زیر نظر حدیث شریف میں حضرت معاویہ بن سلام اور حضرت علی بن مبارک پر اختلاف
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْحَرِيشٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا صَائِمٌ وَهُوَ يَأْكُلُ، قَالَ: هَلُمَّ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: تَعَالَ أَلَمْ تَعْلَمْ مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ، قُلْتُ: وَمَا وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ، قَالَ: الصَّوْمَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ.
ہانی بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا تو میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور میں روزے سے تھا، اور آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: آؤ (کھانے میں شریک ہوجاؤ) میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: ادھر آؤ، کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ۔ میں نے کہا: اللہ نے مسافر کو کیا چھوٹ دی ہے؟ آپ نے فرمایا: روزے کی، اور آدھی نماز کی۔
It was narrated from Hani’ bin Ash-Shikhkhir, from a man from Balharish, that his father said: “I was traveling and I came to the Prophet ﷺ when I was fasting, and he was eating. He said: ‘Come (and eat).’ I said: ‘I am fasting.’ He said: ‘Come here; do you not know what Allah has waived for the traveler?’ I said: ‘What has Allah waived for the traveler?’ He said: ‘Fasting and half of the prayer.” (Sahih).