روزوں سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 20 · 345 hadiths · Page 11 of 18

2292Sunan An Nasai

راوی حدیث منصور کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ، فَصَامَ حَتَّى أَتَى عُسْفَانَ، فَدَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ قَالَ شُعْبَةُ فِي رَمَضَانَ، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ کے لیے نکلے، آپ روزہ رکھے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ آپ عسفان ١ ؎ پہنچے، تو ایک پیالہ منگایا اور پیا۔ شعبہ کہتے ہیں: یہ واقعہ رمضان کے مہینے کا ہے، چناچہ ابن عباس ؓ کہتے تھے: سفر میں جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ went out to Makkah, and he fasted until he came to ‘Usfan. Then he called for a cup and drank.” (One of the narrators) Shu’bah said: “(That was) in Ramadan. Ibn ‘Abbas used to say: Whoever wants to fast, may fast, and whoever wants to break may break his fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2290
Notes · وضاحت
١ ؎: عسفان کے پاس ہی قدید ہے، یہ واقعہ وہی ہے جس کا تذکرہ اوپر روایتوں میں ہے، کسی راوی نے قدید کہا اور کسی نے عسفان۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصوم ١٠ (١٦٦١) مختصراً، (تحفة الأشراف: ٦٤٢٥)، مسند احمد ١/٣٤٠ (صحیح )
2293Sunan An Nasai

راوی حدیث منصور کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ نَهَارًا يَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَفْطَرَ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں سفر کیا، اور آپ روزہ رکھے ہوئے تھے، یہاں تک کہ عسفان پہنچے تو آپ نے ایک برتن منگایا، تو دن ہی میں پی لیا، لوگ اسے دیکھ رہے تھے، پھر آپ بغیر روزہ کے رہے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ traveled during Ramadan and fasted until he reached ‘Usfan. Then he called for a vessel and drank during the day when the people could see him, then he did not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2291
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٣٨ (١٩٤٨)، صحیح مسلم/الصوم ١٥ (١١١٣)، سنن ابی داود/الصوم ٤٢ (٢٤٠٤)، (تحفة الأشراف: ٥٧٤٩، مسند احمد ١/٢٥٩، ٢٩١، ٣٢٥ (صحیح )
2294Sunan An Nasai

راوی حدیث منصور کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِمُجَاهِدٍ: الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ وَيُفْطِرُ.

عوام بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ سفر میں روزہ رکھتے تھے اور نہیں بھی رکھتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Al ‘Awwam bin Hawshab said: “I said to Mujahid: ‘What about fasting while traveling?’ He said: ‘The Messenger of Allah ﷺ used to fast (sometimes) and not fast (sometimes).” (Sahih)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2292
Notes · وضاحت
١ ؎: اپنی آسانی دیکھ کر جیسا مناسب سمجھے کرے، اللہ نے نہ رکھنے کی رخصت دی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٢ (صحیح) (اس کے راوی عوام ضعیف ہیں، لیکن اگلی سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
2295Sunan An Nasai

راوی حدیث منصور کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُجَاهِدٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَأَفْطَرَ فِي السَّفَرِ.

مجاہد کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے مہینے میں روزے رکھے، اور سفر میں بغیر روزے کے رہے۔

Mujahid narrated that the Messenger of Allah ﷺ fasted during Ramadan and broke his fast when traveling. (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2293
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٢ (صحیح) (یہ سند مرسل ہے، اس لیے کہ تابعی مجاہد نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، لیکن متابعت کی بنا پر صحیح ہے )
2296Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْحَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، قَالَ: إِنْ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، إِنْ شِئْتَ صُمْتَ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْطَرْتَ.

حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: چاہو تو روزہ رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated from Hamza bin Amr Al-Aslami that: he asked the Messenger of Allah about fasting while traveling. He said: "If," then he said something to the effect that: "If you want, then fast, and if you want, then do not fast.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2294
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٧ (١١٢١)، سنن ابی داود/الصوم ٤٢ (٢٤٠٢)، مسند احمد ٣/٤٩٤، سنن الدارمی/الصوم ١٥ (١٧١٤)، وانظر الأرقام التالیة إلی ٢٣٠٧، وأیضاً رقم ٢٣٠٨-٢٣١٠ (صحیح) (مؤلف کی اس سند میں ” سلیمان “ اور ” حمزہ “ رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن حدیث رقم ٢٣٠٤ کی سند متصل ہے، نیز اس کی دیگر سند میں بھی متصل ہیں )
2297Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! مِثْلَهُ مُرْسَلٌ.

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آگے اوپر والی حدیث کے مثل ہے اور یہ حدیث مرسل ٢ ؎ ہے۔

It was narrated from Sulaiman bin Yasar that Hamzah bin ‘Amr said: “Messenger of Allah ﷺ .” (And he narrated) something similar, in Mursal form. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مرسل سے مراد منقطع ہے کیونکہ سلیمان بن یسار اور حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کے درمیان ابو مرواح کا واسطہ چھوٹا ہوا ہے جیسا کہ حدیث نمبر ٢٣٠٤ (جو آگے آرہی ہے) کی سند سے واضح ہے (واللہ اعلم)۔
Takhrij · تخریج
انظر رقم ٢٢٩٦ (مرسل )
2298Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، قَالَ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated that Hamzah said: “I asked the Messenger of Allah ﷺ about fasting while traveling. He said: ‘If you wish to fast then fast, and if you wish not fast then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2296
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2299Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated that Hamzah bin ‘Amr said: “I asked the Messenger‘ of Allah about fasting while traveling. He said: if you wish to fast then fast, and if you wish not to fast then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2297
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2300Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ، فَذَكَرَ آخَرَ، عَنْبُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، قَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں سفر میں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں (تو کیا میں روزہ رکھوں؟ ) آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated that Hamzah bin ‘Amr Al-Aslami said: “Messenger of Allah ﷺ , I feel able to fast while traveling.” He said: “If you wish then fast and if you wish then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2298
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2301Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، قَالَ: إِنْ شِئْتَ أَنْ تَصُومَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُفْطِرَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: اگر رکھنا چاہو تو رکھو، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated from Hamzah bin ‘Amr that he asked the Messenger of Allah ﷺ about fasting while traveling. He said: “If You wish to fast then fast, and if you wish not to fast then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2299
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2302Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَحَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَانِي جَمِيعًا، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَسْرُدُ الصِّيَامَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنِّي أَسْرُدُ الصِّيَامَ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مسلسل روزہ رکھتا تھا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں مسلسل روزہ رکھوں؟ تو آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated that Hamzah bin ‘Amr said: “I used to fast continually at the time of the Messenger of Allah ﷺ. I said: ‘Messenger of Allah ﷺ, I fast continually while traveling.’ He said: ‘If you wish then fast, and if you wish then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2300
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2303Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ حَمْزَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ ! إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصِّيَامَ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ، قَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں مسلسل روزہ رکھنے والا آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی برابر روزہ رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated that Hamzah said: “I said: ‘Prophet of Allah ﷺ, I am a man who fasts continually, so should I fast while traveling?’ He said: ‘If you wish then fast, and if you wish then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2301
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2304Sunan An Nasai

حضرت حمزہ بن عمرو کی روایت میں حضرت سلیمان بن یسار کے متعلق راویوں کا اختلاف

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا مُرَاوِحٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ رَجُلًا يَصُومُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو سفر میں روزہ رکھتے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔

Hamzah bin ‘Amr narrated that he asked the Messenger of Allah ﷺ and he was a man who used to fast while traveling. He said: “If you wish then fast, and if you wish then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2302
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2305Sunan An Nasai

حضرت حمزہ کی روایت میں حضرت عروہ پر اختلاف

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرٌو، وَذَكَرَ آخَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجِدُ فِيَّ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ ؟ قَالَ: هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میں اپنے اندر سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، تو کیا (اگر میں روزہ رکھوں تو) مجھ پر گناہ ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اللہ عزوجل کی جانب سے رخصت ہے، تو جس نے اس رخصت کو اختیار کیا تو یہ اچھا ہے، اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی حرج نہیں ۔

It was narrated from Hamzah bin ‘Amr that he said to the Messenger of Allah ﷺ “I feel able to fast while traveling; is there any sin on me?” He said: “It is a concession from Allah, the Mighty and Sublime, so whoever accepts it has done well, and whoever wants to fast, there is no sin on him.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2303
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2306Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت ہشام بن عروہ پر اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ قَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: میں سفر روزہ میں رکھوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated from Hamzah bin ‘Amr Al-Aslami that he asked the Messenger of Allah ﷺ: “Should I fast while traveling?” He said: “If you wish then fast, and if you wish then do not fast.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2304
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2307Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت ہشام بن عروہ پر اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ اللَّانِيُّ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْحَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ قَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزہ رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزہ رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated from Aishah (RA) that Hamzah bin ‘Amr said: Messenger of Allah ﷺ, I am a man who fasts, so should I fast while traveling? He said: “If you wish then fast, and if you wish then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2305
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٢٩٦ (صحیح )
2308Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت ہشام بن عروہ پر اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! أَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “Hamzah said to the Messenger of Allah ﷺ: ‘Messenger of Allah ﷺ, should I fast while traveling?’ He used to fast a great deal. The Messenger of Allah ﷺ said to him: ‘If you wish then fast and if you wish then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2306
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٣٣ (١٩٤٣)، صحیح مسلم/الصوم ١٧ (١١٢١)، (تحفة الأشراف: ١٧١٦٢، موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢٤)، مسند احمد ٦/٤٦، ٩٣، ٢٠٢، ٢٠٧، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم ١٧ (١١٢١)، سنن ابی داود/الصوم ٤٢ (٢٤٠٢)، سنن الترمذی/الصوم ١٩ (٧١١)، سنن ابن ماجہ/الصوم ١٠ (١٦٦٢) (صحیح )
2309Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت ہشام بن عروہ پر اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ حَمْزَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! أَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “Hamzah asked the Messenger of Allah ﷺ ‘Messenger of Allah ﷺ, should I fast while traveling?’ He said: ‘If you wish then fast and if you wish then do not fast.” (Sahih)

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2307
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٧٢٣٨) (صحیح )
2310Sunan An Nasai

اس حدیث شریف میں حضرت ہشام بن عروہ پر اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، وَكَانَ رَجُلًا يَسْرُدُ الصِّيَامَ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو مسلسل روزہ رکھتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو ۔

It was narrated from Aishah (RA) that Hamzah Al-Aslami asked the Messenger of Allah ﷺ about asting while traveling- as he was a tnan who used to fast continually. fle said: “If you wish then fast and if you wish then do not fast.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2308
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصوم ١٩ (٧١١)، (تحفة الأشراف: ١٧٠٧١) (صحیح )
2311Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث شریف میں حضرت ابونضرہ پر اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ فِي رَمَضَانَ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، لَا يَعِيبُ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا يَعِيبُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ.

ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رمضان میں (رسول اللہ ﷺ کے ساتھ) سفر کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی روزہ سے ہوتا تھا، اور کوئی بغیر روزہ کے، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والوں کو عیب کی نظر سے نہیں دیکھتا اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے کو معیوب سمجھتا تھا۔

Abu Saeed said: “We were traveling in Ramadan and among us were some who were fasting and some who were not. Those who were fasting did not criticize those who were not, and those who were not fasting did not criticize those who were.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2309
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصوم ١٥ (١١١٦)، سنن الترمذی/الصوم ١٩ (٧١٣)، (تحفة الأشراف: ٤٣٢٥)، مسند احمد ٣/١٢، ٤٥، ٥٠، ٧٤، ٨٧ (صحیح )