah Ad Damri told him that he came to the Messenger of Allah ﷺ from a journey and he was fasting. The Messenger of Allah ﷺ said to him, “Won’t you come and have meal for the breakfast?” He said: “I am fasting.” The Messenger of Allah ﷺ said: “Come and I will tell you about fasting. Allah, the Mighty and Sublime, has waived fasting and half of the prayer from the traveler.” (Hasan)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2272
ابوامیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سفر سے آئے، آگے راوی نے پوری روایت اسی طرح ذکر کی۔
It was narrated from Abu Qilabah, from a man, that Abu Umayyah told him that he came to the Prophet ﷺ from a journey, and he narrated something similar. (Sahih)
انس (قشیری) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے اور، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی (روزے کی چھوٹ دی ہے) ۔
It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ said: “Allah has waived - meaning - half of the prayer and fasting for the traveler, and from pregnant women and the sick.” (Hasan)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2274
ایوب قبیلہ قشیر کے ایک شیخ سے، اور وہ قشیری اپنے چچا ١ ؎ سے روایت کرتے ہیں، (ایوب کہتے ہیں) ہم سے حدیث بیان کی گئی، پھر ہم نے انہیں (شیخ قشیری کو) ان کے اونٹوں میں پایا، تو ان سے ابوقلابہ نے کہا: آپ ان سے (ایوب سے) حدیث بیان کیجئے تو (قشیری) شیخ نے کہا: مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا کہ وہ اپنے اونٹوں میں گئے، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، آپ کھانا کھا رہے تھے (راوی کو شک ہے یا ٔکل کہا یا یطعم کہا) آپ ﷺ نے فرمایا: قریب آؤ اور کھانا کھاؤ (راوی کو شک ہے ادن فکل کہا یا ادن فاطعم کہا) تو میں نے کہا: مںَ صائم ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی ٢ ؎۔
It was narrated from Ayyub, from a Shaikh of Qushair, from his paternal uncle; then we met him concerning some camels of his, and Abu Qilabah said to him: “Tell it to us.” The old man said: “My paternal uncle told me that he went to the Prophet ﷺ, concerning some camels of his, while he was eating. He said: ‘Come and eat.’ I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Allah, the Mighty and Sublime, has waived half of the prayer and fasting for the traveler, the pregnant woman and the sick.” (Sahih)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2275
Notes · وضاحت
١ ؎: ان کا نام انس بن مالک قشیری ہے۔ ٢ ؎: حاملہ اور مرضعہ کو روزے کی چھوٹ دی ہے، نہ کہ آدھی نماز کی، جیسا کہ متبادر ہو رہا ہے، ترمذی کی عبارت واضح ہے مسافر کو روزہ اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے، اور حاملہ و مرضعہ کو روزے کی۔
Takhrij · تخریج
انظر رقم ٢٢٧٦ (حسن) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے )
ایوب کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوقلابہ نے یہ حدیث بیان کی، پھر مجھ سے کہا: کیا آپ اس حدیث کے بیان کرنے والے سے ملنا چاہیں گے؟ پھر انہوں نے ان کی طرف میری رہنمائی کی، تو میں جا کر ان سے ملا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے ایک رشتہ دار نے جنہیں انس بن مالک کہا جاتا ہے نے بیان کیا کہ میں اپنے اونٹوں کے سلسلے میں جو پکڑ لیے گئے تھے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں پہنچا تو آپ کھانا کھا رہے تھے، تو آپ نے مجھے اپنے کھانے میں شریک ہونے کے لیے بلایا۔ میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاتا ہوں، (سنو) اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ، اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے ۔
It was narrated that Ayyub said: “Abu Qilabah narrated this Hadith to us, then he said: ‘Do you want to meet the one who narrated this Hadith?’ He directed me to him and l met him and he said:’A relative of mine who was called • Anas bin Mahk said: I came to the Messenger of Allah ﷺ concerning some camels of mine that had been taken away. When I saw him he was eating, and he called me to eat with him, but I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Come close and I will tell you about that. Allah has waived fasting and half of the prayer for the traveler.” (Sahih)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2276
ایک صحابی کہتے ہیں: میں ایک ضرورت سے رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا اتفاق کی بات آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، آپ نے کہا: آؤ کھانا میں شریک ہوجاؤ، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: آؤ میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی چھوٹ دی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Qilabah that a man said: ‘I came to the Prophet ﷺ to discuss Something and he was eating breakfast. He said: ‘Come and eat.’I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Come and I will tell you about fasting. Allah has waived half of prayer and fasting from the traveler, and He has granted a concession to pregnant women and the sick.” (Sahih)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2277
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر ان کے روزہ رکھنے سے پیٹ کے بچہ کو یا شیرخوار بچہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اوہ روزہ نہ رکھیں۔
ہانی بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا تو میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور میں روزے سے تھا، اور آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: آؤ (کھانے میں شریک ہوجاؤ) میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: ادھر آؤ، کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ۔ میں نے کہا: اللہ نے مسافر کو کیا چھوٹ دی ہے؟ آپ نے فرمایا: روزے کی، اور آدھی نماز کی۔
It was narrated from Hani’ bin Ash-Shikhkhir, from a man from Balharish, that his father said: “I was traveling and I came to the Prophet ﷺ when I was fasting, and he was eating. He said: ‘Come (and eat).’ I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Come here; do you not know what Allah has waived for the traveler?’ I said: ‘What has Allah waived for the traveler?’ He said: ‘Fasting and half of the prayer.” (Sahih).
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2279
Notes · وضاحت
١ ؎: بلحریش بنی الحریش کا مخفف ہے جیسے بلحارث بنی الحارث کا مخفف ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: ٥٣٥٣ (صحیح) (سابقہ متابعت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ھانی بن الشخیر “ لین الحدیث ہیں، نیز اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے )
ہانی بن عبداللہ بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا ہم سفر کرتے رہے، پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں: اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزے کی چھوٹ دی ہے، اور آدھی نماز کی بھی۔
It was narrated from Hani’ bin ‘Abdullah bin Ash-ShikhkhIr from a man from Balharish, that his father said: “We had been traveling for as long as Allah willed, then we came to the Messenger of Allah ﷺ and he was eating. He said: ‘Come and eat.’ I said: ‘I am fasting.’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘I will tell you about fasting. Allah has waived fasting and half of the prayer for the traveler.” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2280
عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ کھانا کھا رہے تھے اور میں روزے سے تھا، آپ نے فرمایا: آؤ (کھانا کھالو) میں نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں وہ چیز معلوم ہے جس کی اللہ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، میں نے کہا: کس چیز کی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، آپ ﷺ نے فرمایا: روزے اور آدھی نماز کی ۔
It was narrated from Hani’ bin ‘Abdullah bin Shikhkhir that his father said: “I was traveling and I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was eating and I was fasting. He said: ‘Come and eat.’ I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Do you know what Allah has waived for the traveler?’ I said: ‘What has Allah waived for the traveler?’ He said: ‘Fasting and half of the prayer.” (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2281
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٨١ (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ھانی “ لین الحدیث ہیں )
غیلان کہتے ہیں: میں ابوقلابہ کے ساتھ ایک سفر میں نکلا (کھانے کے وقت) انہوں نے کھانا میرے آگے بڑھایا تو میں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں نکلے، آپ نے کھانا آگے بڑھاتے ہوئے ایک شخص سے کہا: قریب آ جاؤ کھانا کھاؤ، اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا ـ: اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے آدھی نماز کی اور سفر میں روزے کی چھوٹ دی ہے ۔ تو اب آؤ کھاؤ، تو میں قریب ہوگیا، اور کھانے لگا۔
It was narrated that Ghailan said: “I went out with Aba Qilabah on a journey and he brought some food. I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘The Messenger of Allah ﷺ went out on a journey and brought some food, and said to a man: Come and eat. He said: I am fasting. He said: Allah has waived for the traveler half of the prayer and fasting when traveling, so come and eat. So I came close and ate.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2282
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٧٦ (صحیح) (سند میں ضعف ارسال کی وجہ سے ہے، اس لیے کہ ابو قلابہ نے راوی صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے، متابعات سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے تھے اور کچھ لوگ بغیر روزے کے تھے، ہم نے ایک گرم دن میں پڑاؤ کیا، اور ہم (چھولداریاں اور خیمے لگا لگا کر) سایہ کرنے لگے، تو روزہ دار (سخت گرمی کی تاب نہ لا کر) گر گرپڑے، اور روزہ نہ رہنے والے اٹھے، اور انہوں نے سواریوں کو پانی پلایا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج غیر روزہ دار ثواب مار لے گئے ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “We were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and some of us were fasting and some of us were not. We made a stop on a hot day and looked for shade. Those who were fasting fell to the ground, but those who were not fasting got up and watered the animals. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Those who were not fasting today have taken the reward.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2283
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں: کہا جاتا ہے سفر میں روزہ رکھنا ایسا ہے جیسے حضر میں افطار کرنا۔
It was narrated that ‘Abdur Rahman bin ‘Awf said: “It is said that fasting while traveling is like not fasting while a resident.” (Da‘if)
ضعيف موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2284
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ١١ (١٦٦٦) مرفوعا (ضعیف) (ابوسلمہ کا اپنے والد ” عبدالرحمن بن عوف “ سے سماع نہیں ہے (لیکن حمید کا سماع ہے، ان کی روایت آگے آرہی ہے، اور ابن ماجہ کی روایت جو مرفوعاً ہے اس میں یہی انقطاع ہے، نیز اس میں ایک ضعیف راوی بھی ہے )
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں: سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے ١ ؎۔
It was narrated from Humaid bin Abdur-Rahman bin Awf that his father said: "The one who fasts while traveling is like one who does not fast while a resident. (Daif)
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2286
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس طرح حضر میں افطار کرنا گناہ ہے اس طرح سفر میں روزہ رکھنا بھی باعث گناہ ہے، مگر یہ صحابی کا قول ہے جو حدیث رسول ﷺ کے مخالف ہے (یعنی مسافر کو چھوٹ ہے چاہے رکھے، چاہے نہ رکھے اور قضاء کرے)۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے مہینے میں سفر پر نکلے، تو آپ روزے سے رہے۔ یہاں تک کہ آپ قدید پہنچے، تو آپ کے سامنے دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، تو آپ نے پیا، اور آپ نے اور آپ کے صحابہ نے روزہ توڑ دیا۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ went Out in Ramadan and fasted until he came to Qudaid, then a cup of milk was brought to him and he drank and broke his fast; he and his Companions. (Sahih)
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2287
Notes · وضاحت
١ ؎: قدید مدینہ سے سات منزل کی دوری پر عسفان کے قریب ایک گاؤں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٤٧٩)، مسند احمد ١/٢٤٤، ٣٤١، ٣٤٤، ٣٥٠ (صحیح) (آنے والی احادیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں روزہ رکھا، (اور چلے) یہاں تک کہ آپ قدید آئے، پھر آپ نے روزہ توڑ دیا، اور مکہ پہنچنے تک بغیر روزہ کے رہے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ fasted from Al-Madinah until he came to Qudaid, then he broke his fast until he reached Makkah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2288
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزہ رکھا یہاں تک کہ آپ قدید آئے، پھر آپ نے دودھ کا ایک پیالہ منگایا اور (اسے) پیا، اور آپ نے اور آپ کے اصحاب نے روزہ توڑ دیا۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ fasted while traveling until he reached Qudaid, then he called for a cup of milk and drank and broke his fast; he and his Companions.(Sahih).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2289