زیر نظر حدیث شریف میں حضرت معاویہ بن سلام اور حضرت علی بن مبارک پر اختلاف
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ قُشَيْرٍ، عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنَا، ثُمَّ أَلْفَيْنَاهُ فِي إِبِلٍ لَهُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو قِلَابَةَ حَدِّثْهُ، فَقَالَ الشَّيْخُ: حَدَّثَنِي عَمِّي، أَنَّهُ ذَهَبَ فِي إِبِلٍ لَهُ فَانْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ، أَوْ قَالَ: يَطْعَمُ، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ، أَوْ قَالَ: ادْنُ فَاطْعَمْ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامَ وَعَنِ الْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ.
ایوب قبیلہ قشیر کے ایک شیخ سے، اور وہ قشیری اپنے چچا ١ ؎ سے روایت کرتے ہیں، (ایوب کہتے ہیں) ہم سے حدیث بیان کی گئی، پھر ہم نے انہیں (شیخ قشیری کو) ان کے اونٹوں میں پایا، تو ان سے ابوقلابہ نے کہا: آپ ان سے (ایوب سے) حدیث بیان کیجئے تو (قشیری) شیخ نے کہا: مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا کہ وہ اپنے اونٹوں میں گئے، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، آپ کھانا کھا رہے تھے (راوی کو شک ہے یا ٔکل کہا یا یطعم کہا) آپ ﷺ نے فرمایا: قریب آؤ اور کھانا کھاؤ (راوی کو شک ہے ادن فکل کہا یا ادن فاطعم کہا) تو میں نے کہا: مںَ صائم ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی ٢ ؎۔
It was narrated from Ayyub, from a Shaikh of Qushair, from his paternal uncle; then we met him concerning some camels of his, and Abu Qilabah said to him: “Tell it to us.” The old man said: “My paternal uncle told me that he went to the Prophet ﷺ, concerning some camels of his, while he was eating. He said: ‘Come and eat.’ I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Allah, the Mighty and Sublime, has waived half of the prayer and fasting for the traveler, the pregnant woman and the sick.” (Sahih)